Categories
Islam سنت عبادات فقہاء قربانی محدثین

شفاء العینین فی احیاء لیلۃ العیدین

شفاء العینین فی احیاء لیلۃ العیدین

 

مصنف : حافظ اکبر علی اختر علی سلفی

 

صفحات: 110

 

عید الفطر کا بنیادی مقصد اور فلسفہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ رب العزت کے خصوصی احسانات ،انعامات او رنوازشات، کاشکرادا کرنا اور دربار الٰہی میں بصد عجز وانکسار اپنی کم ہستی ، کم مائیگی او رکوتاہ عملی کا اعتراف کر کے اس ذات عظیم وبرتر سے معافی اور عفو ودرگزر کی دہا والتجاء کرنا ہے۔ اور عیدالاضحیٰ امام الموحدین، جد الانبیاء سیدناابراہیم﷤ کی قربانی ، ایثار، اخلاص اور وفا کی یاد تازہ کر کے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کےلیے جانورذبح کر کے اللہ ارحم الراحمین کی بارگاہ سے بے پناہ اجروثواب اور نیکیاں حاصل کرنے کا دن ہے ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam حلال و حرام سنت قربانی

شرعی منہیات پر واضح تنبیہ

شرعی منہیات پر واضح تنبیہ

 

مصنف : محمد بن صالح المنجد

 

صفحات: 40

 

شریعت اسلامیہ میں جہاں متعدد احکامات کی تعمیل ضروری قرار دی گئی ہے وہیں بہت سے کاموں سے رکنے کا بھی سختی سے حکم دیا گیا ہے۔ تاکہ نہ صرف دنیوی زندگی کو گل و گلزار بنایا جائے  بلکہ اخروی فلاح و کامرانی بھی انسان کے مقدر ٹھہرے۔ زیر نظر مختصر سے کتابچہ میں انہی تشریعی ممانعات کو قدرے اختصار سے قلم بند کیا گیا ہے۔ شیخ صالح المنجد نے تقریباً ان تمام منہایت الہٰیہ کو جمع کر دیا ہے جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس کی ترتیب فقہی ابواب پر رکھی ہے۔ مکمل نص ذکر کرنے سے احتراز کرتے ہوئے صرف جزء شاہد پر اکتفاء کیا ہے۔ کتاب میں بیان کردہ منہیات کے حوالہ جات مذکور نہیں ہیں اگر یہ اہتمام ہو جاتا تو کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔

 

عناوین

صفحہ نمبر

مقدمہ

3

قرآن و سنت میں وارد شدہ  کچھ منہیات کا بیان

5

عقیدہ کی ممنوعہ چیزیں

6

طہارت کی ممنوعہ چیزیں

9

نماز کی ممنوعہ چیزیں

10

مسجدوں کی ممنوعہ چیزیں

13

جنازے کی ممنوعہ چیزیں

14

روزے کی ممنوعہ چیزیں

15

حج اور قربانی کی ممنوعہ چیزیں

16

خرید و فروخت او رکمائی  کے پیشہ کی ممنوعہ چیزیں

17

نکاح کی ممنوعہ چیزیں

20

عورتوں کے مخصوص ممنوعہ مسائل

23

ذبیحہ اور  کھانوں کی ممنوعہ چیزیں

24

لباس و زینت کی ممنوعہ چیزیں

25

زبان کی آفتوں کی ممنوعہ چیزیں

27

کھانے پینے کے آداب

29

سونے کے آداب

30

متفرق امور

31

خاتمہ

38

فہرست

39

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل بیت زبان سنت سیرت سیرت صحابہ فضائل و مناقب اور دفاع صحابہ قربانی

شان صحابہ ؓ بزبان مصطفیٰ ﷺ

شان صحابہ ؓ بزبان مصطفیٰ ﷺ

 

مصنف : ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

 

صفحات: 280

 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ نفوس قدسیہ ہیں جنھوں نے حضور نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔ زیر نظر کتاب میں انھی عظیم المرتبت ہستیوں کی سیرت کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس میں خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ، چند دیگر صحابہ، اہل بیت عظام، امہات المؤمنین اور بنات الرسولﷺ کا ذکر خیر شامل ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں کی زندگی کا مطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو ان کی سیرت کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 11
باب 1۔قرآن حکیم کی نظر میں صحابہ کرام ؓ کی فضیلت 19
باب2۔رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے صحابہ کرام ؓ کی فضیلت 36
باب3۔صحابہ کرام ؓ کی فضیلت توراۃ اور انجیل میں 42
باب4۔صحابہ کرام ؓ کی آپس میں محبت 47
باب5۔ صحابہ کرام ؓ کی اہل بیت سے محبت 58
باب6۔ صحابہ کرام ؓ سے اہل بیت کی محبت 64
باب7۔خلفائے راشدین ؓ کے فضائل ومناقب 85
باب8۔عشرہ مبشرہ (دس مبشر صحابہ کرام ؓ) 163
باب9۔چند جلیل القدر صحابہ کرام ؓ 174
باب10۔ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں عقیدہ اہل سنت اور مودودی صاحب 216
باب11۔اہل بیت عظام ؓ 222
باب12۔امہات المومنین ؓن 253
باب13۔بنات الرسول صلی اللہ علیہ  وسلم 277

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam حنفی سود سیرت النبی ﷺ طلاق فقہ فقہ حنفی قربانی نماز

شمع محمدی ﷺ

شمع محمدی ﷺ

 

مصنف : محمد جونا گڑھی

 

صفحات: 226

 

ہمارے ہاں کے ارباب تقلید حضرات احناف نے یہ مشہور ےکر رکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں کا ایک مسئلہ بھی خلاف حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز،گودا اور عطر ہے۔بہ کھٹکے اس پر عمل کرنا نجات کا سبب ہے کیونکہ یہ فقہ درجنوں ائمہ اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔فقہ حنفی کے بے شمار مسائل کتاب وسنت سے صریح متصادم ہیں ،جن کا صحابہ کرام ؓ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ  نے زیر نظر کتاب میں با حوالہ اس امر کو ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کو محض کتاب وسنت اور اجماع امت ہی کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص مسلک ومذہب کی۔چونکہ کئی صدیوں سے فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ بتایا جا رہا ہے ،اس لیے حنفی حضرات کے دل  پر یہ بات نقش ہو چکی ہے۔زیر نظر کتاب کے منصفانہ مطالعہ سے اس کی قلعی کھل جائے گی اور ایک سچا مسلمان کبھی بھی کتاب وسنت کے خلاف کسی مسئلہ کو تسلیم کرنا تو گوارہ نہیں کرے گا۔خدا کرے کہ اس کتاب سے طالبین حق کو رہنمائی میسر آئے اور مسلمانوں میں وحی الہی کی طرف لوٹنے کا جذبہ بیدار ہو تاکہ اتحاد امت کی راہ ہموار ہو سکے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقلدین کا خیال 8
فرق فقہ و حدیث 9
حنفی محمدی اختلاف 10
فقہ مطابق حدیث نہیں 11
امام امتی ہیں نبی نہیں 12
اہل حدیث کی منشا 13
امام ابوحنیفہ کی نصیحت 14
ردرائے کے دلائل 15
امام جعفرؒکی نصیحت 17
چاروں مذہب برحق نہیں 18
اہل حدیث کی حقانیت 19
تقلید اور عمل بالحدیث 20
روایت اور درایت میں فرق 21
درایت فاروقی 22
درایت صحابہ 22
مقلدین کی خطرناک غلطی 23
مذہب مانع عمل بالحدیث ہے 24
مقلد حدیث پر براہ راست عامل نہیں 25
رائے قیاس دین نہیں 26
تقلید اپنی اصلی صورت میں 27
رائے اور روایت 28
ترک تقلید دشمنی امام نہیں 29
تاریخ تقلید 30
محمدی جھنڈا 31
اسلام صرف قرآن و حدیث میں 32
عمل بالحدیث کی تاکید 33
ایجاد تقلید کی تاریخ 34
تقلید کے بعد قرآن و حدیث کی بیکاری 35
اصول مذہب حنفی 38
نصحیت 39
اتفاق و اختلاف 40
ختم مقدمہ 41
وہ حدیث جنہیں حنفی مذہب نہیں مانتا
عورتوں کی باریاں 42
خطاونسایان 43
میت کی طرف کا روزہ 44
جانور کے پیٹ کا بچہ 45
گھوڑے کا حلال ہونا 46
چوری کی مقدار 47
رضاعت کا مسئلہ 48
ہبہ کا مسئلہ 49
باپ کا ہبہ 50
مہر کا مسئلہ 51
پائی ہوئی چیز 53
گم شدہ اونٹ 54
غسل میت 56
خطبے کے وقت دو رکعت 57
ایک وتر 58
استسقاء کی نماز 59
نصاب زکوۃ 60
ہری ترکاریوں کی زکوۃ 61
سورج گہن کی نماز 62
جلسہ استراحت 63
پگڑی پر مسح 64
دوہری اذان کا مسئلہ 66
تیمم کی ہاتھ کی حد 67
آخری وقت کی نماز 68
قبل از مغرب دورکعت 69
جنازہ غائبانہ 70
اکہری تکبیر 71
عورتوں کا مسجد میں آنا 73
سحری کی اذان 74
غلاموں پر ظلم 75
خون مسلم کی ارزانی 76
کتوں کی تجارت 77
مسجد میں نماز جنازہ 78
حرام عورت کی جنت 79
مطلقہ کا نان نفقہ 80
عورتوں کا عیدگاہ آنا 81
عیدکی تکبیریں 82
ان تکبیروں کا موقعہ 83
قربانی کے دن 84
نابینا کی امامت 86
مزارعت کا مسئلہ 87
فقہ کی حلال کردہ شرابیں 88
نشہ ہوا پھر بھی حد نہیں 91
حصول قوت کے لیے شراب نوشی 92
مردہ مچھلی 93
کتے کا جھوٹا برتن 94
بے ولی کا نکاح 95
راگ اور کھیل 97
کعبۃ اللہ کی بے حرمتی 98
بے قبلہ نماز 99
عورتوں کی جماعت 100
نابالغ کی امامت 101
تجارت کا مسئلہ 102
قانون شہادت 103
وترکا مسئلہ 104
انکار فاتحہ 105
قرأت کا واجب نہ ہونا 106
فرضوں میں سنتیں 107
صبح کی سنتیں 108
ان سنتوں کی فضا 109
مطلق سنتوں کی قضا 110
فقہ کا روزہ 111
سودی خوری 112
حلالہ کی لعنت 113
تین طلاقیں 114
رسول اللہ ﷺکے فیصلے کو ٹھکرادیا 115
بآواز بلند بسم اللہ 116
عیدکی تکبیر 118
اعتکاف 119
رد حدیث کا حیلہ 120
فعل رسول اللہﷺ بھی مکروہ ہے 121
جنازہ میں فاتحہ 122
تکبیرات جنازہ 123
مرد کے جنازہ کی نماز 124
نماز جنازہ سے محروم میت 125
خون مسلم کی ارزانی 126
غلاموں سے ناانصافی 127
اسلامی مساوات پر ضرب 128
غلاموں پر ظلم 129
مسافر کی نماز 130
مدت اقامت 131
مسافرت کی حد 132
ایک حنفی مولوی کا اعتراض 133
ناف تلے حدیثوں کا ضعف 135
سینے پر ہاتھ 136
آہستہ آمین کی حدیثوں کاضعف 137
بلندآواز کی آمین 138
الزامی جواب 145
ظہر عصر کا وقت 150
جمعہ کی صبح کی معین سورتیں 155
حدیث کی چارسورتوں کی فقہ میں دس سورتیں 160
وسعت قربانی میں تنگی 165
ہاتھ باندھنے کا زنانہ مردانہ فرق 170
جبریہ طلاق اور ازادگی 175
کفار کو مسلمان کا حکم 180
بوٹی کے بدلے بکرا 185
فقہ میں شراب اور سود کی تجارت 190
دورہ فاروقی 195
مقلدین سے ایک سوال 200
حنفیہ کے نزدیک اور سب مسلمان ملعون ہیں 204
امام صاحب کا مذہب 210
امام صاحب کی والدہ صاحبہ کا واقعہ 215
فقہ کا خلاف حدیث صحابہ و امام و مسئلہ 220
دعا 222

