عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد ایک تجزیاتی مطالعہ ۔پارٹ 2

عصر حاضر میں اجتماعی ایک تجزیاتی مطالعہ ۔پارٹ 2

 

مصنف :

 

صفحات: 379

 

اصطلاح فقہاء میں‘ شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص کا شرعی معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و پر دسترس رکھنے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور کی روشنی میں ان کا پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم کے ممتاز اور جید کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زیر بحث کوفنی نقطہ سے سمجھنے میں کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس قسم کی ملی جلی فکری اوراجتہادی کوششوں سے مسئلہ اور زیادہ نکھر جائے گا، اور تعیین و اطلاق کی ایک لائق عمل شکل اختیار کر لے گا۔اسی طرح کا ایک اجتماعی اور شورائی ہی فقہ کی معاصر ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے اورڈاکٹر کے بقول اس اجتماعی کے نتیجے میںایک کوسمو پولیٹن یا اجتماعی امت مسلمہ کوحاصل ہو سکتی ہے جسے فقہ شافعی ‘فقہ حنبلی ‘فقہ مالکی یا فقہ حنفی کی بجائے ’فقہ اسلامی‘ کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور جو سب اسلامیہ کے نزدیک قابل قبول ہو گی۔لیکن اس اجتماعی کے ضمن میں کو دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ایک یہ کہ اجتماعی اجتہاد کی صورت علماء کی کسی بھی مجلس یا ’لجنۃ‘ کا اصل مقصود حکم الہی کی تلاش ہو اور باہمی مفاہمت اس مقصد پر کسی طور بھی نہ آنے پائے اور دوسری بات یہ کہ اس اجتماعی جتہاد کو اجماع کا درجہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی تقنین سازی کرتے ہوئے اس کے مخالف رائے رکھنے والے مجتہدین پر جبرااس کا نفاذ نہ کیا جائے۔
اجتماعی کے موضوع پر ابھی تک ایک ہی کتاب سامنے آئی ہے جس کا نام ’ الاجتہاد الجماعی فی التشریع الاسلامی‘ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر عبد المجید السوسوہ کی ہے۔ڈاکٹر السوسوہ کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد میں اجتماعی اجتہاد کی شرعی حیثیت اور کے بار ے میں ایک بحث کاآغاز ہوگیا۔بعض علماء نے اجتماعی اجتہاد کے میں اور بعض نے اجتماعی کی مخالفت میں لکھے ہیںاور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الضعیفۃ ‘ میںالسوسوہ کی کتاب میں موجود بعض اصولی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ بعض دوسرے مثلا مصطفی الزرقا،مصطفی الشلبی ، موسی ،محمود شلتوت ،احمد شاکر، ڈاکٹر زکریا البری ،ڈاکٹر محمد عمارۃ، ڈاکٹر محمد الدسوقی ،شیخ عبد الامیرقبلان لبنانی ،،بدیع الزمان النورسی اور مفتی شام علامہ شیخ احمد کفتارونے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اجتماعی کی تائید میں لکھاہے۔ اس سلسے میں قابل ذکر کام پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام اجتماعی اجتہا د کے تصور و ارتقاء پر ایک سیمینار کا انعقادہے۔ جس میں ملک بھر سے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور جید نے شرکت کی اور اجتماعی اجتہاد سے متعلق اپنے اور خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے مقالہ جات انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے تحت کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔زیر مقالہ بھی اجتماعی اجتہاد کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی۔ ایچ۔ڈی (۲۰۰۳۔۲۰۱۰ئ)کے مرحلہ میں مکمل ہوکر جمع ہو چکا ہے ۔
 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply