دعوت دین کی اہمیت اور تقاضے

دعوت دین کی اہمیت اور تقاضے

 

مصنف : امین احسن اصلاحی

 

صفحات: 52

 

اللہ تعالیٰ  نے انسان  کی فطرت  کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی  کے اختیار کرنے  اور بدی  سے  بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو  لوگوں  تک پہنچایا او ران کو شیطان  سے  بچنے اور رحمنٰ  کے راستے   پر چلنے کی دعوت  دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے  کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج  دعوت  اور اصول  دعوت  کے حوالے  سے   اہل  علم  عربی اور زبان  میں کئی کتب تصنیف کی  ہیں  ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی  کتب قابل ذکر ہیں  جوکہ آسان فہم  او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔زیر نظر کتاب  ’’ دعوت دین کی اہمیت اور تقاضے ‘‘ مولانا  امین احسن اصلاحی  کی تصنیف ہے  جس  میں انہوں نے  دعو ت کی اہمیت وضرورت کو  آسا ن فہم انداز میں  بیان کیا ہے  ۔ اللہ ان کی  اس  کاوش کو  قبول فرمائے او راسے عوام الناس کے   نفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
تبلیغ کس لیے 7
انبیاء کی ضرورت 7
انبیاء کے باب میں قانون الہٰی 8
خاتم الانبیاء کی بعثت 9
آنحضرت ﷺ کی بعثت کے دو پہلو 10
دین کی حفاظت کے لیے دو خاص انتظام 11
تبلیغ بحیثیت ایک فریضہ رسالت 13
تبلیغ کی شرائط 14
پہلی تا چھٹی شرط 14
مسلمانوں کا فرض منصبی 21
داعی حق کی ذمہ داری 23
انبیائے کرام کا طریق تربیت 32
اجتماعی تربیت کی پہلی اصل 33
خلاصہ بحث 48

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

احکاماصلاحاللہامین احسن اصلاحیانبیاءتبلیغتعلیمحقدینشریعتعربیعلمقانونمسلماننظر
Comments (0)
Add Comment