اسلام میں خدمت خلق کا تصور

میں خدمت خلق کا تصور

 

مصنف : سید جلال الدین انصر عمری

صفحات: 177

 

اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما، وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ ایک فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ نے روزِ اول سے کرام کے اہم فرائض میں کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی ۔ زیر کتاب ’’ میں خدمت خلق کا تصور ‘‘ کےنامور اسکالر محترم جناب سید جلال الدین عمری ﷾ کی تصنیف ہے ۔ا س کتا ب میں انہوں نے خدمت خلق کے تمام پہلوؤں پر وحدیث کی روشنی میں بحث کی ہے موصوف نے کوشش کی ہے کہ موضوع سے متعلق واحادیث کابڑی حد تک احاطہ ہوجائے اور موقع ومحل کی مناسبت سےان کا صحیح مفہوم واضح ہوجائے ۔ اس ضمن میں خدمت خلق کے وہ پہلو بھی سامنے آجائیں جن کا موجودہ دور تقاضا کرتا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 9
مو ضو ع  کتا تعا رف 11
اسلام  اور بند  گان  خدا  کی  خد مت 19
خد مت بھی  عبادت ہے 29
 خد مت سب کی  کی جا ئے 38
خد مت اور حن سلوک  کے یہ مستحق ہیں 45
خد مت خلق  کے طریقے بہت  ہیں 60
 وقتی  خد مت  کی  اہمیت  اور  فضیلت 70
مشکلات  کے پا ئیدار  کی ضر و رت 84
خد مت  کے بعض متعین  پہلو 92
رفا ہی خد مات 113
خد مت  خلق  کے ادا رے  اور تنظیمیں 140
غلط تصو رات  کی 145
اخلاص ضروری ہے 162
پیش لفظ 9
مو ضوع  کا تعا رف 11
خد مت  ایک فطری جذبہ ہے 11
بچہ  کی معصو م  فطر ت 12
فطر ت  سے انحر اف  شر وع  ہو تا ہے 12
اسلام  کا اصلاحی کر دار 13
 خدا  سے تعلق  خد مت  کے جذبہ  کو  مستحکم  کر تا  ہے 12
خدا  کے نیک  بندے خلو ص  سے خد مت  کر تے ہیں 15
خد مت  کے جذبات  کی پا کیزگی  ضرو ری ہے 16
اقتدار  خد مت  کے لئے  ہو 17
خد مت  دجبر سے پاک ہو 17
خد مت با عث تو قیر ہے 17
در بند گان  کی خد مت 19
خد مت خلق وں  کی میں 19
قر آن  او رخد مت خلق 21
خد ا کی نعمتوں  کا اعتر اف 22
بند گان  خدا  کی خد مت  کی خد مت  ہے 24
ہر حال  میں  خد مت کا  جذبہ  ہو 26
خد مت بھی عبادت  ہے 29
نما ز  اور زکو ٰۃ  کا تعلق 29
روزہ  کا فد یہ 29
رو زہ  کا فدیہ 31
روزہ  اور صدقہ  فطر 33
میں  جب  فدیہ  واجب  ہوتا ہے 33
ظہا ر سے رجوع  کا طر یقہ 35
قتل خطا  کے 36
قسم کاکفارہ 37
خد مت سب کی کی جائے 38
خود غر ض  افر اد 38
اسیر اہل و عیال 38
امت  کی خد مت 39
امت  کے تصو ر  سے قیمت  کا جذبہ  نہیں  ابھر تا 40
پور ی نو ع  انسانی کی خد مت 41
خدمت او رحسن  سلوک  کے یہ مستحق  ہیں 45
و الدین کے ساتھ  حسن سلو ک 46
رشتہ  داروں کے  ساتھ   حسن سلوک 50
یتیمو ں  کے   ساتھ   حسن سلوک 50
مسکینوں کے   ساتھ   حسن سلوک 52
