Categories
Islam ادب تہذیب حج سفرنامے عمرہ

سفر نامہ حجاز 1930ء

سفر نامہ حجاز 1930ء

 

مصنف : غلام رسول مہر

 

صفحات: 171

 

اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سفر نامہ حجاز ‘‘ مولانا غلا م رسول مہر﷫ کے سفرحجاز کی روداد ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے خادم الحرمین الشریفین سلطان عبدالعزیز ابن سعود﷫ کی دعوت پر سفرمبارک کا عزم فرمایا تھااو ر23؍اپریل 1930 کو کراچی سے روانہ ہوئے۔مولانا اسماعیل غزنوی ﷫اور چند دیگر احباب ان کےہم سفرتھے ۔ ارض حرم میں 29؍ مئی1930ء تک انہیں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس دوران سلطان ابن سعود سے ان کی ملاقات ہوئی ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سعادتِ حج سےبھی مشرف ہوئے ۔اس سفر مبارک کی ہر منزل ہر مقام، قیام کی صحبت ومصروفیت کی روداد روزنامہ ’’انقلاب‘‘ لاہور میں اپریل سے جولائی تک خطوط کی صورت میں قسط وار شائع ہوئی۔یہ خطوط انہوں نے ’’انقلاب‘‘ کےمدیر ثانی عبد المجید سالک کے نام مختلف مراحل ومقامات سے ارسال کیے تھے ۔ 29؍مئی 1930ء کو مولانا مہر جس بحری جہاز سے واپس ہوئے اسی میں قاضی سلیمان سلمان منصورپوری﷫(مصنف رحمۃ للعالمین) بھی اپنے سترہ رفقا کے ساتھ سوارتھے۔ قاضی صاحب سخت علیل تھے او ران کا سانحۂ ارتحال30؍مئی کوبحالتِ سفر جہاز ہی میں پیش آیا۔ قاضی صاحب کی علالت ،ان کی وفات اور پھر ان کی میت کی سپردِ آب کرنے کی روداد مولانا غلام رسول مہر نےبڑی دل سوزی اورافسردگی سےساتھ قلم بند کی ہے جسے اس سانحۂ ارتحال کےایک اہم اور چشم دید ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔یہ روداد بھی اس سفر نامہ میں شامل اشاعت ہے ۔اس سفر نامہ کی مطبوعہ اقساط کو ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری نے اپنے ادبی اور دینی ذوق کی بناپر 1970۔71 میں ’’انقلاب اخبار سے نقل کر مرتب کیا ۔اس سفرنامہ کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں ۔ایڈیشن ہذا محترم جناب ضیاء اللہ کھوکھر آف گوجرانوالہ نے 1984ء میں شائع۔۔مولانا غلام رسول مہر کا یہ دوسرا سفر حجاز تھا۔ اس سے قبل آپ وفد خلافت کے رکن کی حیثیت سے یکم نومبر 1924ء کو مولانا ظفر علی خان کی معیت میں پہلی مرتبہ کراچی سے حجازِ مقدس کےسفر پر روانہ ہوئے۔جہاں ان کاقیام22جنوری 1926ء تک رہا۔مولانا مہر نےاپنے اس سفر کی روداد اور حجاز مقدس میں اپنے قیام ،مشاہدات او رتجربات کی سرگزشت بھی قلم بند کی تھی جو اُس وقت روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں شائع ہوئی تھی

 

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 5
دیباچہ 11
مسافر حجاز اور اس کا سفر نامہ 15
عرض حال 27
باب اول لاہور سے کراچی 29
باب دوم جدہ سے کراچی 37
باب سوم سرزمین مقدس حجاز 65
باب چہارم مکہ معظمہ اور اس کے حوالی 85
باب پنجم حرم پاک کا ظالم کلید بردار 109
باب ششم ادائے فریضہ حج 115
باب ہفتم ادائے فریضہ حج کے بعد 135
باب ہشتم مراجعت کا بحری سفر 146
باب نہم مصنف رحمۃ للعالمین آغوش رحمت میں 162

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل حدیث پاکستان تاریخ حج سیرت سیرت النبی ﷺ مذاہب عالم

پیغمبر امن ﷺ ( جدید ایڈیشن )

پیغمبر امن ﷺ ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : منیر احمد وقار

 

صفحات: 162

 