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سیرت شعر علماء قربانی محدثین

شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور

شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور

 

مصنف : قاضی اطہر مبارکپوری

 

صفحات: 368

 

مبارک پور ضلع اعظم گڑھ بھارت کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے، ریشمی ساڑیوں اور الجامعۃ الاشرفیہ اور کبار علمائے مبارکپور نے قصبہ مبارک پور کو عالمی سطح پر شہرت دلائی ہے۔ یہ قصبہ شہر اعظم گڑھ سے 16 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ علم و ادب، شعر و سخن، اخلاق و کردار، ایثار و قربانی اور اپنی دست کاری کے باعث یہاں کے لوگوں نے ہندوستان بھر میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔سیرۃ البخاری کے مصنف مولانا عبد السلام مبارکپوری، شارح جامع ترمذی مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری ،عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام یافتہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ، مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری ﷭ کا تعلق بھی اسی مبارکپور سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شجرۂ مبارکہ یعنی تذکرۂ علماء مبارکپور‘‘مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں ہدوستان کے مشہور علمی ودینی اور صنعتی قبصہ مبارکپور اور اس کے ملحقات کی ساڑھے چاسوسالہ اجمالی تاریخ اور قصبہ و سوا قصبہ کے مشائخ وبزرگان دین علماء، فقہا ، محدثین ومصنفین، شعراء وادباؤ اور دیگر ارباب علم وفضل کے حالات اور ان کے علمی ودینی کارنامے بیان کیے گئے ۔یہ کتاب پہلی دفعہ 1974ءشائع ہوئی زیر تبصرہ   اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مزید   ان علماء کے حالات شامل کردئیے ہیں جو مصنف کی زندگی میں فوت ہو ئے۔اس کے علاوہ بھی اس ایڈیشن میں مفید اضافہ جات کیے گئے ہیں۔جس سے کتاب کی افادیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ مصنف کتاب   قاضی اطہر مبارکپوری﷫ پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے کے 23 سال بعد 1996ء میں فوت ہوئے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
شجرہ نسب خانوادہ قاضی 13
تشکر واظہار حقیقت 14
دعوت نظر 20
مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کےمختصر حالات زندگی 21
اولاد واحفاد 31
سلام 38
مسلم کی دعا 40
پیش لفظ 42
مقدمہ 43
مبارکپوری کی اجمالی تاریخ 51
محلقات وسواد مبارکپور 60
سکٹھی 60
سرائے مبارک 61
مصطفے  آباد 61
حسین آباد 62
چیونٹی 63
سریاں 63
نوادہ 64
رسول پور 64
املواورلوہیا 65
چکیا 66
اساور 66
لہرا،’’گہڑا ،فخر الدین پور 67
بمہور 67
مذہبی فتنے 69
تکوینی حوادث 72
مذاہب اوفرقے 74
روحانی سلسلے 78
مکاتب اوردسی سلسلے 87
علمی اور درسی سلسلے 83
علمائے مبارکپورکے تصنیفی کارمانامے 94
شعر وادب 98
علمائے مبارکپورہ کی عالمی شہرت 100
ملک شدنی دویگر شہداء 104
راجہ سید مبارک مانک پوری بانی مبارکپور 111
شیخ محمو دقریشی بائسی 123
پیرزدا مخدوم محمد ماہ املوی 127
مخدوم شیخ رشید بن مخدوم شیخ معیار فاروقی 128
بندگی سیدکمال الدین گجہڑا 129
قاضی محمد صالح گجہڑا 129
انگار شاہ 130
غریب شاہ مبارکپوری 131
دیوان مصطفی شاہ ہانی مصطفی آباد 131
غریب شاہ املوی 132
شاہ فضل کڑا 132
ننگے شکر مال کڑا 132
شاہ لدھا سگڑی 133
شیخ کمال الدین نوادہ 133
راجہ بھانٹ 134
حضرت مولانا شاہ ابو الغوث گرم دیوان بھیروی لہروی 134
حضرت مولانا شاہ حافظ ابواسحاق محدث لہراوی 139
شیخ غلام رسول مصطفی آبادی 143
رمضان علی شاہ شیعی 144
مولوی نثار علی اسماعیلی سرائمیری شہید 146
مولوی محمد نشان شہید 149
میرمعظم حسین شہید 150
شیخ چراغ علی شیعی 151
شیخ سیف علی شیعی 151
شیخ علی شہید نائب قاضی مبارکپور 152
شیخ امام بخش 156
سیدناصر علی 157
شیخ محمد رضا 160
شیخ حسام الدین شاہ 161
شیخ محمد رحب 163
مولاناحکیم امان اللہ 165
مولوی دھنا سے 166
مولوی نرہو 167
شیخ عبدالوہاب سریانوی 168
مولوی جان محمد 169
مولوی بشارت علی فیض آبادی 170
مولوی عنایت اللہ امام جامع مسجد 171
غازی عبدالسبحان املوی 172
شیخ محمد اکبر غازی املوی 172
شیخ الہی بخش غازی املوی 174
شیخ جہانگیر غازی مہاجر مکی 174
منشی حبیب اللہ حبیب 178
ملاپیربھائی اسماعیلی 180
مطوف شیخ  فتح محمد مہاجر مکی 180
مولوی غریب اللہ 181
مولوی علی حسن فاروقی 182
خلیفہ دین علی شاہ 184
مولوی جان محمد 184
ملاشیخ عبدالحکیم اسماعیلی 185
مولوی حکیم عبداللہ 185
مولانا حافظ حکیم عبدالرحیم 186
حافظہ شاہ نظام الدین سریانوی 187
مولوی سلامت اللہ 191
مولانا حافظ حکیم عبدالرحیم 186
حافظ شاہ نظام الدین سریانوی 187
مولوی اشرف علی بمہوری 191
مولوی عبدالصمد مبارکپوری 192
مولوی حکیم امیر علی مبارکپوری سورتی 192
مولوی غلام عباس 192
حضرت مولانا ابو العلی عبدالرحمن محدث مبارکپوری 194
حضرت مولانا ابو الاامجد عبدالعلیم رسولپوری 205
حضرت مولاناحکیم ابو لہدی عبدالسلام مبارکپوری 215
حضرت مولانا احمد حسین رسولپوری 223
حضرت مولنا محمد شریف مصطفی آبادی 240
حضرت ملا ابو الطیب رحمت علی اسماعیلی 248
شمس العلماء حضرت مولانا ظفر حسن عینی فاروقی 255
حضرت مولاناابو محمد عبدالحق املوی 258
حضرت مولنا محمد لہراوی 260
حضرت مولنا حکیم الہی بخش 262
حضرت مولانا  شکر اللہ مبارکپوری 264
حضرت مولنا محمد نعمت اللہ 276
مولوی ولی محمد صاحب 280
مولوی حکیم محمد شفیع 281
مولوی حکیم غلام رسول فاروقی 281
مولوی محمد یعقوب 282
مولوی قمر الدین ندوی املوی 282
مولوی حکیم شاہ فیاض عالم املوی 283
مولوی حکیم الطاف حسین سکٹھوی 283
مولانا  شاہ محمد سریانوی 284
مولوی نور محمد امام جامع مسجد 286
مولوی رفیع الدین 287
مولانا حافظ عبدالعزیز 289
مولوی عنایت اللہ 291
مولوی حافظ محمد بمہوری 292
مولانا حکیم علی سجاد 293
مولوی عبدالرحمان 293
مولانا غلام رسول 294
مولانا محمد تقی 294
مولانا محمدداؤد 294
مولنا عبدالرحمن زاہد 294
مولوی احمد اللہ املوی 295
میاں صاحب عبداللہ شفا 295
منشی قمرالزماں زماں 297
میاںصاحب عبدالکریم عاشق 299
مولانا محمد اسماعیل اصلاحی 300
مولوی حکیم محمد یسین نوادوی 301
اساذ لشعراء مولوی علیم اللہ خیالی مبارکپوری برہانپوری 301
استاذمنشی غلام حسین عاشق مبارکپوری 304
حضرت مولا نامحمد شعیب رسولپوری 308
حضرت مولنا عبدالصمد حسین آباد 310
حضرت مولانامحمد یحیی رسولپوری 315
مولوی ممتاز علی سریانوی 320
مولوی فقیر اللہ 321
مولوی حکیم محمد سعید 322
مولوی حکیم عبدالمجید رسولپوری 323
مولوی حکیم عبدالحمید 323
مولوی حکیم شاہ محمد 324
مولوی محمد ہارون 324
مولوی محمد طفیل املوی 325
مولوی ولی الحسن فاروقی 326
مولوی منشی عبدالوحید لاہرپوری 327
حضرت مولانا نذیر احمد رحمانی املوی 327
مولا ناعبید الرحمن مظاہر یرحمانئ 329
مولا ناحکیم محمد بشیر رحمانی 329
مولانا محمد حنیف رہبر شکر ی 331
مولانا عبدالحی غفران 333
مولو ی احمد علی 334
مولانامحمد شبلی متکلم ندوی بمہوری 334
قاری عبدالحی 335
مولاناشمس الحق گجہڑا 335
مولوی حکیم حماد علی 336
مولوی حکیم محمد عمر 336
مولوی محمد یوسف انصاری 336
مولوی محمد حسن 337
مولوی حکیم عبدالباری 337
مولوی محمد اصغر 338
مولوی عبدالحفیظ سریانوی 339
مولوی نظام الدین سریانوی 339
مولوی حفیظ اللہ رضوای 340
مولوی نثار احمد مظاہر ی 340
مولوی عبدالجبار سکھٹوی 340
مولوی محمد سلیمان 341
مولوی عبدالشکور 341
مولوی عبدالمجید سریانوی 341
مولوی عبداللہ املوی 342
مولوی نذیر احمد نوادوی 343
مولوی محمد یوسف رحمانی 343
مولنا حافظ عبدالروف بلیاوی 344
استاذ لشعر ءمحمد یسین فغان مبارکپوری سورتی 344
مولوی حکیم عبدالباری 346
مولوی محمد یونس سریانوی 347
مولنا خواجہ عبدالعزیز نعمانی مبارکپوری 347
مولوی محمد بشیر خان سکٹھوی 349
مولوی عبدالغفور 349
مولوی فیاض حسین واعظ 350
مولنا حکیم محمد صابر خان صاحب سکٹھی 351
مولوی فخر الدین مبارکپوری 352
مولوی خالد کمال مبارکپوری 353
تاریخ وفات 361
مراجع مصادر 364
تصانیف مصنف 366

