اضواء التوحید

اضواء التوحید

 

مصنف : ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

 

صفحات: 887

 

میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ‘ ہے بلکہ یہ تو بندوں پر کا بھی ہے۔ آج کے پُر فتن دور میں کسی بھی کی سب سے بڑی خوشبختی  ہے کہ وہ اللہ کی اور اکرم الاولین والآخرین محمد رسول اللہﷺ کی مطہرہ ومبارکہ کے ساتھ صحیح اور راسخ تعلق قائم کرے‘ اور خاص کر جب کی ایک خاصی تعداد وبدعت کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہو اور عقیدہ سے تعلق ہی در حقیقیت مقصدِ تخلیق کی تکمیل ہے اور عقیدۂ توحید اصلِ اسلام‘ عین اور اساسِ اسلام ہے۔ اور عقیدۂ توحید کی فلاح کے ساتھ دینا میں بھی سعادت وسیادت اور استحکام کا علمبردار ہے۔زیر کتاب بھی عقیدۂ پر ایک جامع کتاب ہے‘ اور اس کے مالہ وما علیہ پر نفیاً اور اثباتاً مفصل گفتگو ہے‘ اور مشرکانہ عقائد کے اثبات کے لیے مشرکوں کے کی غلط تحریفات کی بھی چاک کیا گیا ہے‘  ‘ اسلوب کے لحاظ سے سلفی فکر کی پوری ترجمانی  کرتی ہے‘ تمام کے اثبات کے لیے‘ نیز ملحدین کے کے رد کے لیے وحدیث  کے دلائل پر اکتفاء کیا گیا ہے‘ اور قرآنی کی کے لیے کلام سے پوری پوری رہنمائی لی گئی ہے۔اس کتاب  میں سب سے پہلے کی اہمیت اور اقسام اور چند ابحاث توحید کے بیان کے بعد مصنف﷾ نے  چار باب قائم کیے گئے ہیں اور  پہلے باب  میں عبادت سے متعلقہ   کا ذکر ہے‘ دوسرے باب میں کی ابحاث‘ تیسرے باب میں وصالحین کی عبادت سے متعلقہ‘ چوتھے باب میں بتوں سے متعلقہ ‘ پانچویں باب میں الامثال سے متعلقہ‘ چھٹے باب میں فتنۂ قبور سے متعلقہ‘ ساتویں باب میں واسطہ ووسیلہ سے متعلقہ‘ آٹھویں باب میں شرک کی قباحتوں سے متعلقہ‘ نویں باب میں مشرک پیشواؤں اور ان کے پَیروکاروں سے متعلقہ اوردسویں باب میں باری تعالیٰ کے لیے دلائل سے متعلقہ تفصیلی گفتگوکی گئی ہے۔ زیرِ کتاب’’اضواء التوحید‘‘ مولانا الشیخ عبد الغفور دامنی﷾ کی تالیف لطیف ہے جو کہ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل اور بلوچستان جیسے دور افتا علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہے کہ  اللہ تعالی مصنف کی خدماتِ کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ (فضیلۃ الشیخ ناصر﷾) 22
تصدیر(حافظ صلاح الدین یوسف﷾) 29
عرض مولف 32
اظہارتشر 32
وجہ تالیف 33
تمہید 33
اہمیت 34
قباحت 34
مشاہدات مراکزشرک 35
توحیدوشرک کی حقیقت سےعدم واقفیت 36
کتمان سےبرات 38
قارئین سےالتماس 39
میں صحیحہ کااہتمام 41
مقدمۃ المولف 43
فہرست ابواب اضواءالتوحید 44
علم کی فضیلت 45
کی تعریف 45
کالغوی معنی 46
کی اصطلاحی مفہوم 46
کی اقسام 46
ربوبیت 46
اسماءوصفات 48
ماتحت الاسباب 48
ایک ذہنی مغالطہ 48
اس کاازالہ 48
نافوق الاسباب 52
زندہ اولیاءکی دعاؤں کی قبولیت سےدھوکہ 53
الف 53
ب 54
ج 56
ھ 57
ایک ضروری وضاحت 58
الف 58
ب 58
کسی چیز سےحاجات کاپوراہونااسکی مشروعیت کاسبب نہیں بن سکتا 59
حرام اورممنوعہ دعاؤں سےحاجات کےپوراہوجانےکےاسباب 62
ایک اشکال 62
ازالہ اشکال 63
اضطرار 63
دنیاوآخرت کاخسارہ 64
فتنہ 65
سےحرمان 67
وقتی فوائد کاحصول عبادت غیراللہ کےجوازکی دلیل نہیں بن سکتا 77
الف 78
ب 79
ج 79
د 83
و 85
ھ 86
تعالیٰ کبھی کبھی کفارکی دعاؤں کوبھی قبول کرلیتاہے 92
غلوسےمنع 99
برصغیر کےچند غالیوں کےغلو کےنمونے 103
خواجہ غلام فرید کی شان میں غلو 113
پیرجماعت علی شاہ کی شاہ میں غلو 114
معین الدین چشتی اجمیری کی شان میں غلو 116
تجانیوں کاغلو 118
