عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

 

مصنف : فضل الرحمان بن محمد

 

صفحات: 450

 

کتاب وسنت  کے دلائل کی رو سے امور حکومت کی نظامت مرد کی ذمہ داری ہے اور حکومتی و معاشرتی ذمہ داریوں سے ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد ہی عہدہ برآں ہو سکتاہے۔کیونکہ عورتوں کی کچھ طبعی کمزوریاں ہیں اور شرعی حدود ہیں جن کی وجہ سے نا تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ مجالس و تقاریب  میں حاضر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی سکیورٹی اور پروٹوکول کی مجبوریوں کے پیش نظر ہمہ وقت اجنبی مردوں  سے اختلاط کر سکتی ہیں ،فطرتی عقلی کمزوری بھی عورت کی حکمرانی میں رکاوٹ ہے کہ امور سلطنت کے نظام کار کے لیے ایک عالی دماغ اور پختہ سوچ کا حامل حاکم ہونا لازم ہے ۔ان اسباب کے پیش نظر عورت کی حکمرانی قطعاً درست نہیں بلکہ حدیث نبوی ﷺ کی رو سے اگر کوئی عورت کسی  ملک کی حکمران بن جائے تو یہ اسکی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہو گی ۔زیر نظر کتاب میں کتاب وسنت کے دلائل ،تعامل صحابہ  اور محدثین وشارحین کے اقوال سے فاضل مولف نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے اور دلائل شرعیہ  کی  رو سے  عورت کبھی حکمران نہیں بن سکتی ۔پھر معترضین کے اعتراضات اور حیلہ سازیوں کا بالتفصیل رد کیا ہے  اور عورت کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کے لیے فتنہ پرور مستشرقین کی فتنہ سامانیوں کو احسن انداز سے طشت ازبام کیا ہے ۔کتاب انتہائی مدلل ہے اور اپنے موضوع کی کما حقہ ترجمانی کرتی ہے ۔نیز دلائل و براہین کا ایسا انبار ہے جو افتراء پرداز علماء و نام نہاد مغربی طفیلیوں کے مصنوعی حیلوں کو خس و خاشاک کی طرح بہاتا چلا جاتا ہے ۔اس کتاب کی تالیف پر مولف حفظہ اللہ  داد کے مستحق ہیں اور موجودہ دور میں جب سارا معاشرہ ہی عورت کی حکمرانی کا قائل دکھائی دیتا ہے ۔پھر حکومتی سطح پر قومی و صوبائی پارلیمان میں عورتوں کی وزارتوں کا کوٹہ بڑھا  دینے اور الیکشن میں عورتوں کی مزید حوصلہ افزائی کی وجہ سے  اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔اسے گھر گھر پہنچانا مبلغین و اہل ثروت کی ذمہ داری ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
تمہیدی کلمات 19
ڈاکٹر اسرار صاحب کا عجیب مؤقف 25
ہر مسلمان کا فریضہ 25
مرد عورتوں پر حاکم ہیں 27
عورت کی امامت 29
شیعہ کتب میں عورت کی امامت 31
کیا عورت مردوں کی امام بن سکتی ہے 32
اُم ورقہ کی امامت 34
ڈاکٹر احمد حسن کا استفسار 36
محترم ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نوٹ 37
محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے نوٹ کا تجزیہ 38
عورت کانکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا 46
کیا وراثت میں مرد اور عورت برابر ہیں؟ 47
کیا شہادت میں مرد اورعورت برابر ہیں؟ 48
منطقی نتیجہ 48
اہم سوال و حضرت عائشہ کی قیادت 49
رضیہ سلطانہ کی حکمرانی 52
ملکہ یمن بلقیس کا واقعہ 54
محترمہ فاطمہ جناح کا الیکشن اور مولانا مودودی کا ان کی حمایت کرنا 57
مولانا مودودی کا اپنا عقیدہ 59
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا فرمان 63
پروفیسر محمد اسلم صاحب کا استدلال 63
جناب پروفیسر محمد اسلم صاحب کی بحث کا خلاصہ 65
فلاح سے کیا مراد ہے؟ 65
پوران دخت کےساتھ فلاح والی حدیث کو خاص کرنا 72
ائمہ تفسیر کامتفقہ فیصلہ 75
ایک اور سوال 75
قرآنی رہنمائی 76
مسلم خواتین کی سربراہی 77
