Categories
Islam اسلام حقوق اولاد عبادات

شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ

شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ

 

مصنف : مفتی محمد سراج الدین قاسمی

 

صفحات: 157

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست، عدالت ہو یا قیادت، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔ اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان، سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے، جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے تمام انسانوں کے فرائض بیان کرتے ہوئے ان کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں، حتی کہ اگر کوئی بچہ ابھی دنیا میں نہیں آیا، بلکہ شکم مادر میں پرورش پا رہا ہے تو اس کے حقوق واحکام کو بھی بیان فرما دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب “شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ جنین تخلیقی مراحل، حقوق واحکام”محترم مفتی محمد سراج الدین قاسمی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شکم مادر میں پرورش پانے والے بچے کے تخلیقی مراحل اور اس کے حقوق واحکام کے مسائل کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 8
مقدمہ طبع ثانی: پروفیسر اختر الواسع 10
حرف آغاز: از مؤلف 13
ابتدائیہ: حضرت مولانا محمد سالم قاسمی 18
پیش لفظ: مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحٰ 21
مقدمہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 23
جاری ہے۔۔۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تہذیب حقوق نسواں رشد علماء فقہاء کھیل محدثین معاشرتی نظام

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 126

 

اس وقت رشد کا پانچواں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات‘‘ ہے۔سترہویں صدی ہجری کے صنعتی انقلاب اور بیسویں صدی ہجری کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سارے عالم کو متاثر کیا، وہاں مذہب کی دنیا میں بھی ان گنت سوال پیدا کر دیے ہیں۔ مثلاً صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار کی ہزاروں ایسی نئی شکلیں متعارف ہوئیں ہے کہ جن کی شرعی حیثیت معلوم کرنا وقت کا ایک اہم تقاضا تھا۔ سیاسی انقلاب نے جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ، آئین اور قانون جیسے نئے تصورات سے دنیا کو آگاہی بخشی۔ معاشرتی تبدیلیوں سے مرد وزن کے باہمی اختلاط اور باہمی تعلق کی حدود ودائرہ کار جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایجادات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا کہ جس سے کئی ایک ایجادات کے بارے شرعی حکم جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اجتہاد کی تحریکیں برپا ہوئیں۔ تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل میں علماء نے رہنمائی کی، فتاویٰ کی ہزاروں جلدیں مرتب ہوئیں۔ اور اجتہاد کے عمل کو منظم انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وجود میں آنے لگے۔ اس مقالے میں بیسویں صدی عیسوی کی اجتماعی اجتہاد کی اس تحریک کے پس پردہ محرکات اور اسباب کا ایک جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’ جدید تصور درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول ‘‘ہے۔مغربی فکر وفلسفہ کے غلبے اور تسلط کے سبب سے برصغیر پاک وہند کے بعض معاصر مسلمان اسکالرز میں دین اسلام کے مصادر کو ریوائز کرنے کا جذبہ پیدا ہوا کہ ان کے خیال میں مغرب کے دین اسلام پر اعتراضات کی ایک بڑی تعداد احادیث پر اعتراضات کے ضمن میں شامل تھی۔ پس ’’درایت‘‘ کے نام سے احادیث کی جانچ پڑتال اور پرکھ کے نئے اصول متعارف کروائے گئے اور اس تصور درایت کو روایتی مصادر سے جوڑنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقالے میں مولانا فراہی﷫ ، مولانا اصلاحی ﷫ اور غامدی صاحب کے تصور درایت کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ محدثین کے تصور درایت اور جدید مفکرین کے تصور درایت میں نمایاں فرق موجود ہیں اور جدید تصور درایت کے نقلی وعقلی دلائل، نقل صریح اور عقل صحیح کے مخالف ہیں۔ تیسرے مقالے کا موضوع ’’ حقوق نسواں اور مسلم ممالک کی کشمکش: مسلم ممالک میں سماجی اور فکری تبدیلی ‘‘ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں پر یورپی استعماری طاقتوں کے قبضے کے زیر اثر حقوق نسواں کی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان تحریکوں نے مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور جنوبی ایشیاء کے مسلم ممالک میں عورتوں کی آزادی، عورتوں کی مخلوط تعلیم، مرد وزن کے اختلاط، مساوات مرد وزن، ستر وحجاب کی مخالفت، کثرت ازواج کی مخالفت، سیاست، روزگار، وراثت، گواہی، دیت اور کھیل وغیرہ میں مردوں کے برابر عورتوں کے حصے کے لیے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے منظم جدوجہد کی بنیاد بھی رکھی۔ اس مقالے میں حقوق نسواں کی تحریکوں کے مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معاشرتی نظام پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ حقوق نسواں کی ان تحریکوں کی جدوجہد سے مشرقی عورت کو حقیقی طور کوئی فائدہ پہنچا ہے یا حقوق کے نام پر اس پر مزید ذمہ داریاں ڈال کر اسے مزید نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔
چوتھا مقالہ ’’ جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ: مقاصد شریعت کی روشنی میں ‘‘ہے۔جدید سائنس نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے تو اس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح مذہب کو بھی متاثر کیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں تحقیق کے سبب سے جو مسائل پیدا ہوئے، ان میں جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ وغیرہ بھی ہیں۔ اس مقالے میں مصنوعی تخم ریزی (Artificial Insemination )، نلکی بار آوری (Test Tube Fertilization) اور کلوننگ (Cloning )کے ذریعے سے پودوں، جانوروں اور انسانوں میں مصنوعی تولید کے طریقوں اور ان کے شرعی جواز اور عدم جواز کے بارے مقاصد شریعت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ پانچواں مقالہ ’’ حدیث مرسل: فقہاء کی نظر میں ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ مرسل اس روایت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی تابعی کسی صحابی کا واسطہ چھوڑ کر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات نقل کر دے۔ عام طور یہ غلط فہمی عام ہے کہ فقہاء حدیث مرسل کو مطلقاً حجت مانتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ فقہاء کے ہاں حدیث مرسل کو قبول کرنے اور اس سے استدلال کرنے میں تفصیل ہے۔ عام طور فقہاء حدیث مرسل کو اس وقت قبول کرتے ہیں جبکہ ارسال کرنے والا راوی ثقہ ہو اور ثقہ ہی سے ارسال کرنے میں معروف ہو۔ البتہ محدثین، مرسل روایت کو ضعیف کی ایک قسم شمار کرتے ہیں اور اس سے حجت نہیں پکڑتے ہیں۔ اس مقالے میں حدیث مرسل کے بارے فقہاء کے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ 9
دور حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات 11
جدید تصویر درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول 38
حقوق نسواں اور مسلم ممالک کی کشمکش ، مسلم ممالک میں سماجی اور فکری تبدیلی 62
جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ مقاصد شریعت کی روشنی میں 98
حدیث مرسل فقہاء کی نظر میں 111