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ روح سیرت سیرت النبی ﷺ فارسی فقہ قربانی نبوت نماز یہودیت

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔1

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔1

 

مصنف : حافظ عماد الدین ابن کثیر

 

صفحات: 647

 

حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت النبی ﷺ‘‘ امام ابن کثیر ﷫ کی مذکورہ کتاب البدایۃ والنہایۃ میں سے سیرت النبی ﷺ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔ اس حصے کواردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت مولانا ہدایت اللہ ندوی صاحب نے حاصل کی۔ یہ کتاب اپنے اندر بے پناہ مواد سموئے ہوئے ہے۔ امام ابن کثیر نے واقعات کا انداز تاریخ کے حساب سے رکھا ہے۔ سن وار واقعات کو درج کیاگیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو بہت سے ایسی معلومات حاصل ہوں گئی جودیگر کتبِ سیرت میں نہیں ہیں۔ امام ابن کثیر ﷫ چونکہ اعلیٰ پائے کےادیب او رعمدہ شعری ذوق کے مالک تھے۔ البدایۃ میں انہو ں نےجابجار اشعار درج کیے ہیں۔محترم ندوی صاحب نے ان اشعار کوبھی اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ نیز فاضل مترجم نے واقعات کے جابجا ذیلی عنوانات بھی دیئے ہیں جو بڑے مفید ہیں اورکہیں کہیں کچھ تشریحات بھی کی ہیں جوکہ ’’ندوی‘‘ کے تحت بریکٹ میں درج ہیں ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھال کر حسنِ طباعت سے آراستہ کرنے کی سعادت شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کے ساتھ پیش آنےوالے الم ناک واقعہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ان کے رفیق خاص جناب مولانا عبد الخالق قدوسی شہید (بانی مکتبہ قدوسیہ، لاہور) کےصاحبزدگان نے حاصل کی ۔ مدیر مکتبہ جناب ابو بکر قدوسی صا حب نے 1996ء میں اس سیرت النبی ﷺ کو تین جلدوں میں بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا۔اس سے قبل 1987ء میں بھی البدایۃ والنہایۃ   کےعربی نسخے کو 14 جلدوں میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ۔اب توجناب ابو بکر قدوسی اور جناب عمر فاروق قدوسی اوران کے دیگر برادران کی محنت سے مکتبہ قدوسیہ ماشاء اللہ بیسیوں معیاری کتابیں شائع کرچکا ہے۔ اللہ ان برادران کے علم وعمل میں خیر وبرکت فرمائے اوران کی کاوشوں کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
واقعات عرب کا بیان 27
عرب عاربہ 27
عرب مستعربہ 27
یمنی عرب 27
بنی اسماعیل 27
اسلم 27
لوس’خررج 28
قحطانی اورعدنانی 28
قضاعہ قحطانی ہیں 28
جملہ عرب تین قبائل ہیں 29
                                                                                                                               قصبہ سبا 29
وجہ تسمیہ 30
بشارت 30
سباکیا ہے؟ 30
شاہی القاب 31
انیباء 31
سدمارب 31
کفران نعمت 32
ترک سکونت اورعیسائیت 32
شاہ حبشہ کی حکومت 34
ربیعہ بن نصربن ابی حارثہ بن عمر بن عامرلخمی کا قصہ 34
سطیح 35
شق 35
خواب مع تعبیر 35
شق کی تعبیر 36
احتیاطی تدابیر 36
نعمان بن منذرتبیع ابی کرب کا اہل مدینہ کے 36
ساتھ اچھے سلوک کا بیان 37
تبان اسعد 37
وجہ عناد 37
تبیع کا عقیدہ 37
نصیحت آموزاشعار 39
یمن میں یہودیت کیونکر پھیلی ؟ 40
فیصلہ کن آگ 40
بت کدو آم 40
تبع کا اسلام 40
تبع کی لڑکیاں 41
بھائی کا قتل موجب ہلاکت لخنیعہ ذوشنائر کا 41
یمن پر غاصبانہ قبضہ ذو نواس کی شکست 42
اور اریاط کی فتح 43
ابرہہ اشرم کی بغاوت اور جنگ شاہ حبش کی ناراضگی 44
اورمسندحکومت ابرہہ کا ہاتھیوں کے ہمراہ 44
تخریب کعبہ کے عزم کا سبب 44
قلیس کی تعیمر 45
کنانی کا اشتعال اور لڑائی کا آغاز 45
ذونفر اور نفیل کا مزاحم ہونا 45
ابو رغارل 46
لات 46
مکہ میں لوٹ مار 46
رئیس مکہ کی طلبی 46
اونٹوں کا مطالبہ 47
دعا 48
پرندوں کے ذریعہ عذاب 48
ابابیل 49
ابرہہ کی مذمت میں اشعار 50
قلیس کا انجام 52
حبشی حکومت کا زاول سیف کے ہاتھوں 52
تاج کسریٰ 53
غمدان 55
خواب شرمندہ تعبیر 56
یمن پر نائب کسری ٰ کی حکمرانی 56
مراسلہ کسریٰ 57
مکتوب نبویﷺاور کسری ٰ کا انجام 57
مکتوب گرامی 57
یمن میں اشاعت اسلام 58
بانی قلعہ حضر‘ساطرون کا قصہ سابورسا سانی کا محاصرہ 58
اور ناقصات عاقل کا مضاہرہ 59
رب خورنق 61
طوائف الملوکی کا بیان 62
آل اسماعیل کا تذکرہ 62
جرہم 62
اولاداسماعیلؑ 62
حکومت 63
اساف ونائلہ کے مسخ کازمانہ 63
خزاعہ کی حکومت 63
عمروکی نصیحت 65
خزاعہ اور بن لحی کا قصہ اور عرب میں آغازبت پرستی 65
پتھر کی پوجا       کا آغاز 66
شرکیہ تلبیہ اور ابلیس کی ایجاد 67
ابو خزاعہ کی تحقیق 67
کافر کے ساتھ شکل وصورت میں مشاہبت 68
عرب کی جہالت 69
بت اور ان کے پرستار 69
ود 69
سواع 69
یغوث 69
یعوق 69
نسر 70
عم انس 70
سعد 70
ہبل 70
اساف اور نائلہ 70
قلس 71
عزیٰ 71
لات 71
مناۃ 71
ذوالخلصہ 71
ر آم 71
رضاء 71
ذوالکعبات 72
حجاز کے جداعلیٰ عدنان کا ذکر 72
ارمیانبی کاعجب واقعہ 72
عدنان کا نسب 73
شجرہ طیبہ 74
حجازی عربوں کاعدنان تک سلسلہ نسب 74
قریش کے نسب وفضل اور اس کے اشتقاق کا ذکر 75
قر یش 75
سامہ بن لوی 78
مناصب کی بقا 82
دارالندرہ 82
کھانے کا انتظام اوررفادہ 83
حلیف المطیبین اوراحلاف 85
عبدمناف کی اولاد 86
عہدجاہلیت کے شہرہ آفاق اعیان 86
حتم طائی 88
حسن اخلاق کی قدرقیمت 88
فیاضی 89
ایک خواہش 90
حاتم کے منتخب اشعار 90
عجیب واقعہ 92
ام حاتم 92
وصیت 93
عبداللہ بن جدعان 93
امراؤالقیس بن حجر کندی 95
شعرنے حیات نوبخشی 95
امیہ بن ابی الصلت شقفی 97
پشیین گوئی 97
ابوسفیان کی حالت 101
خواب 101
فارعہ کا چشم دیدواقعہ 102
امیہ کا ارا دہ اسلام 104
عجیب واقعہ 105
جانوروں کی زبان 105
اچھےاشعار سننا 106
سورج کا طلوع ہونا 107
بحیراراہب 108
قس بن ساعدہ ایاری 108
جارودکااسلام لانا 110
ایک عجیب واقعہ 113
پیش گوئی 115
قس ورقہ بن نوفل 117
عامر بن ربیعہ 120
کتابت حدیث 121
عثمان بن حویرث 123
عہد فترت کے کچھ حوادثات 124
تعمیرکعبہ 124
چاہ زمزم کی تجدید 124
زمزم کا پانی 127
وبل 128
سقایہ 128
عبدالمطلب کا اپنے ایک بیٹے کی قربانی کی نذر ماننا 128
ہبل 129
فتویٰ 130
عبدالمطلب کا عبداللہ کی شادی آمنہ بنت وھب سے کرنا 130
پشیین گوئی 130
رسول اللہ ﷺکا نسب 130
اسمائے مبارک 133
والد گرامی اور چچا 133
پھوپھییاں 133
عبدالمطلب 133
ہاشم 134
عبدمناف 135
رسول اللہ ؐ     کا نسب پرتبصرہ 137
ابوسفیان کا اعتراض 139
ابو طلب کے اشعار 139
عباس کے مدحیہ اشعار 140
رسول اللہﷺکی ولادت
بروزجمعہ 142
مختلف اقوال 142
عام الفیل 144
قباث 144
سوید 144
واقعہ فیل کے بعد50روز رسول اللہ ﷺکی ولات کے واقعات وصفات 145
مدینہ میں فوتگی 145
راجح قول 146
والدہ کا خواب عبدالمطلب کا آپ کو بیت اللہ میں لانا 147
ختنہ شدہ 148
جبرائیل نے ختنہ کیا 148
دستورعرب اور نام 148
رسول اللہ ﷺکی شب ولات کے واقعات 149
یہودی تاجر کا عجب واقعہ 149
یوشع 150
ابن باطایہودی 150
شاہ ایران کے محل کے لرزجانے کا ذکر 151
مراسلہ اور اس کا جواب 151
سطیح کی تعبیر 152
چودہ کسریٰ 153
سطیح 153
مکہ میں آمد 153
امام ابن کثیر کا تبصرہ 155
فصیح جواب 155
عبدالمسیح اور خالد کا زہر کھانا 155
نرالی روایت رسول اللہﷺکی دایہ کھلایہ اور دودھ پلانے والیاں 156
ام یمن مسماۃ برکت باندی 156
ثویبہ 157
رسول اللہ ؐ کی رضاعت کا بیان 157
حلیمہؓ 157
شرح صدر 159
دعائے ابراہیمؑ 159
بعدازخدابزرگ توئی 160
نبوت کا علم 169
سلائی کے نشانات 161
عیسائی قافلہ 161
ووجدک ضالا 161
متضادقصہ 162
اعجازیاارہاص 162
خطیب ہوازن کے اشعار 162
رضاعت کے بعد 163
ابوامیں وفات 163
والدہ کے لئے دعائے مغفرت 164
اعرابی کا سوال اور ذمہ داری 165
عبدالمطلب اور امام بہیقی 166
ابن کثیر کی رائے 166
ترجیحی سلوک اور وصیت 166
ابو طالب رسول اللہ ؐ کے کفیل 167
قیافہ شناس ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر 168
اور بیحریٰ سے ملاقات 168
قرادابونوح اور تبصرہ 170
نبی ؑ کی تربیت وپروش 172
عریانی 172
گانے کی محفل 173
حدیث بہیقی کی توجیہ 174
توفیق ربانی 174
نبی ؑ کی حرب فجارمیں شرکت 175
عتبہ کا کارنامہ 176
حلف فضول 177
مطیبیون 177
اغوا 179
وجہ تسمیہ 179
حضرت خدیجہؓ سے شادی
نکاح 180
اولاد 180
عمرمبارک 181
شادی سے قبل رسول اللہ ﷺکا شغل 181
کون ولی تھا؟ 181
کعبہ کی مرمت و تجدید 183
اسرائیلی روایات 183
حجراسود 184
حجر اسودرسول اللہﷺنے نصب کیا 184
سیلاب اور ولیدبن مغیرہ 185
اژدھا 185
کعبہ کی قدیم عمارت 186
ساحل جدہ جہاز 186
ابووہب کا کلام 186
تعمیر کی تقسیم 186
کتبے 187
حجر اسودکے بارے نزاع 188
سائب کا بیان 188
توسیع 189
حمس اور رسومات 190
رسول اللہ ﷺکی بعثت اور چندبشارات کا ذکر 191
علامات قبل از رسالت 191
