سیدنا ثعلبہ بن حاطب در عدالت انصاف

سیدنا ثعلبہ بن حاطب در عدالت انصاف

 

مصنف : محمد ارشد کمال

 

صفحات: 136

 

صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہی وہ پاکیزہ جماعت ہے جس کی تعدیل قرآن نے بیان کی ہے۔ متعدد آیات میں ان کے فضائل ومناقب پر زور دیا ہے اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اوران کی راہ سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر کیا ہے۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م﷢ کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن وحدیث کےساتھ تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور محدثین نے ’’الصحابة کلهم عدول‘‘ کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت، کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ ان کے کردار کوبد نما کرنے کےلیے ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی ۔تو محدثین اور علمائے امت نے   مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں   گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ در عدالتِ انصاف ‘‘ محترم جناب مولانا محمد ارشد کمال ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ پر لگائے جانے والے بہتانوں کا بڑے علمی انداز میں تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک کتابچے کا جواب ہے مصنف موصوف نے ان تمام اعتراضات کے جوابات دیے ہیں جو سیدنا ثعلبہ بن حاطب ﷜ پر عموماً کیے جاتے ہیں۔مصنف نے اس کتاب کودوحصوں میں تقسیم کیاہے ۔یہ ایک تحقیقی تصنیف ہے جو اپنے موضوع کی نہایت اہم کتاب ہےاور یہ ایک   اہم فریضہ تھا جس کے ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق عطا فرمائی۔ ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کا وش کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی   عظمت ومحبت پیدا فرمائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
عرض مؤلف 5
حرفے چند 8
تقریظ 11
صحابی کی تعریف 16
صحابہ کا ایمان 18
امت کے بہترین افراد 21
صحابہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی 23
تمام صحابہ جنتی ہیں 23
صحابہ کرام قرآن مجید کی نظر میں 25
مناقب انصار 27
اصحاب بدر کے فضائل 31
صحابہ پر طعن اور علماء اہل سنت 36
نام و نسب 44
سیدنا ثعلبہ بن حاطب کے بدری ہونے کے ثبوت 44
اعتراض 50
جواب 51
ثعلبہ ناموں کی فہرست 52
کیا سیدنا ثعلبہ بن حاطب واقعی مکار اور منافق تھے؟ 59
کیا ثعلبہ بن ابعی حاظب نام کی کوئی شخصیت ہے؟ 63
کیا سیدنا ثعلبہ بن حاطب دوزخی ہیں؟ 69
کیا ثعلبہ بن حاطب مسجد ضرار کے مؤسسین میں سے تھے؟ 71
قصہ ثعلبہ کی حقیقت 74
روایات کے متن سے قصے کا رد 96
اعتراض 112
جواب 112
اعتراض 112
جواب 113
موضوع اور ضعیف روایات کو بیان کرنے کا حکم 113
قصہ ثعلبہ میں پائی جانے والی خرابیاں 117
آیت ومنہم من عاہدا اللہ۔۔۔ کا شان نزول 113
سوال 126
جواب 127
مصادر 129

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

آیاتاحادیثاسلاماللہانبیاءتبصرہتصویرحدیثخدماتسیرتصحابہصحابہ کرامعلماءعلمیفضائلقرآنقصےقیامتمستشرقینمسجدمسجد ضرارنظر
Comments (0)
Add Comment