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam حنفی سود سیرت النبی ﷺ طلاق فقہ فقہ حنفی قربانی نماز

شمع محمدی ﷺ

شمع محمدی ﷺ

 

مصنف : محمد جونا گڑھی

 

صفحات: 226

 

ہمارے ہاں کے ارباب تقلید حضرات احناف نے یہ مشہور ےکر رکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں کا ایک مسئلہ بھی خلاف حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز،گودا اور عطر ہے۔بہ کھٹکے اس پر عمل کرنا نجات کا سبب ہے کیونکہ یہ فقہ درجنوں ائمہ اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔فقہ حنفی کے بے شمار مسائل کتاب وسنت سے صریح متصادم ہیں ،جن کا صحابہ کرام ؓ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ  نے زیر نظر کتاب میں با حوالہ اس امر کو ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کو محض کتاب وسنت اور اجماع امت ہی کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص مسلک ومذہب کی۔چونکہ کئی صدیوں سے فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ بتایا جا رہا ہے ،اس لیے حنفی حضرات کے دل  پر یہ بات نقش ہو چکی ہے۔زیر نظر کتاب کے منصفانہ مطالعہ سے اس کی قلعی کھل جائے گی اور ایک سچا مسلمان کبھی بھی کتاب وسنت کے خلاف کسی مسئلہ کو تسلیم کرنا تو گوارہ نہیں کرے گا۔خدا کرے کہ اس کتاب سے طالبین حق کو رہنمائی میسر آئے اور مسلمانوں میں وحی الہی کی طرف لوٹنے کا جذبہ بیدار ہو تاکہ اتحاد امت کی راہ ہموار ہو سکے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقلدین کا خیال 8
فرق فقہ و حدیث 9
حنفی محمدی اختلاف 10
فقہ مطابق حدیث نہیں 11
امام امتی ہیں نبی نہیں 12
اہل حدیث کی منشا 13
امام ابوحنیفہ کی نصیحت 14
ردرائے کے دلائل 15
امام جعفرؒکی نصیحت 17
چاروں مذہب برحق نہیں 18
اہل حدیث کی حقانیت 19
تقلید اور عمل بالحدیث 20
روایت اور درایت میں فرق 21
درایت فاروقی 22
درایت صحابہ 22
مقلدین کی خطرناک غلطی 23
مذہب مانع عمل بالحدیث ہے 24
مقلد حدیث پر براہ راست عامل نہیں 25
رائے قیاس دین نہیں 26
تقلید اپنی اصلی صورت میں 27
رائے اور روایت 28
ترک تقلید دشمنی امام نہیں 29
تاریخ تقلید 30
محمدی جھنڈا 31
اسلام صرف قرآن و حدیث میں 32
عمل بالحدیث کی تاکید 33
ایجاد تقلید کی تاریخ 34
تقلید کے بعد قرآن و حدیث کی بیکاری 35
اصول مذہب حنفی 38
نصحیت 39
اتفاق و اختلاف 40
ختم مقدمہ 41
وہ حدیث جنہیں حنفی مذہب نہیں مانتا
عورتوں کی باریاں 42
خطاونسایان 43
میت کی طرف کا روزہ 44
جانور کے پیٹ کا بچہ 45
گھوڑے کا حلال ہونا 46
چوری کی مقدار 47
رضاعت کا مسئلہ 48
ہبہ کا مسئلہ 49
باپ کا ہبہ 50
مہر کا مسئلہ 51
پائی ہوئی چیز 53
گم شدہ اونٹ 54
غسل میت 56
خطبے کے وقت دو رکعت 57
ایک وتر 58
استسقاء کی نماز 59
نصاب زکوۃ 60
ہری ترکاریوں کی زکوۃ 61
سورج گہن کی نماز 62
جلسہ استراحت 63
پگڑی پر مسح 64
دوہری اذان کا مسئلہ 66
تیمم کی ہاتھ کی حد 67
آخری وقت کی نماز 68
قبل از مغرب دورکعت 69
جنازہ غائبانہ 70
اکہری تکبیر 71
عورتوں کا مسجد میں آنا 73
سحری کی اذان 74
غلاموں پر ظلم 75
خون مسلم کی ارزانی 76
کتوں کی تجارت 77
مسجد میں نماز جنازہ 78
حرام عورت کی جنت 79
مطلقہ کا نان نفقہ 80
عورتوں کا عیدگاہ آنا 81
عیدکی تکبیریں 82
ان تکبیروں کا موقعہ 83
قربانی کے دن 84
نابینا کی امامت 86
مزارعت کا مسئلہ 87
فقہ کی حلال کردہ شرابیں 88
نشہ ہوا پھر بھی حد نہیں 91
حصول قوت کے لیے شراب نوشی 92
مردہ مچھلی 93
کتے کا جھوٹا برتن 94
بے ولی کا نکاح 95
راگ اور کھیل 97
کعبۃ اللہ کی بے حرمتی 98
بے قبلہ نماز 99
عورتوں کی جماعت 100
نابالغ کی امامت 101
تجارت کا مسئلہ 102
قانون شہادت 103
وترکا مسئلہ 104
انکار فاتحہ 105
قرأت کا واجب نہ ہونا 106
فرضوں میں سنتیں 107
صبح کی سنتیں 108
ان سنتوں کی فضا 109
مطلق سنتوں کی قضا 110
فقہ کا روزہ 111
سودی خوری 112
حلالہ کی لعنت 113
تین طلاقیں 114
رسول اللہ ﷺکے فیصلے کو ٹھکرادیا 115
بآواز بلند بسم اللہ 116
عیدکی تکبیر 118
اعتکاف 119
رد حدیث کا حیلہ 120
فعل رسول اللہﷺ بھی مکروہ ہے 121
جنازہ میں فاتحہ 122
تکبیرات جنازہ 123
مرد کے جنازہ کی نماز 124
نماز جنازہ سے محروم میت 125
خون مسلم کی ارزانی 126
غلاموں سے ناانصافی 127
اسلامی مساوات پر ضرب 128
غلاموں پر ظلم 129
مسافر کی نماز 130
مدت اقامت 131
مسافرت کی حد 132
ایک حنفی مولوی کا اعتراض 133
ناف تلے حدیثوں کا ضعف 135
سینے پر ہاتھ 136
آہستہ آمین کی حدیثوں کاضعف 137
بلندآواز کی آمین 138
الزامی جواب 145
ظہر عصر کا وقت 150
جمعہ کی صبح کی معین سورتیں 155
حدیث کی چارسورتوں کی فقہ میں دس سورتیں 160
وسعت قربانی میں تنگی 165
ہاتھ باندھنے کا زنانہ مردانہ فرق 170
جبریہ طلاق اور ازادگی 175
کفار کو مسلمان کا حکم 180
بوٹی کے بدلے بکرا 185
فقہ میں شراب اور سود کی تجارت 190
دورہ فاروقی 195
مقلدین سے ایک سوال 200
حنفیہ کے نزدیک اور سب مسلمان ملعون ہیں 204
امام صاحب کا مذہب 210
امام صاحب کی والدہ صاحبہ کا واقعہ 215
فقہ کا خلاف حدیث صحابہ و امام و مسئلہ 220
دعا 222