موجودہ دور میں اسلام او رامت مسلمہ کوجس طرح الزام تراشی اور معاندانہ پراپیگنڈہ کانشانہ بنایا گیا ہےاس سے ہر حساس مسلمان کا دل زخمی ہے ۔اور یہ ضرورت ماضی سے کہیں بڑھ کر محسوس کی جار ہی ہے کہ ان الزامات واتہامات کا مناسب اور شافی جواب دیا جائے ۔ کیونکہ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگراس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے “امن وسکون کی زندگی”اور نبی کریم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پیغمبر امن ‘‘مرکزی جمعیت اہل حدیث ،سیالکوٹ کے زیر اہتمام امام بخاری ﷫ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ’’ پیغمبر امن … حضرت محمد ﷺ‘‘ کے عنوان پر آل پاکستان سیرت نگار ی کے مقابلے میں ملک بھر سےپیش گئے 27 مقالات میں سے اول آنے والے مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔ فاضل مصنف اہم ، مستند اورمسلمہ مآخذ سے استفادہ کیا۔علامہ شبلی، قاضی محمد سلیمان منصورپوری، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولاناابوالکلام آزاد ، مولانا غلام رسول مہر اور مولانا صفی الرحمٰن مبارپوری﷫ کے علاوہ قابل مغربی سکالرز سے بھی استفادہ کیا ہے ۔اور بڑی تحقیق وجستجو کے بعد وضاحت سےبتایا ہے کہ جب عالم انسانیت کی سب سے بڑی شخصیت حضرت محمدﷺ پیدا ہوئے تو اس دنیا کی کیا حالت تھی۔ یہ مذہبی ، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے کتنی تاریکیوں میں گم اور کتنی مہلک پستیوں میں گری ہوئی تھی اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو یہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی تھی۔اور انہوں نے اس کتاب میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کےساتھ ساتھ عیسائیوں اور یہودیوں کو یہ بات باور رکروانے کی کوشش کی ہے کہ دین اسلام تشدد اور تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ یہ دین پیغمبر امنﷺ کے اخلاق، اسوہ حسنہ اور بہترین تعلیمات سے پھیلا ہے ۔یہی وجہ کہ چودہ سوسال گزرنے کےباوجود دین اسلام کےنظام کو زوال نہیں ہوا اورنہ ہوگا۔کیونکہ اس دین کو رب کائنات نےنازل فرمایا ہے ۔ انسانوں کےبنائے ہونظام خودبخود اپنی مدت سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔ مگریہ آفاقی دین ہمیشہ سے انسانیت کی راہنمائی کررہا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو شرف ِقبولیت سےنوازے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 19
تقدیم 24
تعارف 26
باب:1 امن اورتلاش امن
امن دور حاضر میں 36
امن کو تلاش 37
امن کیساہوا 38
تلاش امن کاصحیح طریق اورمعیار 38
نقشہ عالم پر امن کےنظریات ومذاہب کاہجوم 39
یہودیت اورامن 40
صرف اسرائیلوں کےلیے پیغام امن 41
عیسائیت اورامن 44
عیسائیت اورحقوق وفرائض 45
انجیل کی حفاظت 46
اعمال کےدفاتر 47
بدھ مت اور امن 49
بدھ مت کی تعلیمات 50
آرین مذاہب اورامن 51
ہند ومت اورامن 52
ہند ومت کانظام عدل وانصاف 52
پس چہ باید کرد؟ 55
امن عالم کاتنہا علمبر دار 53
باب :2 امن بعثت نبوی ﷺ سے پہلے اوربعد
پیغمبر امن ﷺ سےپہلے کازمانہ اور امن 58
یہودیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 59
عیسائیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 59
مجوسیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 60
بدھ مذہب کی حالت 61
ہندومذہب کی حالت 61
قدیم عرب کی احوال 61
متمدن ممالک کےحوال 62
قرآن کریم  کاتبصرہ 62
پیغمبر امن ﷺ کاولادت وسلسلہ نسب 63
والدہ اورانکاسلسلہ نسب 64
مقام نسب 65
قبیلہ خاندان اوررضاعت 65
دنیاوی سہاروں سے  محرومی 65
امن کاپہلا علم 65
حلف الفضو ل کامتن 67
حلف الفضول کااہمیت 68
امن کادوسرا علم 68
اسلوب امن کی تلاش 69
پیام امن آگیا 70
امن کافارمولہ 70
مکی دور اورامن عالم کےلیے افراد سازی 72
حزب اللہ کی صفات وخصوصیات 76
اور نور امن پھیلتا گیا 79
پیغمبر امن ﷺ طائف میں 80
