صحیح سیرت انبیاء ؑ

صحیح سیرت انبیاء ؑ

 

مصنف : سیف اللہ خالد

صفحات: 579

 

ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔انبیاء ﷩ اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں روئے زمین میں لوگوں کی راہنمائی کے لیےمنتخب کیاگیا انہوں نےاپنی اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔قرآن مجید میں ہر نبی کا تذکرہ مختلف مقامات پر حالات وواقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیاگیا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحیح سیرت انبیاء ‘‘ مفسر قرآن تفسیر دعوۃ القرآن کےمصنف جناب مولاناسیف اللہ خالد کی انبیاء ﷩ کی سیرت کےمتعلق قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں مرتب قابل قدر اور معتبر روایات کامجموعہ ہے ۔یہ کتاب سیرت انبیاء کے متعلق ایک منتخب موضوع ہی نہیں بلکہ عقیدہ کےاہم مباحث اور اسلام کےبینادی اعتقادات کا شاندار گلدستہ بھی ہے اور پند ونصائح کا ایسا مجموعۂ نافعہ ہے کہ جو ملتِ اسلامیہ کرہنماؤں اور مقتدر طبقوں کوبالخصوص اور عامۃ الناس کے لیےبالعموم منبع رشد وہدایت ہے جس میں ان اولو العزم ہستیوں کے صبر واستقامت ،ثابت قدمی ، اللہ کی نصرت کےمناظر ،عبرت وبصیرت اور وعظ ونصیحت کابھی تذکرہ ہے اور داعیان راہِ حق کے لیے ایک روشن قندیل ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کوسیرت کے قالب میں ڈھالنے کی توفیق عطافرمائے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 19
مقدمہ ازمؤلف 21
سیدنا آدم﷤  
آدم﷤ کو اللہ تعالیٰ نے اپنےہاتھ سےپیدافرمایا 25
آدم﷤ مٹی سے پیدا کیےگئے 25
آدم﷤ کےپتلے کےگردابلیس کےچکر 26
اللہ تعالیٰ نے  آدم﷤ کواس کی صورت پر بنایا 26
آدم﷤میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی 26
آدم﷤ کاپیدائش 27
آدم﷤ کاقدساٹھ ہاتھ تھا 28
اولاد آدم کی رنگت مختلف ہونےکی وجہ 29
آدم﷤ کےقیام جنت کی مدت 29
آدم﷤ کازمین پر نزول 29
زمین پر اللہ کےپہلے نبی 29
سورہ بقرہ میں آدم اوران  کی اولاد کی خلافت کاذکر 30
زمین میں خلیفہ کاتقرر 30
آدم کی فرشتوں پر علمی برتری 31
فرشتوں کو اپنی کم مائیگی کااحساس 32
آدم﷤ کی فضیلت کاسبب علم تھا 32
فرشتوں کا آدم﷤ کوسجدہ کرنا 32
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آدم کو سجدہ 33
ابلیس کاتکبر 34
آدم﷤ کی ایک اورعزت افزائی 35
آدم﷤ اورحواء﷤ کےخلاف شیطان کی چال 35
آدم﷤ کی توبہ اوردعا 36
سورہ حجر میں تخلیق آدم  فرشتوں کوسجدے کاحکم 37
ابلیس کاجنت سے اخراج اورقیامت تک مہلت 38
ابلیس کاچیلنج اوراس کےلیے جہنم کی وعید 38
تخلیق آدم کاقصہ اورابلیس کاتکبر 39
سورہ اعراف میں ابلیس کےتکبر کابیان اورا س کاانجام 40
ابلیس کی دلیل فاسد 40
ابلیس کوقیامت کےدن تک مہلت دیاجانا 41
ابلیس کااولاد آدم ﷤ کو صراط مستقیم سےروکنے کاعزم 42
ابلیس کی پیروی کاانجام بد 43
شیطان کاحسد اورسیدنا آدم وحواء کےساتھ مکرو فریب 44
شیطان کےدھوکے میں آکر شجرہ ممنوعہ کھانےکاانجام 45
آدم وحوا﷤ کو زمین کی طرف اتارنا 46
سورہ بنی اسرائیل میں قصہ آدم وابلیس 46
ابلیس اوراس کےپیچھے چلنے والوں کاٹھکانا 47
مخلص مومنوں سے شیطان کی ناکامی 49
سورہ کہف میں ابلیس کی انسان دشمنی کابیان 50
سورہ طٰہٰ میں  آدم﷤ کےجنت سےخروج کابیان 51
شیطان کاوسوسہ 52
سیدنا آدم﷤ کازمین پر اتاراجانا 54
ہدایت آسمانی کانزول اوراس  کی پیروی کاحکم 55
اولاد آدم 56
اولاد آدم سےلیےگئے عہد کابیان 56
قصد ہابیل اورقابیل انسانیت کاپہلاقتل 59
قابیل کےارادہ قتل پر ہابیل کاطرز عمل 60
ہابیل کےطرز عمل کی توجیہہ 60
قابیل کاانجام 61
سیدنا آدم﷤ کی وفات اورکل عمر 61
آدم﷤ سےرسول اکرم ﷺ کی ملاقات 62
سیدنا  آدم﷤ کااپنی اولاد کودوزخ سےنکالنا 62
سیدنا ادریس ﷤  
قرآن مجید میں سیدنا ادریس ﷤ کاتذکرہ 63
سیدنا نوح ﷤  
قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں سیدنا نوح﷤ کاذکر 65
سورہ اعراف میں نوح ﷤ اورآپ کی قوم کاقصہ 65
سورہ یونس میں سیدنا نوح اورآپ کی قوم کابیان 66
سورہ ہود میں نوح﷤ کاقصہ 68
کفارکےہاں کمزور گھٹیا اورذیل لوگوں کاتصور 69
سیدنا نوح﷤ کامشفقانہ خطاب 69
کمزور مومنین کی طرف داری 69
نبی کےپاس خزانے ہوتےنہ وہ عالم الغیب ہوتاہے 71

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

احادیثاسلاماللہانبیاءانسانتبصرہتبلیغتفسیرتوبہتوحیدحقخلافتدینروحسیرتعلمعلمیقرآنقرآن تفسیرکائناتنظرواقعات
Comments (0)
Add Comment