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انسانی حقوق تہذیب متفرق کتب معاملات

رواداری اور مغرب

رواداری اور مغرب

 

مصنف : محمد صدیق شاہ بخاری

 

صفحات: 572

 

جس مغرب کی لوگ رواداری, برداشت اور اظہار آذادی کی بات کرتے ہیں وہاں کے مذہبی معاملات کی جان کاری تو لیں. آپ وہاں ہولوکاسٹ کے جھوٹا ہونے کے بارے میں بات کرکے تو دیکھیں. وہاں آپ ہٹلر کی مثبت پہلووں پر بات کرکے تو دیکھیں بنا بل کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے.ہمارے ہاں دو لفظ پڑھتے ہی سب سے پہلے گالیاں پیغمبر اسلام, خدا اور مملکت خداداد کو دی جاتی ہیں کیونکہ اب تو باقاعدہ فیشن بنتا جارہا ہے. مشرق اور مغرب کے درمیان کشمکش کا موضوع ایک  طویل عرصے سے زیر بحث چلا آ رہا ہے۔مغرب میں بسنے والے بہت سے لوگوں کے خیال میں مغربی اَقدار کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی شرط ہیں۔ مغرب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایشیائی اقدار کے چمپئن اپنے استبداد، ڈکٹیٹر شپ اور دیگر غیر جمہوری رویوں کو ‘ایشیائی اقدار’ کے نام پر درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعصب کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف اَقدار کا ایک ہی مؤثر نظام موجود ہے جوکہ مغربی اقدار کا نظام ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کے صاحب رائے لیڈر شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا میں بہت سے مختلف نظام ہائے اَقدار پہلو بہ پہلو باہمی بھائی چارے کی فضا میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ راواداری اور مغرب‘‘ محمد صدیق شاہ بخاری صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں امریکی اخلاق واقدار اور اصول ومعیار  کی صحیح نشاندہی کی ہے۔مزید اس کتاب میں رواداری اور فتنہ رواداری کا تاریخی جائزہ، معیار رواداری، بنیاد پرستی اور رواداری، دہشت گردی، انسانی حقوق اور رواداری، مغربی تہذیب وتمدن، نو مسلم اور صلیبی تعصب، عورت اور یورپ، بچوں کی حالت زار، یورپ کی روارداری اور بوسنیا اور تحفظناموس رسالتﷺ  اور رواداری کے حوالے سے مغرب سے چند سوالات کے پیشِ نظر مفصل مبحوث پر بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب مغربی تہذیب کو سمجھنے کے لئے ایک مفید ترین کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
انتسباب 25
شہرغفلت میں اذان فجر 27
رواداری اورمغرب 32
احساس زیان 35
رواداری 38
باب1:رواداری اورفتنہ روارداری ایک تاریخی جائزہ 39
باب 2:معیاررواداری 53
باب 3:بنیادپرستی اورروارداری 63
بنیادپرستی اوررواداری 65
بنیادپرستی اورکمیشن برائے انسانی حقوق ایک جائزہ 68
اگرمسلمان بنیادپرست ہیں تو کیاامریکی صدربنیادپرست نہین جوبائبل پرحلف لیتاہے؟ 70
مغرب کس اسلام کی بنیاد پرست کہتاہے؟ 71
ایک بنیادپرست کااعتراف جرم 72
بنیادپرستی اعزاز یاالزام 76
بنیادپرستی جرم باسعادت 81
مغرب نےاسلام سےدشمنی مول لینےکےلیےاسلامی بنیادپرستی کاہوکھڑاکیاہےکیونکہ ناانصافی اورعدم مساوات پرمبنی دوغلی مغربی سیاست کو اسلام سےشدیدخطرہ ہے 87
اسلام بنیادپرستی اوردہشت گردی کامذہب نہیں سکولوں میں اس کادرس دیاجائے 88
امریکہ بہادرکی بنیادپرستی امریکہ نےاسلام کودشمن نمرون قراردےدیا 88
امریکی بنیادپرستی چرچ کی کفالت سےٹیکس میں معافی 90
بنیادپرستی چند اشعار 91
باب 4:دہشت گردی روھرامعیار 93
دہشت گردی اورامریکہ دوہرامعیار 95
امریکہ میں مقیم دہشت گردیہودی تنظیمیں ایک اہم تحقیق 97
دوسروں کودہشت گردقراردینےوالاامریکہ پہلےاپنےگھرکی خبرلے۔ڈیوڈقیورش اوراس کے86پیروکاروں کاقتل 105
امریکہ میں مسجدوں پردہشت گردوں کےحملے 111
امن کاعلم بردارامریکہ اورگوئےمالاکےایک لاکھ دس ہزارمقتول 112
امریکہ کی دہشت گرد تنظیمیں 113
نسل پرستی کےحوالے سےدہشت گردی 116
وہ عمل جسےامریکہ آج دہشت گردی کہہ رہےجب تک اس کاپنےمفادمیں تھاوہ امریکہ کاپسندیدہ عمل تھامگرآج دہشت گردی ہے 116
امریکہ جمہوریت پسندیاآمریت پسند؟ 118
الجزائراورمغربی دنیاکی جمہوریت پسندی؟ 118
الجزائرمیں فرانس اورمغربی ممالک کی دہشت گردی تین ہزارمسلمانوں کاتقل 118
عوام کےناخن اکھاڑدئیےگئے اورچہرے جھلسادئیے 118
الجزائرکےقیدخانےسےہولناک رپورٹ 118
انڈی پنڈنٹ کےصحافی رابرٹ فسک کی زبانی 119
مسلمانوں کودہشت گردثابت کرنےکےلیے امریکی خفیہ تنظیم ایف بی آئی کاخوفناک منصوببہ 26فروری 1993ءنیویارک کےٹریڈسنٹرمیں بم دھماکہ 124
دہشت گردکون. 130
اولکابم دھماکہ کےبعدمسلمانوں کی زندگی؟ 137
امریکہ موت کاسودگردہشت گردی ووالےآلات کاخالق اورتاجر 138
2000ء تک منڈاناؤکومسلمانوں سےپاک کرنےکاعزم 138
مسلمانوں کوقتل کرناہمارےلیے ایک قدرتی عمل ہےسرائیلی لیڈرکابیان 139
دوہرامعیار:جمہوریت کےسرپرست اورجمہوریت کامذاق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 143
اسرائیل کےحق میں امریکہ کے70ویٹومگرمسلمانوں کےلیے؟ 144
امریکی بچےاسرائیل کی دہشت گردی 145
صابرہ اورشیلہ کی دردناک یادیں 146
اےکشتم ستم تیری غیرت کو کیاہوا 146
دنیائے کفرکی دہشت گردی بنیادپرستی ارومسلمانوں کی اندھی رواداری کےتناظرمیں تاریخی حوالوں سےمزین ایک سسکتی تحریر 148
باب 5:انسانی حقوق اورروارواداری 153
انسانی حقوق اورقرآ ن مجید 156
انسانی حقوق اورحدیث رسول اللہﷺ 159
خطبہ منیٰ 162
سیرت النبیﷺاورانسانی حقوق 163
الوکےانسانی حقوق مگرانسان کے؟ 170
انسانی حقوق اورامریکن کالے 174
انسانی حقوق اوراسرائیل کی انسانیت کش کارروائیاں 181
گھرکابھیدی انسانی حقوق کی امریکی تنظیموں کابیان 181