موسم حج اور درس امن 80
چھ سعادت مندروحیں امن کی شاہراہ پر 80
مکہ سے مدین کی طرف 82
امن کادوسرا فارمولہ 82
باب :3 پیغمبر امن ﷺ مدینہ منورہ  میں
پیغمبر امنﷺ مدینہ منورہ میں 84
مدینہ میں پیغمبر امن ﷺ کی مساعی امن 87
پہلااقدام 87
دوسرا قدام 87
تیسرا قدام 88
پہلے عہد وپیماں کی دفعات 89
امن وامان کاپیکر معاشرہ 91
چوتھا اقدام 91
میثاق مدینہ کی دفعات 92
پوری دینا کی دستور امن 93
قبیلہ جہینہ سے معاہدہ امن 94
بنو ضمرہ سے معاہدہ امن 95
بنو مدلج سے معاہد ہ امن 95
صلح حدیبیہ کی دفعات 96
مسلمانوں کااضطرات 97
تیماء کے یہودیوں سے معاہدہ امن 97
امن وامان کابجرذخار 98
ابوسفیان کی مرعوبیت 101
پیغمبر امن ﷺ کادریائے کرم 102
ام ہانی ﷜ کےپناہ گزیں 104
مساوات انسانی پیغمبر امن ﷺ کی زبانی 104
عام معافی کااعلان 105
پیغمبر امن ﷺ کی رحیمی وکریمی 106
بےمثال حسن سلوک 107
کوئی اورہوتا تو 108
امن وامان کےمظاہرے 108
حنین کےلیے تیاری 111
حنین کےمال غنیمت کی تقسیم 112
پرانے دشمنوں سےحسن سلوک 114
حنین کےاسیران جنگ 115
نبی ﷺ فاتح یاپیغمبر امن ﷺ 116
دومتضاد حالتوں کاانجام 121
وفو د عرب وعجم کاستقبال 122
امن عالم کاابدی اورعالمی چارٹر 124
مغربی دستور امن اورپیغمبر امنﷺ کادستور 125
خطبہ حجۃ الوداع کی آفاقیت اوردفعات 128
پیغمبر امن ﷺ کی اخلاقی تعلیمات 141
حقوق وفرائض 142
آداب 142
فضائل اخلاق ورذائل اخلاق 142
حقوق وفرائض ایک نظرمیں 142
آداب ایک نظر میں 143
فضائل اخلاق ایک نظرمیں 143
رذائل الخاق ایک نظر میں 143
اخلاقیات کےموضوع پر کتب 144
عقیدہ توحید اوراس کازندگی پراثر 145
انسانی اخوت کابلیغ اورتاریخی اعلان 147
انسانی کی شرافت وعظمت کااعلان 149
دین ودنیاکااجتماع 151
حدود اورتعزیری قوانین کانفاذ 153
زنا 154
قذق 154
چوری 155
رہزنی وقزاقی 155
شراب نوشی 155
ظالموں کی ستم ظریفی 156
کیا پیغمبر امن ﷺ انسانیت کےدشمن ہیں 157
پیغمبر امن ﷺ کی جنگی پالیسی 158
جنگوں میں جانی نقصانات کےعداد وشمار 160
امن پسند مہذبوں کی امن پسندی 163
مغرب کاپیغام 166
حادثہ یاسازش 167
سازش کاپس منظر 167
سازش پر عمل درآمد کی وجہ سے جواز 169
افغانستان پر حملہ اوربعد کی مہمات 170
امریکہ کی عالمی دہشت گردی 171
پیغمبر امن ﷺ کےغزوات پر ایک نظر 173
خاتمہ بحث
پیغمبر امن ﷺ کی مساعی امن کےنتایج 176
امن کے متلاشیوں خصوصا اہل مغرب کےنام 177
مراجع ومصادر 179
رسائل وجرائد 185
پیغمبر امن حضرت محمد ﷺ 187
لفظ سلم اوراسلام کی لغوی تحقیق 188
لفظ فسادکی لغوی تحقیق 191
کیاحیات انسانی میں جنگ ناگزیرہے 193
پیغمبر امن ﷺاورجنگ 194
انسانی جان کاتقدس اور احترام 200
پیغمبر رحمت کےخلاف دشمنان اسلام کااوچھا پروپیگنڈا 203
اکابر مستشرقین کےاعترافات 207
دشمنوں کےالزامات کاجواب انکےاپنے وڈیروں کی زبانی 213
طلوع اسلام کےوقت بین الاقومی رواداری اوراخلاقی ضوابط کافقدان 224
شجرہ انبیاء کاہرپتہ امن دوستی کی عطر بیزہوادےرہا ہے 225
پیغمبر امن ﷺ کےعطاکردہ اخلاقی ضوابطہ 228
امن پسندی قرآن حکیم کےتناظر میں 228
حسن خلق (امن پسندی )احادیث کی روشنی میں 241
عورتوں اورغلاموں کےلیے پیغمبر امن ﷺ کی شفقت ورحمت 243
پیغمبر امن ﷺ کی شفقت ورحمت جانورں کےلیے 248
نبی ﷺ کی امن پسندی کےمتعلق غیر مسلموں کی شہادتیں 250
نبی ﷺ کی امن پسندی کےمتعلق مسلم سکالرز کی شہادتیں 255
نبی ﷺ کی امن پسندی تاریخ کےتناظر مین 258
مذہبی رواداری کاایک جیتا جاگتا ثبوت 267
میثاق مدینہ سے متعلق مختلف دانشوروں کےتاثرات 269
صلح حدیبیہ میں امن وسلامتی اوراخلاق عالیہ کےمضمرات 272
صلح حدیبیہ پر چند دانشوروں کےتاثرات 274
امن وسلامتی اورعافیت کاایک درخشاں باب 279
محمد ی عفوددرگزر پر دانشوروں کاخراج تحسین 283
جنگ اورمفتوحین کےمتعلق مذاہب عالم کی تعلیمات 293
زمانہ قبل از اسلام کےقوانین جنگ 294
مغربی دنیا کی جنگی تاریخ کی المناک کہانی 296
جنگ عظیم اول کےہلاک شد گان 299
جنگ عظیم دوم کےہلاک شدگان 300

