دولت عثمانیہ جلد دوم

دولت عثمانیہ جلد دوم

 

مصنف : ڈاکٹر محمد عزیر

 

صفحات: 422

 

سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دولت عثمانیہ ‘‘دار المصنفین شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ ہند کے رفیق خاص جناب ڈاکٹر محمد عزیر کی تصنیف ہے ۔ بقول سید سلیمان ندوی﷫ (سابق ناظم دارالمصنفین)یہ کتاب اپنی تصنیف کے وقت دولت عثمانیہ کے تاریخ کے متعلق تحریری کی جانی والی اردو زبان میں پہلی کتاب تھی ۔اس سے پہلے دولت عثمانیہ کے متعلق جوکچھ لکھا گیا وہ محض پورپین مصنفین کے تراجم اورخیالات تھے ۔ لیکن مصنف کتاب ہذا نے سات برس کی محنت ومطالعہ کے بعد اسے تصنیف کیا ۔ اس میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی، اور فارسی کی مستند کتابوں نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لے کرسلطنت کے عروج وزوال کی تاریخ اور جمہوریہ ترکیہ کے کارناموں کی دو جلدوں میں مکمل تفصیل پیش کردی ہے۔کتاب کے دیباچہ سے معلوم ہوتا کہ یہ کتاب پہلی دفعہ 1939ء میں طبع ہوئی ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن 2009ء طبع ہونے والا جدید ایڈیشن ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
 دیباچہ 5
محمود ثانی 6
ینی چری کی بغاوت 1
زار اورنپولین کاخفیہ معاہدہ 2
نگلستا ن سے صلح 4
روس سےجنگ 4
صلح نامہ بخار سٹ 5
سرویا کی خودمختاری 6
میلوش حکمراں سرویا 7
سلطنت عام کی کمزوری 7
افریقی مقبوضات 9
محمد علی 9
حجاز کی مہم 11
وہابی بغاوت کاانسداد 11
محمد علی کی بغاوت 12
بغاوت یونان 13
یونانیوں کی بحری قوت 14
ارماٹولی اورکلیفٹ 15
حکومت میں یوناینوں کااقتدار 16
عام یونانیوں کی حالت 17
تعلیم اورتحریک آزادی 19
انقلاب فرانس کااثر 21
ہستیریا 22
روس کی سازشیں 23
برات 25
علی پاشا 26
مولڈیویا کی بغاوت 29
انتقام 30
ہتیر یا سے بطریق ارزار کی مخالفت 31
بغاوت مولڈیویاکااستیصال 32
موریا میں ترکوں کاقتل عام 32
باب عالی کی طرف سے جوابی کارورئی 33
گریگوریوس کی پھانسی 34
ایک غلط فہمی کاازالہ 34
یونانیوں کاقتل 35
یونانی سفاکیاں 36
باغیوں کےساتھ مغرب کی ہمدردی 39
برطانیہ کی معاندانہ روش 40
مصرکی مدد 41
موریا کی تسخیر 43
ینی چڑی کااستیصال 43
محمود کےکارنامے 45
دول عظمی کی دشمنی 46
معاہدہ آق کرمان 48
مسیحی اتحاد 49
واقعہ نوارینو 50
نوار ینو کی شکست کااثر 52
جنگ روس 53
ایک شدید غلطی اورشدید ترغلط فہمی 55
طلسم قوت 56
صلح نامہ اورنہ 58
ہجوم مصائب 60
محمد علی کی بغاوت 60
روس کی مدد 62
معاہدہ کو تاہیہ 63
معاہدہ خونکار اسکہ سی 63
محمد علی سے دوبارہ جنگ 63
محمود کی وفات 64
محمود کی عظمت 64
محمدعلی سے صلح 69
خط شریف گلخانہ 70
دستور ثانی 76
دیگر اصلاحات 80
فوجی اصلاحات 81
اصلاحات کااثر 81
سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کی تجویز 83
جنگ کریمیا کےاسباب 84
اعلان جنگ 85
انگلستان اورفرانس کی حمایت 86
سباسٹوپول کی فتح 87
سقوط قارص 87
صلح  کی گفتگو 87
صلح نامہ پیریں 88
ضمنی معاہدے 89
صلح نامہ پیرس پر ایک نظر 89
مختلف شورشیں کریٹ 91
جد ہ پر گولہ باری 92
فتنہ لبنان 92
سلطان کی وفات 95
اس عہد کی خصوصیت 95
سلطان عبدالعزیز 97
مالی اصلاحات کی کوشش 98
سیاسی فتنے رومانیا 100
سرویا کااستقلال 101
کریٹ کی بغاوت 101
معاہد ہ پیرس کی خلاف ورزی 102
بلغار یا کاقومی کلیسا 103
باب عالی میں روس کااثر 104
جمعیۃ سلافیہ 106
مدحت پاشا کی اسکیم 107
سلطان کی فضول خرچی 108
مدحت پاشا کی صدارت 109
مالی ابتر ی 11
بغاوت ہرزیگودینا 111
اندراسی نوٹ 113
جرمن اورفرانسیسی قنصلوں کاقتل 114
بغاوت بلغاریا 115
حقیقت حال 117
یادداشت برلن 122
دولت علیہ کی مشکلات 123
سلطان کاعزل 124
سلطان مراد خامس 126
 وفات عبدلعزیز 127
کپتان حسن کاواقعہ 127
معزولی کاسوال 128
مراد کاعزل 130
سلطان عبدالحمید خاں ثانی 131
صدارت مدحت پاشا 132
دستور ساسی کااعلان 133
قسطنطینہ کی کانفرنس 137
مجلس عالیہ کافیصلہ 140
روس سےجنگ 140
پلونا 142
مضبط اورنہ 144
معاہدہ سان اسٹیفا نو 145
اس معاہد ہ کی مخالفت 146
روس اوربرطانیہ کاخفیہ معاہدہ 147
برلن کانگریس 149
عہد نامہ برلن 149

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Comments (0)
Add Comment