آسمانی خبروں کی حفاظت 192
جنب کا کاہن 193
باعث سلام 193
بحق نبی امی 194
سلام بدری اور ایک یہودی 194
یوشع یہودی 194
ابن ہیبان یہودی 194
زیدبن سعید 195
سلمان فارسی کا مسلمان ہونا 196
مزیدپابندی 196
تعلیم وتدریس 196
نیا عالم 197
موصل میں قیام 197
نصیبین میں قیام 197
عموریہ میں رہائش 198
کلب کی بے وفائی 198
وادی القریٰ 198
مدینہ 198
آزمائش 199
سب سے اول مدینہ میں فوت ہونے والاصحابہ 199
معجزات کا ظہور 199
معجزہ 200
عیسیٰ یا وصی 200
رسول اللہ ﷺکی بعثت کے عجیب واقعات کا بیان
عبدالمطلب کا خواب 204
ابوسفیان کاایک بے ساختہ فقرہ 205
عمروبن جھنی کا واقعہ 206
مکتوب نبویؐ 207
خاص عہد 208
کب نبوت عطاہوئی 208
پیشانیوں پرنور 208
حق محمداور ایک روایت 210
ہر نبی نے اعلان کیا 210
معجزہ اور اس کی تفصیل بسترمرگ پریہودی بچےکامسلمان ہونا 211
عذرلنگ 211
علم باردوش 212
مکتوب نبوی 212
بخت نصر کا خواب اور دانیال کی تفیسر 212
تورات اورقرآن میں آپ کی صفات 213
زبور میں خیر الامم کا ذکرگذشتہ کتابو ں میں 215
آپﷺکے ذکر خیر کی تصدیق قرآن مجیدسے 215
فارقلیط 215
انجیل میں 216
عجب نوشت 216
انبیاءؑکی تصاویر 217
سیف بن ذی یزن کا قصہ 217
محمدنام کیوں رکھا؟ 220
اوس کی پیش گوئی 220
جنات کی غیبی آوازوں کابیان اور حضرت عمرؓ   کااسلام 221
سوادبن قارب 222
عزم مکہ 224
اعادۃ 225
جبل سراۃ 226
ھند 226
مازن عمانیؓ 226
مدینہ میں اول خبر 228
                                                                                                                عثمانؓ   کا سفر اور خبر 228
سعیرہ کاہنہ 228
جن کاخلصہ لڑکی سے جفتی کرنا اور اس سے بچہ پیداہونا 229
معلق سوار 230
ابن مرداس کا اسلام قبول کرنابت سے آوازاور خثعمی 230
لوگوں کا مسلمان ہونا 232
جنات سے پناہ اور عجب واقعہ 233
غیر اللہ سے پناہ 234
حضرت علی ﷜کی جنات سے جنگ‘بے بنیادقصہ 234
بسم اللہ کی فضیلت 234
نجاشی ‘زیداور ورقہ کا مذاکرہ 237
زملؓ کا مسلمان ہونا 238
                                                                                                                     مکتوب نبویؐ 239
گستاخ رسول کاقتل 239
خرعب اور شاحب کی کہانی سعدکی زبانی راہب کےکہنےپر 240
تمیم داری کا اسلام قبول کرنابتوں سےشفا یابی 241
ایک غیراسلامی عقیدہ 242
راشدؓ کا اسلام قبول کرنا 242
سکتہ طاری ہونا اورنمازی بننا 243
خریمؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ 243
سطیح کی مکہ میں آمداور پیش گوئی 245
وحی کا آغازاور قرآن پاک کی پہلی آیات کانزول
ورقہ بن نوفل 249
تا ئید 249
علقمہ کا کلام 250
نبی ﷤کے مبعوث ہونے کا وقت اور تاریخ 250
ابو شامہ کی توجیہ 250
اختلاف روایت 250
خلوت 251
لفظ حرا 251
عبادت قبل ازبعثت 252
پہلی وحی 252
ربیع الاول 252
رمضان 252
اقراء 252
سورہ فاتحہ پہلی وحی تھی؟ 255
ورقہ کے اشعار 256
پتھروں اور درختوں کا سلام 259
خطاب عبید 259
مزیدتفصیل 260
وضاحت 261
مزیدتحقیق 263
ورقہ کا سوال 263
اولین وحی 264
واظحیٰ اور اللہ اکبر 265
نبوت ورسالت 265
وحی کی بندش کا عرصہ 265
دعوت وارشاد 265
اولین مسلمان 266
فصل 266
جنات کا قرآن سنتے ہی مسلمان ہو جانا 266
نزول وحی کے وقت فرشتوں کی کیفیت 267
علم نجوم 267
آسمان کی حفاظت 267
رفع اشتباہ 268
اہل طائف کی گھبراہٹ 268
نصیبین کے جن 269
رسول اللہﷺپر وحی نازل ہونے کی کیفیت 270
سورہ مائدہ 271
طرز تعلیم 271
نبوت کے تقاضے 272
تبلیغ 272
صحابہؓ میں اولین مسلمان 273
حضرت علی ﷜ 273
عفیف کا چشم دید 274
حضرت علی ﷜کی فضیلت میں منکرحدیث 275
تبصرہ 275
تطبیق 275
حضرت ابوبکر﷜ 276
اولین مسلمان 277
امام ابوحنیفہ﷫ 277
تبلیغ 277
راہب بصریٰ 277
پہلا خطیب 279
حضرات عمر﷜کا اسلام لانا 280
عمر بن عبسہ سلمیؓ 281
سعدکا اسلام لانا 281
ابن مسعوداور معجزہ 282
خالدبن سعید 282
حضرت حمزہ﷜کا اسلام لانا 283
ابوذر کا اسلام قبول کرنا 284
انیس 286
اسلم قبیلہ 286
ضماد 286
دعوت و ارشادکے عام آغاز
معجزہ دعوت 290
ایک وضعی روایت 290
ابوطالب 292
ابولہب 292
حفاظت کا عجب انداز اورابوجہل 294
نماز کےبعددعا 296
اراشی اور ابوجہل 296
عمروبن عاص یا عبداللہ بن عمروبن عاص 297
قریش کا ابوطالب کے ہاں اجتماع 298
نئی چال اور عمارہ قریش کاناتواںمسلمانوں کو اذیت دینا 300
حسب طلب معجزات کیونکر ظاہر نہ ہوئے 301
رسول اللہ ﷺکو لالچ دینا 302
دیگر حربے 302
عبداللہ بن ابی امیہ 304
صفاسونا بن جائے 304
                                                                                 علماءیہودہ سے دریافت   کردہ سوالات 305
آیت روح کب نازل ہوئی 306
قصیدہ لامیہ 306
حضرت بلال﷜ 312
نہدیہ 313
حضرت ابوبکر اور قرآن کا نزول 313
حضرت بلال پر تشدد 313
پہلی خاتون شہید 313
ابوجہل کا طرزعمل 313
حضرت خباب﷜ 314
امام ابن کثیر کی نکتہ آفرنیی اور نماز ظہر 315
ولیدبن مغیرہ 316
ولیدبن مغیرہ کی مجلس شوریٰ 316
عتبہ بن ربیہ کی پیشکش 317
مجلس قریش 319
معجزانہ کلام 320
چوری چھپےقرآن سننا 320
اخنس کا استصواب رائے 320
ابو جہل کے ہمرہ پہلی ملاقات 321
ابوسفیان اور غیرت قومی 322
قرآن درمیانی آوازسے 322
ہجرت حبشہ 322
قافلہ کی فہرست 322
82افراد 323
پہلے مہاجر حضرت عثمان﷜ 323
دس مرد پہلے مہاجر 323
جعفر مہاجرحبشہ 323
کب ہجرت ہوئی؟ 323
عمارہ کا حشر 327
نجاشی کے ساتھ جعفرؓ کی گفتگو 328
دعا اور آمین 329
روایت ام سلمہ ؓ 329
مسلمانوں کی طلبی اور قریش کے سفراکی ناگواری 331
رشوت اور دبر 332
بغاوت 332
رشوت کی تفصیل 333
نمائندہ گان قریش اور عمارہ 333
ترجمان 335
نجاشی کی تدبیر 335
غائبانہ نماز جنازہ 336
شاہی القاب 336
بدلہ 337
حضرت عمر کا اسلام قبول کرنا 337
ا م عبداللہ کا بیان 337
کیا عمر40ویں مسلمان تھے؟ 338
قبول اسلام کے بارے میں ایک اور روایت 339
تشہر 340
کب مسلمان ہوئے؟ 341
عیسائی وفد 341
نجاشی اور خط پر تبصرہ 341
مکتوب بدست ضمری 442
فصل 343
مقاطعہ اور اس کی تحریر 344
دیمک 344
ابو طالب کی تجویز 345
قصیدہ لامیہ کا مقام 345
کاتب صحیفہ 346
ابولہب 347
نزول سورہ تبت 347
حکیم بن حزام کاغلہ 348
رسول اللہ سے استہزا اور قرآن 348
امیہ بن خلف 348
نضربن حارث 349
وحی ہم پر کیوں نہ اتری ؟ 350
رخ زیبا پر تھوکنا 350
بوسیدہ ہڈی کو زندہ کرنا 350
عبادت کا مشترکہ منصوبہ 350
زقوم 350
سورہ نجم اور کفار کا سجدہ کرنا 351
تطبیق 351
نماز میں کلام کی منسوخی 352
عثمان بن مظعون کا ولید کی پناہ رد کر دینا 352
عثمان اور لبید 353
حضرت ابوبکر ﷜کا عزم ہجرت 354
صحیفہ کی منسوخی اور معظلی 356
شعب سے کب نکلے 360
طفیل دوسیؓ 360
خواب کی تعبیر 362
ایک اور خواب 363
تطبیق 363
اعشیٰ بن قیس کا قصہ 364
زنااور شراب کی حرمت 366
رکانہ   سے دنگل 366
نادار مسلمانوں کی تضحیک 367
لاولداور قاسم 367
فرشتہ کیوں نہ آیا؟ 367
مذاق کی سزا 368
تمسخر کے سرغنہ 368
ولیدکی وصیت 369
ابو ازیر 369
ربا 370
ام غیلان 370
قحط سالی 370
ابن مسعودکا خیال 371
سورت روم اور ابوبکر کی شرط 371
اسراء ومعراج 372
اسراء ہجرت سے قبل 372
اسراءکب 372
غروب میں تاخیر 374
روایت شریک 375
شرح صدر بیت المقدس میں 375
داخل ہونے کا انکار 375
375
نماز کب پڑھائی؟ 375
آسمان پر کیسے پہہچنے 375
انبیاء سے ملاقات 375
تقرب الہیٰ 376
ظلط فہمی 376
نمازپنج گانا 376
بسم اللہ 376
دیدار الہیٰ 376
اللہ کا دیدار نہیں ہوا 377
امامت کا مسئلہ 377
عمدہ استنباط 377
پروقار اور حکیمانہ انداز 377
ابوجہل کی سازش 377
معراج جسم اطہر کے ساتھ 378
شریک کی غلطی اور توجیہ 378
کیا دونوں بیک وقت تھے؟ 379
مسلسل ترتیب 380
حدیث اسراء 380
حدیث معراج 380
اسناد 382
عمدہ بحث 382
جبرایئل کی امامت 383
ایک اشکال 383
نماز سفر اور حسن بصری 383
عہد نبوی میں شق قمر کا معجزہ 384
ابوطالب کی وفات 387
سر پر مٹی ڈال دی 388
ابوطالب کی مرض اور موت 388
ابوطالب کا ایمان 389
بات نہ کرنےکی وجہ 391
کفن ودفن 391
ابوطالب کی عظمت 392
درست توجیہ 392
ام المومنین حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کی وفات 393
کب فوت ہوئیں 393
آیا عائشہؓ افضل ہیں 394
قدر مشترک 396
حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺکا شادی کرنا 397
خولہ نے سفارت کی 398
ابوبکر نے سودہ کا نکاح پڑھایا 399
نکتہ 400
ابوطالب کی وفات کے بعد 401
ایک شازش 402
دعوت اسلام کی خاطراہل طائف کی طرف سفر کرنا 403
عداس 404
آپ زخمی ہوئے 404
جنات کا رسول اللہ ﷺکی قراءت سننا 405
طائف سے واپسی 406
مطعم کا پناہ دینا 406
مطعم کی وفات 406
مختلف قبائل کودعوت 407
کندہ قبیلہ 408
بنی عبداللہ 408
بنی حنیفہ 408
بنی عامر 408
تبلیغ کا طریقہ کندہ اور بکربن وائل کادورہ عباسؓ کے ہمراہ 409
عکاظ میں بنی عامر 410
بحیرہ قشیری 410
دعا کا اثر 411

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال تہذیب حج سنت سیرت سیرت انبیا قربانی قصص و واقعات معاشرت

سیرۃ سیدنا ابراہیم ؑ ( جدید ایڈیشن )

سیرۃ سیدنا ابراہیم ؑ ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : محمد رضی الاسلام ندوی

 

صفحات: 210

 

سیدنا  ابراہیم ﷤ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن  مجید  میں وضاحت  سے  سیدنا  ابراہیم ﷤ کا تذکرہ     موجود  ہے ۔قرآن  مجید  کی  25 سورتوں میں 69  دفعہ حضرت  ابراہیم ﷤ کا  اسم گرامی  آیا  ہے ۔اور ایک سورۃ کا  نام بھی سورۂ ابراہیم ہے  ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے   ماحول میں   آنکھ کھولی جو شرک  خرافات  میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات  کا مرکز تھا  بلکہ ان ساری خرافات کو  حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب  حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگئی  تو انہوں نے  سب سے پہلے  اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد  عوام کے سامنے اس  دعوت کو عام کیا اور پھر  بادشاہ  وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود  قوم  قبولِ  حق  سے منحرف رہی  حتیٰ کہ  بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے  کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی  بنا دیا اور دشمن  ذلیل ورسوا ہوئے  اور اللہ نے  حضرت ابراہیم﷤کو  کامیاب کیا۔سیدنا ابراہیم ﷤ کی تعلیمات پوری بنی نوع انسانیت کےلیے مشعل راہ ہیں ۔ دین اسلام  دین ابراہیم کی ہی دوسری شکل  وتشریح  ہے ۔ سیدنا ابراہیم ﷤ اللہ تعالیٰ کے وہ بزرگ پیغمبر ہیں  کہ ا سوۂ ابراہیمی  پر عمل پیرا ہوکر  قربانی کی سنت ادا کرتےہیں۔ کئی سیروسوانح نگاروں نے سیدنا  ابراہیم﷤ کے   قصص و واقعات کو اجمالاً  وتفصیلاً  قلم بند کیا ہے ۔ مولانامحمد رضی ندوی  کی زیر نظر کتاب ’’ سیرت سیدنا ابراہیم ﷤‘‘ حضرت ابراہیم ﷺ کی پُو نور سیرت کا دل آویز اور ایمان افروز تذکرہ پر مشتمل  ایک مستند  کتاب ہے ۔ فاضل مصنف نےاس کتاب میں  سیدنا ابراہیمﷺ سے متعلق اٹھائے گئے کچھ اعتراضات وغلط فہمیوں کی تسلی وتشفی بھی کردی  ہے ۔ مصنف  نے اس کتاب میں حضرت ابراہیم﷤ کی  شخصیت کا محض تاریخی  مطالعہ  نہیں پیش کیا بلکہ اس میں آپ کی دعوت اورپیغام کوسمجھانے کی کوشش کی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف تمنا :سیرت سیدناابراہیم ﷤اورہم 7
پیش لفظ 7
پہلا باب : عہد ابراہیم ﷤
سیدنا ابراہیم ﷤سے پہلے 11
الف:قوم نوح 11
ب: قوم عاد 12
ج: قوم ثمود 13
سیدنا ابراہیم ﷤ کا عہد 15
قوم ابراہیم ﷤ 16
الف: سیاسی حالات 16
ب: تہذیب و تمدن 18
ج: مذہبی صورت حالت 20
د: معاشرت واخلاق 24
دوسرا :حیات  سیدنا ابراہیم ﷤
نام ونسب، آزر باپ یاچچا؟ 26
خاندان…. ولادت 27
بچپن 28
بعثت 32
اطمینان قلب کےلیے ایک درخواست 33
دعوت ،باپ کودعوت 37
قوم کو دعوت 39
استدراج ، نیا انداز دعوت 42
اتمام حجت 47
بادشاہ سےمحاجہ 49
معجزہ 51
اعلان براءت 52
قوم ابراہیم ﷤کا انجام 54
ہجرت 56
کنعان کی طرف ، سفر مصر 57
کیا سیدہ ہاجرہ لونڈی تھیں؟ 60
سیدنا اسماعیل ﷤کی ولادت 63
آزمایشیں 64
بےآب و گیاہ وادی میں 65
واقعہ ذبح 68
قربانی کی حقیقت 69
ذییح کون ؟ 72
ختنہ عہد الہٰی کا نشان 75
ولادت اسحاق 77
قوم لوط اور اس کا انجام 80
جرہم کی آبادی 85
سیدنا اسماعیل ﷤کی آل و اولاد 85
خانہ کعبہ کی تعمیر ، تعمیر کعبہ سیدنا ابراہیم ﷤سے قبل 91
تعمیر ابراہیمی 93
حج کی منادی 95
آخری ایام ،وفات حضرت سارہ ،وفات حضرت ہاجرہ 98
دیگر ازواج و اولاد ،وفات حضرت ابراہیم ﷤ 99
تیسرا باب: ملت ابراہیم
ملت کا مفہوم 101
ملت ابراہیمی کے بنیادی عناصر ،توحید 107
رسالت 111
آخرت 112
نماز 115
قربانی 117
حج، ختنہ 119
انفرادی ذمے داری،ملت ابراہیمی کے حاملین 121
ملت ابراہیمی اورانبیائے بنی اسرائیل 125
یہود کاملت ابراہیمی سے انحراف 126
نصاریٰ اورملت ابراہیمی 128
ملت ابراہیمی اور اسلام 130
الف: اسلام اور ملت ابراہیمی دونوں کی روح  ایک ہے 131
ب: ملت ابراہیمی کے تمام عناصر اسلام میں باقی رکھے گئے ہیں 134
ج: فریضہ حج 136
د: آخرت میں جزا و سزا کا دارومدار انسان کے ذاتی اعمال پر ہے 138
خاتم النبیین ملت ابراہیمی کے مجدد 139
ملت ابراہیمی کی دعوت اسلام کی دعوت ہے 141
چوتھا باب : اسوۂ  سیدنا ابراہیم ﷤
شرک سے بےزاری ( حنیفیت ، 145
کامل اطاعت الہٰی 148
استغفار و انابت 153
شکر 154
دعا 156
عبادت گزاری 163
والدین کے ساتھ حسن سلوک 165
مہمان نوازی 168
حلم و بردباری 171
صداقت شعاری 174
پانچواں باب : سیرت ابراہیم ﷤ :چند شبہات کاجائزہ
حضرت ابراہیم ﷤ کی شخصیت کاانکار 177
قرآن میں حضرت ابراہیم کی شخصیت کا ارتقاء 180
حضرت ابراہیم کا اہل عرب اورخانہ کعبہ سےتعلق 187
کتابیات 195
ابراہیم کی پکار اسلام کی دعوت : حج کی منادی 201
حج کی تیاری 203
امامت کبریٰ.. … عالمگیر تحریک اسلام کا مرکز…. اسلام میں حج کی اہمیت 205

