اسلامی قانون کی تشکیل میں صحابہ ؓ کا کردار

اسلامی قانون کی تشکیل میں صحابہ ؓ کا کردار

 

مصنف : ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں

 

صفحات: 493

 

اسلامی قانون سازی کو تشریع اسلامی بھی کہا جاتا ہے ۔شریعتِ اسلامی ایسا واضح راستہ  ہے جو انسانوں کو زندگی کے مآخذ تک پہنچاتا ہے۔تشریع کا معنیٰ قانون سازی کرنا ہے تشریع الٰہی اور تشریع رسول  ﷺ دونوں ہی مصدر اصلی اور حجت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو تشریع الٰہی کےبیان ،توضیح اور تشریعِ احکام کا مختار بنایا ہے۔ تشریع الٰہی اور تشریع رسول ﷺ دونوں کا نام شریعتِ اسلامی ہے ۔ ان دونوں ہی سے دین کی تکمیل ہوئی۔تشریع اسلامی یعنی اسلامی قانون سازی کا آغاز نزولِ وحی سے ہوا۔ تمام احکامِ شریعت ایک ہی بار نازل نہیں ہوئے بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتے رہے۔ اسلامی معاشرے میں انسانی ضرورتوں کے مطابق احکام دئیے جاتے رہے ۔ یہ احکام اللہ تعالیٰ اور سول اللہﷺ دونوں  کی طرف سےتھے۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بعد  قانون سازی کا  اختیار سب سے پہلے  صحابہ کرام﷢ کو تفویض ہوا۔اسلامی سلطنت کی وسعت اور امت مسلمہ میں عددی اضافہ کے ساتھ  نئے واقعات  ومسائل نے ظہور کیا ۔ان میں متعد مسائل ایسے تھے جن کے بارے میں قرآن وسنت سےبراہ راست رہنمائی نہیں ملتی تھی۔ ایسے مسائل کا شرعی حکم جاننے کے لیے لوگ صحابہ کرام﷢ کی طرف رجوع کرتے تھے  اور ان کے بتائے ہوئے حکم پر عمل کرتے تھے ۔ یوں رسول اللہ ﷺ کے بعد امورِ قانون سازی انجام دینے کی ذمہ داری براہِ راست صحابہ کرام﷢ پر آن پڑی اور صحابہ کرام   کی جماعت انبیاء﷩ کے  بعد  تمام انسانوں سے افضل ترین جماعت ہے ۔ صحابہ کرام کے  احکام ، فیصلوں ، فتاویٰ اور آراء کو اسلامی قانون سازی میں اہم  مقام حاصل  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلامی قانون  کی تشکیل  میں صحابہ  کرام کا کردار‘‘ ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں(چئیرمین شعبہ علوم اسلامیہ یو ای ٹی ،لاہور ) کی کاوش ہے۔ اس کتاب میں 123 صحابہ کرام ﷢ ،217 محدثین ، ماہرین قانون اسلامی ، اصولیین ، فقہاء اور علماء کرام  وغیرہ کا تذکرہ اور 113 ضروری انسانی مسائل پر فقہی احکام شامل ہیں۔مصنف موصوف نے اسلامی ادب کی 415 مستند کتب سے استفادہ کرکے اس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست 5
پیش لفظ 13
باب اول:اسلام میں صحابہؓ کامقام 15
صحابی کی تعریف 16
لغوی تعریف 16
محدثین کےنزدیک صحابی کی تعریف 16
اصولیین کےہاں صحابی کی تعریف 17
محدثین اوراصولیین کی تعریفات کاجائزہ 19
ایمان کی شرط 19
رؤیت کی شرط 23
لقاءوصحبت کی شرط 26
طویل اورمطلق صحبت کی شرط 27
غزوات میں شرکت شرط 28
اتباع واخذعلم کی شرط 28
بلوغت کی شرط 30
غیرممیز کی رؤیت 30
راجح تعریف 31
معرفت صحابی کےطریقے 31
دعوی صحابیت 32
امتیازات صحابہؓ 34
قبول اسلام میں سبقت 34
نزول شریعت کےعینی شاہد 36
سیرت صاحب شریعت کےعینی شاہد 36
مدرسہ نبوت کےاولین تلامذہ 36
شریعت اسلامی کےاولین مزاج شناس 37
دین کےسچےراوی اول 37
ایمان صحابہؓ معیارایمان 40
انبیاءکےسواتمام انسانوں پرصحابہؓ کی فضیلت 41
صحابہؓ کومغفرت کی بشارتیں 42
قرآنی ونبوی گواہیاں 42
صحابہؓ کی توبہ کی فضیلت 50
عدالت صحابہؓ 53
عدالت کالغوی معنی 53
عدالت کی اصطلاحی تعریف 55
عدالت صحابہؓ سےمراد 57
عدالت صحابہؓ پرقرآن کی گواہیاں 58
عدالت صحابہؓ پرنبوی ارشادات 58
عدالت صحابہؓ پراقوال ائمہ 77
عدالت صحابہؓ کی حکمت 84
عدالت صحابہؓ پرمخالفین کےاقوال 86
مخالفین کےاقوال کاجائزہ 86
عدالت اورعصمت 89
عدالت اورخطا 91
عدالت اورضبط 92
باب دوم:نقل وروایت میں الفاظ صحابہؓ کی حجیت 97
عہدنبوی کی طرف اضافت والے الفاظ 98
عہدنبوی کی طرف عدم اضافت والےالفاظ 105
لفظ السنۃ کااستعمال 108
مجہول صیغہ امرونہی 114
نسخ سےمتعلق الفاظ 123
تفسیری اقوال 126
صحابی کےقول یافعل کاحدیث سےتعارض 139
باب سوم: صحابہؓ کی اجتہادی تربیت اوراسالیب اجتہاد 139
اسلامی قانون سازی ایک تعارف 140
حیات نبوی میں قانون سازی کی صورتیں 143
حیات نبوی کےبعدقانون سازی کااصول اجتہاد 146
اجتہاد کی تعریف 146
شرائط اجتہاد 147
اجتہاد کادائرہ کار 148
اجتہادمیں غلطی 149
حیات نبوی میں اجتہاد کی اجازت: ایک اصولی بحث 151
صحابہؓ کی اجتہادی تربیت 160
استفسار کی اجازت 160
اجتہادکی تربیت 161
مشاورت 166
غیرمنصوص مسائل میں اذن اجتہاد 168
اجتہادکرنےکاحکم 169
صحابہؓ بطورقاضی ،حاکم اورامیرلشکر 170
اجتہادات صحابہؓ عدالت نبوی میں 173
فقہاء صحابہ کرامؓ 180
حضرت ابوبکرصدیقؓ 183
حضرت عمرؓ 184
حضرت عثمانؓ 184
حضرت علیؓ 184
حضرت زیدبن ثابتؓ 185
حضرت معاذبن جبلؓ 185
حضرت ابی بن کعبؓ 186
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ 187
حضرت عبداللہ بن عباسؓ 188
حضرت عائشہل 189
دیگرفقہاءصحابہ کرامؓ 189
مفتی صحابہ کرامؓ 190

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Comments (0)
Add Comment