نواب صدیق الحسن کا تفسیری فتویٰ 78
صحیح بات 79
پروفیسر رفیع اللہ شہاب کی تحقیق 80
اسلامی تعلیمات کو بازیچہ اطفال نہ بنایا جائے 80
اسلام میں عورت کی سربراہی کے موضوع پرایک انقلاب آفرین کتاب 85
پاکستان ٹائمز میں چھپنے والے دو مضمون 88
انقلاب آفرین کتاب ’’عورت اور مسئلہ امارت‘‘ 92
عورت کاناقص العقل اور ناقص الدین ہونا 93
عورت کے بارے میں غلط بیانی 95
عورت کاٹیڑھی پسلی سے پیدا ہونا 97
عورت کے قاتل کو قصاص میں قتل کرنا 100
عورت کی دیت 101
عجیب بات 102
ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ 103
حدیث لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ کے بارے میں جناب رحمت اللہ طارق کا توہین آمیز و منکرانہ مؤقف 105
تباہی فارس کا پس منظر 107
تباہی فارس کسی خاتون کی قیادت کا نتیجہ نہیں تھی 108
عورت کی سربراہی کی حمایت کرنے والوں میں اختلاف 110
جناب رحمت اللہ طاق کے پیش کردہ پس منظر کا تجزیہ 111
لفظ ’’قوم‘‘ کی وضاحت 113
جناب رحمت اللہ طارق کی افسوسناک زیادتی 114
مضحکہ خیز تاویل 118
مصداق ہی غلط ہے 119
حضرت عائشہ کے خلاف گہری سازش 119
ابن حجر کا اضطراب 120
ہوا کا رُخ دیکھ کر 121
سیاسی احادیث کا اعتبار 123
اس حدیث کو حرمین شریفین والے نہیں جانتے تھے 124
یہ حدیث منقطع ہے 126
ایک مغالطہٰ 127
اس حدیث میں حدیث کا شائبہ 128
تدلیس کیا ہے؟ 128
حسن بصری کا سیاسی مذہب 130
ابن حجر کی مایوسی 132
جائزہ 135
جائزہ 136
جائزہ 137
تبصرہ 138
تھیاکریسی فلسفہ عورت کا سماجی رتبہ تسلیم نہیں کرتا 140
امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ 142
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا امتحان 145
علم کی عزت 149
امام بخاری کی وفات 151
صحیح بخاری 152
چھ لاکھ احادیث کی وضاحت 157
احادیث کی اہمیت 158
امام بخاری کے ہمعصر ائمہ کرام کی گواہی 160
جناب رحمت اللہ طارق کے اعتراضات 161
اعتراضات کا تجزیہ 163
اعتراضات کا جواب 164
حضرت ابوبکرہ ؓعنہ 165
اصل واقعہ 166
حضرت ابوبکرہ کا اسلام اور ان کا مقام 168
کتب احادیث میں حضرت ابوبکرہ کی روایات 169
جناب رحمت اللہ طارق کی نا سمجھی 174
حضرت ابوبکرہ پر حضرت عائشہ کی مخالفت کا غلط الزام 176
حضرت علی اور حضرت عائشہ کا مؤقف 183
حضرت عائشہ  کا پچھتاوا 183
اُم اللمؤمنین حضرت اُم سلمہ  کا ناصحانہ خط 186
اظہار ندامت 189
مضحکہ خیز تاویل کی حقیقت 194
کیا حضرت عائشہ نے کسی سے اپنی بیعت لی تھی؟ 197
حضرت عائشہ کا زید بن صوحان کے نام خط اور اُس کا جواب 199
جنگ جمل کے بعد حضرت علی کے بارے میں حضرت عائشہ کافرمان 200
تجزیہ 201
حضرت زبیر کی جنگ سے علیحدگی 202
حضرت عائشہ کے خلاف گہری سازش کی حقیقت 205
جمہوریت 206
جھوٹ اور دھوکہ 208
حضرت ابوبکرہ کا قتال سے الگ رہنے کی وجہ 213
صحابی اور عظیم محدث پربہتان 217
صحابہ کی عدالت 218
قانون شہادت 224
حضرت عائشہ پر تہمت 227
حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عائشہ کے واقعات میں فرق 236
حضرت عائشہ پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ نرمی 237
حضرت ابوبکرہ کی گواہی 242
حد ہی گناہ کا کفارہ ہوتی ہے 247
حضرت ابوبکرہ کی احادیث پر اعتراض اور اُن کا جواب 250
جنگ جمل میں حصہ لینے والے سب جنتی ہیں 259
عورت کی سربراہی کے بارے میں حدیث مشہور کیوں نہ تھی؟ 261
رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے بارے میں حدیث 263
خلافت کے بارے میں حدیث 264
حضرت عمر فاروق کا شام سے لوٹنا 266
مجوس سے جزیہ لینا 268
