آغا خانیت علمائے امت کی نظر میں

آغا خانیت علمائے امت کی میں

 

مصنف : فیض چترالی

 

صفحات: 145

 

میں جن افراد کو آغا کانی کہا جاتا ہے ان کاا بتدائی تعلق اسماعیلی کی نزاری شاخ سے ہے۔ مذہب کی ابتداء دوسری صدی ہجری کے اواخر میں ہوئی۔اسماعیلیوں کے عقائد پر یونانی ،ایرانی ،مجوسی اور نصرانی فلسفوں کا شدید غلبہ آتا ہے۔ان کے ہاں کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ایک ظاہری اور دوسری باطنی۔اس دور کے نے ان کے عقائد پر نقد ونظر کے بعد ان کو خارج از قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر تاریخوں میں اسماعیلیوں کا ذکر روافض باطنیہ یا ملاحدہ کے عنوان  کے تحت کیا گیا ہے۔اسماعیلیہ سے متعلق زیادہ تر لٹریچر یا انگریزی میں موجود ہے ،جس کے سہل الحصول نہ ہونے کی وجہ سے  عوام اس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔دوسرے اس ایک ہزار سال میں گمراہی میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔لہذا آغا خانیوں کے موجودہ عقائد کی روشنی میں دنیا بھر کے جید علمائے کرام سے فتاوی حاصل کر کے اس کتاب ” آغا خانیت ، علمائےامت کی میں ” میں جمع کر دیئے گئے ہیں تاکہ عوام کو کا ہو سکے اور وہ گمراہی سے بچ سکیں۔ان فتاوی کو ایک جگہ جمع کرنے کی سعادت محترم مولانا فیض چترالی نے حاصل کی ہے۔موصوف نے اس کتاب میں مولانا لدھیانوی ، صاحب ، پاکستا ن مفتی ولی حسن صاحب اور فضیلۃ الشیخ بن باز سمیت متعدد وتحقیقی  اداروں کے فتاوی جمع فرمادیئے ہیں۔اللہ تعالی مرتب کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 5
الاستفتاء 35
مفتی ولی حسن صاحب کا فتوی 37
صاحب کا فتوی 45
فتوی دار العلوم کراچی 46
فتوی مولانا سلیم خان صاحب 105
توقیعات علمائے سندھ 106
فتوی 108
فتوی سرحد و شمالی علاقہ جات 122
آزاد کشمیر 131
بلوچستان 132
دار العلوم دیو بند 132
فتوی مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور 134
فتوی جامعہ ازہر 135
فتوی شیخ عبد الرحمن بن باز 136
ضمیمہ فتوی مفتی ولی حسن 138

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply