تصحیح العقائد

تصحیح العقائد

 

مصنف :

 

صفحات: 450

 

کے رسول ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آپ کی اطاعت کے بغیر ہمارے ایمان ناقص ہے۔ پس آپ کی ذات سے محبت اورآپ کی اطاعت میں مطلوب ومقصود ہے۔محبت میںغلو آ ہی جاتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سابقہ اقوام نے بھی اپنے انبیاءکی محبت میںغلو کرتے ہوئے انہیں معاذ اللہ ، کا بیٹا بنا لیا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت عیسی ؑ کے بارے عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کو اپنی تعریف میں غلوکرنے سے منع فرمایا ہے۔ایک روایت کا مفہوم ہے کہ آپ نے تلقین کی کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسی ؑ کی تعریف میں مبالغہ کیا ہے۔آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یامدح وثنا میںاہل کا کوئی اختلاف نہیںہے بلکہ وہ اسے جزو ایمان قرار دیتے ہیں، اختلاف اس صورت میں ہے جب آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یا نعت گوئی میں آپ کو کی ذات یااسماء و صفات کا شریک قرار دیا جائے کہ جس کی تردید کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کھپا دی۔
مسلک کے فضلا کے رسول ﷺ کی مدح وثنا میں غلو کرتے ہوئے آپ کو ہر جگہ حاضر ناظر ثابت کرتے ہیں یا آپ کو ابتدائے سے قیام تک کی جزئیات و کلیات کا عالم الغیب ثابت کرتے ہیں۔ حضرات کے اس غلو کے جواب میں مولانا عبد الرؤوف رحمانی صاحب نے ایک رسالہ ’تردید حاضر وناظر‘ کے نا م سے لکھا ہے۔جس کا جواب ایک بریلوی فاضل نے ’الشاہد‘ کے نام سے دیا۔ اس ’الشاہد‘ کے جواب میں مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے ’تصحیح العقائد بابطال شواھد الشاھد‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ بریلوی فاضل کی طرف سے اس کتاب کا جواب ’الشاہد‘ کے جدید ایڈیشن کی صورت میں دیا گیا۔ مولانا رئیس ندوی ؒ نے بھی اس جدید ایڈیشن کا جواب ’تصحیح العقائد‘ کے جدید ایڈیشن کے ذریعے دیا اور اب یہ کتاب کے رسول ﷺ کے عالم الغیب ہونے، حاضر ناظر ہونے، اللہ کے نبی ﷺ کے سایہ کے ہونے اور آپ کے کے موقع پر تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے ایک بنیادی مصدر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔کتاب کا اسلوب مجادلانہ اور مناظرانہ ہے کیونکہ درحقیقت یہ ایک تحریری مناظرہ ہی ہے اور یہ اسلوب کی سختی دونوں طرف سے ہی پائی جا رہی ہے بلکہ یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ اس سختی کی ابتدا مولانا احمد رضاخان کے مزاج سے ہوئی ہے اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ان میں اپنے مخالفین کو گمراہ، ضال، بدعتی، کافر،مشرک اور جو گالی ممکن ہو سکتی تھی، دی ہے اور یہ نازیبا کلمات آج بھی ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ایک طرف مزاج اور اسلوب میں تشدد اور سختی ہو تو دوسری طرف بھی آ ہی جاتی ہے۔ بہرحال پھر بھی اس مجادلانہ و مناظرانہ اسلوب سے صرف کرتے ہوئے کتاب اپنے موضوع پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اوّل 13
سوانح علامہ محمد رئیس ندوی رحمۃ علیہ 16
خطبہ کتاب 23
اہل میں افتراق کی نبوی پیش گوئی 25
نبوی پیش گوئی کا پورا ہونا 27
جھوٹ کی مذمت اور قباحت 29
کی تعریف 30
اُمت محمدیہ میں وقوع کی پیشگوئی 31
عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہونا کی ایک صفت ہے 33
عائشہ ؓ معنوی او رحکمی طور پر مرفوع ہے 36
