علوم القرآن جلد دوم ( گوہر رحمان )

علوم القرآن جلد دوم ( گوہر رحمان )

 

مصنف : گوہر رحمان

 

صفحات: 651

 

علوم القرآن ایک مرکب اضافی ہےاور اس سے مراد وہ علوم ہیں جو قرآن نےبیان کیے ہیں یا وہ قرآن سےاخذ کیے جاسکتے ہیں اورجو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں او رجن کے ذریعے قرآن مجید کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات وغیرہ ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول تفسیر سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن کے مباحث کی ابتدا عہد نبوی اور دورِ صحابہ کرام سے ہو چکی تھی تاہم دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد میں ہوا۔ قرآن کریم کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم سےہی سمجھا جائے۔ علوم القرآن کے موضوع پر اس کے ماہرین نے متعدد کتب لکھی ہیں ۔ان میں الاتقان فی علوم القرآن ، البرہان فی علوم القرآن ، مناہل العرفان فی علوم القرآن ،المباحث فی علوم القرآن اور علوم القرآن از تقی عثمانی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’علوم اقرآن‘‘ شیخ القرآن والحدیث مولاناگوہر الرحمٰن ﷫ کی 2 جلدوں پر مشتمل تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اپنی اس کتاب کے بنیادی مباحث کوان 10 ابواب ( تعارف قرآن ، نزول قرآن ، قرآن کا نزول سات حرفوں میں ، تدوین قرآن ، اعجاز القرآن ، النسخ فی القرآن ، مضامین قرآن، تفسیر اوراصول تفسیر، متجددین کا منہج تفسیر، مدون تفاسیر اور تعارف مفسرین)میں مرتب ومدون کیا ہے۔ان ابواب کی ذیلی مباحث میں دوسری ضروری تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ اور جہاں تک ممکن ہوسکا ہے کتاب کوجامع بنانے اور تمام ضروری اور اہم مباحث پر حاوی بنانے کی کو شش کی گئی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
باب ہفتم مضامین القرآن 13
ابن جریر اور ابن عربی کےنزدیک قرآن کےبنیادی مضامین تین ہیں 15
شاہ ولی اللہ کے نزدیک قرآن کے بنیادی مضامین 5ہیں 16
قرآنی مضامین کی ایک اور طرح کی تقسیم 18
قرآن کامرکز ی مضمون توحید ہے 20
خالقیت 25
مالکیت 26
حاکمیت 30
قرآن کاطرز استدلال 36
قرآنی دلائل کی قسمیں 38
(الف)اصحاب الکف 62
(ب)اصحاب الاخدود کے مظالم اور اصحاب التوحید کی استقامت 65
(ج)لقمان حکیم کی وصیت 70
(د)جنات کی شہات 70
سواد بن قارب کے سلام لانے کاواقعہ 83
جنات کاحقیقت 88
جنات کےبارے میں فرقہ باطنیہ او ردور جدید کے مجددین کی تلاویلات  فاسدہ 91
ملائکہ کی حقیقت 103
ملائکہ کے بارے میں مجددین کے اقوال باطنہ 105
شیخ محمد عبدہ ارو اس کے تلامذہ کاتجدد 105
حروف مقطعات 116
خلفائے راشدین کےنزدیک حروف مقطعات کایقینی علم اللہ کے علاوہ کسی کو بھی حاصل نہیں ہے اور یہ قرآن میں اللہ کاایک راز ہے 119
حروف مقطعات کےحکم ورموزاور ان کی تلایلات 123
محکم اور متشابہ 132
پوراقرآن محکم ہے 132
پوراقرآن  متشابہہ  بھی ہے 135
ام الکتاب محکمات ہیں اور کچھ دوسری آیات متشابہات ہیں 137
متاشہ کی قسمیں 134
اقسام القرآن 147
بندوں کے لیے غیر اللہ کی قسم ممنوع ہے 147
افلح وابیہ کی توجیہ 150
اللہ کی قسموں کی حقیقت 153
اللہ کی قسموں کی مثالیں 154
اللہ نے قرآن میں چار چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں 155
اللہ کی ذات وصفات کی قسم 155
قرآن کی قسم 157
رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی قسم 158
اللہ نے قرآن  میں اصول ایمان پر قسمیں کھائی ہیں 161
توحید پر قسم کھانے کی مثال 161
قرآن پر قسم کھانے کی مثال 164
رسول اللہ پر قسم کھانے کی مثال 166
جزاور وعدہ وعید پر قسم کی مثال 167
انسان کےحوال واعمال پر قسم کی مثال 169
لااقسم کی تاویل 170
امثال القرآن 183
مثل کے معانی 186
ضرف الامثال کی حکمت قرآن نےخود بیان کی ہے 187
امثال القرآن کے چند نمونے 192
کلمہ طیبہ او رکلمہ خبیثہ کی مثال 193
نورایمان کی مثال 197
ظلمت کفر کی مثال 202
مشرکین کے معبودوں کی بے بسی کی مثال 204
منافقین کی مثال 205
باب ہشتم اصول اور اصول تفسیر 209
تفسیر کی لغوی معنے 210
تفسیر کااصطلاحی مفہوم 212
تاویل کے لغوی معنے 212
تاویل بمعنے تحریف 217
تاویل بمعنےانجام ونتیجہ 218
تاویل بمعنے حقیقت 219
تاویل کی معنے خوابوں کی تعبیر 221
تاویل بمعنے توجیہ 221
تاویل کے اصطلاحی معنے 222
اہل سنت ولجماعت کے اصول کے مطابق بہترین طریقہ تفسیر 234
تفسیر القرآن بالقرآن 225
تفسیر القرآن بالقرآن کی چندمثالیں 226
آدم ؑ کی لغزش 238
موسی ؑ کے مکے سے قبطی کاقتل 249
قہم قرآن کےلئے تالیف کلام او رسیاق وسباق میں تدبر کرنا ضروری ہے 262
کیا حجاب کاحکم ازواج رسو ل کی ساتھ مخصوص ہے 263
تفسیر القرآن بالسنہ الثابتتہ عن رسول اللہ ﷺ 270
تفسیر القرآن بالسنہ  الثابتتہ کی چند مثالیں 272
ورود کے لغوی معنے 284
ابو منصور محمد بن احمد الازہری متوفی 370ھ 284
علامہ اسماعیل بن حماد الجوہری متوفی 393ھ 285
علامہ ابن منظور افریقی متوفی 711ھ 285
علامہ مجدالدین فیروز آبادی متوفی 817ھ 285
قاموس کے شارح علامہ زبیدی متوفی 1205ھ 285
سنت رسول کی روشنی میں وان منکم الاواردہاکامفہوم 287
تفسیر کے بارے میں عائشہ کی حدیث سنداضعیف ہے 296
تفسیر القرآن بلاثارالثابتتہ عن اصحاب رسول اللہﷺ 302
طبقہ صحابہ کے مشہور مفسرین 308
عبداللہ بن عباس ؓ متوفی 68ھ 311
عبداللہ بن عباسؓ اور اسرائیلیات 315
عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی تفسیری روایات کے طرق واسانید 319
تفسیر ابن عباس ؓ کی سنادی حیثیت 328
عبداللہ بن مسعود ؓ 32ھ 340
عبداللہ بن مسعود ؓ کے تفسیر ی اقوال کے طرق واسانید 338
علی بن ابی طالب ؓ متوفی 40ھ 335
حضرت علی ؓ کی تفسیری روایات کے طرق واسانید 338
ابی بن کعب ؓ متوفی 22ھ 340
ابی بن کعب ؓکی تفسیری روایات کتے طرق واسانید 342
تفسیر القرآن بآثار التابعین 343
مدرسہ تفسیر مکہ مکرمہ میں 345
سعید بن جبیر متوفی 95ھ 346
مجاہدین بن جبر متوفی 102ھ 355
عکرمہ مولی بن عباس ؓ متوفی 104ھ 356
طاوس بن کیسان الیمان متوفی 106ھ 358
عطاء بن ابی رباح متوفی 114ھ 358
مدرسہ تفسیر مدینہ منورہ میں 360
ابولعالیہ رفیع بن مہران الریاحی متوفی 90ھ 360
ابو حمزہ محمد بن کعب بن سلیم القرظی متوفی 108ھ 361
ابو اسامہ زید بن اسلم القرشی العدوی 136ھ 362
مدرسہ تفسیر کوفہ میں 362
علقمہ بن قیس لخعی الکوفی متوفی 62ھ 363
عائشہ مسروق  بن الاجد ع الہمدنی متوفی 62ھ 363
ابو عمرواسود بن یزید بن قیس الخعی متوفی 75ھ 364
ابو اسماعیل مرو بن شراحیل الہمدانی لکوفی متوفی 76ھ 364
ابو عمر وعامر بن شراحیل الشعبی الکوفی المتوفی 109ھ 365
حسن بن ابی الحسن البصری متوفی 110ھ 365
قتادہ بن عامہ سدوسی ابو الخطاب البصری متوفی 117ھ 366
اسرائیلیات کی اشاعت کا دار ومدار زیادہ ترچار افراد پر ہے 367
ابویوسف عبداللہ بن سلام بن حارث االاسرائیلی الانصاری متوفی 43ھ 367
کعب الاحبار ماتع الحمیری متوفی 32ھ 369
وھب بن منبہ متوفی 110ھ 371
عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریح متوفی 150ھ 372
صحابہ وتابعین کی تفاسیر میں اختلاف کی نوعیت 373
تفسیر القرآن  باللغہ العربیہ الضحی 374
تفسیر القرآن بالعقل والاجتہاد 379
تفسیر بالرائے کامفہوم 381

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like