تاریخ و آثار دہلی

و آثار

 

مصنف : ڈاکٹر معین الدین عقیل

 

صفحات: 60

 

کا قومی دار الحکومتی علاقہ ہےجسے مقامی طور پر دِلّی بھی  کہا جاتا ہے، یہ تین اطراف سے ہریانہ سے گھرا ہوا ہے جبکہ اس کے مشرق میں اتر پردیش واقع ہے۔ دہلی ممبئی کے بعد بھارت کا دوسرا اور دنیا کا تیسرا  سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ اور ممبئی کے بعد بھارت کا دوسرا ترین شہر ہے۔دریائے جمنا کے کنارے یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح سے آباد ہے۔ میں یہ کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے جو کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ کیا گیا اور پھر بسایا گیا۔ دہلی کا اہم ثقافتی، سیاسی ،تمدنی و تجارتی مرکز بھی ہے۔شہر میں عہد قدیم اور قرون وسطیٰ کی بے شمار یادگاریں اور آثار قدیمہ موجود ہیں۔ سلطنت دہلی کے زمانے کا قطب مینار اور قوت اسلام میں طرز تعمیر کی شان و شوکت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ عہد مغلیہ میں نے دار الحکومت آگرہ سے منتقل کیا، 1920ء کی دہائی میں قدیم شہر کے جنوب میں ایک نیا شہر’نئی دہلی‘بسایا گیا۔1947ء میں آزادئ ہند کے بعد نئی دہلی کو کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔ زیر کتاب’’ وآثار ِدہلی‘‘اردو کے نامور نقاد محقق وادیب پروفیسرڈاکٹر معین الدین عقیل  کی مرتب شدہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے سب سے پہلے مقدمہ کا عنوان قائم کیا ہے، پھر’ذکر امورات ِ عام ضلع ‘ہے۔ مذکورہ دو عنوانات کے بعد فصل اول میں ’ حال شہرِ دہلی‘اور فصلِ دوم میں عمارات ِ شہر، جن میں ’ قلعے‘، ’ احوالِ مساجد‘، ’ احوالِ مقابر‘، ’ سرائے، دروازے‘، ’’بند‘، ’ حال پلوں کا‘، ’ ذکر تالابوں کا‘، ’ ذکر درگاہوں کا‘اور’‘شامل ہیں، کی بھرپور تفصیل فراہم کی ہے۔ جب کہ فصلِ سوم میں ’ ذکر پر گنات سابق وحال کا مع تشریح الفاظ واصطلاحاتِ دفاتر سابقہ زماں‘اور’’فہرستِ اسناد وحواشی‘شامل کی ہیں۔یہ ڈاکٹرسید معین الدین عقیل کا ایک  توضیحی کام ہے جسے انہوں نے انتہائی ایمان داری سے حوالہ جات کے ساتھ رقم کیا ہے۔اس کتاب کےمقدمے  میں مصنف نے نہایت باریک بینی سے ’ وآثارِ‘میں شہر کا تاریخی پسِ منظر اور اس سلسلے میں احاطۂ تحریر میں لائی جانے والی حوالہ جاتی کتب کا ذکر بھی کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 11
ذکر عمورات عام ضلع 19
حال شہر 21
عمارات شہر 27
قلعے 27
قلعہ معلیٰ 27
قلعہ رائے پتھورا 27
قلعہ مرزغن 27
قلعہ کیلوگھری 28
قلعہ علائی 28
قلعہ تغلق آباد 28
قلعہ فیروزآباد 28
قلعہ خضرآباد 28
قلعہ مبارک آباد 28
قلعی سلیم گڑھ 29
قلعہ نرانیہ 29
سفید 29
کوشک لعل 29
ہزارستون 30
شیرمنڈل 30
بجی منڈل 30
کوٹلہ فیروزشاہ 30
لاٹھ فیروزشاہ 30
لاٹھ قطب 31
لاٹھ سکنہ 32
لاہی کی لاٹھ 32
احوال مساجد نامی 32
گھرکی 32
مولانا جمالی 33
درگاہ نظام الدین 33
قلعہ 33
جامع 33
اکبرآبادی 33
فتح پوری 33
زینت المساجد 34
عالی 34
موتی 34
مسجداونگ آبادی 34
روشن الدولہ 34
شرف الدولہ 34
سنہری 34
غازی الدین خان 34
احوال مقابر معروف 35
مقبرہ شمس الدین التمش 35
مقبرہ غیاث الدین بلبن 35
مقبرہ سلطان بہلول لودھی 35
مقبرہ فیروزشاہ 35
مقبرہ بادشاہ 35
مقبرہ صفدر جنگ 35
مجاذی مقبرہ 35
مقبرہ خان خاناں 36
مقبرہ نائی 36
مقبرہ امام ضامن 36
چشمہ کہنہ 36
لعل بنگلہ 36
نیلی چھتری 36
سرائے ، دروازے 36
سرائے 36
لال دروازہ 37
کابلی دروازہ 37
حوض شمسی 37
تال کٹوڑہ 37
ہرن منارہ 37
بند 38
ہشت بند 38
بند فیروزشاہی 38
بولی بھٹیاری کا محل 39
نائی کا محل 40
حال پلوں کا 40
پل تغلق آباد 40
باراں پلہ 40
پل سلیم گڑھ 40
ایک پل 41
جنتر منتر 42
لال دگی 42
جیل خانہ 42
ترپولیہ محل دار خاں 42
سرائے 42
سرائے بسنت 42
سرائے نگر 43
سرائے سوبل 43
سرائے بدرپور 43
سرائے خواجہ 43
سرائے گزنی خان 43
سرائے مہتاب خان 43
سرائے جل 43
سرائے لاہوری دروزاہ 44
سرائے بیکس 44
سرائے صابر بخش 44
سرائے خان 44
سرائے سیتا رام 44
سرائے باولی 44
سرائے مہرپرور 44
سرائے معمور 44
ذکر تالابوں کا 45
ذکر درگاہوں مشہور کا 45
قدم شریف 45
درگاہ شاہ مرادان 46
درگاہ قطب میاں 46
درگاہ نظام الدین 46
درگاہ روشن چراغ 47
درگاہ 47
درگاہ سلطان غازی 47
درگاہ مولانا جمالی 47
درگاہ امام ضامن 47
درگاہ سبزواری 47
درگاہ شیخ محمد صاحب 48
درگاہ مخدوم شاہ 48
درگاہ شاہ ترکھان 48
درگاہ سید حسن رسول نما 48
درگاہ سید خاموش 48
49
کالکاجی 49
چوک بابا جی 49
بیبرون 49
مورت دیوی 49
شوالہ مہادیو 49
ذکر پرگنات سابق وحال کا مع تشریح الفاظ و اصطلاحات دفاتر سابقہ زماں 51
فہرست اسناد و حواشی 54

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...