تذکرہ ابو الوفا یعنی حافظ ثناء اللہ امر تسریؒ

تذکرہ ابو الوفا یعنی حافظ ثناء اللہ امر تسریؒ

 

مصنف : عبد الرشید عراقی

 

صفحات: 176

 

شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری﷫(1868۔1948ء) کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔آپ امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ مولانا غلام رسول قاسمی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ، مولانا احمد حسن کانپوری ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحہم اللہ سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں ۔ فنِّ مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کئے ۔ آب بیک وقت مفسر قرآن ، محدث ، مورخ ، محقق ،مجتہدو فقیہ ،نقاد، مبصر ،خطیب ومقرر ،دانشور ،ادیب وصحافی ، مصنف ، معلم ،متکلم ،مناظر ومفتی کی جملہ صفات متصف تھے۔قادیانیت کی   تردیدمیں نمایا ں خدمات کی وجہ سے آپ کو فاتح قادیان کے لقب سے نوازا گیا ۔ برصغیر کے نامور اہل قلم و اہل علم نے آپ کے علم و فضل، مصائب و بلاغت، عدالت و ثقاہت، ذکاوت ومتانت، زہد و ورع، تقوی و طہارت، ریاضت وعبادت، نظم و ضبط اور حاضر جوابی کا اعتراف کیا ہے۔علامہ سید سلیمان ندوی نے آپ کی وفات پر اپنے رسالہ معارف اعظم گڑھ میں لکھا: ”مولانا ثناء اللہ ہندوستان کےمشاہیرعلماء میں تھے۔ فن مناظرہ کے امام تھے۔ خوش بیان مقرر تھے۔متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ موجودہ سیاسی تحریکات سے پہلے جب شہروں میں اسلامی انجمنیں قائم تھیں اور مسلمانوں اور قادیانیوں اور آریوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے، تو مرحوم مسلمانوں کی طرف سے عموما نمائندہ ہوتے تھے۔ اور اس حوالے سے وہ ہمالیہ سے لے کر خلیج بنگال تک رواں دواں رہتے تھے۔اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا۔ اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمر بسر کر دی۔ مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبان اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا۔ اس کی مداخلت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتا وہ وہی ہوتے۔ اللہ تعالی اس غازی اسلام کو شہادت کے درجات و مراتب عطا کرے‘‘(معارف اعظم گڑھ مئی ١٩٤٨ء)آپ کی حیات حدمات کے حوالے مختلف   اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں ۔اور پاک وہند کے رسائل وجرائد میں   اب بھی آپ کی خدمات جلیلہ کے سلسلے میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تذکرۂ ابو الوفا‘‘ معروف   مضمون نگار اور مؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں عراقی صاحب نے شیخ الاسلام فاتح   قادیان ،امام المظاظرین مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے حالات زندگی اور آپ کی علمی خدمات پر سیر حاصل بحث  اورجامع تبصرہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالی شیخ الاسلام کی دفاع اسلام کے لیے   خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی ٰمقام عطافرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اول 6
مولانا عزیز الرحمٰن یزدانی 14
سخن اولین 17
تبلیغ اسلام اور اس کا حفظ و دفاع 21
سیاسی خدمات 23
ملی اور جماعتی خدمات 25
مباحث و مناظرات 28
ثنائی اخبارات 410
داخلی انتشار 46
آخری ایام 51
علمی خدمات 53
تفاسیر قرآن مجید 55
تردید عیسائیت 65
تردید آریہ 72
تردید قادیانیت 93
ورتذکار تقلیدیان   احناف 132
تائید اہلحدیث 145
تنقیدی کتب 151
عامۃ المسلمین اور اسلامی کتب 157
علمی و ادبی تصانیف 163
مولانا ثناء اللہ کی بہترین تصانیف 171

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Comments (0)
Add Comment