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ خلافت راشدہ زبان سیرت سیرت صحابہ قربانی

سیرت عمر فاروق ؓ

سیرت عمر فاروق ؓ

 

مصنف : محمد رضا

 

صفحات: 344

 

اللہ تعالیٰ نے امت ِاسلامیہ میں چند ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے دانشمندی ، جرأت بہادری اور لازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کی کہ تاقیامت ا ن کے کارنامے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں گے تاکہ افرادِ امت میں تازہ ولولہ اور جذبۂ قربانی زندہ رہے۔ آج مغرب سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمان ممالک کے لیے ایسی تعلیمی نصاب مرتب کیے جائیں جوان ہیروز اور آئیڈیل افراد کے تذکرہ سے خالی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان پھر سےوہی سبق پڑھنے لگیں جس پر عمل پیرا ہو کر اسلامی رہنماؤں نے عالمِ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں (ہندوؤں،عیسائیوں ،یہودیوں) کے کارنامے تو بڑے فخر سے پڑھائے جارہے ہیں مگر دینی تعلیمات او رااسلامی ہیروز کے تذکرے کو نصاب سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ کاوہ روشن باب ہے جس نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے حکومت کے انتظام   وانصرام بے مثال عدل وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم ﷜ کا ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ سادگی فروتنی اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر فاروق ﷜ کے اسلام لانے اور بعد کے حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف پر مبنی حکمرانی سے اگاہی کے لیے مختلف اہل علم اور مؤرخین نے   کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)   وغیرہ کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ سیرت عمر فاروق ﷜‘‘ محترم محمد رضاکی تصنیف ہے جوکہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کی سیرت اورکارناموں پر مشتمل ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق﷜ہوتے ‘‘ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم دانشور یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایک عمر او رپیدا ہوجاتا تو دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم ،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم   پرچلنے   کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 8
مقدمۃ المحقق 9
مقدمہ 15
حیات عمر بن خطاب ﷜ 20
آپ کا نسب اور تاریخ پیدائش 22
عمر فاروق ﷜ کی اولاد اور ازواج 22
دور جاہلیت میں عمر ﷜ کا گھر 23
دور جاہلیت میں آپ کا مقام و مرتبہ 23
آپ﷜ کا حلیہ 23
عمر فاروق ﷜ کا اسلام قبول کرنا 24
ظہور اسلام 33
آپ کے لقب فاروق کی وجہ تسمیہ 34
عمر ﷜ کی ہجرت مدینہ 35
اپنی لخت جگر ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے شادی کرنا 38
عمر﷜ کا خلیفہ بننا 39
عمر﷜ کی عفت 40
آپ کےلیے امیر المومنین کا لقب 45
عمر فاروق ﷜ کے کارنامے 46
مسجد نبوی کی توسیع 47
مسجد حرام کی توسیع 50
آپ کی نرمی اورسختی 51
عمر ﷜ کا اپنی اہلیہ کے لیے ہدیہ قبول نہ کرنا 53
عمر ﷜ کا ذکر الہٰی اور تلاوت قرآن سے متاثر ہونا 53
عمر﷜ کی دعا 54
عمر فاروق ﷜ سے شیطان کا ڈرنا 54
عمر ﷜ کی فضیلت 55
آپ کاستر پوشی کرنا اور عزت کا دفاع کرنا 56
عمر ﷜ کا رات کے وقت گشت کرنا 58
دیوان مرتب کرنا 61
دیوان کی وجہ تسمیہ 63
صدقات ، مال فے اور مال غنیمت 64
عطیات کی تقسیم میں ابوبکر ﷜ کی رائے 66
عمر ﷜ کی رائے 66
ام المومنین زینب ؓ اپنا عطیہ تقسیم کر دیتیں 66
عمر ﷜ نے چھوٹے بچوں کےلیے وظیفہ مقرر کیا 67
عمر ﷜ کی شہادت 68
مختلف ممالک میں عمال کا تقرر 68
قاضیوں کا تقرر 69
عمر ﷜ کی اپنے بیٹے کو وصیت 69
عمرفاروق ﷜ کی کرامات 71
عمر بن خطاب ﷜ کی وفات پر تعریفی کلمات 72
عمر کے بارے میں مستشرقین کی آراء 74
عمر فاروق ﷜ کے بعض خطبے 76
پہلا خطبہ 76
دوسرا خطبہ 76
تیسرا خطبہ 77
چوتھا خطبہ 79
پانچواں خطبہ 81
عمر ﷜ کا قضا سے متعلق شریح کو خط 82
قضا سے متعلق عمر ﷜ کا ابو موسیٰ اشعری ﷜ کے نام خط 82
عمر ﷜ کی ابو موسیٰ اشعری﷜ کے نام خط میں وصیت 83
عمر کے اقوال زریں 85
عمر بن خطاب کی خلافت 95
آپ کا پہلا کارنامہ ابو عبیدہ اور مثنیٰ کی زیر قیادت عراق کی طرف لشکر کشی 95
معرکۂ نمارق ض 97
معرکہ جسر 97
مسلمانوں کی ہزیمن کے اسباب 100
الیس صغری 101
معرکہ بویب 102
سوق خنانس اور سوق بغداد 106
ملک شام کاتعارف 106
شام کی فضا 108
شام کی پیداوار 109
نہریں اور دریا 109
قبل از اسلام شام کے متعلق تاریخ عرب 112
شام کی لڑائی 113
دمشق کا محاصرہ 116
ابان کی زوجہ کا مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنا 120
رومیوں کا شب خون مارنا 122
صلح کے متعلق بات   چیت 124
ابو عبیدہ ﷜ کا سن 14ہجری میں دمشق میں داخل ہونا 125
معرکہ فحل 127
اہل دمشق کا ابو عبیدہ ﷜ کے نام خط یززجرد کی فارس پر تخت نشینی ، معرکہ قادسیہ 130
فوجی بھرتی 131
عمر ﷜ کا بذات خود عراق جانے کے لیے تیار ہونا 132
عام رائے 132
خاص رائے 133
سعد بن ابی وقاص ﷜ کا انتخاب 134
عمر ﷜ کی سعد بن ابی وقاص ﷜ کو وصیت 134
مثنیٰ ﷜ کی   وفات 136
مثنیٰ ﷜ کی سعد بن ابی وقاص ﷜ کو وصیت 138
مسلمانوں کےلشکروں کی ترتیب 139
عمر بن خطاب ﷜ اور سعد بن ابی وقاص ﷜ کے درمیان مراسلت 140
میدان قتال 142
یزد جرد کا قتال کی جلدی کرنا 143
مسلمانوں کا وفد یزد جرد کو دعوت اسلام دینے جاتا ہے 144
لشکر رستم کی روانگی 149
سعد ﷜ کا اپنے لشکر کو قتال سے روکنا 150
طلیحہ کی جرات 151
رستم قتال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے 152
فارسی نہر عبور کرتے ہیں 158
لڑائی کی تیاری 159
سعد ﷜ کا بیمار ہو جانا 160
خطبہ سعد 160
عاصم بن عمرو کا خطبہ 161
یوم ارمات ، معرکہ قادسیہ کا پہلا دن 163
ہاتھی 164
سعد ﷜ کی اہلیہ سلمیٰ کا ا نہیں ملامت کرنا 166
یوم اغواث ( معرکہ قادسیہ کا دوسرا روز ) 167
ابو محجن ثقفی قید سے نکل کر میدان قتال میں 170
یوم عماس ( معرکہ قادسیہ کا تیسرا روز ) 174
ہاتھوں کا فرار ہونا 175
شب ہریر یا شب قادسیہ 177
لڑائی کے نقصانات 181
مسلمانوں کی فتح کی اہمیت 182
قادسیہ کے بعد فتح مدائن 183
یوم برس 183
یوم بابل 183
مدائن کی فتح 184
ایوان کسریٰ 186
مسلمانوں کا مال غنیمت 187
معرکہ جلولاء 190
تکریت اور موصل کی فتح 193
فتح ماسبذان 194
فتح قرقیسیاء 195
تاریخ ہجری 199
بصرہ کی تعمیر 200
کوفہ کی تعمیر 201
معرکہ حمص 203
فتح جزیرہ 205
فتح ارمینیہ 206
عمر﷜ کی شام کی طرف روانگی 207
معرکہ قنسرین 209
انطاکیہ کی فتح 209
معرکہ مرج الروم 210
قیساریہ کی فتح 211
بیسان کی فتح اور اجنادین کا واقعہ 211
عمرو بن عاص﷜ کی حیلہ سازی 213
عمر بن خطاب ﷜ کا شام کی طرف روانہ ہونا 215
بیت ا لمقدس کی فتح 216
عمر﷜ کی ملک شام آمد 225
عمر فاروق ﷜ کا لشکر کو خطاب 225
عمر ﷜ کی تواضع اور سا دگی 227
عمر ﷜ کا بطریق کی طرف جانا 228
عمر فاروق﷜ کا بیت المقدس میں تشریف لے جانا 229
بیت المقدس والوں کے لیے عہد 230
حلب شہر کی فتح 233
فتح عزاز 236
معرہ اور دیگر شہروں کی فتح 237
قحط کا سال 237
بارش کے لیے درخواست 238
طاعون عمواس 241
ابو عبیدہ بن جراح ﷜ کی وفات 243
معاذ بن جبل ﷜ کی وفات 247
یزید بن ابو سفیان ﷜ کی   وفات 250
شرحبیل بن حسنہ کی وفات 251
طاعون عمواس کے بعد عمر ﷜ کی شام روانگی 253
شام وعراق میں مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب 254
مصر کی فتح 258
معرکہ عین شمس 262
بابلیوں قلعے کی فتح 264
صلح کے لیے مذاکرات 266
قلعہ بابلیوں کی فتح   پرواشنجتوں کی رائے اور مناقشہ 274
عمرو بن عاص ﷜ کا امیر المومنین کو مصر کا تعارف کرانا 277
صلح کی شروط 278
اسکندریہ کی طرف روانگی اور اس کی فتح 280
قسطاط عمرو ﷜ 281
عمر بن خطاب ﷜ کو فتح اسکندریہ کی خبر پہنچانے کے لیے معاویہ بن خدیج کی روانگی 288
دمیاط کی فتح 290
عروس نیل 291
اسکندریہ کی لائبریری آگ کی لپیٹ میں 294
بحرین سے فارس کی لڑائی 297
قدامہ ﷜ کی معزولی 297
اہواز کی فتح او رہرمزان کی شکست 301
ہرمزان کی صلح 304
بصرہ کے لشکر کا وفد عمر ﷜ کی خدمت میں 305
یزدجرد کا مسلمانوں سے قتال کے لیےدوبارہ نکلنا ،ہرمزان کی اسیری ہرمزان کی بطور قیدی مدینہ کی طرف روانگی 308
وفد کا فتوحات کی وسعت کا طلبگار ہونا 311
سوس کی فتح اور معرکہ نہاوند 312
دانیال کی قبر 314
معرکہ نہاوند میں مسلمانوں کا مال غنیمت 318
سعد بن ابی وقاص﷜ اور چغل خور 319
فتح اصبہان 321
آذر بائیجان کی فتح 322
رے وغیرہ کی فتح 322
اہل رے کی صلح 324
مدینہ الباب کی فتح 325
ترک کی لڑائی 327
عمر بن خطاب ﷜ کی شہادت 329
عمر فاروق ﷜ کا قرض 331
رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تدفین کی عائشہ ؓ سے اجازت لینا 331
خلافت شوریٰ 332
خلیفہ کا چناؤ 332
عمر ﷜ کی لوگوں کو وصیت 337
اپنے بعد والے خلیفہ کے لیے وصیت 338
عمر ﷜ کا قاتل ابو لؤلؤہ 340
عبید اللہ بن عمر اور ان کا ہر مزان کو قتل کرنا 341
ہرمزان اور جفینہ کی عمر ﷜ کو قتل کرنے کی سازش 343
عمر فاروق ﷜ کی تدفین 344