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل حدیث پاکستان حج سیرت سیرت النبی ﷺ

پیغمبر امن ﷺ

پیغمبر امن ﷺ

 

مصنف : منیر احمد وقار

 

صفحات: 466

 

موجودہ دور میں اسلام او رامت مسلمہ کوجس طرح الزام تراشی اور معاندانہ پراپیگنڈہ کانشانہ بنایا گیا ہےاس سے ہر حساس مسلمان کا دل زخمی ہے ۔اور یہ ضرورت ماضی سے کہیں بڑھ کر محسوس کی جار ہی ہے کہ ان الزامات واتہامات کا مناسب اور شافی جواب دیا جائے ۔ کیونکہ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگراس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے “امن وسکون کی زندگی”اور نبی کریم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پیغمبر امن ‘‘مرکزی جمعیت اہل حدیث ،سیالکوٹ کے زیر اہتمام امام بخاری ﷫ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ’’ پیغمبر امن … حضرت محمد ﷺ‘‘ کے عنوان پر مقالہ آل پاکستان سیرت نگار ی کے مقابلے میں ملک بھر سےپیش گئے 27 مقالات میں سے اول دو م سوم آنے والے تین قیمتی اور مفید مقالات کامجموعہ ہے ۔اس تحریر ی مقابلہ سیرت نگار ی میں مولانا منیر احمد وقار کے مقالے کو اول ، ملتان کےپروفیسر جناب اشفاق احمد خان کےمقالے کو دوم اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر محترم ڈاکٹر حمید اللہ عبدالقادر کےمقالے کوسوم انعام دیا گیا ہے۔ان تینوں مقالہ نگاروں نےنہایت اہم ، مستند اورمسلمہ مآخذ سے استفادہ کیا۔علامہ شبلی، قاضی محمد سلیمان منصورپوری، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولاناابوالکلام آزاد ، مولانا غلام رسول مہر اور مولانا صفی الرحمٰن مبارپوری﷫ کے علاوہ قابل مغربی سکالرز سے بھی استفادہ کیا ہے ۔اور بڑی تحقیق وجستجو کے بعد وضاحت سےبتایا ہے کہ جب عالم انسانیت کی سب سے بڑی شخصیت حضرت محمدﷺ پیدا ہوئے تو اس دنیا کی کیا حالت تھی۔ یہ مذہبی ، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے کتنی تاریکیوں میں گم اور کتنی مہلک پستیوں میں گری ہوئی تھی اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو یہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی تھی۔دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبدالمالک مجاہد﷾ نے ان تینوں تحقیقی مقالات کوبڑی افادیت کا حامل پایا اور دار السلام کے ریسرچ سکالزر سے ان مقالات پر مزید ضروری کام کروا طباعت کے عمدہ پر شائع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلفین اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 19
تقدیم 24
تعارف 26
باب:1 امن اورتلاش امن
امن دور حاضر میں 36
امن کو تلاش 37
امن کیساہوا 38
تلاش امن کاصحیح طریق اورمعیار 38
نقشہ عالم پر امن کےنظریات ومذاہب کاہجوم 39
یہودیت اورامن 40
صرف اسرائیلوں کےلیے پیغام امن 41
عیسائیت اورامن 44
عیسائیت اورحقوق وفرائض 45
انجیل کی حفاظت 46
اعمال کےدفاتر 47
بدھ مت اور امن 49
بدھ مت کی تعلیمات 50
آرین مذاہب اورامن 51
ہند ومت اورامن 52
ہند ومت کانظام عدل وانصاف 52
پس چہ باید کرد؟ 55
امن عالم کاتنہا علمبر دار 53
باب :2 امن بعثت نبوی ﷺ سے پہلے اوربعد
پیغمبر امن ﷺ سےپہلے کازمانہ اور امن 58
یہودیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 59
عیسائیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 59
مجوسیت ،بعثت نبوی ﷺ سےپہلے 60
بدھ مذہب کی حالت 61
ہندومذہب کی حالت 61
قدیم عرب کی احوال 61
متمدن ممالک کےحوال 62
قرآن کریم  کاتبصرہ 62
پیغمبر امن ﷺ کاولادت وسلسلہ نسب 63
والدہ اورانکاسلسلہ نسب 64
مقام نسب 65
قبیلہ خاندان اوررضاعت 65
دنیاوی سہاروں سے  محرومی 65
امن کاپہلا علم 65
حلف الفضو ل کامتن 67
حلف الفضول کااہمیت 68
امن کادوسرا علم 68
اسلوب امن کی تلاش 69
پیام امن آگیا 70
امن کافارمولہ 70
مکی دور اورامن عالم کےلیے افراد سازی 72
حزب اللہ کی صفات وخصوصیات 76
اور نور امن پھیلتا گیا 79
پیغمبر امن ﷺ طائف میں 80
موسم حج اور درس امن 80
چھ سعادت مندروحیں امن کی شاہراہ پر 80
مکہ سے مدین کی طرف 82
امن کادوسرا فارمولہ 82
باب :3 پیغمبر امن ﷺ مدینہ منورہ  میں
پیغمبر امنﷺ مدینہ منورہ میں 84
مدینہ میں پیغمبر امن ﷺ کی مساعی امن 87
پہلااقدام 87
دوسرا قدام 87
تیسرا قدام 88
پہلے عہد وپیماں کی دفعات 89
امن وامان کاپیکر معاشرہ 91
چوتھا اقدام 91
میثاق مدینہ کی دفعات 92
پوری دینا کی دستور امن 93
قبیلہ جہینہ سے معاہدہ امن 94
بنو ضمرہ سے معاہدہ امن 95
بنو مدلج سے معاہد ہ امن 95
صلح حدیبیہ کی دفعات 96
مسلمانوں کااضطرات 97
تیماء کے یہودیوں سے معاہدہ امن 97
امن وامان کابجرذخار 98
ابوسفیان کی مرعوبیت 101
پیغمبر امن ﷺ کادریائے کرم 102
ام ہانی ﷜ کےپناہ گزیں 104
مساوات انسانی پیغمبر امن ﷺ کی زبانی 104
عام معافی کااعلان 105
پیغمبر امن ﷺ کی رحیمی وکریمی 106
بےمثال حسن سلوک 107
کوئی اورہوتا تو 108
امن وامان کےمظاہرے 108
حنین کےلیے تیاری 111
حنین کےمال غنیمت کی تقسیم 112
پرانے دشمنوں سےحسن سلوک 114
حنین کےاسیران جنگ 115
نبی ﷺ فاتح یاپیغمبر امن ﷺ 116
دومتضاد حالتوں کاانجام 121
وفو د عرب وعجم کاستقبال 122
امن عالم کاابدی اورعالمی چارٹر 124
مغربی دستور امن اورپیغمبر امنﷺ کادستور 125
خطبہ حجۃ الوداع کی آفاقیت اوردفعات 128
پیغمبر امن ﷺ کی اخلاقی تعلیمات 141
حقوق وفرائض 142
آداب 142
فضائل اخلاق ورذائل اخلاق 142
حقوق وفرائض ایک نظرمیں 142
آداب ایک نظر میں 143
فضائل اخلاق ایک نظرمیں 143
رذائل الخاق ایک نظر میں 143
اخلاقیات کےموضوع پر کتب 144
عقیدہ توحید اوراس کازندگی پراثر 145
انسانی اخوت کابلیغ اورتاریخی اعلان 147
انسانی کی شرافت وعظمت کااعلان 149
دین ودنیاکااجتماع 151
حدود اورتعزیری قوانین کانفاذ 153
زنا 154
قذق 154
چوری 155
رہزنی وقزاقی 155
شراب نوشی 155
ظالموں کی ستم ظریفی 156
کیا پیغمبر امن ﷺ انسانیت کےدشمن ہیں 157
پیغمبر امن ﷺ کی جنگی پالیسی 158
جنگوں میں جانی نقصانات کےعداد وشمار 160
امن پسند مہذبوں کی امن پسندی 163
مغرب کاپیغام 166
حادثہ یاسازش 167
سازش کاپس منظر 167
سازش پر عمل درآمد کی وجہ سے جواز 169
افغانستان پر حملہ اوربعد کی مہمات 170
امریکہ کی عالمی دہشت گردی 171
پیغمبر امن ﷺ کےغزوات پر ایک نظر 173

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam پاکستان تہذیب

پاکستان معاشرہ اور ثقافت

پاکستان معاشرہ اور ثقافت

 

مصنف : سٹینلی میرن

 

صفحات: 227

پاکستان کا معاشرہ اور ثقافت مغرب میں بلوچ اور پشتون اور قدیم درد قبائل جیسے پنجابیوں، کشمیریوں، مشرق میں سندھیوں، مہاجرین، جنوب میں مکرانی اور دیگر متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ شمال میں واکھی، بلتی اور شینا اقلیتیں. اسی طرح پاکستانی ثقافت ترک عوام، فارس، عرب، اور دیگر جنوبی ایشیائی، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کے عوام کے طور پر اس کے ہمسایہ ممالک، کے نسلی گروہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے. کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرزِ زندگی یا راہ عمل جس میں اقدار ، عقائد ، ر سم ورواج اور معمولات شامل ہیں ثقافت کہلاتے ہیں، ثقافت ایک مفہوم رکھنے والی صطلاح ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ( اچھائیاں اور برائیاں ) شامل ہیں جو کہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں دنیا میں انسانی معاشرے کا وجود ٹھوس ثقافی بنیادوں پر قائم ہے انسان ثقافت و معاشرہ لازم و ملزوم ہیں ، ہم ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ، ثقافت کے اندر انسانی زندگی کی تمام سر گرمیاں خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی ہوں شامل ہیں سی سی کون کا کہنا ہے کہ ” انسان کے رہن سہن کا وہ مجموعہ جو سیکھنے کے عمل کے ذریعے نسل در سنل منتقل ہوتا رہا ہے‘‘ ثقافت کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان معاشرہ اور ثقافت‘‘ مصنفین: جان ائیرڈ، جان جے، ہونگمن، ڈینس برناٹ، میری جین کینیڈی، لوسین برناٹ، جیمز ڈبلیو، سپین زکیہ ایگلر، ہربرٹ ایچ اور وریلنڈ کی تصنیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر اور عبد المجید سالک نے کیا ہے۔جس میں پاکستان جغرافیہ، معاشرہ اور ثقافت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مترجمین کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین۔ )

