رحماء بینہم جلد دوم

رحماء بینہم جلد دوم

 

مصنف : محمد نافع

 

صفحات: 363

 

صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 17
اجمالی تعارف 21
چند تمہیدی امور ( جن کی روشنی میں کتاب مرتب کی گئی ) 23
امور بالا کی توثیق کے لیے شیعی کتب سےائمہ کرام کے فرمودات 26
اہل سنت کی کتب سےحوالہ جات 28
مقاص(مومنوں کا وصف اتحاد و اخوت ) 36
قرآن مجید سے مومنوں کےاتحاد واخوت کا ثبوت ( پانچ آیات قرآنی ) 36
آیات کا مفہوم اور ثمرات ونتائج 37
مذکورہ آیات کی مفسرین کرام کی طرف سےوضاحت 40
مدعائے تحریر 45
باب اول
فصل اول : فاروق اعظم کے ساتھ علی المرتضیٰؓ کا بیعت کرنا 46
بیعت مذکورہ کی تصدیق کے لیےعلی المرتضیٰ کےاپنی خلافت کےدوران بیانات 52
محدی ابن راہویہ کی روایت 52
محدث ابی عوانہ کی روایت 54
امالی شیخ طوسی کی روایت 56
بیعت سیدنا علیؓ با سیدنا عمر ؓ نزد شیعہ
مندرجہ بالا روایت کےفوائد و نتائج 57
فصل دوم : سیدنا علی المرتضیٰ کی زبانی فاروق اعظم کےفضائل و مناقب اور فاروق اعظم کی زبانی علی المرتضیٰؓ کی تعریف و توصیف 58
عنوان اول : الف۔فاروق اعظم ؓ رجل مبارک 59
ب۔ آپ نجیب امت ہیں 59
ج۔ حق و باطل میں فرق کرنےوالے ہیں 60
د۔خلیل و صدیق ،مخلص و ناصح ہیں 61
ہ۔ القوی الامین کا خطاب 61
و۔ امام ہدایت ، راشد و مرشد ،مصلح و منجح ہیں 63
فوائد روایت مذکورہ 64
عنوان دوم : سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کا سیدنا فاروق اعظم ؓ کو تقویٰ کی تلقین کرنا اورصدیق اکبرؓ کےنقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا 64
فوائد روایت ہذا 65
عنوان سوم : مرتضوی بیان کہ سیدنا فاروق اعظم خوف خدا رکھنے والے اور حددرجہ دیانتدار تھے 65
عنوان چہارم : حضرت علی المرتضیٰٰ فاروقی دور کے جملہ معاملات درست قرار دیتے تھے 67
سیرت مرتضوی سیرت فاروقی کےموافق  تھی 68
فاروق اعظم رشید الامر اور صائب الرائے تھے 68
مندرجات بالا کےفوائد 72
ایک اشتباہ کہ المرتضیٰ ؓنےسیرت شیخین پر عمل کرنے سےپس وپیش کیا 73
اس اشتباہ کا تاریخی جائزہ اورتحقیقی جواب 73
عنوان پنجم :سیدنا علی المرتضیٰ کا بیان کہ فاروق اعظم حق و صداقت کےجذبہ سےسرشارتھے 77
مذکورہ مرویات کےفوائد ونتائج 80
عنوان ششم : حضرت علی کا بیان کہ فاروق اعظم خلیفہ برحق اورصدیق اکبر کےبعد افضل امت ہیں 81
اس مسئلہ کےثبوت میں 12عدد روایات 81
ایک وضاحت (عبداللہ ابن سبا اور اس کے ساتھیوں کا انجام ) 92
12عدد روایات مذکورہ کےفوائد 92
ایک اہم تنبیہ ( موجودہ دور کےشیعوں کا عبداللہ ابن سبا کے وجود سے انکار 93
عنوان ہفتم : حضرت علی کی زبانی شیخین کی دواہم فضیلتیں
صدیق ؓ و فاروقؓ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے 95
صدیق و فاروق پختہ عمر جنتیوں کے سردار ہیں 96
خلاصہ روایات مذکورہ 97
عنوان ہشتم : خلافت فاروقی کی حقانیت اور آپ کی فضیلت میں حضرت علی ؓ کے بیانات ۔کتب شیعہ سے 11عدد حوالہ جات 97
مندرجہ بالا حوالہ جات کے فوائد  و ثمرات 102
عنوان نہم : حضرت عمرؓ اور ابن عمر ؓ کی زبانی مرتضوی فضائل ومناقب ۔اہل سنت اور شیعہ کتب سے 10 عدد حوالہ جات 102
مندرجہ بالا روایات کےفوائد ونتائج 109
باب دوم
فصل اول  : فاروقی دور میں شعبہ جات کی تقسیم اور قضا وافتاء حضرت علی ؓ کےسپرد کرنا 111
فاروقی عدالت میں مقدمات کی مرافعت 116