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام عبادات قرض مالی معاملات محاسن اسلام و امتیازات معاملات نماز

راہ عمل

راہ عمل

 

مصنف : جلیل احسن ندوی

 

صفحات: 338

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب ” راہ عمل ”  محترم مولانا جلیل احسن ندوی  صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں اسلامی تعلیمات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے انہیں زندگی کا دستور قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی ان  کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 29
صراحت برائے اشاعت نو 30
نقش خیال 31
باب 1: اخلاص نیت 33
نیت کےمطابق اجر 33
نیکی کامعیار 34
فاسد نیت کاوبال 34
با ب 2: ایمانیات 37
ایمان کی بنیادیں 37
اللہ تعالیٰ پر لانے کامطلب 39
ایمان باللہ اوراس کےاثرات 39
ایمان باللہ کامفہوم 41
ایمان کااثر معاملات زندگی پر 41
ایمان کااثر خلاق پر 42
ایمان کامل کی علامات 42
حلاوت ایمان کاحصول 43
رسول اللہ  ﷺ پر ایمان لانے کامطلب 43
گفتار کردار کابہترین معیار 43
سنت اورپاکیزگی دل 43
اطاعت رسول اللہ ﷺ کاصحیح طریقہ 44
پسندوناپسند کاپیمانہ 45
محرف کتابوں سےاجتناب کی ہدایت 46
ایمان کی کسوٹی 46
ایمان اورحب رسول اللہ ﷺ 47
محبت خداورسول اللہﷺ کےتقاضے 48
محبت رسو ل اللہ ﷺ اورآزمائش 49
قرآن مجید پر ایمان لانےکامطلب 50
اتباع کتاب اللہ کی برکات 50
قرآن پاک سےاستفادہ کرنےکاطریقہ 50
قرآن پر ایمان لانےکامطلب 52
اعمال کی توفیق 52
قضائے مبرم 53
نفع ونقصان کااصل سرچشمہ 54
اگرمگر کاچکر 55
آخرت  پر ایمان لانے کامطلب 56
آخرت کی ہول ناکی اوراس سےنجات کاذریعہ 56
آخرت کامنظر 57
زمین کےبےلاگ بیان 57
اللہ تعالیٰ کےحضور پیشی کی نوعیت 58
منافقت کاانجام بد 58
آسان محاسبہ اوراس کےلیے دعا 60
قیامت  کی شدت میں مومن سےنرم سلوک 61
مومن کےلیے غیرمعمولی انعامات 62
جنت کی شان 62
آخرت کےعذاب وثواب کی حقیقت 63
جنت ودوزخ کےراستے کیسےہیں 63
دوزخ اورجنت سےغافل نہ رہنا چاہیے 64
احدات فی الدین کامرتک کوثر سےمحروم رہےگا 64
شفاعت رسول اللہ ﷺ کےمستحق 65
روز قیامت قرابت کام نہ آئے گی 66
خائن کاحشر 67
باب 3: عبادات
نماز 70
نمازگناہوں کو مٹاتی ہے 70
نماز گناہوں کاکفارہ 70
کامل نماز باعث مغفرت ہے 71
حفاظت نماز کی اہمیت 72
منافق نماز عصر تاخیر سےپڑھتا ہے 73
فج وعصر کی نمازوں میں محافظ فرشتوں کاتبادلہ  ہوتاہے 74
ضیاع نماز سے حساس ذمہ داری ختم ہوجاتاہے 74
قیامت کےروزسایہ خداوندی سےبہرہ مندہونے والے 75
ریاشرک ہے 76
نماز باجماعت 76
نماز باجماعت انفرادی نماز سےبدر جہاد افضل ہے 76
نماز باجماعت افضل ہے 77
جماعت کےعدم قیام نقصان 77
بلاعذر ترک جماعت کاانجام 78
مومن اورنماز باجماعت کااہتمام 79
امامت 80
اما وموذن کی ذمہ داری 80
مقتدیوں کی رعایت 81
مختصر قراءت 82
زکوۃ صدقہ ،فطر ،عشر 84
زکوۃ معاشی توازن کےلیے 84
زکوۃ ادا نہ کرنے کاانجام 84
عد م ادائیگی زکوۃ مال کی بربادی کاموجب ہے 85
صدقہ فطر کامقصد 86
اناج کی زکوۃ 86
روزہ 87
رمضان کی فضیلت 87
قیام رمضان کااجر مغفرت 88
روزے کےمفسدات 88
روزے کی شفاعت 89
روزے کی روح 89
بدقسمت روزے دار 90
نماز روزہ اورزکوۃ گناہوں کاکفارہ ہیں 90
ریا سے پرہیز 91
سحری کی تاکیدج 91
تعجیل فی الافطار کی تاکید 91
سفرمیں رخصت 92
روز ہ ادردیگر عبادات میں اعتدال 93
نوافل میں اعتدال 93
ایام اعتکاف 96
رمضان کاآخری عشرہ 96
حج 97
فرضیت حج 97
حج ولادت نوہے 97
جہاد کےبعد بہترین عمل 98
تعجیل فی الحج 98
مسلمان اورترک حج 98
حج کااجر ابتدائے سفرسے شروع ہوجاتاہے 99
باب 4: معاملات 100
حلال کمائی 100
ہاتھ کی کمائی کی فضیلت 100
قبولیت دعامیں رزق حلال کااثر 100
حلال وحرام سےلاپروائی 101
حرام کمائی کانتیجہ 102
مصوری کی کمائی 102
تجارت 103
دیانت دارانہ تجارت 103
صادق وامین تاجر کارتبہ 104
متقی تاجروں کاانجام 104
ناجائز حربوں سےبرکت ختم ہوجاتی ہے 105
تجارت میں جھوٹی  قسمیں 105
تجارتی لغزشوں کاکفارہ بذریعہ صدقہ 106
تجارتی کاروبار کی نزاکت 107
حرمت احتکار 107
احتکار پر لعنت 108
محتکر کی کج فطرتی 108
خراب مال تجارت کاعیب بیان کرو 109
قرض 109
تنگ دست قرض دارکومہلت دینےکااجر 109
قیامت کےدن غم اورگھن سےبچنے کاطریقہ 110
مسلمان بھائی کےقرض کی ادائیگی 110
قیامت میں مقروض کی معافی نہیں 111
حسن ادائیگی 112
مال دار کی ٹال مٹول ظلم ہے 112
ادائیگی قرض میں نیت کااثر 113
ٹال مٹول کی قانونی سزا 113
غصب وخیانت 113
ظلم کی سزا 113
غصب کی حرمت 114
مختلف مالی معاملات میں ارشادات 114
خائن سےبھی خیانت کرنےکی ممانعت 115
خیانت میں شیطان کرنےکی ممانعت 115
خیانت میں شیطان کےلیے  کشش 115
کھیتی اروباغ بانی 116
کسان کاصدقہ 116
اللہ کےمغضوب بندے 116
مزدور کی اجرت 117
مزدور کےحقوق 117
مزدور کی وکالت اللہ کرے گا 117
ناجائز وصیت کی سزادوزخ ہے 118
ناجائز وصیت 118
وراثت سےمحروم کرنا 119
وارث کےحق میں وصیت کاجائزنہ ہونا 119
وصیت کی آخری حد 119
سود اوررشوت 120
سودی کاروبار میں حصہ لینےوالوں پرلعنت 120
راشی ومرتشی پر لعنت 121
مشتبہات سےپرہیز 122
تقوی کاجوہر 123
باب 5:معاشرت 124
نکاح 124
نکا ح کی ترغیب 124
دین دار بیوی کاانتخاب 124
بیوی کےانتخاب کااصل معیار 125
فساد کاسبب 126
خطبہ نکاح 126
فرضیت مہر 128
قلیل مہر 129
معمولی مہر کی افضیلت 130
ولیمے میں مفلسوں کودعوت نہ دینا معیوب ہے 130
فاسق کی دعوت سے اجتناب 130
باب 6: حقوق العباد 132
والدین کےحقوق 132
والدہ سےحسن سلوک 132
خدمت والدین کاصلہ جنت ہے 133
والدین کی نافرمانی حرام ہے 133
موت کےبعد والدین کےحقوق کیاہیں؟ 134
رضاعی ماں کی تعلیم 134
مشرک والدین کےساتھ حسن سلوک 135
اصل صلہ رحمی 135
برائی کےمقابلے میں بھلائی 136
بیویوں کےحقوق 136
بیوی سےحسن سلوک 136
بدزبان بیوی کےساتھ سلوک 137
بیو ی کومارنا خوبی نہیں 138
بیو ی سےتعلق قائم رکھنے کی کوشش 138
حقوق الزوجین 139
بیوی کانفقہ صدقہ ہے 140
اہل خانہ کی اہمیت 140
بیویوں کےدرمیان عدل کاحکم 140
شوہر کےحقوق 141
کون سی عورت جنت میں جائے گی 141
اچھی بیوی کی صفات 141
نفلی عبادت کےلیے شوہر کی اجازت 142
خاوند کی ناشکری 144
بہترین دولت مومن بیوی 144
عورت گھر کی نگران ہے 145
اولاد کےحقو ق 146
اولاد کی تربیت 146
نماز کی عادت ڈالنا 146
نیک اوالاد صدقہ جاریہ 147
لڑکیوں کی تربیت کاصلہ 147
بیٹی کی تکریم وتربیت کاصلہ 149
بیٹی آگ سےنجات کاذریعہ ہے 149
اولاد میں انصاف 150

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اختلافی مسائل اسلام سنت علماء معاشی نظام معاملات

قرآن کی معاشی تعلیمات

قرآن کی معاشی تعلیمات

 

مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

 

صفحات: 75

 

اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن کی معاشی تعلیمات‘‘عالمِ اسلام کے عظیم مفکر سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے قرآنی آیات کی روشنی میں انسانی معیشت کے بارے میں واضح کیا ہے کہ اولین حقیقت جسے قرآن مجید بار بار زور دے کر بیان کرتا ہے وہ یہ ہےکہ تمام وہ ذرائع ووسائل جن پر انسان کی معاش کاانحصار ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی نےان کو اس طرح بنایا اورایسے قوانینِ فطرت پر قائم کیا ہے کہ وہ انسان کے لیے نافع ہورہے ہیں اوراسی نے انسان کوان سے انتفاع کا موقع دیا اوران پر تصرف کااختیار بخشا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
قرآن کی معاشی تعلیمات 5
بنیادی حقائق 5
جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنا اللہ ہی کا حق ہے 7
حدود اللہ کے اندر شخصی ملکیت کا اثبات 9
معاشی مساوات کا غیر فطری تخیل 16
رہبانیت کے بجائے اعتدال اور پابندی حدود 21
کسب مال میں حرام و حلال کا امتیاز 23
کسب مال کے حرام طریقے 24
بخل اور اکتناز کی ممانعت 32
زر پرستی اور حرص مال کی مذمت 33
بے جا خرچ کی مذمت 34
دولت خرچ کرنے کے صحیح طریقے 37
مالی کفارے 41
انفاق کے مقبول ہونے کی لازمی شرائط 43
انفاق فی سبیل اللہ کی اصل حیثیت 45
لازمی زکوۃ اور اس کی شرح 50
اموال غنیمت کا خمس 53
مصارف زکوۃ 54
تقسیم میراث کا قانون 57
وصیت کا قاعدہ 59
نادان لوگوں کے مفاد کی حفاظت 61
سرکاری املاک میں اجتماعی مفاد کا لحاظ 62
ٹیکس عائد کرنے کے متعلق اسلام کا اصولی ضابطہ 64
اسلامی نظام معیشت کی خصوصیات 64
فہرست مآخذ 69

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam انکار حدیث عبادات گوشہ نسواں مضامین قرآن معاملات موضوعات و مضامین قرآن نماز نماز جمعہ

قرآن اور عورت

قرآن اور عورت

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی

 

صفحات: 470

 

برصغیر میں فتنہ انکار حدیث برسوں سے چلا آرہا ہے۔ بہت سے علمائے حق میں ابطال باطل کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اس فتنہ کی سرکوبی میں پیش پیش رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب بھی ایک ایسے مرد مجاہد کی علمی کاوش ہے جو اس فتنے کی جڑیں کاٹنے کے لیے میدان عمل میں اترا ہوا ہے۔ڈاکٹر پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی کی  یہ کتاب غلام احمد پرویز کے شاگرد عمر احمد عثمانی کی کتاب ’فقہ القرآن‘ کا جائزہ لیتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ مصنف نے عام فہم انداز میں مد مقابل محقق کے پورے خیالات بھی اپنی کتاب میں شائع کیے ہیں اور ان پر خالص علمی انداز میں تنقید کا حق بھی ادا کیا ہے۔ کتاب کے 11 ابواب میں خواتین سے متعلقہ تقریباً تمام مسائل کی روشنی میں تفصیلی وضاحت کر دی گئی ہے جس میں عورت کا دائرہ کار، عورت کے فرائض و واجبات اورعورت اور مخلوط سوسائٹی سے متعلق تمام اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے قرآن کریم کی روشنی میں شہادت نسواں کی بھی تفصیلی وضاحت موجود ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 15
باب 1
عائلی زندگی اور منصب قوامیت 23
سربراہ خانہ 23
قوام کا ترجمہ 24
مردکی افضلیت کی بحث 25
کفروایمان کی کشمکش 27
قوامیت و قنوت کے لوازمات 29
مفہوم قنوت 29
آیت43:4کامخاطب کون ؟ 33
پلندۂ تضادات 36
اوراب یہ بھی ! 37
باب 2
عورت کا دائرہ کار 39
فطری تقسیم کار 40
ماحول اور فطری صلاحیتوں میں تطابق و توافق 41
حیات نسواں کے مراحل اربعہ 41
خواتین کے مراحل ثلاثہ کی تکالیف 42
زمانہ حمل کی تکالیف 43
تکالیف وضع حمل 45
وضع حمل کے بعد کی تکالیف 45
تکالیف درزمانہ رضاعت 46
حیض کے عوارضات 47
نتیجہ بحث 47
گھر، عورت کا فطری میدان عمل 49
باب 3
عورت کے فرائض و واجبات 53
پہلافرض……اطاعت شوہر 54
دوسرا فرض…..حفاظت 55
پہلی فصل
شوہر سے متعلقہ اشیاوامور کی حفاظت 55
نسب شوہر کی حفاظت 55
شوہر کے رازوں کی حفاظت 57
عیوب شوہر کی پردہ پوشی 58
شوہرکے دیگر حقوق کی حفاظت 59
دوسری فصل
گھراور اشیائے خانہ کی حفاظت 61
اثاث البیت کی حفاظت 61
گھر کی صفائی ستھرائی 61
گھرکی تزئین و آرائش 62
اسراف وتبذیرسے اجتناب 63
تیسری فصل