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ ازناشر 5
پیش لفظ 7
کوائف مصنفین 8
دیباچہ 10
تمہید
جغرافیہ آب وہوااورآبادی 13
آب وہوا 15
پہلاباب
بنگالیوں کی شہری نشوونمااوردیہاتی زندگی 19
پس منظر 20
دوسراباب
چاٹگام کےپہاڑی قبیلے 61
باشندے 63
کھیتی باڑی 69
آبادی 16
ایک خاص معاملےکامطالعہ 30
نتیجہ 58
اقتصادی نشووارتقا 72
دیہاتی زندگی 73
نتیجہ 82
پنجاب کی دیہاتی زندگی 83
گاؤں کی کیفیت 84
نتیجہ 110
چوتھاباب
پنجاب کاشہری معاشرہ 111
پانچواں باب
دادی پشاورکےپٹھانا 140
پٹھان معاشرہ 155
منظم علاقےکادیہاتی معاشرہ 164
ایک پٹھان گاؤں 172
چھٹاباب
قبائلی علاقےپٹھان 181
قبائلی علاقےکےانتظامات 182
باشندے 184
مجلسی تنظیم 187
ملا 188
جرگہ 189
لشکر 191
پختون ولی اوررواج 192
عورتیں 195
دیش 196
مذہب 197
فنون 198
ادبیات 199
قبیلوں کےباہمی تعلقات 200
اقتصادی مسئلہ 201
پختون اوربیرونی دنیا 203
ساتواں باب
مغربی پاکستان میں عورت 205
عورت کےمتعلق تصور 207
پردہ 209
کارمائےمنصبی 212
قانونی حقوق 219
رسم ورواج 222
ثقافتی تعلقات 223
کارہائےمنصبی 224

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تہذیب

مسلم ثقافت ہندوستان میں

مسلم ثقافت ہندوستان میں

 

مصنف : عبد المجید سالک

 

صفحات: 594

 

مولانا عبدالمجید سالک( (1894ء  1959ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، صحافی، افسانہ نگار اور کالم نگار تھے۔عبدالمجید سالک 12 ستمبر، 1894ء کو بٹالہ، گرداسپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بٹالہ اور پٹھان کوٹ میں حاصل کی اور پھر اینگلو عربک کالج دہلی سے تکمیل کی۔ انہوں نے 1914ء میں رسالہ فانوس خیال جاری کیا۔ پھر 1915ء سے 1920ء تک وہ ماہنامہ تہذیب نسواں، ماہنامہ پھول اور ماہنامہ کہکشاں کے مدیر رہے۔ 1920ء میں وہ روزنامہ زمیندار کے عملۂ ادارت میں شامل ہوئے۔ 1927ء میں انہوں نے مولانا غلام رسول مہر کے اشتراک سے روزنامہ انقلاب جاری کیا جس کے ساتھ وہ اکتوبر 1949ء میں اس کے خاتمےتک وابستہ رہے۔ عبدالمجید سالک اخبار روزنامہ انقلاب میں ایک کالم افکار و حوادث کے نام سے لکھا کرتے تھے، یہی کالم ان کی پہچان بن گیا۔ ان کے خودنوشت سوانح سرگذشت کے نام سے اشاعت پزیر ہوئی۔ ان کی دیگر تصانیف میںذکرِ اقبال، یاران کہن، میراث اسلام اور مسلم ثقافت ہندوستان میں  قابل ذکر ہیں ۔موصوف نے   65 برس کی عمر 27 ؍ستمبر1959ء کو لاہور میں وفات پائی۔ زیر نظر کتاب ’’مسلم ثقافت  ہندوستا ن ہندوستان میں ‘‘مولانا عبد المجید سالک کی تصنیف ہے ۔موصوف نے یہ کتاب  بہترین مآخذ تاریخی سے استفاد کر کے  مرتب کی ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک مستند ’’ دائرۃ المعارف ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے ۔مصنف نے اس کتاب میں  یہ بتایا  ہے کہ  مسلمانوں نے برصغیر پاک وہند  میں ایک ہزار  سال میں کن برکات سے آشنا کیا ہے کہ یہاں کی پس ماندہ اقوام ایک نئے اسلوب زندگی سے بہرور ہوگئیں۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام بریلوی تاریخ تاریخ و سیرت سیرت علماء

مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے

مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے

 

مصنف : ڈاکٹر شفیق احمد

 

صفحات: 467

 

