فضل الباری فی تکمیل صحیح البخاری (صحیح بخاری کے آخری باب کی شرح)

فضل الباری فی تکمیل صحیح البخاری (صحیح کے آخری باب کی شرح)

 

مصنف : ڈاکٹر فضل الٰہی

 

صفحات: 378

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور  ان کی صحیح کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری۔بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  نے   مختلف انداز میں  کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ میں  بھی  صحیح بخاری  کے  متعدد تراجم ،فوائد اور شروحات موجود ہیں جن میں علامہ وحید الزمان اور مولانا داؤد راز رحمہما کے تراجم وفوائد   اور صحیح  کی نئی  شرح ’’ہدایۃ  القاری ‘‘ از شیخ الحدیث  حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ  بڑی اہم شروح ہیں ۔بعض اہل نےصحیح بخاری کے مختلف  ابواب کی الگ سے بھی شرح کی ہے۔ جیسے صحیح بخاری   کی  ’’کتاب التوحید‘‘  کی وعربی میں الگ سے شروحات موجود ہیں ۔ ہرسال کی اختتامی تقریب کے موقع     نامور شیوخ الحدیث صحیح بخاری کی آخری پر   دروس بھی ارشاد فرماتے ہیں ۔یہ دروس مرتب  ہوکر  افادۂ عام  کےلیے رسائل وجرائد  میں  بھی  شائع  ہوتے ہیں ۔ زیر کتاب ’’ فضل الباری  فی تکمیل صحیح البخاری صحیح کےآخری باب کی شرح‘‘شہید ملت  علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے  برادرگرامی   محترم  پروفیسر ڈاکٹر  فضل الٰہی حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) کی  تصنیف ہے۔جس میں  انہوں نے  امام رحمہ کے حالات زندگی، امام رحمہ اللہ کے حوالے سے 32 دروس  وفوائد، اور اس کی قدر ومنزلت،صحیح بخاری  کےآخری باب کے عنوان کے تحت قدرے تفصیلی شرح،آخری کےراوی سیدنا  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کےمتعلق 14 باتیں،آخری حدیث کی  تفصیلی شرح  اور تسبیح وتحمید کی شان وعظمت کے متعلق 23باتیں فاضلانہ وعالمانہ انداز میں پیش کی ہیں۔شاید یہ صحیح بخاری کےآخری باب کی الگ  سے  مرتب شدہ پہلی تفصیلی شرح ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر  فضل الٰہی حفظہ اللہ کی   تحقیقی وتصنیفی،تبلیغی وتدریسی جہود کو قبول فرمائے اور  انہیں  وعافیت والی زندگی دے ۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 33
تمہید 33
خاکہ کتاب 36
شکر و 37
مبحث اول امام 41
حالات زندگی 41
نام و نسب 41
ولادت اور جائے ولادت 42
طلب 43
شیوخ 45
روایت 45
تصنیف و تالیف کا آغاز 45
راویان 46
جسمانی ساخت اور بودوباش 46
ذریعہ معاش 47
وفات 47
ب امام علمائے امت کی میں 48
شیوخ کے 48
امام قتیبہ بن سعید کے دو 48
بن بشار کے دو 49
امام سرماری کا  قوال 49
امام علی بن مدینی کا قول 50
امام یحی بن جعفر بیکندی کا قول 50
معاصرین اور شاگردوں کے 51
امام مسلم کا قول 51
امام داری کے دو 51
امام ابن خزیمہ کا قول 52
علمائے متاخرین کے 53
علامہ عینی کا قول 53
حافظ سخاوی کا قول 53
علامہ ابن عابدین شامی کا قول 54
شیخ احمد علی سہارنپوری کا قول 54
کے متعلق حافظ ابن حجر کا بیان 55
ج امام میں دروس و فوائد 56
تمہید 56
حلال کی برکات 58
ماں کی کی عظیم برکت 59
حاصل شدہ بینائی میں آثار برکت 60
کریم سے شدید تعلق 62
الف ۔شدید مخالفت کے موقع پر 64
ب ۔ لوگوں کی تنقید سے آگاہی پر 67
ج ۔سازشوں اور مخالف تدبیروں کے دور میں 67
مجلس کی ان کے ہاں شان و عظمت 69
طلب کا مثالی طریقہ 70
شدید اہتمام والی بات کا نہ بھولنا 70
طلب کے لیے غیر معمولی جذبہ اور انتھک جدوجہد 71
ضرورت کی ہر بات کے کتاب و میں ہونے کا عقیدہ 76
پر عمل کی چلتی پھرتی 80
پر عمل کے لیے غیر معمولی اہتمام 84
میں خشوع و خضوع 85
کی صفائی و ستھرائی کا شدید اہتمام 87
دو 87
سرحدوں کی حفاظت کے لیےخود کو تیار رکھنا 89
دو مزید دروس 90
صرف وعدہ کی نہیں نیت کی بھی پاسداری 91
لوگوں کے کا شدید احساس 93
دو 93
لوگوں کے نفع کی خاطر دوڑ دھوپ 98
جود و سخا 99
بہت زیادہ احسان کرنے والا 107
دو 107
اہل اقتدار سے بے نیازی 109
دو مثالیں 109
ایک مزید درس 112
قوی و ضعیف کی ان کے ہاں برابری 113
ایک جاننے والے کی 113
خادم کے آرام کا خیال 114
تہمت والی بات سے نہایت دوری 116
دوشواہد 116
کم خوری 121
تین شواہد 121
شدیدحاجت کے باوجود سوال سے گریز 124
مدح و ثنا اور رد و قدح سے بے نیازی 125
شدید مخالفت کے باوجود نہ چھپنانا 126
اذیت پرصبر 128
خصوصی صفات 130
اولیاء سے دشمنی کی شدیدسزا 132
دو شواہد 132
اہل کے مخالفین کی ندامت اور اقرار حق 135
خدمت کا توفیق الہٰی سے نصیب ہونا 136
خدمت کا عظیم دنیوی صلہ 137
سات کے بیانات 137
اہل کے دلوں میں ان کی عظمت 139
ج۔ صحیح الخاری 141
تمہید 141
صحیح کی تصنیف کے تین اسباب 142
کتاب کا نام اور اس کی شرح 144
صحیح البخاری کی تالیف میں غیر معمولی اہتمام 147
صحیح البخاری کی قدر و منزلت 154
مبحث دوم 161
صحیح البخاری کے آخری باب کی شرح 161
تمہید 161
صحیح البخاری میں موجود کتابیں 161
صحیح البخاری کے ابواب 163
کتاب التوحید کا آخری باب 169
باب قولہ تعالیٰ 169
باب کے چار فوائد 169
باب کو آخر میں لانے کی سات حکمتیں 170
امام کے موقف کی حقانیت 177
دو نصوص 177
مفسرین کے بیان کردہ معانی میں سے دو 181
مصدر کے بطور وصف لانے کی 188
اعمال کیسے تولے جائیں 197
عمل کرنے والے کا وزن کیا جانا چاہیے 202
اعمال کا ہی وزن کیا جانا چاہیے 204
کفر کے علاوہ گناہ سے خالی اورنیکی سے محروم لوگ 210
گفتار کی اہمیت اور سنگینی 212
سندالحدیث 227
متن کی شرح 298
تسبیح و تحمید کی شان عظمت 328

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...