حضرت عائشہ سے حضرت ابوبکرہ کی ملاقات 269
مشہور نہ ہونے کی وجہ 270
حضرت حسن بصری 274
امام بخاری کی حدیث کو قبول کرنے کی شرط 275
حضرت حسن بصری کا محدثین کے نزدیک مرتبہ 278
تدلیس اور مرسل 284
لطیفہ 288
عوف بن ابی جمیلہ الاعرابی 289
عثمان بن الہیثم 294
معنعن 297
سارے راوی بصری ہیں 298
صحیح بخاری کے بارے میں حرف آخر 301
حمید الطویل 302
حافظ ابن حجر پربہتان 303
حمید الطویل کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال 304
مبارک بن فضالہ 308
دلچسپ پہلو 311
حماد بن سلمہ 311
محاسبہ 312
صریحا دھوکہ 317
حماد بن سلمہ کا تقویٰ 324
علی بن زید جدعان 325
بکاربن عبدالعزیز 328
محاسبہ 329
ایک اور زبردست دھوکہ 331
اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گرنا 335
محدثین اور ائمہ رجال کا طریق کار 338
تنقید سےمحفوظ اسناد 339
مختلف اسناد 341
امام حافظ الہیثمی المتوفی 807ھ کی تحقیق 345
عورت کی سربراہی کے تاریخی ثبوت کی حیثیت 346
ست الملک 346
محاسبہ 347
شجرۃ الدر 351
خلیفہ بغداد کا عورت کی حکمرانی کو ختم کرنا 353
رضیہ سلطانہ 356
ملکہ یمن 356
چاندبی بی 357
محاسبہ 358
رحمت اللہ طارق کی تاریخی غلطی 363
ترکمان خاتون 366
محاسبہ 367
ملکہ سبا کی سربراہی 373
وادی نمل کی ہوشیار ملکہ 375
جناب پرویز کے مفہوم القرآن کی ایک جھلک 375
ملکہ تدمرز نوبیا 382
محاسبہ …… جناب رفیع اللہ شہاب کی روشن خیالی 383
علمائے پاکستان کا کردار 384
حضرت علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 388
امام حافظ  ابن کثیر المتوفی 774ھ کا فرمان 389
امام ابوعبداللہ محمدبن احمد الانصاری القرطبی المتوفی 671ھ کا فرمان 390
الرجال قوامون علی النسآء 392
عورت علی الاطلاق قاضی نہیں ہوسکتی 393
علامہ ابن رشد کا فیصلہ 394
علامہ بدر الدین العینی کی تحقیق 396
ائمہ ثلاثہ کا فیصلہ 400
امام ابن ہمام کی وضاحت 402
جناب رفیع اللہ شہاب کا کذب عظیم 403
امام علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی587ھ 403
جناب رحمت اللہ طارق کی چابکدستی 405
محاسبہ 407
نتھوبھنگی 408
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا فیصلہ 410
علامہ احمد عبدالرحمٰن البناساعاتی 411
علامہ ابوالعباس شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی المتوفی 923ھ 411
امام شمس الدین ابوعبداللہ الکرمانی المتوفی 786ھ 412
امام محمد بن علی بن محمد الشوکانی 412
علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری 413
امام عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانی 414
امام ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المتوفی 620ھ 414
الاحکام السلطانیہ 416
امامت 417
محاسبہ 418
وزارت 419
عورت کے قاضی ہونے کی نفی 422
شیعہ کتب میں عہدہ قضا 424
امام نسائی کا فیصلہ 425
امام شمس الدین محمد بن ابی العباس احمد بن حمزہ ابن شہاب الدین الرملی المتوفی 1004ھ 426
محاسبہ 427
فقہائے مالکیہ پربہتان 429
محاسبہ 430
مواہب الجلیل لشرح مختصر خلیل 434
علامہ الشیخ محمد الشربینی الشافعی 436
اُم المؤمنین حضرت عائشہ کا فیصلہ 437
مصادر و مراجع 439

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

ائمہابن رشداحادیثاسلاماشرف علی تھانویاقوالاللہانقلاببخاریپاکستانپروفیسر محمد اسلمپرویزتعلیماتتفسیرحدیثحضرت علیخطخواتیندلائلرحمت اللہ طارقشاہ ولی اللہشہادتعبداللہعلماءفلسفہمسئلہمستشرقینمسلمانمعاشرہمولانا اشرف علی تھانوینظرواقعاتوراثت
Comments (0)
Add Comment