پڑو سیوں  کے   ساتھ   حسن سلوک 54
 مسا فروں    کےساتھ   حسن سلوک 56
غلا موں   اور  محکمو موں  کے   ساتھ   حسن سلوک 57
اخلا قی تعلیم  کے ساتھ  قانونی تحفظ بھی 58
خد مت خلق  کے طریقے بہت  ہیں 60
خد مت  بذریعہ  مال 60
اہل  ایمان کے مال میں محروموں کا ہے 61
حسن  سلوک 62
خد مت کے بعض  اور طر یقے 64
ہر خدمت  صدقہ  ہے 66
وقتی  خد مت  کی اہمیت  خاور فضیلت 70
کھا نا  کھلانا 70
  کھا نا  کھلانے  میں تعا ون 76
پانی  پلا نا 78
کھانے کی تیاری  میں جزوی  مدد کر نا 79
  فر اہم  کر نا 80
سا ئل  کا حق  پہنچاننا 81
مر یض  کی عیادت   اور خد مت  کر نا 83
مشکلات  کے پائیدار  حل  کی ضرو رت 84
مسکینوں  اور بیواؤں  کی خد مت  کا وسیع  تصور 85
 یتیم  کی کفالت  کا صحیح  مفہوم 87
روز گا ر سے لگا نے  کی تر غیب 88
صنعف و حر فت میں تعا ون  کی اہمیت 90
 خدمت  کے بعض متعین  پہلو 92
مالی  تعاون کرنا 92
قر ض  کے ذریعہ  مدد کرنا 95
ضرورت  کی چیزیں   ہبہ  کر نا 100
کو ئی چیز عا ریتا  دینا 102
ایک  ہی نوعیت  کی  دو  چیزیں  د ینا 104
کارو با ر میں  شریک  کرنا 106
زرا عت  میں شریک  کر نا 108
مشورہ  د ینا 110
مظلو م کی مدد کر نا 111
رفا ہی خد مات 113
پاکی صفا ئی  کی تعلیم  اور ا نتظام  114
راستہ  سے تکلیف   دور کر نا 114
سرا ئے  اورہو ٹل  تعمیر  کر نا 119
پانی کا نظم  کر نا 121
زمین  کو آباد  کر نا 121
در خت  لگانا 125
مساجد کی تعمیر 128
مدا رس  کا قیام 129
 شفا ء  خا نو ں  کا قیام 128
رفا ہی  کامو ں  کے لئے  وقف کی فضیلت 130
عوامی  ملکیت  کو نقصان  نہ پہنچایا جا ئے 135
وہ وسائل جو سب   کی ملکیت  ہیں 136
قو می  اہمیت  کے وسائل سب  کے لئے  ہیں 137
ذاتی وسائل حیات  میں  بھی دوسروں  کا ہے 138
خد مت  خلق  کے ادا رے  اورتنظمیں 140
ادا رو ں  کی ضرور ت  اور ا ہمیت 140
منظم جدو جہد کے فو ائد 141
غیر  مسلموں  سے تعاون 142
ریا ست  سے تعاون 144
غلط  تصورات  کی 145
انسا ن  پر مختلف  حقو ق   عا ئد  ہوتے  ہیں 145
حقوق  میں ایک  فطر ی تر تیب ہے 145
قر ابت  دا رو ں  کا مقدم  ہے 145
مختاجوں   کے نظر  اندا زو نہ ہو ں 148
امیر  و غریب  کی  مستقل  تقسیم نہیں   ہے 150
شخصی  اور سما جی ضر وریات  کے لئے  مدد طلب کی جا سکتی  ہے 151
خد مت خلق  کل دین  نہیں ہے 159
اخلا ص ضرو ری ہے 162
خد مت  اخلاص   کے ساتھ  ہو 162
اخلا ص  سے تعا ون  سے انفا ق  کا اجر  و ثواب 164
ریا سے  اجر  و ثواب  ضا ئع  ہو جاتا ہے 165
شہرت  کے   لئے خد مت 166
شہرت  کے   لئے خد مت کا انجام 167
اخلا ص سے خد مت کا بے پا یاں  ثو اب 169
احسا ن  جتا کر  ثو  اب  ضا ئع  نہ کیا جا ئے 170
کتا ب کے ما خذ 173

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...