بچوں کی حفاظت،تربیت اور پرورش 64
بچے کی ذات پر توجہ 68
جسمانی صحت کی طرف توجہ 68
ذہنی صحت کی طرف توجہ 69
بچے کی شخصیت کی نشوونما 70
جذباتی نشوونما 71
حسی نشوونما 73
بول چال کی نشوونما 75
جنسی نشوونما 76
مغرب او رجنسی نشوونما 76
سکنڈے نیوین ممالک 77
ڈنمارک 77
’’یہ بی بی سی لندن ہے‘‘ 78
یہ جنسی تعلیم کدھر لیے جارہی ہے 79
جنسی پہلواور مشرقی ماحول 81
معاشرتی نشوونما 83
چندہنگامی  مسائل کا حل 84
بچے کا دودھ چھڑانا 85
بستر خراب کرنا 86
بچے کا تتلانا اور ہلکلانا 88
بچوں کی چند اخلاقی ناشایستہ حرکات 89
بچہ اور سزا 90
بچوں کی ضد 91
بچوں میں غصہ 92
بچوں میں خوف 92
جھوٹ کی عادت 93
دوسرا بچہ بحیثیت شریک 95
باب 4
حجابِ نسواں 101
احکام سورۂ نور 106
الاماظھرکا استثنا 107
آیت سورۃ احزاب 109
قابل غور بات 114
قرآن اور جدید کلچر 114
آیتِ حجاب 115
آیت جلباب 121
تصریحات علما 124
پردہ، زمانۂ نزول قرآن میں 126
عثمانی صاحب اور سترِ و خوہ 131
اور ہمارے یہ متجددین 132
باب5
عورت اور مخلوط سوسائٹی 135
پہلی فصل
مشترکہ اور مخلوط محافل 136
اختلاط صنفین کے دلائل 138
پہلی دلیل 138
دوسری دلیل 139
قرآن اور مخلوط معاشرت 141
دوسری فصل
اجتماعی عبادات اور مخلوط مجالس 142
نماز میں اختلاط صنفین کی حقیقت 143
1۔نماز پنجگانہ اور مخلوط مجالس 143
خواتین کے لیے دخول مسجد کی شرائط 144
2۔نماز جمعہ اور مخلوط مجالس 147
فرضیت نماز جمعہ کی بحث 148
آمدم برسر مطلب 153
3۔نماز عیدین اور ’’مخلوط اجتماعات‘‘ 153
حج اور مخلوط مجالس 157
نتیجہ بحث 159
زنانہ مساجد اور امامت نسواں 160
امامت نسواں 162
کیا عورت مردوں کی بھی امام بن سکتی ہے؟ 163
دلائل فقہا 164
تیسری فصل
اجتماعِ رجال اور خطاب نسواں 165
خطاب بلقیس پرقرآن کی عدم نکیر 166
حالات امم سابقہ سے احتجاج 167
چوتھی فصل
گھرسے باہر نکلتے وقت عورت کے لیے اجازت کی ضرورت 171
گھر سے باہر نکلنے کی اجازت 171
سفرمیں محرم کی رفاقت 174
پانچویں فصل
عورت اور میدان حرب وقتال 177
ضعف نسواں اور قوت مرداں 178
خواتین عہدنبوی 179
چھٹی فصل
مخلوط تعلیم 185
مخلوط تعلیم اور عثمانی صاحب 185
عثمانی صاحب کی اصل الجھن 186
مخلوط تعلیم اور عقلی دلائل 186
قلت وسائل کا بہانہ 187
افرادی وسائل کی قلت کا مسئلہ 188
مالی وسائل کی قلت کامسئلہ 189
جواب دلیل ثانی 189
مخلوط تعلیم کے اثرات و نتائج 190
آرایش وزیبایش پرمسرفانہ اخراجات 191
جنسی امراض  کا پھیلاؤ 192
تعلیمی ماحول پر شہوانیت کا غلبہ 192
ایک خوش فہمی 193
خواتین یونیورسٹی،ناگزیرضرورت 193
جامعہ خواتین،خلاف زمانہ قدیم؟ 194
باب6
شہادت نسواں قرآن کریم کی روشنی میں 197
پہلادرجہ:زنا اور بدکاری 198
دوسرادرجہ:بدکاری کے علاوہ دوسرے حدود و قصاص 198
تیسرادرجہ:نکاح وطلاق کے مقدمات اور دیگر مالی مقدمات 199
چوتھادرجہ:عورتوں کے مخصوص معاملات کے متعلق کوئی امر ہوتواس میں تنہاعورت کی شہادت قبول 199
سورہ بقرہ کی آیت 282کی وضاحت 204
عورت کی ذہنی منقصت 210
علمائے مغرب کی تحقیقی شہادت 211
پیروی اسلاف یاتقلیدمغرب 215
ایک قرآنی شہادت 219
جدید تحقیق 221
اندھی تقلید کے کرشمے 222
محاسن ومعائب ہرصنف بشرمیں 223
فطری نشوونما فطری دائرہ کارمیں 224
نگۂ بازگشت 225
مسئلہ شہادت نسواں اور پرویز وعثمانی صاحب کے دلائل 226
انقضائے عدت کی صورت میں گواہی 228
زناکے سلسلے میں حکم شہادت 228
اموال یتامیٰ کی واپسی سے متعلق حکم 229
قذف کے متعلق حکم شہادت 229
حکم شہادت بسلسلہ وصیت 230
وصیت میں شک وشبہ کی صورت میں 231
شہادت لعان کا حکم 231
پرویز صاحب اورعثمانی صاحب کے دعاوی کا تفصیلی جواب 232
مذکر کے صیغے 236
اہمیت شہادت کا تقاضا 239
’’ان تضل‘‘کی علت 240
شہادت اور اولین قرآنی معاشرہ 241
حلف لعان اور مساوات 242
ا:بیان لعان شہادت یا حلف ؟ 242
ب:شہادت اور حلف میں فرق 243
ج:حلف لعان میں مساوات کیوں ؟ 244
عورت اور مرد، معزز ومحترم 247
عورت کے ترک خانہ کے مفاسد 249
ان مفاسد کی جڑکیاہے ؟ 251
عثمانی وپرویز کی ایک اور غلط روی 252
خبروشہادت کا فرق 252
علوی دورکی نظیر اوراس کی حقیقت 253
نظیردورفاروقی کی حقیقت 253
قتل عثمان اور شہادت نسواں 254
خواتین عہدنبوی اور حرب وقتال 258
مسئلہ شہادت نسواں کا خلاصہ 259
اعتراف حقیقت 260

