المعتزلہ ماضی اور حال کے آئينہ ميں

المعتزلہ ماضی اور حال کے آئينہ ميں

 

مصنف : ڈاکٹر طارق عبد الحلیم

 

صفحات: 64

 

یہ کتاب دراصل عربی کتاب “المعتزلہ” جو کہ ۱۹۸۶ میں شائع ہوئی تھی، کا اردو ترجمہ ہے جو کہ گمراہ کن فرقوں کی شناخت کے سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔ عصر حاضر کی یہ انتہائی اہم ضرورت ہے کہ مسلمان  نوجوانوں کو جو کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں صرف گمراہ کن فرقوں کے ذریعے متعارف ہوتے ہیں جیسا کہ جعلی سلفی، صوفی، شیعہ، مرجئہ، خوارج اور معتزلہ وغیرہ، انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان فرقوں کے ساتھ شامل ہو کر وہ گمراہی کے کیسے عمیق غار میں گرے جا رہے ہیں۔ اس دور کے اسلامی معاشرے میں غلط اور باطل کو صحیح اور حق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور حق کو عوام کی نظروں سے چھپا کر گمراہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔  فکر مند مسلمانوں کیلئے لائق مطالعہ کتاب ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مصنف کا تعارف 5
مقدمہ 7
فصل اول
جاهل دوست 11
علم كلام كي تعريف اور چند مثالیں 17
اسلامي زندگی پر علم کلام کے اثرات 38
علم كلام کن مراحل سے گزرا ہے 39
سلف صالحين نے علم کلام کی مذمت کی ہے 42
بہت سے متکلمین نے حق کی طرف رجوع کیا 43
فصل دوم
معتزلہ کے عقائد 47
توحید 48
تعطیل 49
مسئلہ خلق قرآن 59
عدل 60
وعد ،وعید اور المنزلۃ بین المنزلتین 77
امر بالمعروف ونہی عن المنکر 82
تیسری فصل
معتزلہ کی سیاسی وفکری  تبدیلیاں 107
معتزلہ کے سیاسی مراحل 118
اموی دور 118
عباسی دور 120
فتنہ خلق قرآن 122
معتزلہ متوکل کے دور میں 123
بویہیین کے دور میں معتزلہ 124
معتزلہ کا باقاعدہ ایک فرقہ کی صورت میں سامنے آنا 126
دور جدید کے معتزلہ 126
جدید مدرسہ اصلاحیہ 135
اختتامیہ 139
فضیلۃ الشیخ محمد عبدہ کا تعارف 143

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

اردواردو ترجمہاسلامیترجمہحقشریعتعربیعلمفقہمحمد عبدہ
Comments (0)
Add Comment