حیاۃ الصحابہ ؓ(اردو) جلد اول

حیاۃ الصحابہ ؓ(اردو) جلد اول

 

مصنف : محمد یوسف کاندھلوی

 

صفحات: 649

 

حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں ﷺ  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم ﷺ کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول ﷺ کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام ؓ اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی ؒ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی ؒ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔اس کے بارے میں یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس کی تخریج و تحقیق کا اہتمام نہیں کیا گیا،جس کی بناء پر اس میں موجود روایات پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا،تاہم بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مترجم 15
مقدمہ 19
پیش لفظ 24
کتاب حیاۃ الصحابۃ ؓ(حصہ اول) 26
نبی کریم ﷺ کی اطاعت اور آپ کے اتباع اور آپ کے خلفاء ؓ کے ابتاع کے بارے میں احادیث 31
دعوت کا باب 57
دعوت سے محبت اور شفقت 57
حضور ﷺ کا مختلف صحابہ کو دعوت دینا 71۔161
صلح حدیبیہ کا قصہ 164
حضرت حارث ابن ہشام کے اسلام لانے کا واقعہ 200
اسلام پر بیعت ہونا 261
اعمال اسلام پر بیعت ہونا 263
نصرت پر بیعت ہونا 267
جہاد پربیعت ہونا 267
موت پر بیعت ہونا 272
عورتوں کا بیعت ہونا 274
نابالغ بچوں کا بیعت ہونا 280
ہجرت کا باب 360
نصرت کا باب 404
جہاد کاباب 443
عورتوں کے جہاد میں جانے پر نکیر 644
بچوں کا اللہ کے راستہ میں نکل کر جنگ کرنا 644

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
21 MB ڈاؤن لوڈ سائز

اردواردو ترجمہاسلاماللہپیغمبرتحقیقترجمہجہادحیاتخدادینصحابہصحابہ کرامعربیغالبمحمد یوسفنظرواقعات
Comments (0)
Add Comment