تنبیہ بلیغ 36
رسول ﷺ کو عالم الغیب قرار دینے میں متضاد پالیسی 40
اس دعویٰ کی تلخیص و تجزیہ 42
تنبیہ بلیغ 45
کے سلسلے میں ہر دعویٰ کا شرعی دلیل سے مدلل ہونا ضروری ہے 47
تنبیہ بلیغ 49
تکمیل نزول کب ہوئی؟ 52
دعاوی کی تکذیب پر بعض اجمالی کی طرف اشارہ 54
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر پہلی نص قاطع 55
و رسول پرکذب بیانی کا اتہام 57
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر دوسری نص قاطع 59
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر تیسری نص قاطع 63
غیب کی لغوی و شرعی تعریف 66
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر چوتھی نص قاطع 72
بحرالعلوم کی خود اپنی تکذیب و تغلیط 74
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پرپانچویں نص قاطع 76
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پرچھٹی نص قاطع 76
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پرساتویں نص قاطع 77
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پرآٹھویں نص قاطع 80
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونےپر  نویں نص قاطع 81
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پردسویں نص قاطع 81
بحرالعلوم کا اعتراف کہ غیر مطلقاً غیب نہیں جانتے 82
اپنے بیان مذکور کی بحرالعلوم نے زور دار تکذیب کررکھی ہے 84
غیر کے عالم الغیب نہ ہونے پر گیارہویں نص قاطع 88
بحرالعلوم کی اپنی ہی تحریر سے اپنی تکذیب 94
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر بارہویں نص قاطع اوربریلوی سرکشی کی ایک اور مثال 97
سورہ محمد کی تیسویں آیت پربریلوی فرقہ کامشن 100
بریلویوں کا اپنے مذہبی اول سے انحراف و اعراض 102
اعلیٰ حضرت و بحرالعلوم کی اپنے سے بغاوت و خروج 103
لوگ جن سے اپنے مؤقف پر استدلال کرتے ہیں ان کا ذکر 107
مشن کی پیش کردہ پہلی آیت 107
مشن کی پیش کردہ دوسری آیت 108
مشن کی پیش کردہ تیسری آیت 109
ہمارے رسول ﷺ کے عالم الغیب نہ ہونے پر تیرہویں نص قاطع 110
مشن کی طرف سے پیش کردہ چوتھی آیت 112
مشن کی پیش کردہ پانچویں آیت 112
مشن کی بعض دیگر مستدل 113
شرعی اجازت کے بغیر انجام دیا جانے والا عمل مردود باطل ہے 114
تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ 115
عبادت تو قیفی چیز ہے 116
غیراللہ کے عالم الغریب نہ ہونے پر ایک اور دلیل شرعی 118
ایک نبوی پیش گوئی کا ذکر 126
نبی ﷺ کے عالم الغیب ہونیکی نفی پر دلالت کرنے والی ربیع بنت معوذ 127
عہد نبوی میں نبی ﷺ کے عالم الغیب کہے جانے کا ذکر 129
جھوٹے کی عبادت مقبول نہیں 131
جدید کتاب ’’الشاہد‘‘ اور اس کے مصنف کا تعارف 133
الشاہد کا تعارف 135
کتابوں کی عبارتیں ایک دوسرے کی تکذیب کرتی ہیں 136
مشن کے مزید کلمات اعتراف ملاحظہ ہوں 137
تصحیح العقائد کے مواخذہ کے جواب میں مشن کا مجرمانہ سکوت 140
غلو بازی میں فرقہ اہل کتاب و نصاریٰ کے نقش قدم پر 141
فرقہ بریلویہ کے ایک بھاری جھوٹ کی نشاندہی 143
ابلیس کی طرف سے ایک توجیہ 144
الشاہد کی تصنیف میں بحرالعلوم کی متضاد پالیسی 144
تضاد در تضاد 146
سلفی المذہب خاندان کے فرد مولوی عتیق الرحمٰن اکرہروی کے بن جانے پر بریلوی بحرالعلوم کی فرحت 147
ہمارے رسول محمد ﷺ انبیائے سابقین کے پر تھے 148
عالم الغیب ہونے سے متعلق فرمان نوح علیہ السلام 150
اپنے عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہونے سے خاتم النبیین محمد ﷺ کی نفی 153
