اسلام میں دعوت و تبلیغ کے اصول

میں دعوت و کے

 

مصنف :

 

صفحات: 85

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ دعوت وتبلیع کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے خود کو نظامِ میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر کی غیر مسلم حکومتوں کو وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے اور تمام کرتے رہے ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ پرعمل پیرا ہونے بلکہ اسلامی کا حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ میں دعوت وتبلیغ کے اصول ‘‘مشہور دیوبندی عالم مولانا قاری محمد طیب کی دعوت وتبلیغ کے موضوع پر ایک عالمانہ تحریر ہے ۔ یہ کتابچہ نہ صرف عام فراد کے لیے دعوت وتبلیغ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مفید ہے بلکہ اس کتابچہ سے دعوت وتبلیغ کے کام میں مصروف داعیان دین اور کارکنان دعوت وتبلیغ کو منہاج کے بھی زیادہ واضح طور پر معلوم ہوسکیں گے ۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...