دور نبوت میں شادی بیاہ کے رسم و رواج اور پاکستانی معاشرہ

دور نبوت میں شادی بیاہ کے رسم و رواج اور پاکستانی معاشرہ

 

مصنف : گلریز محمود

 

صفحات: 338

 

شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’دورِنبوت میں شادی بیاہ کےرسم ورواج اور پاکستانی معاشرہ‘‘ محترمہ گلریز محمود صاحبہ کی تصنیف ہے۔مصنفہ نے ا س کتاب میں   پہلے دور جاہلیت  کےنکاح اور ا ن کی اخلاقی اور معاشرتی قباحتیں قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کی ہیں پھر ان جہالت پر مبنی رسوم کا بیان  ہے  جنہیں نبی آخر الزماں ﷺ نے  یکسر ختم او رعرب کے بیشتر قدیم رسم ورواج جو دین اسلام سے براہ راست متصادم نہیں تھے ان کو جاری رہنے دیا اور کچھ میں تھوڑی بہت تبدیلی کردی۔ نیز مصنفہ کتاب ہذا  نے  رسم ورواج کا اسلامی  نقطۂ نگاہ، دور نبوت اور پاکستان کے رسم ورواج بھی بیان کرردئیے ہیں  تاکہ لوگ اپنی  جاری کردہ رسوم کو اسلامی رسوم کےساتھ  رکھ کر موازنہ کرسکیں کہ کونسی سی رسم جاری رکھنی ہیں اور کس کو ختم کرنا ہے ۔  مصنفہ کا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد لوگوں میں یہ احساس بیدار کرنا ہے  کہ  شادی بیاہ کے موجود رسم ورواج نہ توہمارے مذہب کا حصہ  ہیں نہ  اس سے میل کھاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
باب اول : شادی کے رسم ورواج کا تاریخی جائزہ 1
فصل اول
رسم ورواج کی اہمیت 2
شادی انبیاء کی سنت ہے 2
انبیاء کرام کی شادی کے سلسلے میں قرآنی ارشادات 3
فصل دوم
دور جاہلیت کے نکاح 7
نبی کریمﷺ کے اجداد کی شادیاں 7
قصی بن کلاب 7
ہاشم بن عبد مناف 7
عبد اللہ بن عبد المطلب 8
عربوں میں پیغام نکاح 10
فصل سوم
نکاح کی مختلف صورتیں 12
نکاح بدل 12
پیدائش سے پہلے نکاح کا تعین 12
نکاح مقت 14
نکاح شغار 14
نکاح متعہ 16
نکاح استبضاع 21
حلالہ کی حرمت اور اس کے اسباب 22
جمع بین الانثین 24
شادی کے ساتھ عربوں کے وابستہ مقاصد 30
حوالہ جات 31
باب دوم: شادی بیاہ کی رسوم میں اسلام کی اصلاحات 34
تعداد ازواج پر ضروری پابندی 35
رشتہ پر رشتہ بھیجنے کی ممانعت 36
نکاح سے پہلے اقدامات 38
شادی سے قبل لڑکی کو دیکھنا 38
پیغام سے پہلے استخارہ 44
شادی میں کفو کا لحاظ 45
کفو کی حقیقت اور مصلحت 45
عمر میں کفاوت 47
مسئلہ ولایت 49
ولایت کی حکمتیں 50
بیوہ اور طلاق یافتہ کے اختیالات 51
عدت ختم ہونے کے بعد نکاح کا بیان 54
نکاح کی اجازت کی تفصیل 55
یتیم لڑکیوں کی حق تلفی کی روک تھام 56
نکاح کے وقت شرائط 57
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں 58
حوالہ جات 59
باب سوم
اسلام میں نکاح کا طریقہ 61
فصل اول
اسلام میں نکاح کا تصور اور مقصد 62
نکاح کے بارےمیں احادیث نبوی 63
نکاح میں قابل لحاظ چیز دین ہے 65
فصل دوم
رسول پاک کی شادیاں 67
حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ کا آنحضرت ﷺکے ساتھ نکاح 68
ایجاب قبول 70
خطبہ نکاح 71
بارات کی دعوت 72
مہر 72
حضرت سودہؓ سے حضور اکرمﷺ کا نکاح 73
حضرت عائشہؓ سے آپﷺ کا نکاح 75
نکاح عائشہ صدیقہ پر اعتراضات کاجواب 76
نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر 77
حضرت حفصہؓ کا نکاح 81
حضرت ام سلمہؓ سے حضورﷺ کا نکاح 81
حضرت ام حبیہؓ سے حضورﷺ کا نکاح 83
حضرت زینب بن جحشؓ کے ساتھ رسول کرام کا نکاح 84
حضرت زینب بنت خزیمہؓ سے حضورؐ کا نکاح 84
حضرت جویریہ ؓ سے حضورؐ کا نکاح 85
حضرت ریحانہ ؓ سے حضورؐ کا نکاح 85
حضرت میمونہؓ سے حضورؐ نکاح 86

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Comments (0)
Add Comment