خصوصاً پرستی کے منافی باتیں خبث و نجس ہیں 157
آمدم برسر مطلب 159
بحرالعلوم کااہلحدیث پر امکان کذب باری کا جھوٹا اتہام 160
بحرالعلوم کا و رسول پرکذب بیانی کااتہام 160
خدائی کاریگری پر جارحیت 161
مولانا جھنڈانگری کے چیلنج مباہلہ سےبریلویوں کا فرار 161
میں ایمان  گھٹتا  بڑھتا ہے 162
بریلوی بحرالعلوم کی میں 162
نبی حکم الہٰی کے مطابق بہت ساری چیزوں کو دیکھنے اور مشاہدہ کرنے سے باز رہنے کے مکلف  ہیں 164
ہمارے نبی کا اُمی ہونا عالم الغیب او رحاضروناظر ہونے والے دعویٰ کے منافی ہے 165
تنبیہ بلیغ 166
پانچوں مفاتیح غیب سے متعلق ایک وضاحت 167
کا یہ دعویٰ کہ خاتم النبیین محمد ﷺ تمام کے معلم ہیں 167
برزخ میں  نبوی پر اعمال امت کی پیشی 169
بتصریح خویش عقائد کے معاملہ میں غیر مقلد ہے 170
یہ منافقوں کا عقیدہ ہے کہ نبی و رسول کو نہیں آتی 173
غیب کی جو بات بتلانے سے معلوم ہوگئی وہ غیب نہیں ہے 173
بریلویوں کا تقلیدی اور عقیدہ غیب 175
مغل حکمران اورنگ زیب اور عالمگیر کا غیب نبوی کے متعلق مؤقف 176
غیب نبوی کی بابت بزازیہ کی صراحت 178
غیب نبوی کی بابت درمختار کی صراحت 179
تنبیہ 181
غیب نبوی سے متعلق امام ابن الہمام حنفی اور عام کی صراحت 182
غیب نبوی اور امام قاضی خاں حنفی کی صراحت 186
غیب نبوی اور پیران پیر شیخ رحمۃ علیہ 188
غیب نبوی او رحنفی کتاب تحفۃ القضاۃ 189
غیب نبوی اور سلطان العارفین قاضی حمید الدین ناگوری 190
غیب نبوی اور ملا حسین خباز کشمیری حنفی 191
غیب نبوی اور قاضی ثناء پانی پتی (متوفی 1213ھ) 192
پہلی تنبیہ بلیغ 192
دوسری تنبیہ بلیغ 193
غیب نبوی اور تاتارخانیہ 195
غیب نبوی اور صاحب ردّ المختار یعنی شامی 199
بحرالعلوم کی توہین سلفیت اور تعظیم بریلویت 204
بریلویت کو سمجھنے میں اہل حدیثوں پر بحرالعلوم کا اتہام غلط فہمی 205
شاہدو شہید کا معنی عالم الغیب او رحاضروناظر بتلانا حنفی میں بالاجماع کفر وجہالت قبیح ہے۔ 206
’’النبی أولیٰ بالمؤمنین‘‘ والی آیت سےبریلوی استدلال 207
مؤقف پر قرآنی آیت (وما ارسلنک إلا رحمۃ للعلمین) سے بریلوی استدلال۔ 213
تنبیہ بلیغ 216
مؤقف پر بعض نبویہ سے بریلوی استدلال 217
تنبیہ بلیغ 217
ملاحظہ 218
مؤقف پر بریلوی بحرالعلوم کی مستدل چاروں منتخب کا ذکر 219
پہلی پربحث و 220
بحرالعلوم کی پیش کردہ دوسری پر بحث 223
بحرالعلوم کی ضعیف قرار دی ہوئی روایت مکذوب و موضوع ہے 224
ضعیف روایت باب میں مقبول نہیں 224
موضوع کا متابع کہہ کر بحرالعلوم کی ذکر کردہ روایت پر بحث 226
بحرالعلوم کی منتخب کردہ تیسری پربحث 228
بحرالعلوم کی منتخب کردہ چوتھی پر بحث 229
تمام اہل پربریلوی بحرالعلوم کا اتہام 235
بہت سارے کے اثبات کے لیے قطعیہ کی ضرورت ہے 237
کے علاوہ کسی نبی و رسول کو عالم الغیب و حاضر وناظر کہنا عقیدہ ہے یا فضیلت والی بات؟ 240
باب کے چند اہم 243
باب کا پہلا 244
باب کے پہلے کا ابطال ورد 245
باب کے پہلے سے بریلوی مزعومات کی تکذیب 247
بحرالعلوم کی طرف سے اپنے مردود کی مکر رحمایت 251
تنبیہ بلیغ 254
باب کے دوسرے کا جائزہ 257
باب کے تیسرے کا جائزہ 259
باب کے چوتھے کا جائزہ 259
1۔ تشریح، 2۔ کی قطعیت و ظنیت 260
نبوی سے متعلق لغو طرازی پر 262
کی مختلف وجہیں اور ان سے استدلال 266
باب کے اہم کی بخیہ دری 268
بحرالعلوم کی مستدل عبارت سے بریلوی بحرالعلوم کی تکذیب 276
غلط نہیں خود ما بدولت ہی جہالت میں گرفتار ہیں 277
کی مختلف وجہیں اور ان سے استدلال 282
لفظ ’’الشاھد والشھید‘‘ سے استدلال اور اس کی تکذیب 283