صاحب الخیرات کاغلو 122
تعالیٰ کےعلم کومحدود اورمنتہی ماننا 126
تعالیٰ کی صفت صلاۃ اورصفت رحمت کومحدود ومنتہی ماننا 128
رسول ﷺ کےاسماء مبارکہ مین غلو 134
دوسواکی اسماءاوتوحید 137
غوث 137
غیاث 137
شاہ ولی اللہ ﷫کافیصلہ 139
کاشف الکرب 139
کریم کاحتمی فیصلہ 145
رافع الرتب 146
بوصیری کاغلو 149
ایک شبہ 151
اس کاازالہ 151
عبادت کی بیان میں 155
تمہید 155
لفظ عبادت کامفہوم 156
عبادت کالغوی معنی 156
عبادت کااصطلاحی مفہوم 157
عبادت کی قسمیں 158
دعائے کےعبادت ہونےکی دلیل 158
خوف کےعبادت ہونےکی دلیل 159
خوف کی اقسام 159
سری خوف 159
خوف ترک واجب 162
طبعی خوف 166
رجاء کےعبادت ہونےکی دلیل 167
توکل کےعبادت ہونیکی دلیل 168
رغبت رھبت اورخشوع کےعبادات ہونےکی دلیل 169
خشیت کی عبادت ہونےکی دلیل 170
انابت کےعبادت ہونےکی دلیل 171
استعانت کےعبادت ہونےکی دلیل 172
استعاذہ کےعبادت ہونےکی دلیل 173
استغاثہ کےعبادت ہونےکی دلیل 174
ذبح اورقربانی کےعبادت ہونےکی دلیل 174
نذرکے عبادت ہونےکی دلیل 175
استغاثہ اوراستعانت کی شرائط 177
کےبیان میں 180
کالغوی معنی 181
کااصطلاحی معنی 181
کےاقسام 182
فی العلم 182
فی ادعاء 182
فی التصرف 183
فی العاجہ 183
شر ک فی العلم کےبیان میں 184
پہلی بحث 184
غیب کی کنجیاں تعالیٰ کےپاس ہیں 185
ایک سوال 186
جواب 186
آسمان وزمین کی مخلوقات غیب نہیں جانتی 187
کاعلم صرف تعالیٰ ہی کو ہے 189
الف 192
ب 192
ج 192
د 192
ھ 192
ی 192
غیب تعالی کی صفت خاصہ ہے 193
(1) 194
(2) 194
(3) 194
جنہیں کےعلاوہ پکاراجاتاہے وہ اپنےپکارنے والوں کی پکار سےبےخبر ہیں 195
ایک قبرپرست سےمیراذاتی مطالمہ 196
مغیات خمسہ کابیان 201
غیب کےمتعلق سیدہ عائشہ ؓ کاعقیدہ 203
ان پانچ مخفی علوم کےمتعلق مفسرین کےاقوال 203
کسی اورغیبی علم مین فرق 204
تابعی سیدنا مجاہد ﷫کاقول 205
تابعی سیدناقتادہ ﷫کاقول 205
سیدناامام حنیفہ ﷫کافیصلہ 206
تعالیٰ کےساتھ مغیات خمسہ کےاختصاص کاسبب 207
تخصیص المعلوم بالعالم 207
تخصیص العالم بالمعلوم 208
آیت مذکورہ کی بالتفصیل تشریح 210
ایک مغالطہ 211
ازالہ مغالطہ 211
آلات وسائل جدید ہ سےمطلق طورپر رحم کادہ کی کیفیت معلوم کرنےکادعوی باطل ہے 211
آلات کےذریعے سےعلم بذات خود غیب کی تعریف کےمنافی ہے 212
حمل کےمختلف مراحل 212
نطفہ 212
غیض 212
مرحلہ نمود وازدیاد 213
حمل کےمراحل کاثبوت سے 214
دوسری بحث 217
اولوالعزم رسولوں سےمراد کونسے رسول ہیں 218
اولوالعزم رسولوں سےغلم غیب کی نفی کابیان 221
سیدنانوح﷤سےعلم غیب کی نفی 222
حقیقی بیٹے کےکفروشرک سےلاعلمی 222
سیدنانوح﷤ اپنےبیٹےکےکفرسےآگاہ کیوں نہ تھے 224
نتیجہ کلام 225
جدالانبیاء سیدناابراہیم ﷤ سےعلم غیب کی نفی 226
واقعہ کاحاصل 227
(1) 227
(2) 228
(3) 228
سیدناموسی ﷤سےعلم غیب کی نفی 229
آیت کاماحصل 230
قابل غورنتیجہ 232
سیدناعیسیٰ ﷤ کاعلم غیب سےلاعلمی صاف اظہار 232
خاتم الرسل محمد ﷺ کاعلم غیب سےلاعلمی کااعلان 235
غالیوں کےلیے لمحہ فکریہ 236
رسول اللہﷺ کااپنےلیے غیب کی صفت سےایک اورانکار 237
راجح قول کی تشریح 238
رسول ﷺ کاان شاءاللہ کہنابھول گئے 241
سبب نزول 241
ایک مستقل 244
مذکورہ سےحاصل ہونےوالے فوائد 245
(1) 245
(2) 246
رسول ﷺ کی طرف سےاپنےمتعلق غیب کی نفی 246
آیت میں تین اعلان 247
ایک قابل غورنکتہ 247
آیت کاسبب نزول 247
امام نسفی ﷫ کی دلکشاں 248
جملہ تفسیری کاماحاصل 249

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
16.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...