حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

 

مصنف : ناصر الدین البانی

 

صفحات: 421

 

اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر کتاب’’ حجیت حدیث‘‘ علامہ  محمد ناصر الدین البانی﷫ ،  شیخ الحدیث  محمد اسماعیل سلفی  ﷫ کی دفاع  وحجیت حدیث کے موضوع پر اہم مقالات کا  مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے  حصہ اول میں  علامہ ناصر الدین البانی ﷫کے  تین رسالوں کا اردو ترجمہ شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ  مولانا  محمد اسماعیل سلفی﷫ کے حجیت حدیث کے موضوع پر پانچ مقالات پر مشتمل ہے ۔اس میں  مولانا سلفی کا  ’’حسن البیان فیما سیرۃ  نعمان ‘‘کے  لیے  لکھا گیا  وقیع مقدمہ  بعنوان ’’ درایت اور فقہ راوی‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب اپنے  موضوع پر ایک  اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ  البانی  اور مولانا سلفی  کی دفاع حدیث  کےسلسلے میں  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور اس مجموعہ کو  مفید ومقبول بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
1۔پہلا رسالہ
اسلام میں سنت نبوی کا مقام صرف قرآن پر اکتفاء کی تردید 3
قرآن سے سنت کا تعلق 5
فہم قرآن کے لیے سنت کی ضرورت اور اس کی مثالیں 6
سنت کو چھوڑ کرقرآن پر اکتفاء کرنا گمراہی ہے 10
فہم قرآن کے لیے زبان دانی کافی نہیں 12
اہم تنبیہ 15
حدیث معاذ پر بحث 16
2۔دوسرا رسالہ
عقائد میں حدیث آحاد سےاستدلال واجب ہے
مخالفین کے شبہات کاجواب 19
مقدمہ 21
عقائد میں حدیث آحاد سے استدلال واجب ہے 23
پہلی وجہ 23
دوسری وجہ 24
تیسری وجہ 26
چوتھی وجہ 27
پانچویں وجہ 28
چھٹی وجہ 29
ساتویں وجہ 31
آٹھویں وجہ 34
نویں وجہ 37
دسویں وجہ 37
گیارہویں وجہ 39
بارہویں وجہ 41
تیرہویں وجہ 42
چودہویں وجہ 44
پندرہویں وجہ 46
سولہویں وجہ 46
سترہویں وجہ 48
اٹھارہویں وجہ 50
انیسویں وجہ 54
بیسویں وجہ 58
3۔تیسرا رسالہ 63
عقائد و احکام کے لیے حدیث ایک مستقل حجت
پہلی فصل
حدیث کی طرف مراجعت کا وجوب اور اس کی مخالفت کی حرمت 65
قرآن کا حدیث رسول سےفیصلہ کرانے کاحکم 65
ہر چیز میں نبی ﷺ کی اتباع کی دعوت دینے والی حدیثیں 70
مندرجہ بالا نصوص کا خلاصہ استدلال 74
متاخرین کا سنت کوحکم بنانے کے بجائے خود اس پر حاکم بن جانا 78
متاخرین کے یہاں حدیث کی اجنبیت 80
دوسری فصل
حدیث پر قیاس وغیرہ کی تقدیم کا بطلان 82
حدیث پر اصول اور قیاس کو مقدم کرنے کی غلطی کا سبب 84
تیسری فصل
عقائد اور احکام دونوں میں خبر واحد کی حجیت 92
ایک شبہ اور اس کا ازالہ 93
خبر واحد کی حجت نہ ہونے کاعقیدہ وہم وخیال کی بنیاد پر ہے 96
خبر واحد سے عقیدہ حاصل کرنے کےوجوب پر دلیلیں 97
امام شافعی کا خبر واحد سےعقیدہ کا اثبات 103
عقیدہ کے لیے خبر واحد کو دلیل نہ بنانا بدعت محدثہ ہے 104
بہت سی اخبار آحاد کا علم اور یقین کا فائدہ پہو نچانا 107
افادہ علم میں خبر شرعی کو دوسر ی خبروں پر قیاس کرنے کا فساد 110
حدیث کےبارے میں بعض فقہاء کے موقف اور سنت سے ان کی ناواقفیت کی دو مثالیں 114
چوتھی فصل
تقلید اور تقلید کو مذہب و دین بنالینا 117
تقلید سےائمہ کی ممانعت 122
علم صرف اللہ اور رسول کا قول ہے 123
اہل مذاہب کی اجتہاد سے جنگ او رہر شخص پر تقلید کا ایجاب 130
اپنےائمہ کےلیے تعصب کرنے میں مقلدوں کا انہیں کی مخالفت کرنا اور ان کی تقلید کو فرض کرنا 131
مقلدین میں اختلاف کی کثرت اور اہل الحدیث میں اس کی قلت 136
تقلید کی تباہ کاریاں اور مسلمانوں پر اس کے برے اثرات 138
مہذب مسلمان نوحوان کے آج کا فریضہ 139
5۔پانچ فکر انگیز مقالات 143
1۔پہلا مقالہ 143
حدیث کی تشریعی اہمیت 147
خبر 147
اثر 148
سنت 149
موضوع بحث 151
سنت کی حیثیت 151
سنت قرآن میں 154
قرآن اور اس کا تواتر 161
منکرین سنت کے شبہات 162
حیدث کے متعلق ظنی ہونے کا شبہ 163
ظن کی علمی تحقیق 163
غلطی کی اصل وجہ 166
شریعت اسلامیہ میں ظن کی اہمیت 168
شہادت 168
تحکیم 168
ایک بدبودار شبہ 172
سازش کے اسباب 172
فتح کےبعد 175
عجمی سازش اوردینی علوم 178
جھوٹی حدیث اور وعید 180
دوسری صدی 181
دور تدوین 182
دور ترتیب 183
مشت بعد از جنگ 184
سازش کہاں کہاں 188
قراء سبعہ 189
علم اورجہالت میں فرق 190
سازش کےاثرات 192
تحریک انکارحدیث کی رفتار 196
پہلے اور اب 198
مرکز ملت کی مشکلات 199
اجتماعی اجتہاد 202
حدیث کی تحقیق موجودہ دور میں 203
یہ لوگ! 205
علم حدیث متحرک علم ہے 206
اصول روایت 207
بعض مثالیں 208
ائمہ حدیث کی رجال پر نظر 209
محدثین کی دقت نظر 210
احادیث میں عریانی 211
قرآن عزیز میں عریانی 213
اصل مصیبت 215
احادیث کی کثرت 216
اہل مدینہ کےعمل کے اجزائے ترکیبی 247
خبر آحاد 249
صدق کے قرائن 255
متاخرین فقہاء 256
اہل حدیث کا مسلک 257
وجدن اور شعور 259
تلقی بالقبول 260
اس اختلاف کا پس منظر 261
ائمہ حدیث کی بے نیازی 261
احادیث سےاستفادہ 262
دوسری شرط 265
وقت کی ضرورت 267
رواۃ کی عصمت 268
تین احادیث 269
مولانا کی تعریض 274
مؤدبانہ گزارش 280
ائمہ حدیث کےمناقشات 281
آحاد کے متعلق اختلاف اور خرابی کا پہلا دور 282
اس کا ذہن کی تنظیم 283
دوسرا دور 285
تیسرا دور 287
فقہ راوی 288
چہوتھا دور 290
درایت اور نفقہ 290
مولانا مودودی اورمولانا اصلاحی 292
خدمات اورکارنامے 294
مزاج شناسی ارو جوت 295
احادیث میں یقین اور ظن 296
فن حدیث اور عقل 297
اصل نزاع 300

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11 MB ڈاؤن لوڈ سائز

ائمہاجتہاداحادیثاحکاماردواردو ترجمہاسلاماصولاللہانبیاءانساناہل حدیثبدعتتحقیقترجمہتعلیمحجیت حدیثحدیثخدماتدینروزہزبانسنتصحابہصحابہ کرامعبداللہعلمعلمیفقہقرآنکائناتمذاہبمذہبمستشرقینمسلمانمقالاتمولانا ثناء اللہ امرتسریناصر الدین البانیہندوستانوحی
Comments (0)
Add Comment