تاریخ فلاسفۃ الاسلام

فلاسفۃ الاسلام

 

مصنف :

 

صفحات: 320

 

لفظ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی سے نکلا ہے۔ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے۔ پس کی ہر شئی اس میں داخل ہے۔ لیکن وجودِ عام سے بحث کرتا ہے۔ کسی بھی شئ کے متعلق اٹھنے والے بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے۔ اب اگر وہ ہو تو دین، اگر ہو توفلسفہ تاریخ، اگر اخلاق ہو تو اخلاق، اگر وجود ہوتو فلسفہ وجود کہا جاتا ہے۔دین میں، دو الفاظ بعض اوقات فلسفے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، پہلا اور اس کے ساتھ منطق، ریاضی اور طبیعیات جبکہ دوسرے سے مراد علم الکلام ہے جو ارسطویت اور نو افلاطونیت کی تشریحات پر مبنی فلسفہ ہے۔ بھی زندگی کے ساتھ منسلک کی منظم تحقیقات کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کائنات، اور تہذیب وغیرہ کا عالم میں پیش کیا گیا۔ کے متعلق متعدد کتب موجود ہیں جن میں غزالی اور کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیر کتاب ’’ فلاسفۃ الاسلام ‘‘ کی کتاب کا ہے جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کے پرو فیسر سے اسے قالب میں ڈھالا ہے ۔اس کتاب میں مشہور فلاسفہ کندی ، فارابی ، ابوعلی سینا ، امام غزالی ، ابن ماجہ ، ابن طفیل ، ابن رشد ، ابن خلدون ، اخوان الصفا ، ابن اور ابن مسکویہ کے حالات وافکار وخیالات کی پوری تشریح وتوضیح موجود ہے ۔ فاضل مترجم نے بڑی محنت سے کا پورا ادا کیا ہے ۔قصہ کہانیوں کا ترجمہ کرنا یا کی کتاب کو کسی دوسری میں منتقل کردینا نسبتاً آسان کام ہوتا ہے لیکن یہ بڑا مشکل کام ہے کہ کسی فنی کتاب کا صحیح اور مکمل ترجمہ کیا جائے ۔

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...