الادب المفرد

الادب المفرد

 

مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری

 

صفحات: 173

 

امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے ۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب میں ابواب کی کل تعداد 644 اور مرفوع وموقوف روایات کی تعداد1322 ہے ۔اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر بعض اہل علم نے اس کی شروح وحواشی کا کام بھی کیا ہے۔اور اسی طرح اس کےمتعدد ترجمے بھی کیے گئےہیں ۔ سب سے پہلے نواب صدیق حسن خاں قنوجی ﷫ نے’’ توفیق الباری ‘‘ اور مولانا عبدالغفار المہدانوی ﷫نے’’سلیقہ‘‘ اور مولانا عبد القدوس ہاشمی ﷫ نے’’ کتاب زندگی ‘‘ کےنام سے اس کا ترجمہ کیا ۔ زیرتبصرہ ترجمہ ادب المفرد کا چوتھا محترم مولانا ارشد کمال﷾نے کیا ہے۔ مولاناموصوف ایک منجھے ہوئے صاحب علم نوجوان ہیں جن کے قلم سے کئی مفید کتابیں عالم ِ وجود میں آئی ہیں او راللہ تعالیٰ نے انہیں شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ۔مولانا ارشد کمال ﷾ نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ترجمہ ہی نہیں اس کی احادیث کی مختصر تخریج بھی کی ہے اور شیخ البانی ﷫ نے احادیث پر جو حکم لگایا ہے اسے بھی ترجمہ کا حصہ بنایا ہے۔ یوں ترجمہ کی افادیت سہ چند ہوگئی ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد﷾کی نظرثانی سے اس ترجمہ کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔مکتبہ اسلامیہ کےمدیر جناب مولانا محمد سرور عاصم﷾ نے اسے طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ، اورناشر کی خدمت حدیث کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست
عرض ناشر 38
تقدیم 40
فرما ن باری تعا لیٰ ہے : ،اورہم نے انسان کو والدین کے 48
ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا،
والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنا 49
والد کے ساتھ حسن سلوک کرنا 50
والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنااگر چہ وہ ظلم کریں 50
والدین سے نرم لہجے میں گفتگو کرنا 51
والدین کے ا حسانا ت کا بدلہ دینا 52
والدین کی نا فرمانی کرنا 54
اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے 54
والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے بشر طیکہ ( ان کا حکم)
گناہ پر منبی نہ ہو 55
جو والدین مو جو د ہونے کے با و جود جنت نہ پا سکا 56
جو پانے والد سے حسن سلوک کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں
اضافہ فر مائے گا 56
مشرک بابپ کے لیے استغفار نہ کرے 57
مشرک با پ سے حسن سلو ک کرنا 57
کوئی اپنے والدین کو گالی نہ دے 59
والدین کی نا فرمانی کی سزا 60
والدین کو ر ُ لانا 60
والدین کی بد دعا 61
عیسائی ماں کو اسلام کی دعوت دینا 62
والدین کی وفات کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا 63
والد کے ساتھ میل جول رکھنے و الوں سے اچھا سلوک کرنا 64
تیرے والد کا جس سے تعلق تھا اس سے قطع تعلقی نہ کر ،
ورنہ تیرا نور بجھ جائے گا 65
محبت ورثہ میں ملتی ہے 66
کوئی اپنےوالد کو نام سے نہ بلائے ، نہ اس سے پہلے
بیٹھے اور نہ اس کے ا ٓگے چلے 66
کیا اپنے والد کو کنیت سے پکارا جا سکتا ہے؟ 66
صلہ رحمی کرنا واجب ہے 67
صلہ رحمی کرنا 68
صلہ رحمی کرنے کی فضیلت 69
صلہ رحمی کرنےسے عمر میں ا ضا فہ ہو تا ہے 70
صلہ کرنے والے سے اس کے رشتہ دار محبت کرتے ہیں 71
حسب مراتب قرابت داروں کے ساتھ حسن سلو ک کرنا 71
ان لو گو ں پر رحمت الٰہی نہیں اتر تی جن میں قطع رحمی
کرنے والا ہو 73
قطع رحمی کرنے والے کا گناہ 73
دنیا میں قطع رحمی کرنے والے کی سزا 74
صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو مدلے میں صلہ ر حمی کرے 74
ظلام رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کی پھر مسلمان ہو
گیا 75
مشر ک رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور اسے ہدیہ دینا 76
اپنے نسب نامے کا علم رکھو تا کہ اپنے ر شتہ داروں
سے صلہ رحمی کر سکو 76
کیا گلام یہ کہہ سکتا ہے کہ میں فلاں(قبیلہ ) میں سے
ہوں ؟ 77
قوم کا غلام انہی میں سے شمار ہوتا ہے 77
جس نے ایک یا دو بیٹیوں کی پرورش کی 78
جس نے تین بہنوں کی پر ورش کی 79
اس بیٹی کی پرورش کرنے کی فضیلت جو اس کے پاس
واپس ا ٓگئی ہو 79
جس شخص نے بیٹیوں کی موت کی تمنا کو بر ا سمجھا 80
اولاد کنجو سی اور بزدلی کا سبب ہے 80
بچے کو کند ھے پر بٹھانا 81
اولاد ا ٓنکھوں کی ٹھنڈک ہے 81
جس نے اپنے ساتھی کے لیے یہ دعا کہ کہ اللہ اس
کے مال اور اولاد میں ا ضافہ کرے 83
مائیں رحم دل ہوتی ہیں 83
بچوں کا بو سہ لینا 84
والد کا اولاد کو ادب سکھانا اور ا ن کےساتھ حسن سلوک کرنا 84
والد کا اپنی اولاد سے حسن سلوک کرنا 85
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جا تا 85
رحمت کے سو حصے ہیں 86
پڑوسی کے متعلق و صیت 87
ہمسائے کا حق 87
حسن سلوک میں پڑوسی سے ابتدا کی جائے 88
قریبی دروازے والے پڑوسی کو ( پہلے ) ہدیہ دیا جائے 89

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
14.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

احادیثادباسلاماسلامیاللہامام بخاریامام محمدامیرانسانبخاریترجمہحدیثدعاسفرصحیح بخاریعبدالغفارعبداللہعلمعلمیفقہقرآنمسلمانموتنظر
Comments (0)
Add Comment