تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں

تصور بانیان پاکستان کی میں

 

مصنف : مختلف اہل

 

صفحات: 192

 

14 اگست 1947ء وہ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ ریاست کا حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں وجود میں آیا۔ ایک الگ  مسلم قومیت  کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک مملکت کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان قائد اعظم جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر کے تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر کتاب” تصور بانیان پاکستان کی میں”شریعہ اکیڈمی  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی آباد  کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
کا مطلب کیا 7
افکار قائد اعظم جناح  11
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال  کا خطبہ الہ آباد 39
نواب بہادر یار جنگ کا خطاب 75
شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی  کا خطبہ صدارت 91
نوابزادہ لیاقت علی خان کی تقریر 145
مجلس دستور ساز میں شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی  کی تقریر 161
چوہدری رحمت علی کا کتابچہ Now or Never 175

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...