مولانا مہر غلام رسول(1895-1971) غلام رسول مہر کا وطن جالندھر ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم پائی، بعد ازاں حیدراباد دکن تشریف لے گئے اور وہاں کئی برس تک انسپکٹر تعلیمات کی خدمت انجام دی۔ 1921ء میں لاہور سے نکلنے والے اخبار”زمیندار” کے ادارہ تحریر میں شامل ہو گئے کچھ عرصہ بعد”زمیندار” کے مالک بن گئے۔ پھر مولانا سالک کے ساتھ “انقلاب” کے نام سے اپنا وہ مشہور اخبار نکالا جس نے مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ میں بڑا حصہ لیا۔ مولانا مہر گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال کے رفیق تھے۔ اس دوران انہوں نے یورپ اور مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کا سفر بھی کیا۔”انقلاب”بند ہو جانے کے بعد تصنیف و تالیف میں ہمہ تن گوش ہو گئے۔ لاہور میں سکونت پذیر رہے۔ اور لاہور میں ہی انتقال ہوا۔مولانا مہر نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ ۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے۔ ۔ سوانحی و تاریخی کتابوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے ‘‘ڈاکٹر شفیق احمد کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے تیں ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔پہلے باب میں مولانا مہر کے سوانحی حالات دوسرے باب میں مولانا کی علمی خدمات کا تعارف او رتیسرے باب میں اردو وزبان وادب کے حوالے سے مولانا مہر کی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 9
پہلاباب:حیات اورشخصیت 13
سوانح حیات 13
بیرون ملک سفر 84
ازواج واولاد 98
شخصیت 107
دوسراباب:تصانیف مہرکاسرسری جائزہ 127
تصالیف 127
سرت امام ابن تیمیہ 135
غالب 136
سیاسیات۔اسلامیان ہند 137
آزادی کی جنگ 148
جوزیقین 138
مختصرتاریخ اسلام 239
سیداحمدشہید 139
جماعت مجاہدین 141
سرگزشت مجاہدین 143
1857ع کےمجاہد 145
تاریخ سندھ 146
سرورعالم 147
جنرل سرعمرحیات خاں ٹوانہ 148
تالیف وترتیب 149
خطوط غالب 149
سرود رفتہ 151
لقش آزاد 154
تبرکات آزاد 154
باقیات الرجمان القرآن 157
تاریخ ارادت خاں 160
قصائدومثنویات فارسی 161
قطعات رباعیات ترکیب ہند 161
ترجیع ہندمخس 161
البیائےکرام 164
تشاریح مہر 165
مطالب بال جبریل 165
مطالب ضرب کلیم 165
مطالب اسرارورموز 166
مطالب بانگ درا 166
نوائےروش 166
تراجم 168
طبقات ناصری 168
مطالعہ تاریخ 168
اخلاق نقطہ نگاہ 169
جزائزفلپائن سرزمین اورباشندے 169
فکرجدیدکےسانچے 169
ہٹلرکاعروج وزوال 170
اڑن کھٹولےسےجٹ طیارےتک 170
تاریخ تہذیب 170
بہترلکرانی بہترمدارس 171
پاکستان معاشرہ اورثقافت 171
تخلیق 172
خوداعتمادی بڑھائیے 172
سائنس اورعقل سلیم 174
فکرسلیم کی تربیت 173
وہ لوگ جنہوں نےدلیابدل ڈالی 173
آزادی کےجنم دن 174
یلجیم سررزمین اورباشندے 174
جاپان سرزمین اورباشندے 175
خلامیں سفرکی پہلی کتاب 175
اٹلی سرزمین اورباشندے 175
اسلامی مملکت وحکومت کےبنیادی اصول 176
ترکی سرزمین اورباشندے 176
جنگ عظیم 176
قسطنطنیہ 177
اسلام صراط مستقیم 178
تاریخ شام 179
جزیہ اوراسلام 180
سکندراعظم 180
تاریخ لبنان 181
عرب اوراہل عرب 181
کتابیں اورجنہوں ندلیابدل ڈالی 181
میرےاندرکیاہے 182
سوتاریخی واقعات 182
طیاروں کی پہلی کتاب 182
موٹروں کی بہلی کتاب 182
آزادی ہندکی کتاب 183
اسلام اورقالون جنگ وصلح 183
اسلام اورقالون جنگ وصلح 184

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam علماء

مولانا ابو الکلام آزاد  بحیثیت صحافی و مفسر

مولانا ابو الکلام آزاد  بحیثیت صحافی و مفسر

 

مصنف : عبد الرشید عراقی

 

صفحات: 141

 

مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے ۔مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مولانا ابو الکلام آزاد بحیثیت صحافی ومفسر ‘‘ وطن عزیز کے معروف سوانح نگار ومؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں مولانا آزاد کی صحافت اور ان کی تصانیف اور تحریک آزادئ ہند پر ان کی سعی وکوشش اور خدمات کا جلیلہ کا تذکرہ کیاہے اور باب دوم میں مولانا کی قرآنی بصیرت سے متعلق ہے اس سلسلے میں آپ نے اپنی بےنظیر تفسیر ’ترجمان القرآن‘ میں جو رموز ونکات بیان فرمائے ہیں اس کا کچھ انتخاب باب دوم میں ترجمان القرآن سے پیش کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مولاناابو الکلام آزاد نےفرمایا 10
انتساب 11
پیش لفظ 13
مقدمہ 17
تقریظ (عبدالعزیز فاروق ایم اے ) 34
تعارف (حکیم راحت نسیم سوہدروی 42
مولانا ابو اللکام آزادد 48
صحافت 51
نیرنگ عالم 51
المصباح 52
خدنگ نظر 53
لسان الصدق 53
الندوۃ لکھنو 54
اخبار وکیل امرتسیر 56
اخبار دارالسلطنت 56
دوبارہ اخباروکیل ادارت 57
الہلال جاری کرنے کامنصوبہ 57
الہلال 58
البلاغ 61
الہلال اورالبلاغ پر نیاز فتح پوری کاتبصرہ 61
ہفت روزہ پیغام 62
الہلال کادورثانی 63
مولنا آزاد اورتحریک آزادی ہند 66
مولنا آزاد اورپاکستان 66
وفات 70
مولنا آزاد بحیثیت ایک مصنف 70
معروف تصانیف 71
مختصر تعارف 71
تذکرہ 71
جامع الشواہد فی تدخول غیر المسلم فی المساجد 72
مسئلہ خلافت اورجزیرہ العرب 72
قول فیصل 73
ترجمان القرآن 73
غبار خاطر 74
مولنا آزاد کی تصانیف 75
غیر مطبوعہ تصانیف 77
مولانا محمد مستقیم سلفی 81
تفصیل کتب 82
خطبات آزاد 82
مولنا ابو الکلام آزاد کی قرآنی بصیرت 85
ترجمان القرآن خود مولنا ابولکلام آزاد کی نظر میں 85
ترجمان القرآن  مولنا سید سلیمان ندوی کی نظر میں 86
ترجمان القرآن مولا نا محمد حنیف ندوی کی نظر میں 87
ترجمان القرآن مولنا غلام رسول مہر کی نظر میں 88
ترجمان القرآن مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی نظر میں 89
ترجمان القرآن سید اصغیر بخاری کی نظر میں 90
مولنا ابوالکلام آزاد کی قرآنی بصیرت 91
تفسیر سورۃ فاتحہ 94
عبادت کی شرعی اہمیت 99
معجزہ کی حقیقت 100
تکمیل شریعت کااثبات اورتقلید جامد کی مذمت 104
سورۃ توبہ کی تشریحی نوٹ 105
قرآن کریم کی دعوت امن 108
عورتوں کےخلاف  مکروفریب کاپروپیگنڈا 110
قرآن کی دعوت توحید 115
دعوت وحی علم وبصیرت ہے 116
واقعہ افک 117
اسلام اورجزیہ 122
حافظ صلاح الدین یوسف 123
مولنا محمد صادق خلیل 123
مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی 123
مولا نا عبدالرحمان کیلانی 124
ڈاکٹر محمد لقمان سلفی 124
مولانا سید مودودی 125
مولنا ابو الکلام آزاد 125
زکوۃ کانظام شرعی 128
کتابیات 137

