دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم

دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم

 

مصنف : حافظ ذو الفقارعلی

صفحات: 208

 

مسلمان ہونےکےناطےہمارایہ پختہ اعتقاد ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی،سیاسی ہو یا اخلاقی،معاشرتی ہو یا معاشی جس کے متعلق دین میں اصولی رہنمائی موجود نہ ہو۔مگر بدقسمتی کی بات یہ ہےکہ آج مسلمانوں کی اکثریت دین سے بیگانگی کے باعث اسلام کےان سنہری اصولوں سےنابلد ہے جولوگ نماز روزہ کےپابند ہیں ان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس نے دین صرف عبادات،نماز،روزہ ،حج اور  زکوۃ کا نام سمجھ لیا ہے مالی معاملات کے بارہ میں احکام شریعت کواس طرح نظر انداز کیے ہوئے ہے کہ گویا ان کادین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے بالخصوص جدید معاملات کےمتعلق ان کاانداز فکر یہ ہے کہ یہ چونکہ دور حاضر کے پیداوار ہیں عہد رسالت میں ان کاوجود ہیں نہیں تھا اس لیے یہ جائز ہیں۔ان حالات میں اہل علم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات جدید ہ سمجھیں او رلوگو ں کی صحیح او رکما حقہ رہنمائی کریں۔یہ کتاب  دور حاضر کےمالی معاملات پر جتنے بھی سوالات واشکالات ہیں ان کاجواب ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
عنوانات
پیش لفظ 12
ارشاد باری تعالی 14
فرمودات نبویہ ﷺ 15
باب اول 16
اسلام اور جدید مسائل
خصوصیات اسلام 16
عالم گیریت 16
ابدیت 18
جامعیت او رہمہ گیریت 18
اسلام اور معیشت و تجارت 20
بعض شبہات کا ازالہ 21
جواب 22
کاروبار کی جو صورت شریعت کی ہدایات یا مقاصد کے خلاف نہ ہو وہ جائز ہے 22
دوسرا شبہ 25
خلاصہ 26
باب دوم 27
مالی معاملات کے بنیادی اصول
ربا (سود) 28
سود کی حرمت پر اجماع ہے 30
ربا کا معنی و مفہوم 31
قرآن کی روشنی میں ربا الفضل کا حکم 31
احادیث میں ربا الفضل کا حکم 32
ربا الفضل کیوں حرام ہے؟ 33
بظاہر یکساں چیزوں کاتبادلہ 34
ربا الفضل کا دائرہ 34
کیا ربا کی حقیقت واضح نہیں؟ 35
غرر(Uncertainty) 39
غرر کا معنی 40
غرر کا دائرہ 44
مشکوک معاملات سے بھی پرہیز ضروری ہے 45
خلاصہ 46
باب سوم 47
مروجہ معاملات کی تفصیل
کریڈٹ کارڈ 47
کریڈٹ کارڈ کا حقیقت 47
کریڈٹ کارڈ کی تاریخ 48
کارڈز کی مختلف قسمیں 49
سودی 49
غیر سودی 49
کارڈز کے فوائد 50
بینک کو حاصل ہونے والے فوائد 50
تاجر کا فائدہ 50
کارڈ ہولڈر کو پہنچنے والے فوائد 50
کارڈز کے نقصانات 51
کریڈٹ اور چارج کارڈز کا شرعی حکم 51
ڈیبٹ کارڈ (Debit Card)  کااستعمال جائز ہے 52
انشورنس (التامین) 53
انشورنس کی ابتدا 53
انشورنس کا مفہوم 55
انشورنس کی قسمیں 56
گروپ انشورنس 56
میوچل انشورنس 56
کمرشل انشورنس 57
لائف انشورنس 57
گڈز انشورنس 57
تھرڈ پارٹی انشورنس 58
کمرشل انشورنس کا شرعی حکم 58
لیزنگ 59
لیزنگ کا جدید مفہوم 60
ایک شبہ کا ازالہ 61
لیزنگ کا متبادل 62
مروجہ لیزنگ کا دوسرا متبادل 62
شیئرز (حصص) کی خرید و فروخت 63
شیئرز کی تاریخ 63
شیئرز کی حقیقت 63
شرعی حکم 64
شیئرز کی خرید و فروخت کی بعض ناجائز صورتیں 66
فیو چرسیل 66
بدلہ (Carey Over) 66
کاروباری دستاویزات 68
کاروباری دستاویزات سے مراد 68
اوراق تجاریہ کی تاریخ ابتداء 69
کاروباری دستاویزات اور کاغذی کرنسی میں فرق 70
کمرشل اور فنانشل پیپرز کا باہمی فرق 70
کمرشل پیپرز کی مختلف قسمیں او ران میں باہمی فرق 71
ہنڈی 72
پرومزری نوٹ 73
چیک 73
شرعی حکم 74
بینک کی وساطت سے وصول کا حکم 76
ایک شبہ کا ازالہ 77
ہنڈی بھنانے کا حکم 77
بعض شبہات کا ازالہ 78
جواب 79
دوسرا شبہ 80