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
16.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال تاریخ زبان سنت سیرت سیرت النبی ﷺ عبادات قربانی نماز

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 5

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 5

 

مصنف : علامہ شبلی نعمانی

 

صفحات: 314

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں سیرت کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر تبصرہ نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، آیات قرآنیہ ، احادیث اورروایات کی مکمل تخریج،آیات واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم اللہ نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست مضامین سیرۃ انبی ﷺ حصہ پنجم
مضامین
دیباچہ طبع دوم 13
دیبا چہ 14
مو ضو ع 14
ان جلدوں کا سیرت سےتعلق 14
حسن قبول 15
امرائے اسلام کی امداد 16
عمل صا لح 18
ایمان کے بعد عمل صالح اہمیت 18
اعمال صا لح کی قسمیں 23
عبادات 23
اخلاق 23
معاملات 23
عبادات 24
اسلام اور عبادات 24
اسلامی عبادات کی خصوصیات 24
صر ف ایک خدا کی عبادت 28
خارجی رسوم کا وجو د نہیں 29
درمیانی ا ٓ دمی کی ضرورت نہیں 30
خارجی کشش کو ئی چیز نہیں 30
مکا ن کی قید نہیں 30
انسانی قربانی کی مما نعت 31
حیوانی قربانی میں اصلا ح 32
مشر کانہ قر بانیو ں کی مما نعت 33
تجر د ، ترک لذائد ، ر یا ضت اور تکالیف شا قہ ٍ
عبادت نہیں 34
عزلت نشینی اور قطع علا ئق عبادت نہیں 40
اسلام میں عبادت کا و سیع مفہوم 41
عبادت چہار گانہ اعمال چہار گانہ کا عنوان ہیں 47
نماز 50
تو حید کے بعد اسلام کا پہلا حکم 55
اسلام میں نماز کا مر تبہ 57
نماز کی حقیقت 58
نماز کی روحانی غر ض و غا یت 61
نماز کے لیے کچھ ا ٓ داب وشرائط کی ضرورت 63
ذکر ود عا و تسبیح کے دو طریقے 65
نماز متحدہ طریق عبادت کانا م ہے ٍ65
نماز میں نظام وحد ت کا ا صول 66
نماز میں جسمانی حرکات 66
ارکان نماز 67
ان ارکان کی تر تیب 68
صحف سابقہ میں نماز کے ارکان 68
قیام 68
رکوع 68
سجدہ 69
نماز تمام جسمانی احکام عبادات کا مجموعہ ہے 73
نماز کی دعا 74
اس دعائے محمد دﷺ کا موازنہ دوسرے انبیا
کی منصو ص دعا و ں سے 77
حضرت مو سی ؑ کی نماز کی دعا 78
زبور میں حضرت داود ؑ کی نماز کی دعا 78
انجیل میں نماز کی دعا 79
نماز کے لیے تعین اوقات کی ضرورت 81
نماز کے اوقات دوسرے مذ ہبو ں میں 82
نماز کے لیے مناسب فطری ا وقات 83
اسلامی اوقات نماز میں ایک نکتہ 84
اسلام میں طریق اوقات نماز 85
نماز وں کی پابندی و نگرانی 86
نماز کے اوقات مقرر ہیں 86
وہ اوقات کیا ہیں؟ 87
اوقات کی تکمیل 90
نماز کے اوقات کی تدریجی تکمیل 90
ایک نکتہ 94
جمع بین ا لصلو تین 94
اوقات پنج گانہ اور ا ٓیت اسرا 94
دلوک کی تحقیق 95
اوقات نما ز کا ایک اور راز 98
اوقات پنجگانہ کی ایک اور ا ٓ یت 98
اطراف النہار کی تحقیق 99
ایک اور طر یقہ ثبوت 99
نماز پنجگا نہ ا حا دیث و سنت میں 100
تہجد نفل ہو گئی لیکن کیو ں ؟ 102
قبلہ 103
رکعتوں کی تعداد 110
نماز کے ا ٓداب با طنی 112
اقامت صلاۃ 113
قنوت 113
خشو ع 113
تبتل 114
تضرع 114
اخلا ص 115
ذکر 115
فہم و تدبر 115
نماز کےا خلا قی ، تمدنی اور معا شر تی فا ئدے 120
ستر پو شی 120
طہارت 121
صفائی 121
پا نبدی وقت ٍ 122
صج خیزی 123
خدا کا خو ف 123
ہشیاری ٍ124
مسلمان کا امتیا زی نشان 124
جنگ کی تصویر 125
دائمی تنبیہ اور بیدار ی 126
الفت و محبت 126
غم خواری 127
اجتما عیت 127
کاموں کا تنو ع 128
تریبت 128
تطم جماعت 129
مساوات 129
مرکزی اطاعت 130
معیار فضیلت 130
روزانہ کی مجلس عمو می 130
عرب کی روحانی کا یا پلٹ 132
زکوٰۃ 137
زکوٰ ۃ کی حقیقت اور مفہوم 137
زکو ۃ گز شتہ مذاہب میں 137
اسلام کی اس راہ میں تکمیل 139
اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت 139
زکوٰۃ کا ا ٓ غاز اور تدر یجی تکمیل 141
زکو ۃ کی مد ت کی تعیین 145
زکوٰ ۃ کی مقدار 146
انفاق 146
زکوٰ ۃ 146
نکتہ 147
جانور وں پر زکوٰ ۃ 149
نصاب مال کی تعیین 151
زکوٰ ۃ کے مصارف اور ان میں ا صلا حات 152
دو ضرورت مندوں میں تر جیح 155
اسلام میں زکو ۃ کے مصارف ہشتگانہ 157
مسکینوں ، فقیروں اور معذوروں کی امداد 158
غلامی کا انسداد 158
مسافر 158
جماعتی کاموں کے اخراجات کی صورت 159
زکوۃ کے مقاصد ، فوائد ا ور ا صلا حات 160
تز کیہ نفس 060
باہمی ا عانت کی عملی تدبیر 162
دولت مندی کی بیماری کا علاج 164
اشتراکیت کا علاج 171
اقتصادی اور تجارتی فائدے 172
فقرا کی اصلاح 173
صدقہ اور زکو ٰ ۃ کو خا لصۃ لو جہ اللہ ادا کیا جا ئے 176
صد قہ چھپا کر دیا جا ئے 178
بلند ہمتی اور عالی خیالی 179
قفرا اور مساکین کی اخلاقی اصلاح 180
روزہ 183
روزہ کا مفہوم 183
روزہ کی ابتدائی تاریخ 183
روز ہ کی مذہبی تاریخ 184
روزہ کی حقیقت 186
رمضان کی حقیقت 188
فر ضیت کا مناسب مو قع ۲؁ ھ 190
ایام روزہ کی تجدید 191
ایک نکتہ 193
معذ ورین 194
روزہ پر اعتراض اور اس کا جواب 197
روزہ میں اصلا حات 198
روزہ کے مقاصد 201
حامل قرآن کی پیرو ی 202
شکریہ 203
تقویٰ 203
حج 210
مکہ 210
بیت اللہ 211
حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی اور اس کے شرائط 212
ملت ابراہیمی کی حقیقت قربانی ہے 213
اسلام قربانی ہے 214
یہ قربانی کہاں ہو ئی؟ 215
مکہ اور کعبہ 217
حج ابرا ہیمی یاد گار ہے 219
حج کی حقیقت 223
حج کی اصلا حات 225
حج کے ارکان 230

