تنگی کے بعد آسانی

تنگی کے بعد آسانی

 

مصنف : ابن ابی الدنیا

 

صفحات: 107

 

دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مصائب اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری کا مالک ومختار صر ف کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی مصیبتوں میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے۔ زیر کتاب’’تنگی کے آسانی ‘‘امام ابن ابی الدنیا کی کتاب الفرج بعد الشدۃ کا ہے ۔امام موصوف نے اس کتاب میں ان خوش نصیب لوگوں اور وصلحاء کا تذکرہ کیا ہے ۔ جنہوں نے مصیبتیں پہنچنے پر صبر وثبات اور عزم واستقلال کامظاہرہ کیا اور کمال جرأت اور حوصلے کے ساتھ پوری قوت واستقامت سےدین قویم کی سیدھی راہ پر گامزن ر ہے اور بے مثال صبر کانمونہ پیش کیا ۔ محترم جناب ابو زلفہ محمد آصف نسیم صاحب نے قارئین کےلیے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ محقق 7
میری ادنی کاوش 18
مؤلف موصوف کاتعارف 19
تنگی کےبعد آسانی 24
آسانی کاانتظار کرنا عبادت ہے 26
صبرسےبڑھ کر بہتر بات کوئی نہیں 26
جوتقوی اختیار کرےاسےہرتنگی سےنجات ملےگی 27
تکلیفوں کودورکرنارب تعالی کی ایک شان ہے 27
رب تعالیٰ کےاحکام کی  حفاظت کیجئے رب تعالی آپ کی حفاظت کرےگا 28
نفع ونقصان دہی ہےجوتقدیر میں لکھاہے 29
استغفار کی کثرت ہرتنگی سےنجات دیتی ہے 29
رب کاتقوی بندے کوکافی ہے 30
جومانگنا ہےرب  سے مانگ 31
لاحول ولاقوۃ الاباللہ 99بیماریوں کادواہے 32
تکلیف کی گھڑیاں گناہوں کودورکرتی ہیں 32
ہرحال میں کاشکر ہے 32
نےناگواریوں میں  خیر رکھی ہے 33
زمین وآسمان کی ہرمصیبت پہلے ہی سےتقدیر میں لکھی ہے 33
بےقراریوں میں کوپکارنا مصیبتو ں کوٹالتاہے 34
لاحولولاقوۃ الاباللہ دشمنوں کوشکست سےدوچارکرتاہے 35
غموں کوخاطر میں نہ لائیے 35
دعاکی کثرت باعث برکت ہے 36
ناگواریاں رب کی یاددلاتی ہیں 36
اپنے محبوب بندوں کوہی آزماتاہے 37
آزمائشوں میں اورعافیت میں شکر کیجئے 37
پر اضی رہنے سےدل کابوجھ ہلکا ہوجاتاہے 38
مصیبت لوگوں سےبیان کرنےسے نہیں بلکہ رب سےبیان کرنےسےختم ہوتی ہے 38
جورب کاہوگیا وہ اسے ہرغم میں کافی ہوجائے گا 39
رب تعالیٰ سےہروقت مانگتے ہی رہیے 39
ہرکمالے رازوالے 40
راحت اورتکلیف کاساتھ ٹوٹ ہے 40
تنگی آسانی پر نہیں آسکتی 41
اندھیری تہوں میں بھی پکارااللہ ہی سنتاہے 41
دعائے یونس ﷤بلائیں ٹالتی ہے 43
قارون کاعجیب قصہ 44
انوکھی جگہ پر کی عبادت 44
سمندر کی تہوں میں رب کوسجدہ 45
تین اندھیروں میں رب کی پاکی بیان کرنا 45
داستان غم یوسف﷤ 46
زندان میں بھی شورش نہ گئی اپنےجنوںکو 47
دعاکرب ختم کرتی ہے 48
یعقوب ﷤ کی افسردگی وفریاد 49
دنیا دارالبلاء ہے 49
ہی فریاد سنتاہے 50
میراکوئی نہیں ہےتیرے سوا 50
منت وزاری کی کی جائے 51
غموں کےپہاڑ ہوں توکیاکیجیے 51
کلمات نجات 53
مصیبت زدہ کی 53
پریشانیوں میں کو کیسے پکاریں؟ 55
بےقراری کےساتھ دعاکی برکت سےغیبی مددکانظارہ 57
جوشخص کہ جس چیز کےقابل آیا 58
ہرمصیبت میں اس رب کو یاد کیجئے 59
قیدوبند کی صعوبتوں پرصبر 59
بترس ازآہ مظلوماں 61
میں رب کی رضاپر راضی ہوں 62
وہ ہرایک کی فریاد سنتاہے 63
اس دمادر امید کی نیست 64
میرابھروسہ زمین وآسمان کےبادشاہ پرہے 66
نہ تھا کچھ توخدا تھا 67
یاللہ توہی ہے 67
رب عرش عظیم سب تعریفیں تیری ہی  ہیں 68
آہ سحرگاہی 69
توہی ہے 70
اے میری مصیبتیں دورکر 71
توہی میراسہارہے 72
تیری رحمت کاکنارانہیں 72
مارنے والے  سےبچانے والابڑا ہے 75
ہرمصیبت میں ہی ہے 76
ہرحال میں کویاد کیجیے 77
اےتنگیوں کودسعتوں میں بدلنے والے 77
ہی امیدوں کاسہاراہے 78
وہ ہمیں نہیں بھولتا 80
کوکثرت سےیاد کرو 82
دنیا کا غم کم کیجئے 82
غم زیادہ دیرنہیں رہتے 83
آج بھی وارث ہےکل بھی 85
مایوس نہ ہوئیے 86
اسکے کھیل نرالے 87
ہرسہولت کی چابی صبر ہے 87
جب کوئی راستہ نظرنہ آئے تواللہ ہے 88
اندھیری تہوں میں سب کی سننے والا ہے 90
کہیں گیا تونہیں 92
ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے 93
آخراندھیرے چھٹ جائیں گے 93
جیسارکروگے ویسابھرو گے 94
مصیبت زیادہ دیرتک نہ رہے گی 94
مشکلے نیست کہ آسان نہ شو 96
جیسے رکھے اسے کون چکھے 96
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں 97
اے تومعاف کر 100
نہ غم رہےگا یاخوشی 102
دعااورصرف 102
خداتھوڑے پر آسودہ کردےگا 103
آسانی جلد آئےگی 103
صبر سےبڑھ کرکوئی ہتھیار نہیں 104

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...