قرآنی آیت ( الانسان مالم یعلم) کے متعلق بحرالعلوم کی افتراء پردازی 285
یک نہ شُد دو شُد 288
تمام کرام پربریلوی بحرالعلوم کاافتراء 291
ہررسول و نبی کے شاہد و شہید ہونے کی مدت ان کے زمانہ تک محدود ہے 294
فرقہ بریلویہ تخلیق آدم سے پہلے بھی آپ ﷺ کو عالم الغیب و حاضر و ناظر مانتا ہے۔ 295
آپ ﷺ کا وجود گرامی دنیا میں 302
فرمانےکے بعد 303
سایہ نبوی 305
سایہ نبوی کی نفی پر موضوع سے استدلال 306
عبدالرحمٰن بن قیس زعفرانی کذاب کا تعارف و 308
مرسل حجت نہیں 310
سایہ رسول ﷺ کی نفی کرنے والی کے مضمون میں تعارض 311
بریلویوں کی مستدل روایت ثابتہ کے خلاف ہے 313
نوری مخلوق فرشتوں کا بھی سایہ ہوتا ہے 313
اور ہندوؤں کا نظریہ اوتار 314
کیا نور محمد ﷺ نور الہٰی تھے؟ 315
سایہ نبوی کا انکار قرآنی نصوص کی خلاف ورزی ہے 315
سایہ نبوی پر دلالت کرنے والی صحیح 317
جھوٹ کی قباحت کا اعتراف 319
و سلفی میں شرعی کون کون سے ہیں؟ 320
تفسیری و تاریخی روایات سے بے اطمینانی 323
ہٹ دھرمی کی مذمت بزبان بحرالعلوم 324
لوگ دو رُخی پالیسی رکھتے ہیں 324
قبوری کی نصوص قاطعہ کے خلاف بغاوت 326
قائدین بریلویت کی سازی 328
ابلیس کی غلط ترجمانی از فرقہ بریلویہ 330
بحرالعلوم کی حساب دانی 333
امام جنید بغدادی کاذکر خیر 333
نبی و رسول کی بشریت 336
بریلویوں کا یہ جھوٹا دعویٰ کہ وفات کے بعد آپ ﷺ ہرجگہ حاضرو موجود ہیں 339
اس مکذوبہ دعویٰ پرفاضل رحمانی کامواخذہ اور جواب میں فاضل رحمانی پربریلویہ کا طعن و تشنیع۔ 341
قرآنی آیت اور نبوی سےبریلوی دعویٰ کی تکذیب 342
حاضر و ناظر اور علمائے 344
نبی  ورسول اور غیب کے لغوی و شرعی معنی 355
لوگوں کا موضوع روایت سے استدلال 357
اپنی مستدل روایت میں بحرالعلوم کی کاٹ چھانٹ 360
نصوص شرعیہ سےبریلوی مؤقف کی تکذیب 363
مؤقف اجماع امت کے خلاف ہے 365
رسول ﷺ کو خود رسول ﷺ نے عالم الغیب کہنے سے منع کیا 368
فرمان نبوی سے انحراف کے لیےبریلوی حیلہ جوئی کی تفصیل 369
کی جانب سے حاصل شدہ اپنی جملہ کو آپ ﷺ نے اپنی اُمت کو بتلا دیا ہے۔ 372
قول عائشہ ؓ کے بالمقابل بحرالعلوم کی ذکرکردہ روایات پرنظر 374
عائشہ ؓ کے خلاف بحرالعلوم کی بیہودہ گوئی 378
امام داؤدی کی عبارت میں تحریف 380
امام قسطلانی کا فرمان 381
بحرالعلوم کی تحریف بازی 384
شب اور دیدار الہٰی و رؤیت باری تعالیٰ 385
فرمان نبوی کے خلاف بحرالعلوم کی یاوہ گوئی 389
اکاذیب پر 390
حضرت ابن مسعود کی مرفوع 393
ابی موسیٰ پر بحث 395
قول ابن عباس ؓکا اضطراب و تضاد 397
تنبیہ بلیغ 398
دنیا میں دیدار الہٰی کے مسئلے پر بحث 400
ابی العالیہ 408
عائشہ ؓ کا تجزیہ 409
لفظ شاہد و شہید سے غیب نبوی پربریلوی استدلال پر سلفی ردّ بلیغ 411
آیت کریمہ (یسئلونک عن الروح) اور غیب نبوی 418
تنبیہ بلیغ 429
قرآنی آیت :(نزلنا علیک الکتٰب تبیانا لکل شئ) سے متعلق ایک  ضروری وضاحت 430
قرآنی آیت (ورسلا قد قصصنٰھم علیک) سے متعلق ایک وضاحت 432
قرآنی آیت:(وما علمنٰہ الشعر وما ینبغی لہ) سےمتعلق وضاحت 434
قرآنی آیت: (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم) سے متعلق وضاحت 435
تردید حاضر و ناظر و تردید غیب کے چند انوکھے 436
سے غیب کی نفی پر چند 438
برزخ سے واپسی 443
ملائکہ و جنوں پر بشری نبی کا قیاس 444
عدم کفر سے غیب نبوی کا ثبوت 444
نبوت خضر 444
متفرقات 445
نجد و عراق 447
ابلیس اوربریلوی بحرالعلوم 447
رسول اُمی ﷺ 448

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...