سماع موتی

سماع موتی

 

مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

 

صفحات: 197

 

دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب”سماع موتی”جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 7
الاستفتا 9
سماع موتی واستمداد 10
احناف کےنزدیک فہم صحابہ حجت نہیں 16
اہل حدیث اوراہل تقلید میں فرق 21
خلاف قیا س بات اپنے محل پر بندر رہتی ہے 22
میت کاسننا خلاف قیاس ہے 23
کسی امر کوعبادت قرار دینا شارع کاکام ہے 30
الصلوۃ وسلام علیک یارسول اللہ کہنا جائز نہیں 32
سماع موتی پر دلکش تقریر 33
فقہائے احناف اورسماع موتی 35
علم وشعور کی اقسام 37
سمع اورثقبہ مجوفہ 38
تعجب 39
مولوی پھلواری کی ترجمہ میں غلطی 42
مولوی پھلواروی کی چالاکی 43
حرف نداء سےخطاب کی تحقیق 48
رویات کاضعف 52
حدیث عائشہ حیاءمن عمر کی وضاحتا 54
اقسام تصرفات 57
اخروی تصرفات 57
دینوی تصرفات 58
استمدادکی شروط 59
مولوی پھلواری صاحب کی خیانت 60
شاہ ولی اللہ اوراستمداد 63
شاہ عبدالعزیز اور استمداد لغیر اللہ 69
دعاکےوقت قبلہ رخ ہونا 69
میت سے استمداد شر ک ہے 70
قبرکو بوسہ دینانصاری کی عادت ہے 73
غیر اللہ کو پکارنا ان کی عبادت ہے 75
غوث اعظم اورتفریح الخاطر 76
غوث اعظم کااللہ تعالی کو مجبور کرنا 77
منکر نکیر اورغوث اعظم 78
اللہ تعالی کی توہین 79
وسیلہ کامعنی 85
خلافت عثمان کےواقعہ کی حقیقت 85
یہ روایت شاذ ہے 86
یہ روایت مضطرب ہے 87
مکان کا بابرکت ہونامسئلہ توسل واستمداد 92
زیارت قبور کی اقسام 94
شرعیہ 94
بدعیہ 95
حدیث دارمی کی تحقیق 99
استدراج اورمشرکین 104
شیطان کی دعا میں حیلہ سازی 105
ابن تیمیہ اوراستمداد وسماع موتی 113
امام شافعی ﷫ اورموسی کاظم کےواقعہ کی حقیقت 117
روضہ رسول ﷺ اورائمہ دین 118
یہ روایت امام شافعی کےمذہب کےخلاف ہے 118
تریاق مجرب کی حقیقت 119
امام زین العابدین ارقبرنبوی ﷺ 121
توسل اوراستمداد 124
حکایات اوران کی تحقیق 127
کسی چیز کوجود اس کےمستحسن ہونےکی دلیل نہیں 130
اصلاح قلب اورزیارت قبور 131
یہ روایت ثابت نہیں 135
شیطانی دھوکہ 136
یہ روایت بے سند نے اورتوسل واستمداد سےکوئی تعلق نہیں 138
اعرابی کےاشعار کی حقیقت 140
اسرائیلیات حجت نہیں 142
یہ حدیث مضطرب ہے 143
اس روایت ب رکلام کی وجوہ 148
حرف واؤ ندانہیں ندیہ ہے 152
کلمہ لو کامعنی 162
تسول واستمداد کےقائلین کی نئی دلیلیں 173
خلیفہ ثانی اورخوف شرک 176
تقرب الہی کےلئے سفر 176
اما م مالک ﷫ اورزیارت قبر نبوی ﷺ 178
حضرت انسؓ کاقبرنبوی ﷺ پر آنا 182
ابوحنیفہ اروضہ اطہر پر قیام 188
امام محمد برکوی اوررسالہ زیارۃ القبور 191
سماع موتی 192
امام ابو حنیفہ کاقول ہے 193
جلیل القدر عالم دین 194
غیر اللہ کی منت ماننا 195

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Comments (0)
Add Comment