حضرت علیؓ کا اپنامقدمہ فاروقی عدالت میں پیش کرنے کاواقعہ 117
اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 117
مندرجات بالا کےفوائد  و ثمرات 119
تنبیہ ( سیدیناعلی المرتضیٰ کا اپنی خلافت میں فاروقی عمل کو مثال بنانا 120
فوائد مندرجات بالا 121
فصل ثانی : مسائل شرعیہ میں مشورے اور باہمی تلقین واعتماد 123
باہمی علمی گفتگو ( احادیث نبوی کےبارے میں تحقیق ) 124
فاروق اعظم ؓ  کےلیےعلی المرتضیٰؓ کےناصحانہ کلمات 125
صدقہ کےبارے میں باہمی مشورہ 126
خون بہا کےبارےمیں باہمی مشورہ 127
مجبور عورت کے بارے میں مشورہ 129
بدفعلی کی سزا کےمتعلق مشورہ 130
شراب پینے کی سزا کےمتعلق مشورہ 131
تنبیہ (شراب کی سزا حضرت علی ؓ کے مشورے سےتجویز ہوئی ) 133
فصل ہذا کےمندرجات کے فوائد 134
اشتباہ ( کہ فاروق اعظم  ہر مسئلہ میں حضرت علی ؓ کےمحتاج ہوتے تھے ۔تحقیقی جائزہ اوررفع اشتباہ کہ حضرت علی ؓ نےمتعدد مسائل میں اپنی رائے سےرجوع کیا 134
انتباہ ( فاروق اعظم ؓ کےوضع کردہ قوانین مرتضوی خلافت میں رائج تھے ) 139
خلاصۃ المرام ( مندرجات بالا کےفوائد و نتائج 142
فصل ثالث : انتظامی امور میں فاروق ومرتضیٰ کےباہمی مشورے 143
فاروقی وظیفہ کےمتعلق مشورہ 143
اسلامی تاریخ (تقویم ) کےمتعلق مشورہ 145
مفتوحہ زمین عراق کےمتعلق مشورہ 147
علاقہ نہاوند کےمتعلق مشورہ ( حضرت علی ؓ کی نظر میں فاروق اعظم کا مقام 149
مذکورہ مشاورت کی شیعہ کتب سےتائید 151
مندرجہ بالاحوالہ جات کےفوائد 153
غزوہ روم کے متعلق مشورہ (فاروق اعظم کی شخصیت ) 154
مذکورہ بالا حوالہ جات کےثمرات 156
تقسیم اموال میں حضرت علی ؓ کی رائے کوترجیح دینا 157
ہیبت سےسقوط حمل پردیت (حضرت علی ؓکی رائے کو قبول کرنا 159
مرتضوی نیابت (فاروق اعظم ؓ کا علی المرتضیٰ کواپنانائب بنانا 160
رفاقت کےچند واقعات 165
بےتکلفی کاواقعہ 165
تنویر مساجدپرحضرت علی کادعا دینا 166
واقعہ ’یاساریۃ الجبل ‘سےحضرت علی کا فاروق اعظم کی عظمت بتلانا 168
اویس قرنی کی ملاقات کےلیےرفیقاء نہ سفر 169
اختتام فصل (مندرجات بالا کےفوائدونتائج 170
فصل رابع : سیدناعلی المرتضی کےلیےسیدنافاروق اعظم کی طرف سےمالی مراعات وعطیات 172
فاروق اعظم ؓ کےدل میں خاندان نبوت کا احترام (ترتیب اسماء میں ہاشمی حضرات کواولیت دینا 172
صدیقی دورخلافت کی طرح فاروقی دورمیں اموال خمس کےمتولی حضرت علی ؓ تھے 179
مندرجات بالا کےفوائدوثمرات 182
مضمون بالا کی تائید شیعہ کتب سے 183
شیعی مرویات کےنتائج وثمرات 185
تکمیل فوائد (بنوہاشم کےحق میں فاروق اعظم کےبہترین جذبات 186
غیرشادی شدہ ہاشمیوں کی شادیوں کےانتظام کا اظہار 186
مدائن کے مال غنیمت سےحضرت علی کوبیش قیمت غالیچہ دیا جانا 187
فاروق اعظم ؓ نےحضرت علیؓ کےمقام نیبع والا قطعہ اراضی دیا 189
باب سوم
فصل اول : خانوادہ نبوت(اہل بیت ) سےعقیدت ومحبت 191
حضرت فاطمہ ؓ کی خواستگاری کےلیےعلی ؓ کوآمادہ کرنےمیں خاص حصہ 192
نکاح فاطمہ ؓ میں فاروق اعظم کا گواہ بنایا جانا ۔ شیعہ وسنی کتب سےحوالہ جات 194
فاروق اعظم کی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ خاص عقیدت 195
حضرت فاطمہ ؓ کی عیادت کے لیے جایا کرنا 196
حضرت زین العابدین کی روایت کہ حضرت صدیق وفاروق جنازہ فاطمہ میں شریک تھے 196
حضرت عمر کی شادی میں  حضرت علیؓ کی شمولیت 198
ایک اشتباہ ( واقعہ احراق بیت فاطمہ کا تفصیلی جائزہ اور تحقیقی جواب 200