جواب 80
تیسرا شبہ 80
جواب 81
حقوق کی بیع 84
حق التالیف 84
حق التالیف کی تاریخ 85
حق ایجاد 86
تجارتی نام اور علامات 86
معنوی حقوق کی بیع کا شرعی حکم 87
قائلین کے دلائل 88
مانعین کے دلائل 89
راجح رائے 89
پگڑی 91
اراضی وقف میں پگڑی کی صورتیں 91
اراضی بیت المال میں پگڑی کی صورت 91
ذاتی پراپرٹی میں پگڑی کا مفہوم 92
پگڑی کا فائدہ 92
پگڑی کے مختلف نام 92
پگڑی کی تاریخ و ارتقاء 93
پگڑی کا حکم 95
ملاحظہ 98
بیع قسط 99
پہلا واقعہ 99
دوسرا واقعہ 100
قسطوں پر خریداری کی مختلف صورتیں 101
قائلین جواز کے دلائل 102
مانعین کے دلائل 103
راجح نقطہ نظر 104
ملاحظہ 108
خلاصہ 108
باب چہارم 110
اسلامی بینک کاری کی حقیقت!
تمہید 110
اسلامی بینکوں پر تنقید کی وجوہ 111
اسلامی بینکوں میں رائج اجارہ کا مقصد تمویل (فنانسنگ) ہے نہ کہ حقیقی اجارہ 111
شرح سود کو معیار بنانا 112
اسلامی بینکوں کا طریقہ بھی سودی بینکوں جیسا ہے 114
تاخیر پر جرمانہ 115
شریعت میں تاخیر پرجرمانہ کا تصور نہیں ہے 115
امام خطاب کے قول سے غلط استدلال 117
اسلامی بینکوں نان رسک ہیں 118
اسلامی بینکوں میں رائج طریقہ ہائے تمویل کی حقیقت 119
مضاربہ 119
مضارب کی حیثیت 121
مضاربہ کی شرطیں 121
مضاربہ کا میدان 122
اسلامی بینکوں میں رائج مضاربہ کی حقیقت 126
مرابحہ 129
مرابحہ کی ضرورت اور اس کے بنیادی اصول 129
مرابحہ کی مختلف قسمیں اور ان کا شرعی حکم 130
راجح رائے 132
مرابحہ میں ضمنی اخراجات کا حکم 133
بیع مرابحہ اور بینکاری 133
اسلامی بینکوں میں رائج مرابحہ 134
مروجہ مرابحہ کا شرعی حکم 136
اسلامی بینکوں کانقطہ نظر 142
اجارہ   منتھیۃ بالتملیک 144
اسلامی بینکوں میں رائج اجارہ اور سودی بینکوں میں رائج ہائر پر چیز میں فرق 146
ملکیت منتقل ہونے کے طریقے 146
ضمان جدیہ کا حکم 147
اگر چیز تباہ ہوجائے یا قابل استعمال نہ رہے؟ 147
اجارہ منتھیۃ بالتملیک کا شرعی حکم 148
مشارکہ  متنا قصہ(Diminishing Musharakah) 150
مشارکہ متناقصہ شرکت کی کس قسم میں داخل ہے 152
شرکۃ العنان کیا ہے؟ 152
مشارکہ متناقصہ میں بینک اپنے حصے کے یونٹ کس قیمت پر بیچے گا 154
بینک اپنا حصہ کس قیمت پر فروخت کرتا ہے 155
تورق 156
تورق اور بیع عینہ میں فرق 157
تورق کا شرعی حکم 159
راجح رائے 160
بینکوں میں تورق کا استعمال 160
شرعی حیثیت 162
بیع سلم 162
سلم کی اجازت کا فلسفہ 164
کیا سلم خلاف قیاس ہے؟ 164
سلم کی شرطیں 165
ملاحظہ 169
سلم اور استصناع میں فرق 169
سلم میں رہن اور ضمانت طلب کرنا 169
سلم میں قبضہ کی مدت 170
حوالگی میں تاخیر پرجرمانہ 171
قبضہ سے پہلے بیچنا 172
تجارت میں سلم کا استعمال 173
اسلامی بینکوں میں سلم کا استعمال 176
سلم متوازی 177
پراپیگنڈہ کا جواب 178
خلاصہ 178
باب پنجم 180
تکافل کا معنی و مفہوم 180
اسلام میں تکافل کی اہمیت 182
اسلامی تکافل کی ہمہ گیریت 184
تکافل کی مختلف صورتیں 186
اسلامی تکافل کی خصوصیت 187
مروجہ تکافل اور اس کا طریقہ کار 187
مروجہ تکافل کی قسمیں 190
فیملی تکافل 190
جنرل تکافل 191
کیا مروجہ تکافل سود اور غرر سے پاک ہے؟ 191
کیا یہ عقد معاوضہ نہیں؟ 192
ایک تاویل کاجواب 192
کیا نقدی کو وقف کیا جاسکتا ہے؟ 193
صحیح موقف 197
ایک شبہ کا ازالہ 198
بعض تحقیق طلب مسائل 201
ایک غیر معقول استدلال 202
خلاصہ 202
باب ششم 203
قرض کے مسائل
قرض لینا پسندیدہ نہیں 203
قرض کی ادائیگی کا معیار 206

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4Mb ڈاؤن لوڈ سائز

احکاماسلامتاریختحقیقحقوقدستاویزاتدینروزہزکوۃسودشریعتعلمکرنسیمعیشتنظرنماز
Comments (0)
Add Comment