ترجمان الخطیب

ترجمان الخطیب

 

مصنف : عبد المنان راسخ

 

صفحات: 496

 

خطابت تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں بپا کردیتے ہیں ۔ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ کےلیے زادِراہ ، مواد اور منہج صالحین کےمطابق کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن تعاون ہے ۔اس لیے نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی   ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں کے مجموعہ جات میں خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب) وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے۔ زیر کتاب ’’ترجمان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے جوکہ خطبا اورواعظین کےلیے چودہ وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے۔ خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے۔ مولانا راسخ صاحب تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ اور عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے وعمل اور زور قلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)۔م۔ا) خطبات و

 

عناوین صفحہ نمبر
دعائے خیر 28
گزارشات راسخ 29
خیر خواہی کا پانچواں سبق 36
خطبہ مسنونہ 62
نمبر1
روحانیت کا خزانہ
تمہیدی گزارشات 65
اتباع رسول 69
ایمان کی نشانی 71
فرشتوں کا ساتھ 72
محبت الہٰی کا حصول 74
دعاؤں کی قبولیت 75
نیکیوں کا ملنا 76
گناہوں کی بخشش 77
درجات کی بلندی 78
مومن کا زیور اور نور 80
جنت کے دروازوں کا کھلنا 81
کی اور اس کا 82
ہاتھ کودھوتے وقت 83
چہرہ دھوتے وقت 84
سر کامسح کرتے ہوئے 84
دونوں پاؤں دھوتے ہوئے 85
نمبر2
ذکر اور اس کے 8
تمہیدی گزارشات 89
ذکر سےمحبت رسول ﷺ کی ایک جھلک 90
کے بعد ذکر 91
طواف کےبعد ذکر 92
اس ذکر سےمحبت کی وجہ 93
ذکر کا پہلا فائدہ 94
ذکر کا دوسرا فائدہ 96
سےثابت ہونےوالی باتیں 96
ذکر کا تیسرا فائدہ 98
ایک مفید 99
’’ذکر توحید‘‘ کاچوتھا فائدہ 101
گنہگاروں کا فائدہ ہونے دیں 102
’’ذکر توحید‘‘ کا پانچواں فائدہ 102
ذکر کا چھٹا فائدہ 105
ذکر کا ساتواں فائدہ 107
ذکر کا آٹھواں فائدہ 108
دنیا وآخرت کےسب خزانے اسی میں ہیں 109
’’ذکر توحید‘‘ کا معنی و مفہوم 111
لاشریک لہ کی وضاحت 112
لہ الملک کی تشریح 113
ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر کامطلب 115
ضروری وضاحت 115
نمبر3
آیۃ الکرسی کا مقام ومرتبہ
تمہیدی گزارشات 119
آیۃ الکرسی کی اہمیت 120
آیت الکرسی کےموضوع پر لکھی جانے والی کتب 121
پاک کی سب سے اعلیٰ 122
ابی بن کعب ﷜ کا مختصر تعارف 123
سےحاصل ہونےوالے عملی نکات 125
آیۃ الکرسی پڑھنے کا اجر و ثواب 126
آیۃ الکرسی کے ہونٹ اور 127
حجر اسود کی اور اس کے ہونٹ 128
فرشتہ جائےگا نہیں شیطان آئے گا نہیں 129
امام ابن تیمیہ ﷫ کا آیۃ الکرسی سے علاج 135
ایک والے کی آیۃ الکرسی سے عقیدت 136
اسم اعظم بھی آیۃ الکرسی میں ہے 137
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫کے 138
آ یۃ الکرسی سے بغیر حساب کے جنت 139
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کا معمول 140
آیۃ الکرسی کا معنی و مفہوم 141
لفظ ’’اللہ ‘‘ کی 143
اسم ’’حی ‘‘ کا مفہوم 145
اسم ’’قیوم ‘‘ کا معنی 147
تاتاخذہ سنۃ ولانوم کی 149
’’کرسی ‘‘ کیا ہے ؟ 152
ایک وتحقیقی حاشیہ 153
آیۃ الکرسی کےمتعلق اک خواہش اور 154
کئی ا للہ والوں کا آیۃ الکرسی پڑھتے ہوئے فوت ہونا 155
نمبر4
پہلے پڑھائی ،فیردوائی
تمہیدی گزارشات 159
دوا 160
160
شفا ہی شفا ہے 164
ایک اور ایمان افروز واقعہ 166
ہذا اسم اشارہ غیرہ موجودکے لیے بھی 167
آیۃ الکرسی شفاہی شفا ہے 168
سورۃ بقرہ کی آخری دوآیات شفاہی شفا ہیں 169
آخری تینوں قل شفاہی شفا ہیں 170
مہلک امراض سے بچاؤ کے لیے 172
ایک ایمان افروز 173
دعائے یونس ﷤ کی فضیلت 174
کانوں اور آنکھوں کی سلامتی کے لیے 177
ظالم اور حاسد سے بچنے کے لیے 178
ہرقسم کے درد کے لیے 179
ہر قسم کی تھکاوٹ کے لیے 180
مریض کی عیادت کو جانے کے لیے 183