اولا ، یہ واقعہ غیر معتبر وغیر مستند کتابوں میں ہے 201
ثانیاً ،جن باسند کتابوں مذکور ہے ان کےاسانید مطعون ہیں 202
ثالثاً، یہ روایت مقطوع ہے ۔ ناقل خود واقعہ کا شاہد نہیں 203
رابعاً ، یہ روایت ائمہ کرام کےاپنے بیانات کی روشنی میں مردود ہے 205
اس واقعہ پر خود علی المرتضی کااپنا بیان (شیعہ کتب سےثبوت ) 205
امام محمد باقر کا بیان ( شیعہ کتب سے ثبوت ) 206
یہ واقعہ نص قرآنی کےخلاف ہے 207
خامساً، بیعت علی کےواقعہ میں ایسی مناقشہ انگیز کوئی بات مذکورنہیں 208
بحث ہذا کےمتعلق ابن ابی الحدید شیعی کا بیان 210
علیٰ سبیل التنزل جواب 210
دعوت مصالحت 211
فصل دوم: تعلقات کے پانچ امورذکر کیےگئےہیں
امراول :حضرت علیؓ کی صاحبزادی ام کلثوم کانکاح فاروق اعظم کےساتھ کتب انساب اوراہل سنت کی کتابوں ثبوت 212
رفع اشتباہ (حاشیہ )نکاح ام کلثوم کوغلط رنگ دینے کی ناپاک کوشش کا تحقیقی جائزہ اورجواب 218
ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ کا رشتہ فاروق اعظم کےساتھ علماء انساب کی نظر میں (5حوالہ جات ) 223
امر ثانی : مشتمل برچند فوائد 228
فائدہ اولیٰ : نکاح ام کلثوم شیعوں کے اصول اربعہ سےثبوت (9عدد مرویات ) ۔ ہر جور کے شیعہ علماء نےاسے تسلیم کیاہے(بقیہ شیعی مرویات ،8عدد حوالہ جات ) 228
ضروری تنبیہ ( مسئلہ مذکورہ پرایک علمی بحث ) 246
فائدہ ثانیہ ، فاروق اعظم کےنکاح میں ام کلثوم بنت فاطمہ الزاہرا ہیں کوئی اورام کلثوم نہیں 247
فائدہ ثالثہ : بحث مذکورہ کا خلاصہ (وفات زید بن عمروؓ و ام کلثوم –253) 252
خانوادہ نبوت کےساتھ فاروق اعظمؓ کی رشتہ داریوں کی تفصیل 254
امر ثالث : حضرت عمر ؓ کے گھر میں اپنی ہمشیرہ ہاں حسنین کی آمد و رفت 255
امر رابع: ایک اور واقعہ 256
امر خامس : حضرت علیؓ کی حضرت عمرؓ کےگھر میں اپنی بیٹی کےہاں آمد ورفت اور جواہر کا واقعہ 256
حاصل بحث مذکور 258
فصل سوم : فاروق اعظم اور حسن  وحسین کےباہمی خوشگوار تعلقات کےچارخاص واقعات 260
مالی وظائف میں حسنین کےساتھ خصوصی مراعات فاروقی 263
حسن مجتبیٰ کی ایک کرامت 265
یزدگرد کی بیٹی حضرت حسین کودینا 266
حوالہ جات مذکورہ کاخلاصہ 269
فصل سوم کےمندرجات پراجمالی نظر 270
فصل چہارم : فاروق اعظم کےآخری لمحات کے بارے میں حضرت علیؓ کے بیانات 272
فاروقی انتقال کی پیشین گوئی تعبیر خواب کی صورت میں 272
فاروقی خلافت اوردیانتداری کےمتعلق حضرت علیؓ اور ابن عباس کی گواہی 274
فاروق اعظمؓ پر حملہ ہونےکے بعد حضرت علیؓ کااظہار ہمدردی 276
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم ؓ کےلیے جنت کی بشارت دینا اور حضرت حسن کی تائید 277
انتخاب خلیفہ کمیٹی میں حضرت علی کو شامل کرنا 278
شیعہ مصنفین کی طرف سےتائید 280
آخری وقت میں حضرت علی ؓ کو خصوصی وصیت کرنا اور نماز کا اہتمام کرنا 281
حضرت علی کی طرف سے فاروق اعظم کےحق میں قدر دانی کے کلمات 282
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم کے اعمال نامے پر رشک کرنا 284
رشک اعمالنامہ پرحوالہ جات 287
ایک انتباہ (روایت مسیحی پر مزید حوالہ جات 289
روایت مسیحی کی شیعہ بزرگوں کی کتب سے تائید 290
تنبیہ (شیعوں کی حیلہ گری ) 291
دفن فاروقی میں حضرت علی ؓ کا شامل ہونا 292
فوائد فصل چہارم 293

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like