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam خطوط مشاہیر ائمہ و علماء

خطوط ماجدی

خطوط ماجدی

 

مصنف : عبد الماجد دریا بادی

 

صفحات: 275

 

خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا  سلیمان   کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے ۔جوکہ معروف  ادیب  ومفسر  مولانا  عبد الماجد دریاآبادی کے  علمی وادبی  خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا   دریاآبادی کے خطوط  کےمجموعہ ہذا کے علاوہ  مکتوبات ماجدی  اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مولانا غلام رسول مہر 22
ایک مظلوم بیوہ اوراسکا بھائی 26
خواجہ حسن نظامی 27
مولانا اشرف علی تھانوی 28
شوکت تھانوری 40
ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی 42
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی 46
ڈاکٹر مختار الدین احمد 46
عبدالعزیز کمال 51
غلام یزدانی 52
میکش بدایونی 54
صادق الخیری 55
مسعود حسن رضوی ادیب 56
سیدآل عباماہروی آوارہ 68
مولانا صبغت اللہ شہید انصاری 68
سوارث کامل 71
عبدالروف عباسی 71
محمد مقتدخاں شروانی 73
جعفر علی خاں اثرلکھوی 79
ڈاکٹر محمد حسن 86
شاہد احمد دہلوی 87
حکیم محمد زمان حینی 88
خواجہ محمد شفیع 90
مفتی محمد رضاالنضاری 95
شیخ ممتاز حسین جونپوی 98
خلیل الرحمن اعظیم 98
حکیم بنیاد علی 99
نادم سیتاپوری 99
ڈاکٹر آفتاب احمد رواردی 114
سیدعلی عباس حسینی 115
شیخ قدیرالزماں 117
ڈاکٹر یوسف حسین خاں 118
پروفیسر عبدالوہاب بخاری 119
بابائے ارودو مولوی عبدالحق 120
احمد جمال پاشا 122
صدر مجلس استقبالیہ اردو کانفرنس 122
مولنا جمال لدین عبدالوہاب فرنگی محلسی 123
بیگم چودھرسی الطاف حسین 123
خفائی 125
سید مصباح الدین 125
حمید نظامی 125
صدق جائسی 127
ایڈیروے رہنمائے دکن 129
غلام  محمد 130
مولانا شاہ وصی اللہ 131
ظفر الحسن نشاط 142
ڈاکٹر رام کرسٹن راؤ 142
مولناسید ابولحسن علی ندوی 143
محمد احسن خاں 145
حیات اللہ انصاری 140
مولانا شا ہ معین الدین ندوی 145
ڈاکٹر خورشید احمد 146
شان الحق حقی 148
فراق گور کھپوری 159
پروفیسر اختتام حسین 159
علامہ نیاز فتح پوری 160
وارث علی شاہ 160
مرز اسعید الظفر جغتائی 160
قادر جاوید 161
ڈاکٹر شجاعت علی سنایلوی 162
سید عبدالرحمن 163
خلیق الرحمن قدوائی 164
حبیب انصاری 164
شیخ نصیر الدین قدوائی 164
محمد ہاشم انصاری فرنگی محلی 165
ڈاکٹر شوکت سبزداری 165
رپس احمد جعفری ندوی 166
زوار حسین زیدی 166
مولاناعبدالروف جھنڈے نگری 167
پنڈت آئنند نرائن ملا 169
ڈاکٹر سید معین الرحمن 170
قاضی محمد اطہر مبارک پوری 172
حبیب احمد صدیقی 173
شاہ غلام حسین 175
فرحت انوار 176
نامعلوم 176
عبدالصمد 177
خواجہ غلام السیدین 177
حکم چند نیز 178
مرزاجمیل احمد ایڈوکیٹ 178
شفاء الملک حکیم عبداللطیف 180
فاءملک پوری 181
سید الطاف علی بریلوی 182
مولانا شاہ سراج الحق مچھلی شہری 183
شیخ الحدیث مولنا محمد زکرایا 183
ڈاکٹر اسرار احمد 184
لقیق احمد 185
شہباز حسین 185
ننذکشوررم 186
تہذیب لکھنوی 186
محمد طفیل 187
عبیداللہ 188
سید ظہور الاسلام ندوی 188
عشرت علی صدیقی 189
حکیم عبدالحمید 191
عبداللطیف اعظمی 197
مولنا اسیدالقاری 196
پروفیسر عبدلقوی ویسنوی 196
مالک رام 197
عثمان احمد 198
ضیاءاحمد بدایونی 199
میکش اکبر آبادی 201
حاجی اصطفاخاں 202
قاری محمد طیب قاسمی دیوبندی 203
طاہرمحسن کاکوروی 205
ٹورش کاشمیری 208
پروفیسر عطاءاللہ 221
نیپال 221
پروفیسر احمد سرور 222
جوش ملیح آبادی 225
شمس تبریز خاں 230
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری 232
پروفیسر محمد اشرف خان 242
مولنا ابوالکلام آزاد 245
حکیم محمد اجمل خاں 246
پروفیسر احتتام حسین 246
مولانا احسن ماہروی 247
افق لکھوی 248
اکبر الہ آبادی 249
امجد حیدر آبادی 250
بابائے ارود مولوی عبدالحق 251
جگر مراد آبادی 253
مولانا حسرت موہانی 254
خواجہ حسن نظامی 255
حفیظ جالندھری 256
رفیع  احمد قدوائی 257
ڈاکٹر محی الدین زرد 257
سید سلیمان ندوی 258
علامہ شبلی نعمانی 259
قاضی عبدالغفار 260
علی عباس حسینی 260
اللہ خاں غالب 261
تلوک چند محروم 261
محسن کا کورودی 262
منور لکھنوی 263
میرتقی میر 263
نیاز فتح پوری 264
وزیر لکھنوی 264

