تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس)

مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس)

 

مصنف : محفوظ الرحمن فیضی

 

صفحات: 88

 

دینی کے طلباء، اساتذہ ،علمائے کرام، عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی دینِ کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو نازل ہوئی وہ سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔ صبح و شام کے اوقات میں کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور مجید کی حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد میں جب ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے تعمیر کی جو کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی و بیرونی کرام﷢ کو مجید اور کی دیتے تھے۔ یہ کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ ایسے اور حلقات ِ سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام، ترویج دین اور اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی   دارالحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور،جامعہ اہل حدیث، لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر کتاب ’’ مرکز دار العلوم ‘‘ جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام، احوال پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو شیخ محفوظ الرحمٰن فیضی﷾ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں آل انڈیا کانفرنس کی مرکزی دار العلوم کے قیام کی تجویز اورتعمیر کے درج ہیں۔ دوسرے حصہ 1963ء میں مرکزی دارالعلوم کے سنگ بنیاد وتاسیس کی پر مسرت کی مختصر روداد اور تیسرا حصہ مارچ 1066ءمیں مرکزی دار العلوم کے تعلیمی افتتاح کی پروقار تقریب کی مختصر تفصیل پر مشتمل ہے۔ تعالیٰ عالم کی ان درس گاہوں کوقائم دائم رکھے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
فروری 19027: آل انڈیا کانفرینس کے مؤ کے اجلاس عام میں مرکزی دار العلوم، بنارس کی قرارداد 12
نومبر 1958: مولانا عبد الوہاب آروی رحمۃ کی ایک اہم تحریر بابت قیام مرکزی دار العلوم 14
مدرسہ فیض عام (مؤ) مرکزی مدرسہ (حاشیہ) 17
فہرست نامکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...