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حقوق و فرائض فقہ

قیدیوں کے حقوق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

قیدیوں کے حقوق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

 

مصنف : مختلف اہل علم

 

صفحات: 726

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے جہاں  اعلی اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے۔ زیر تبصرہ کتاب” قیدیوں کے حقوق،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں “ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 9
باب اول تمہیدی امور
سوالنامہ 13
تجاویز 16
تلخیص 21
عرض مسئلہ 65
باب دوم :تعارف مسئلہ
قیدیوں کےحقوق ایک تعارف 97
قیدیوں کےساتھ برتاؤ کاعالمی معیار 133
عالمی قانون کےتحت قیدیوں  کےحقوق ایک جائز ہ 151
مسلمانوں کی کثیر تعداد جیلوں میں سچر کےاعدد وشمار 180
جیل خانہ میں مسلمانوں کو تناسب سےزیادہ نمائندگی 183
باب سوم :تفصیلی مقالات
اسلام میں قیدیوں کےحقوق 189
قیدیوں کےحقوق شرعی حل 214
قیدیوں کےحقوق اسلامی تناظرمیں 249
قیدیوں کےحقوق اسلامی نقطہ نظر میں 274
اسلامی شریعت میں قیدیوں کےحقوق 291
قیدیوں کےحقوق شریعت کی نظر میں 302
قیدیوں کےحقوق اوران کےمسائل 340
اسلام میں قیدیوں کےحقوق 365
قیدیو ں سےمتعلق مسائل اورحل 381
قیدیوں کےمسائل شرعی نقطہ نظر سے 397
قیدیوں کےحقوق شرعی نقطہ نظر 415
اسلامی شریعت میں  قیدیوں کےحقوق 442
قیدیوں کےحقوق اسلامی تناظر میں 453
قیدیوں کےحقوق سے متعلق  مسائل 468
قیدیوں کےحقوق 483
شریعت کی نظر میں  قیدیوں کےحقوق 496
اسلام میں قیدی کےحقوق 528
قیدیوں کےحقوق کےمسائل 512
اسلام میں  قیدیوں کےحقوق 540
قیدیوں کےحقوق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں 555
قیدیوں کے مسائل اورحقوق 569
قیدیوں کےحقوق 579
قیدیوں کےحقوق 592
باب چہارم :مختصر مقالات
قیدیوں کےحقوق کامسئلہ 603
قیدیوں کےحقوق 610
قیدیوں کےحقوق اسلام میں 616
قیدیوں کےحقوق 622
قیدیوں کےحقوق شریعت میں 628
قیدی کےحقوق 632
مشروعیت حبس 640
قیدیوں کےحقوق ارواحکام 653
قیدیوں کےحقوق شرعی تناظر میں 660
قیدیوں کےحقوق مسائل اور حل 648
 قیدی کےحقوق 670
قید  ی کےحقوق 674
قیدیوں کےحقوق کا شرعی  پہلو 680
قیدیوں کےحقوق 689
باب پنجم :تحریر ی آراء
قیدیوں کےحقوق شرعی نقطہ نظر 695
قیدیوں کےحقوق شرعی پہلو 698
قیدیوں کےحقوق اسلامی نقطہ نظر 701
قیدیوں کےحقوق اورشرعی احکام 704
جوابات بات  قیدیوں کےحقوق 707
جواب بابت  قیدیوں کےحقوق 709
باب ششم ،مناقشہ 713

