تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کے اسباب

تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کے اسباب

 

مصنف :

 

صفحات: 89

 

تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، ترسی کی طاقت کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ کی ہر کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ زیر کتاب ’’تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کےاسباب ‘‘ کےدو مختلف رسالوں کااردو ہے پہلا رسالہ ’’من ثمرات التقویٰ شیخ صالح العثمین کا ہے۔ اس میں انہوں نےپہلے تقویٰ کی اہمیت بیان کی تقویٰ، کےمتعلق صالحین کی وصیتوں کا تذکرہ کیا اور علمائے سلف کے کی روشنی میں تقویٰ کامفہوم واضح کیا ہے۔ اس کےبعد انہوں نےزیادہ ترقرآنی کی روشنی میں تقویٰ کے معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی دنیا وی اوراخروی چھیالیس ثمرات ذکر کیے ہیں۔اس کتاب کا دوسرا حصہ شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی﷫ کے تحریر کردہ رسالہ ’’ الوسائل المفیدہ للحیاۃ السعیدۃ‘‘ کاترجمہ ہے۔ ا تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی کاذریعہ بنائے اور ہمیں تقوی ٰ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 13
ایک جائز ہ
چند مثالیں 18
ایک عملی ضرورت 22
عورت کابارہ میں تو ہمات 23
تجرد کامعاملہ 26
فطرت کانظام 29
توازن 31
انحراف کانقصان 32
مرداورعورت کافرق 37
بنیادی فرق 40
عورت کے بے بسی 43
ایڈز کی لعنت 48
عورت میں 54
عورت کادرجہ میں 55
عورت جدید تہذیب میں 57
غیر فطری 58
عریانیت کےنتائج 63
بےقیدی کےنتائج 61
کم سن مجرمین 64
مغربی عورت 67
فطرت کافیصلہ 67
فطرت سےجنگ 89
چند مثالیں 91
نہ کرناغلطی 91
اچھی بنو 93
ناکامی کااعتراف 94
صرف پیدا ہوئے 94
لذتیت کاانجام 96
خود کشی کرلی 97
مجھ سے دور رہو 98
شہرت بوجھ بن گئی 99
میدان عمل سےمحرومی 100
جاپان کی مثال 102
تہذیب جدید کے نتائج 103
الٹی طرف 105
مایوسی کاشکار 108
دردناک انجام 110
مصنوعی 113
مناکحت نہ کہ مسافحت 114
غیر فطری کانتیجہ 117
جدید عورت کامظلومی 120
ایک 122
پاکبازی کی اہمیت 123
مصنوعی اولاد کامسئلہ 124
غلطی کااعتراف 126
مغربی شادیوں کاانجام 127
آبادی کامسئلہ 129
سرپرستی سے محروم 129
خاتون سنگر کی کےبعد 131
فطرت سے دور ہوکر 132
بے قیدی کاتجریہ 135
خاتون لیڈر کااعتراف 135
دومثالیں 139
ناقابل اعتماد کردار 141
ایک مثال 141
اجرتی ولادت 144
ترقی کے بجائے تنزل 145
وحدیث
149
مومنہ کی صفات 155
تقسیم کارکااصول 156
156
کی مثال 159
عورت کااحترام 162
164
جدید تحقیقات 166
چیف جسٹس   کاریمارک 168
خلاصہ 169
وکتابت 170
عورت کادرجہ 173
عہد زندگی 174
عورت ہر حال میں خیر ہے 174
عورت مردسے زیادہ قابل احترام ہے 175
اظہار خیال کی ذمہ داری 175
گھر سنبھالنا کم تردرجہ کاکام نہیں 176
کی تعمیر میں عورت کی اہمیت 177
عورت کی حاکمیت 178
عورت کی گواہی 180
اضافی خصوصیت نہ کہ فضیلت 181
نادانی کاکلمہ 183
185
دوخواتین 186
بہترین رفیقہ 188
کامل 190
اورخاتون 193
حوصلہ 194
جنت کےلیے صبر 194
میدان عمل میں 195
عورت کامقام 197
عورت ہر میدان میں 197
خداکی مدد 199
گھر کےباہر 202
عورت کامقام 202
تجربہ کی میں 204
زوجین کےحقوق
شریک 213
فطرت 213
عورت کےمقابلہ میں مرد کی حیثیت 214
مہر 214
نفقہ 215
حسن سلوک 216
عورت کی ذمہ داریاں 217
اطاعت 217
راز کی حفاظت 218
گھر کاانتظام 219
بہترین عورت 220
ظاہر سےزیادہ باطن کودیکھنا 221
متوازن 222
ووطلاق 225
کاحکم 226
کی دوصورتیں 226
ایک واقعہ 229
متاع کامطلب 229
مزاج 230
کےبعد 231
تہذیب جدید کامسئلہ 233
کاتجربہ 236
جہیز کےبارہ میں 236
فاطمہ کاجہیز 237
چند ضروری سامان 238
اصل عطیہ 239
رسول نہیں 240
مہر کامسئلہ 242
مہر معجل 243
غیر موجل 244
فقہاء کی رائے 245
زیادہ مہر نہیں 246
غیر افضل طریقہ 248
کی 249
غلط رواج 250
کاحکم 252
اضافہ مترجم 259
تجرباتی تصدیق 261
کامیاب ازدواجی زندگی 263
دومثالیں 364
یقینی 366
غیر مشترک نظام 268
ذہنی 269
تعداز ازواج 272
تعداد کی نابرابری 273
عورت کی رضا مندی 275
کاحل نہ کہ حکم 277
غیر قانونی تعداد ازواج 278
طریقہ 279
خلاصہ کلام 280
حرف آخر 282
ساز کارنامہ 284
اصل باشعور بنانا 285
معیار کی غلطی 287
عورت کی رضامندی 288

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...