ایمان افروز 184
سارے خطبے کا خلاصہ 185
نمبر5
دنیائےکائنات میں مقام مصطفیٰﷺ
تمہیدی گزارشات 189
انتخاب سب سے اعلیٰ خاندان سے 190
مختصر خاندانی پس منظر 192
دومرتبہ خصوصی اعزاز 193
پوری کےرسول 195
و باطل کا معیار، آپ کی شخصیت 198
ایک متعصب بدعتی کی ہٹ دھرمی 203
آپﷺ کی اطاعت و اتباع فرض 199
آپﷺ کا ذکر سب سے بلند 204
آپﷺ پردرودو سلام 206
ساتوں آسمانوں کی سیر 208
تین اہم باتیں 211
آپﷺ کےسر پر کاتاج 213
نمبر6
روز او رمقام مصطفیٰ ﷺ
تمہیدی گزارشات 217
سب سے پہلے آپﷺ کی قبر کھولی جائے گی 218
آپﷺ پوری انسانیت کے سردار ہوں گے 219
کا جھنڈا بھی آپﷺ کےہاتھ 221
سل تعطیٰ اور عقیدے کا 227
مقام محمود عطا کیا جائے گا 229
سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے 232
دعائے وسیلہ 235
نمبر7
جو پسند تھا میرے حضورﷺ کو
تمہیدی گزارشات 239
تنہائی کی عبادت 243
244
جہاں کا وقت ہو فوراً سے ادا کرنا 246
عشاء کی کو تاخیر سے پڑھنا 247
فجر کی دوسنتیں 249
دوسروں سے سننا 250
والدین کو ایک نصیحت 252
روزے کی حالت میں نیک اعمال پیش ہونا 255
عورت پر رحم و کرم 257
خوشبو 259
قمیص 261
کھانے پینے میں آپﷺ کی پسند 262
دستی کا گوشت 262
کدو شریف 265
کدو کے فوائد 267
مکھن کھجور 267
ابن قیم ﷭کی 269
سادہ ٹھنڈا پانی 269
نصیحت آموز 270
ہر اچھے کام میں پسند 271
نمبر8
جو پسند نہ تھا میرے حضورﷺ کو
تمہیدی گزارشات 277
حضرت جابر بن سلیم کا ایمان افروز عزم 278
حضرت بن عمر ؓ کی ایمان افروز حالت 279
حضرت ابو ایوب ﷜کی ایمان افروز جواب 280
زیادہ مال زیادہ وقت اپنے پاس رکھنا 281
مرد کےلیے سونے کی انگوٹھی 286
مرد کے لیے ریشمی 287
غیر ضروری سوالات 289
کی کتابوں میں بعض فضولیات 290
کسی کو منحوس سمجھنا 291
منہ سے بدبو آنا 293
شیخ القرآن کا عقلی جواب 294
کی طرف تھوکنا 295
کسی کی آمد پر کھڑا ہونا 296
خوشا مد پسند قائدین کا انجام 298
کھانے کےدرمیان سے اٹھانا 298
بالکل پیچھےچلنا 299
عشاء کے بعد باتیں کرنا 300
اکثر روحانی و جسمانی بیماریوں کا علاج 301
نمبر9
مروجہ جشن النبی
تمہیدی گزارشات 305
اہل کی عقیدت پر تین 306
مروجہ جشن عیدمیلاد النبی ﷺ 307
جشن النبی ﷺ کیا ہے ؟ 310
مشہور و معروف علمائے بریلویہ کے 311
علمائے بریلویہ کے آپس میں اختلاف 317
حسنہ کیا ہے ؟ 318
حسنہ پر ﷢کا غضبناک ہونا 323
حضرت بن عمر﷜ اور حسنہ 326
اور حسنہ 327
حسنہ پربعض کا سرسری جائزہ 328
کا منانا 329
حسنہ کے رد پر بعض واضح قرآنی 335
حسنہ رسول ﷺ کےزمانے میں 339
کا مکمل ہے 342
ولادت با سعادت کی تو ہی متعین نہیں 346
جلوس میلاد کے متعلق اہل کی رائے 349
نمبر 10
بیمارِ کربلا ﷫او رہمارے
تمہیدی گزارشات 355
بیمار کر بلا کا بچپن اور جوانی 356
آپ کو بیمار کیوں کہا جاتا ہے ؟ 357
ماہ میں مروجہ بدعات 357
بیما کربلا ﷫کا ہمارے ہاں مقام ومرتبہ 358
بیمار ﷫کے القابات 360
آپ﷫ کی کنیت اور لقب 361
ایک اہم نصیحت 362
میں آپ کے اساتذہ اور شاگرد 363
بیمار کربلا﷫ کی 364
بیمار کربلا﷫ کا 366
بیمار کربلا﷫ کا زاد راہ 367
سجدے کی حالت میں ایمان افروز کلمات 369
بیمار کربلا﷫ کاخصوصی درد 370
بیمار کربلا﷫ کا صدقہ 371
ملکہ زبیدہ کاحاجیوں کے لیے نہر کھدوانا 372
بیمار کربلا﷫ کا اعلیٰ اخلاق 373
اعلیٰ اخلاق کا نادر نمونہ 375
سن کر لونڈی کو آزاد کر دینا 377
بیمار کربلا﷫ کی صحابہ ﷢سےمحبت 379
ابو بکر و عمر ﷢سے محبت 380
حضرت امام زہری﷫ کا فرمان 382
بیمار کربلا ﷫ کا سفر 384
غسل دیتے ہوئے ایک راز کا ہونا 385
نمبر11
نہیں تو کچھ بھی نہیں
تمہیدی گزارشات 390
بےحیاکون ہے 392
بےحیا مشرک ہے 394
بے حرا م کا مرتکب ہے 396
بےحیا مومن نہیں 397
بےحیا ہرگناہ کرتا ہے 399
بے محبت الہٰی سے محروم ہے 402
بے کی بری ہوگی 405
بےحیا کے لیے سخت عذاب ہے 407
بے حیائی کے اسباب 408
موبائل 409
ٹی وی فیشن 410
میں تاخیر 411
بے حیائی کی روک تھام 413
نگاہ کو نیچا رکھیں 414
کا سیکھنا 415
نمبر12
باصلاحیت لوگوں کے نام ایک پیغام
تمہیدی گزارشات 419

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...