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق حسنہ اسلام تاریخ تاریخ اسلام تہذیب حج خلافت راشدہ زبان سیرت سیرت صحابہ طلاق قربانی نبوت نماز وضو

سیرت علی المرتضی ؓ

سیرت علی المرتضی ؓ

 

مصنف : سیف اللہ خالد

 

صفحات: 426

 

خلافت وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے اسلام میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور اسلامی مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے خلفائے راشدین آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی ۔عہد نبوت کےبعد خلفائے راشدین کا دورِ خلافت عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو قیامت تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے ، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان کا دور آتا ہے ۔ سیدنا عثمان کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے ۔ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور اختلافات میں بڑی شدت آگئی او رنوبت صحابہ کرام کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز واقعات رونما ہوئے ۔سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت علی ‘‘ تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف اللہ خالد ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ سیدنا علی کےحالات زندگی طرز حکومت اور کارناموں پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے قرآن وحدیث اورمستند روایات کی روشنی میں ’’عہد خلافت علی ‘‘ میں رونما ہونے والے واقعات اور تاریخی حقائق کوپیش کیا اوران حقائق کا ذکر کرتے ہوئے اس دور کی حقیقی اورسچی تصویر پیش کی ہے۔جھوٹی اورمن گھڑت روایات ، قصوں اور کہانیوں کےنتیجے میں قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات اور شکوک وشبہات کودور کیا ہے اور خیر القرون کی جماعت ِ صحابہ کے بارے میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج سلف کی وضاحت کی ہے۔ اس کتاب میں مذکور احادیث ، روایات اور آثار واقوال کی تحقیق وتخریج ابوالحسن سید تنویر الحق شاہ ﷾ نے کی او ران کی اصل مآخذ کے ساتھ مراجعت اور تہذیب وتسہیل کا لائق تحسین کام ابو عمر محمد اشتیاق اصغر نے کیا ہے ۔یہ کتاب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے ۔ جسے دارالاندلس نےحسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ مصنف موصوف اس سے پہلے سیرت ابو بکر صدیق ، سیرت عمرفاروق اور سیرت عثمان غنی قارئین کی نذر کر چکے ہیں ۔ ان کی قابل قدر تصنیفات اہل علم اور عام قارئین میں دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ رابع سیدنا علی المرتضیٰ کی سیرت وکردار کو اپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست
عرض ناشر 17
عرض مولف 21
باب۔1 ٍ
سیدنا علیؓ کانا م ونسب 27
کنیت 28
ابو حسن بھی ا ٓ  پکی کنیت بھی 29
والد 30
والدہ 36
سیدنا علیؓ کی شخصی و جاہت اور جسمانی اوصاف 37
سیدنا علی ؓ کا قبول اسلام 38
سیدنا علی ؓ کی بت شکنی 40
ابوذر ؓ کا قبول اسلام اور سیدنا علی ؓ 42
سیدنا علی ؓ کی نبی ﷺ پر جاں نثاری 45
سیدنا علیؓ سے متعلق نازل ہونے والی آیات 51
تقدیر علیؓ ا ٓیات قرآنی کی تفسیر کرتے ہوئے 52
دلائل نبوت سے متعلق علیؓ سے مروی احادیث 65
حدیث رسول ﷺ کے بیان میں انتہائی احتیاط 66
رسول اللہﷺ پر جھوٹ  باندھنے والے کا وبال 66
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے اسباب سےاجتناب 67
سیدنا علی ؓ اور اتبا ع سنت 69
مسکرانے میں بھی اتباع 69
طریقہ وضو میں اتباع 70
مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے 71
نبی ﷺ کا علی ؓ کو علم میں خاص نہ کرنا 73
سیدنا علی ؓ کا سیدہ فاطمہ ؓ سے نکاح 75
سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبر 75
سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبرر 75
ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں 79
رسول اللہﷺ کی سیدہ فاطمہ ؓ سے محبت 80
دنیا و آخرت کی سرداری 83
سیدنا علی ؓ کے بیٹے حسن  وحسین ؓ 86
سید نا حسن ؓ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں 86
سید نا حسین ؓ کے فضائل 89
سید نا حسن اور حسین ؓ کے مشترکہ فضائل 90
سیدنا علی ؓ کا غزوات میں کردار 94
غزوہ بدر میں کردار 94
غزوہ احد میں کردار 96
واقعہ افک اور سیدنا علی ؓکا کردار 97
غزوہ خندق میں کردار 98
صلح  حدیبیہ میں کردار 99
غزوہ خیبر میں کردار 101
فتح مکہ سے پہلے قریش کےمفاد کی جاسوسی  کو ناکام بنانے میں کردار 104
فتح مکہ کے موقع پر جعدہ کو قتل کرنے کی کوشش کرنا 107
غزوہ حنین میں 108
غزوہ تبوک میں کردار 109
سیدنا علی ؓ عمرۃ القضا میں 110
پہلا حج اور سیدنا علی ؓ کا کردار 111
سیدناعلی ؓ ارو وفد نجران کو دعوت مبا ہلہ 113
سیدنا علیﷺ یمن میں بطور داعی وقاضی 114
حجتہ الوداع اور گوشت کی تقسیم کی ذمہ داری 118
نبی ﷺ سے خلافت سے متعلق سوال نہ کرنا 124
باب۔2
سیدنا علیؓ عہد صدیقی میں 129
رسول اللہﷺ کی وفات اور خلیفہ کا انتخاب 129
سیدنا ابوبکر ؓ کی خلافت پر سیدنا علی ؓ کی بیعت 129
علی ؓ کی زبان سے ابو بکر ؓ کی فضیلت 135
میراث نبوی ، ابو بکر اور فاطمہ ؓ کا معاملہ 139
سیدنا علی ؓ عہد فاروقی میں 143
سیدنا علی اور سید نا عمرؓ کے تعلقات 144
عہد  فاروقی میں سیدنا علیؓ کے عدالتی فیصلے 144
آل علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کے تعلقات 145
سید ام کلثو م بنت علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کا نکاح 146
سیدناعلی اور عباس  ؓ عمرؓ کی عدالت میں 147
خلافت کے لیے منتخب کمیٹی میں علی ؓ کا نام 151
سیدنا علی ؓ عہد عثمانی میں 153
سید نا علی  ؓ کا سیدنا عثمان ؓ کی بیعت کرنا 153
عہد عثمانی میں حدود کی تنفید سیدنا علی ؓ کے سپرد 155
سید نا علی ؓ کے ہاں سیدنا عثمان ؓ کا مقام 157
سیدنا عثمان ؓ کی طرف سے بلو ا ئیوں  کے ساتھ مذکرات 158
سید نا علی ؓ سیدنا عثمانی ؓ کے دفاع میں پتھر کھاتے ہوئے 159
آل علی ؓ سیدنا عثمان ؓ کا دفا ع کرتے ہوئے 161
باب۔3
سیدناعلیؓ کام منصب خلافت کے لیے انتخاب 167
سید نا علیؓ ہی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے 168
سیدنا علیؓ کے فضائل و منا قب 176
سیدنا علی ؓ کی علمی و دینی بصیرت 185
تمام قرآنی آیات کےنزول کا علم رکھنے والے 186
مسائل کے استفسار میں حیا ما نع نہیں 188
علم اور عمل ساتھ ساتھ 189
لو گو ں اور عمل ساتھ ساتھ 189
لو گوں کی سوا ل پو چھنے کی دعوت دینے والے 190
لو گوں کی سہولت کے لیے حج تمتع کا احرام باندھتے ہوئے 190
صحابہ کرام ؓ میں سب سے بڑے عالم 192
فتویٰ میں حجت کی حیثیت رکھنے والے 192
افتاد قضا میں شیخین سے اختلاف کرنا پسند سمجھنے والے 192
وتر ادا کرنےکا طریقہ 193
سیدنا علی ؓ سے منقول چند مسنون دعائیں 194
سواری کی دعا 194
نماز کی مسنون دعائیں 195
دفن کے بعد ہر قبر پر دعا 198
امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام 199
سیدنا علی ؓ اور بت شکنی 199
رسو ل اللہ  ﷺ کے ساتھ مل کر بیت اللہ کے بتوں کو توڑتے ہوئے 199
جاہلیت کے نشانات مٹانے کے حریص 201
زنادقہ اور مرتدین کو نذر ا ٓتش کرنا 201
مر تد بت پرستوں کو آگ میں جلانے والے 203
مر تد ین کی طر ف لشکر روانہ کرتے ہوئے 204
حدود اللہ کے قیام کا حکم  دیتے ہوئے 205
رعایا سے عدل و انصاف 205
مریض کی عیادت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے 207
بازاروں میں دعوت و اصلاح کا کام کرنے والے 208
عوام کو اخلاق حسنہ کی ترغیب دیتے ہوئے 208
قصہ گوئی کی بد عت کا ظہور اور سیدنا علیؓ کی محاذ آرائی 209
زنا کاری کی شناعت بیان کرتے ہوئے 210
گم شدہ جانور وں کے بارے میں اہتمام 211
عاملین کی تر بیت واصلاح کا فریضہ 212
ایک زانی راہب کا قصہ 212
سید نا علیؓ کی فقاہت 215
ہدایت اور سیدھا پن طلب کرنے کاحکم 215
پانی کی عد م مو جودگی میں تییم کی تعلیم 215
خاص مواقع پر غسل کی تعلیم 216
سدل کی حالت میں نماز پڑھنا 216
جوتو ں پر مسح اور انھیں اتار کر نماز 217
مسجد کے پڑوسی کی نماز گھر میں جائزنہیں 217
ریشمی لباس متعلق سیدنا علی ؓ کا موقف 217
مطلقہ کو نفع  دینا اور بے و قوف کی طلاق کا حکم 218
ولد الزنا کے احکام 219
حاملہ عورت کی عدت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو 219
شادی شدہ زانی کو کوڑے اور رجم کی سزادینا 220
باربار چوری کرنے والے کاحکم 223
ہاتھ کاٹنا اور کٹے ہوئے ہاتھ کو داغنا 223
بیل اور گدھے کی لڑائی اور سید ناعلیؓ کا فیصلہ 224
اگر گواہی دینے میں غلطی ہوجائے ٍ225
حاملہ جانور کی قربانی کاحکم 225
کوئی گم شدہ چیز ملے تو اس کا حکم 226

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8 MB ڈاؤن لوڈ سائز