اسلام کے قلعے ( مدارس دینیہ عربیہ ) اور علماء ربانی کی ذمہ داریاں

کے قلعے ( دینیہ عربیہ ) اور ربانی کی ذمہ داریاں

 

مصنف :

 

صفحات: 70

 

دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ، عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ نبی  کریم ﷺنےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے  ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں صحابہ  کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور مجید کی حاصل کرتے تھے  یہ کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں بھی آپﷺ نے کے ایک جانب ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی   کرام  کو مجید اور کی دیتے تھے۔یہ کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں ’’اصحاب صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ ایسے اور حلقات ِ سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ ،ترویج   اور تعلیماتِ اسلامیہ کو عام کرنے  میں جن کی نے  نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر کتاب’’ کے قلعےمدارس دینیہ اورعلماء ربانی کی ذمہ داریاں‘‘سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے تین ( کےقلعے،عربی ، ربانی کی ذمہ داریاں) کا مجموعہ ہے۔اولاً یہ تینوںمضمون ندوۃ العلماء کےترجمان رسالہ’’ الندوۃ‘‘ میں جنوری 1940ء اور دسمبر1942ء میں شائع ہوئے تھے۔بعد  ا زاں  1990ء میں ان تینوں مضامین کو  یکجا کر کے  کتابی صورت میں شائع کیا  گیا۔ سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے یہ مضامین مدارس دینیہ عربیہ کے ذمہ دراوں اور کارکنوں کے دلوں میں نیااعتماد اور اطمینان اوران کے اندر فرائض منصبی کےادا کرنے کا نیا جذبہ وتحریک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ  متشککین معترضین کو حقیقت پسندی اور زیادہ سنجیدگی وگہرائی کے ساتھ مدارس کی ہرزمانہ میں ضرورت وافادیت پر غور کرنے اور کااعتراف کرنے پر آمادہ کرنے والے ہیں ۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...