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حقوق و فرائض قرض

پڑوسیوں کے حقوق

پڑوسیوں کے حقوق

 

مصنف : محمد تقی عثمانی

 

صفحات: 30

 

انسانی حقو ق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام و قار اور مساوات پر مبنی ہے ۔قرآن حکیم کی روسے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔قرآن کریم میں شرف ِانسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سیدنا آدم ﷤ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل آدم کو تمام مخلوق پر فضلیت عطاکی گئی ۔اسلامی  تعلیمات میں حقوق العباد کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔ کتاب وسنت  میں تمام حقوق العباد(حقوق والدین ،حقوق اولاد،حقوق زوجین، حقوق الجار وغیرہ)    کے تفصیلی احکامات موجو د ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ’’ پڑوسیوں کے حقوق‘‘معروف عالم دین  جسٹس مولانا مفتی محمدتقی عثمانی ﷾ کے ایک خطبہ کی کتابی صورت ہے ۔ مولانا محمد کفیل خان صاحب نے اسے مرتب کر کے افادۂ عام کے لیے شائع کیا ہے ۔اس کتابچہ میں آسان فہم اسلوب میں  پڑوسی کا مقام ،پڑوسی کی اقسام ،پڑوسی کےحقوق وغیرہ کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
پڑوسی کا مقام 6
پڑوسی کی اقسام 8
پہلی قسم 8
دوسری قسم 8
تیسری قسم 9
قریبی پڑوسی 9
ایک اور معنی 10
حدیث میں پڑوسی کی اقسام 10
غیر مسلم پڑوسی کا حق 11
پڑوسی کے حقوق 11
پڑوسی کا پہلا حق 11
صرف زکوۃ مال کاحق نہیں 12
حق ماعون 12
قابل غور بات 13
پڑوسی کا دوسرا حق 14
آج کل قرض دینے والا یوں کرے 15
پڑوسی کا تیسرا حق 15
مبارک باد رسماً نہ  دیں 16
ایک عہد کریں 16
پڑوسی کا چوتھا حق 17
تعزیت کا غلط طریقہ 17
تعزیت کا صحیح طریقہ 18
پڑوسی کا پانچواں حق 18
عیادت کا صحیح طریقہ 19
حضرت عبد اللہ بن مبارک کا دلچسپ واقعہ 20
پڑوسی کا چھٹا حق 21
حاصل کلام 21
حضرت ابو حمزہ سکری کا واقعہ 22
مفتی اعظم دیوبند کا پڑوسیوں سے حسن سلوک 23
پڑوسی صرف ہم مرتبہ نہیں 24
غریب کو حقیر نہ جانو 25
سرکار دوعالم ﷺاور ایک غریب کی دلداری 25
پڑوسی کی تیسری قسم 27
کتنا آسان کام ؟ 27
ایک اہم مسئلہ 28
ذرا غور کریں 28
گندگی اور بدبو سے مسلمان کی حق تلفی 29
ایسے شخص پر جماعت معاف ہے 29

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حدود و تعزیرات سیرت النبی ﷺ معاملات

پیغمبر امن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ

پیغمبر امن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ

 

مصنف : ڈاکٹر حمید اللہ عبد القادر

 

صفحات: 126

 

اسلام کامادہ سلم ہے جس کے ایک معنی امن و عافیت کے ہیں۔ دین اسلام صرف نام کے اعتبار سے ہی امن کی علامت نہیں بلکہ اس کی تعلیمات بھی امن کی دولت سے بھرپور ہیں۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی بھی امن و سلامتی کی بولتی تصویر نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایک علمی مقام کے حامل ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں انھوں نے بہت سے دلائل و امثلہ کے ذریعے حضرت محمد ﷺ کو امن کے سب سے بڑے پیغمبر ثابت کیا ہے۔ مختصر سی کتاب میں انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حدود و تعزیرات کو امن کی سب سے بڑی ضمانت قرار دیا۔ ڈاکٹر موصوف نے دہشت گردی کا مفہوم واضح کرتے ہوئے اس کے اسباب اور تدارک کے لیے چند تجاویز بھی دی ہیں۔ کتاب کے آخر میں انھوں نے قتال سے متعلق اسلام کی ہدایات کا تذکرہ کرتے ہوئے معاشی مساوات و عدل پر روشنی ڈالی ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
امن کے معنی ومفہوم 7
مختلف ادیان میں تصور امن 9
بعثت سے قبل دنیا کے حالات 12
سیرت پاک قبل بعثت 17
اسلام تمام انسانوں کے لیے دین امن وسلامتی ہے 21
توحید کا صاف او رواضح عقیدہ 37
عورت کی حیثیت عرفی کی بحالی 39
حدود اور تعزیری قوانین کا نفاذ 42
عصر حاضر کا شر 55
دہشت گردی 59
ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال 69
مقاصد جہاد 77
کیا جہاد دہشت گردی ہے؟ 81
وحشیانہ افعال کے خلاف عام ہدایت 86
مقام انسان کا تعین 98
مذہب ومسلک کی آزادی 100
ریاست کے معاملات پر شرک کاحق 103
حوالہ جات 112
مصادر ومراجع 121

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز