اسلام میں ترک نماز کا حکم

میں ترک کا حکم

 

مصنف : محمدابوسعیدالیار بوزی

 

صفحات: 79

 

باجماعت کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے دین کی یہ ہدایات ہی کافی ہیں کہ میدان میں کے مدمقابل بھی ترک نہ کی جائے بلکہ جماعت بھی ترک نہ کی جائے۔ ایمان و کی سلامتی کے قیام سے ہی مشروط ہے۔ تارک نماز کے گناہ گار ہونے پر تو امت کا اجماع ہے۔ لیکن اس کے مشرک، کافر اور ابدی جہنمی ہونے پر اختلاف ہے۔ زیر کتاب میں مصنف نے قطعیہ اور استنباطات فقہیہ سے تارکین کو گناہ کی شدت کا احساس دلایا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مترجم 7
اختصارات 9
مقدمہ مولف 11
تارک کامشرک ہونا 15
تارک کاکافرہونا 18
تمام اصحاب رسول کےنزدیک تارک کافرہے 20
تارک کابے ہونا 21
تارک کابے ایمان ہونا 22
تارک کااسلام میں کوئی حصہ نہیں 22
تارک کاملت اسلامیہ سے خارج ہونا 22
تارک سےاللہ کاکوئی عہدوپیمان نہیں 23
تارک کامتکبرہونے کے سبب جنت میں داخل نہ ہونا 25
تارک کاقیامت کےدن فرعون ،ہامان ،قارون اور ابی بن خلف کےساتھ ہونا 27
تارک کاآیات قرآنیہ اورآخرت کوجھٹلانا 28
تارک کاآخرت کوشفاعت سےمحروم ہونا 30
نماز کادوسرانام ہے 35
پرایمان لانے کادوسرانام ہے 38
ایک وقت ترک کرنے والے کےدیگراعمال کاباطل ہونا 42
تارک سےنہیں ڈرتا 45
ترک پردین کاخاتمہ ہے 47
نمازادانہ کرنےوالے کی گردن مارنا 47
نومسلم کوسکھائی جانےوالی پہلی چیز ہے 53
میں سب سےپہلے کاحساب ہوگا 53
اخوت صرف سےممکن ہے 54
تارک اورنمازی کاباہمی وراث نہ ہونا 56
بےنماز مرداور نمازی عورت کانکاح صحیح نہیں 57
خلیفہ وقت کےنمازی رہنے تک نافرمانی جائز نہیں 59
جان بوجھ کرترک کردہ کی قضاء نہیں ہے 60
تمام عبادات کی طر ح کابھی خاص وقت ہے 63
کو دوسرےوقت میں اداکرنے کی رخصت دینےوالے شرعی عذر 63
بعض شبہات کاازالہ 67

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...