حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

 

مصنف :

 

صفحات: 421

 

تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ کی رشد وہدایت کے لیے  ورسل کو اس  میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔ اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے دی ہے ،اسی لیے  تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت کرام ،تابعین عظام اور رسول ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد ہی میں نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی بھی   قابل قدر  ہیں ۔ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر کتاب’’ حجیت حدیث‘‘ علامہ  محمد ناصر الدین البانی﷫ ،  شیخ الحدیث  محمد اسماعیل سلفی  ﷫ کی دفاع  وحجیت حدیث کے موضوع پر اہم کا  مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے  حصہ اول میں  علامہ ناصر الدین البانی ﷫کے  تین رسالوں کا شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ  مولانا  محمد اسماعیل سلفی﷫ کے حجیت کے موضوع پر پانچ پر مشتمل ہے ۔اس میں  مولانا سلفی کا  ’’حسن البیان فیما سیرۃ  نعمان ‘‘کے  لیے  لکھا گیا  وقیع مقدمہ  بعنوان ’’ درایت اور راوی‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب اپنے  موضوع پر ایک  اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ تعالیٰ شیخ  البانی  اور مولانا سلفی  کی دفاع حدیث  کےسلسلے میں  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور اس مجموعہ کو  مفید ومقبول بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
1۔پہلا
میں نبوی کا مقام صرف پر اکتفاء کی تردید 3
سے کا تعلق 5
فہم کے لیے کی ضرورت اور اس کی مثالیں 6
کو چھوڑ کرقرآن پر اکتفاء کرنا گمراہی ہے 10
فہم کے لیے دانی کافی نہیں 12
اہم تنبیہ 15
معاذ پر بحث 16
2۔دوسرا
عقائد میں آحاد سےاستدلال واجب ہے
مخالفین کے شبہات کاجواب 19
مقدمہ 21
عقائد میں آحاد سے استدلال واجب ہے 23
پہلی وجہ 23
دوسری وجہ 24
تیسری وجہ 26
چوتھی وجہ 27
پانچویں وجہ 28
چھٹی وجہ 29
ساتویں وجہ 31
آٹھویں وجہ 34
نویں وجہ 37
دسویں وجہ 37
گیارہویں وجہ 39
بارہویں وجہ 41
تیرہویں وجہ 42
چودہویں وجہ 44
پندرہویں وجہ 46
سولہویں وجہ 46
سترہویں وجہ 48
اٹھارہویں وجہ 50
انیسویں وجہ 54
بیسویں وجہ 58
3۔تیسرا 63
عقائد و کے لیے ایک مستقل حجت
پہلی فصل
کی طرف مراجعت کا وجوب اور اس کی مخالفت کی حرمت 65
کا رسول سےفیصلہ کرانے کاحکم 65
ہر چیز میں نبی ﷺ کی اتباع کی دعوت دینے والی حدیثیں 70
مندرجہ بالا نصوص کا خلاصہ استدلال 74
متاخرین کا کوحکم بنانے کے بجائے خود اس پر حاکم بن جانا 78
متاخرین کے یہاں کی اجنبیت 80
دوسری فصل
پر قیاس وغیرہ کی تقدیم کا بطلان 82
پر اور قیاس کو مقدم کرنے کی غلطی کا سبب 84
تیسری فصل
عقائد اور دونوں میں خبر واحد کی حجیت 92
ایک شبہ اور اس کا ازالہ 93
خبر واحد کی حجت نہ ہونے کاعقیدہ وہم وخیال کی بنیاد پر ہے 96
خبر واحد سے عقیدہ حاصل کرنے کےوجوب پر دلیلیں 97
کا خبر واحد سےعقیدہ کا اثبات 103
عقیدہ کے لیے خبر واحد کو دلیل نہ بنانا محدثہ ہے 104
بہت سی اخبار آحاد کا اور یقین کا فائدہ پہو نچانا 107
افادہ میں خبر شرعی کو دوسر ی خبروں پر قیاس کرنے کا فساد 110
کےبارے میں بعض فقہاء کے موقف اور سے ان کی ناواقفیت کی دو مثالیں 114
چوتھی فصل
تقلید اور تقلید کو و بنالینا 117
تقلید سےائمہ کی ممانعت 122
صرف اور رسول کا قول ہے 123
اہل کی سے جنگ او رہر شخص پر تقلید کا ایجاب 130
اپنےائمہ کےلیے تعصب کرنے میں مقلدوں کا انہیں کی مخالفت کرنا اور ان کی تقلید کو فرض کرنا 131
مقلدین میں اختلاف کی کثرت اور اہل الحدیث میں اس کی قلت 136
تقلید کی تباہ کاریاں اور مسلمانوں پر اس کے برے اثرات 138
مہذب نوحوان کے آج کا فریضہ 139
5۔پانچ فکر انگیز 143
1۔پہلا مقالہ 143
کی تشریعی اہمیت 147
خبر 147
اثر 148
149
موضوع بحث 151
کی حیثیت 151
سنت میں 154
اور اس کا تواتر 161
منکرین کے شبہات 162
حیدث کے متعلق ظنی ہونے کا شبہ 163
ظن کی 163
غلطی کی اصل وجہ 166
اسلامیہ میں ظن کی اہمیت 168
168
تحکیم 168
ایک بدبودار شبہ 172
سازش کے اسباب 172
فتح کےبعد 175
عجمی سازش اوردینی علوم 178
جھوٹی اور وعید 180
دوسری صدی 181
دور تدوین 182
دور ترتیب 183
مشت بعد از جنگ 184
سازش کہاں کہاں 188
قراء سبعہ 189
اورجہالت میں فرق 190
سازش کےاثرات 192
تحریک انکارحدیث کی رفتار 196
پہلے اور اب 198
مرکز ملت کی 199
اجتماعی 202
کی موجودہ دور میں 203
یہ لوگ! 205
علم متحرک ہے 206
روایت 207
بعض مثالیں 208
کی رجال پر 209
محدثین کی دقت 210
میں عریانی 211
عزیز میں عریانی 213
اصل مصیبت 215
کی کثرت 216
اہل مدینہ کےعمل کے اجزائے ترکیبی 247
خبر آحاد 249
صدق کے قرائن 255
متاخرین فقہاء 256
کا مسلک 257
وجدن اور شعور 259
تلقی بالقبول 260
اس اختلاف کا پس منظر 261
کی بے نیازی 261
سےاستفادہ 262
دوسری شرط 265
وقت کی ضرورت 267
رواۃ کی عصمت 268
تین 269
مولانا کی تعریض 274
مؤدبانہ گزارش 280
کےمناقشات 281
آحاد کے متعلق اختلاف اور خرابی کا پہلا دور 282
اس کا ذہن کی تنظیم 283
دوسرا دور 285
تیسرا دور 287
راوی 288
چہوتھا دور 290
درایت اور نفقہ 290
مولانا مودودی اورمولانا اصلاحی 292
اورکارنامے 294
مزاج شناسی ارو جوت 295
میں یقین اور ظن 296
فن اور عقل 297
اصل نزاع 300

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...