تصوف دین یا بے دینی

یا بے دینی

 

مصنف : عبد المعید مدنی

 

صفحات: 47

 

ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے کو ہر قدم پر سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی اور اباحیت ہے۔ زیر کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
مقاصد 7
کا موضوع اور طریق کار 15
بے ضابطگی کا شاہکار 27
بے ضابطگی کا شکار 35
کے ہمہ جہتی سلبی اثرات 41

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...