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ خطوط مشاہیر ائمہ و علماء

خطوط ابو الکلام آزاد

خطوط ابو الکلام آزاد

 

مصنف : مالک رام

 

صفحات: 485

 

خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد  خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے  شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب  مولانا ابوالکلام  آزا کےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہےجس  میں  مکاتیب کو تاریخ وار جمع کر نے  کی کوشش کی گئی ہے  مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعت مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی  آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان  میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  او رانھو ں جو خطوط شمس العلماء مولوی محمد یوسف  جعفری کے نام لکھے  وہ بہت  اہم  اور قیمتی ہیں

 

عناوین صفحہ نمبر
مولانا عبدالرزاق کانپوری 17
حکیم محمد علی طبیب 21
شمس العلماء محمد یوسف جعفری رنجور 24
بنامین 79
خواجہ حسن نظامی 80
مولوی انشا اللہ خان 87
مولوی عبد اللطیف 89
ملا واحدی 90
عبد الماجد دریابادی 91
مولانا الطاف حسین حالی 116
مولانا غلام رسول مہر 118
حواشی
مولانا عبد الرزاق کانپوری 387
حکیم محمد علی طبیب 392
شمس العلماء محمد یوسف جعفری رنجور 394
بنامین 403
خواجہ حسن نظامی 404
مولوی انشا اللہ خان 410
مولوی عبد اللطیف 412
ملا واحدی 414
عبد الماجد دریابادی 418
مولانا الطاف حسین حالی 433
مولانا غلام رسول مہر 434

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ و سیرت جماعت مجاہدین سیرت

جماعت مجاہدین

جماعت مجاہدین

 

مصنف : غلام رسول مہر

 

صفحات: 239

 

مولانا غلام رسول کی شخصیت کسی تعارف کی  محتاج نہیں  انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ غالب پر انکی کتاب کو غالبیات میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے غالب کے خطوط دو جلدوں میں ترتیب دیے۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔زیر نظرکتاب  بھی مولانا غلام رسول مہر کی تصنیف ہے  جس کو انہو ں نے  دو حصوں میں تقسیم کیاہے  پہلے حصہ میں جماعت مجاہدین کی تنظیم وترتیب کے  متعلق  تفصیلات  پیش کی ہیں  او ردوسرے  حصےمیں سید صاحب کے ان مجاہدوں اور رفیقوں کے سوانح حیات درج کیے ہیں کہ جو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ شہید ہوئے یا جنہیں خو د سید صاحب نے  دعوت وتبلیغ پرمتعین کیا تھا او رانہیں مشاغل میں زندگی گزار کر  مالک حقیقی سے  جاملے

 

عناوین صفحہ نمبر
حصہ اول
پہلا باب سکھ یا انگریز 11
دوسرا باب تنظیم کی بنیاد 17
تیسرا باب عسکری تنظیمات 1 23
چوتھا باب عسکری تنظیمات 2 30
پانچواں باب ادارہ انتظام کا نقشہ 38
چھٹا باب دفتری ترتیبات 46
ساتواں باب خط وکتابت 52
آٹھواں باب دعوت و تبلیغ 57
نواں باب مالی انتظامات 62
دسواں باب جماعت کی اسلامی اور اخلاقی شان 1 67
گیارہواں باب جماعت کی اسلامی اور اخلاقی شان 2 76
بارہواں باب جماعت کی اسلامی اور اخلاقی شان 3 82
تیرہواں باب پیر محمد قاصد کا ایک سفر 91
چودہواں باب منظومات 100
حصہ دوم
پہلا باب مولانا عبد الحی 111
دوسرا باب شاہ اسماعیل 111
تیسرا باب سید صاحب کے بھانجے 119
چوتھا باب مولانا محمد یوسف پھلتی 133
پانچواں باب سید ابو محمد اور سید ابو الحسن 143
چھٹا باب قاضی محمد حبان 147
ساتواں باب مولوی خیر الدین شیر کوٹی 151
آٹھواں باب شیخ بلند بخت 155
نواں باب شیخ علی محمد 161
دسواں باب مولوی مظہر علی عظیم آبادی 166
گیارہواں باب شیخ محمد اسحق گورکھ پوری 170
بارہواں باب ارباب بہرام خاں 174
تیرہواں باب رسالدار عبد الحمید خاں 178
چودہواں باب سید محمد علی رام پوری 182
پندرہواں باب میاں جی محی الدین چشتی 186
سولہواں باب نواب وزیر الدولہ 189
سترہواں باب سید قطب علی اور سید جعفر علی 193
اٹھارہواں باب سفر کی صعوبتیں 197
انیسواں باب پٹیالہ سے سرحد 202
بیسواں باب سفر مراجعت 209
اکیسواں باب اللہ داد خاں پنی 214
بائیسواں باب محمد مقیم ، عبد الوہاب نور احمد 219
تیسواں باب محمدی ، باقر علی 226
چوبیسواں باب احمد اللہ ، خیر آبادی گھرانا 232
پچیسواں باب شہزادہ گدڑی ، انور شاہ 238
چھبیسواں باب اللہ بخش ، امیر اللہ 243
ستائسواں باب حسن علی ، احمد بیگ 247
اٹھائیسواں باب فیض علی ، امجد علی 254
انتسواں باب امام الدین ، اولاد حسن   غلام علی 260
تیسواں باب مختلف اصحاب 1 260
اکتیسواں باب مختلف اصحاب2 273
بتیسواں باب مختلف اصحاب3 279
مختلف اصحاب4 292

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز