اسلامی بینکاری کی حقیقت

بینکاری کی حقیقت

 

مصنف : حافظ ذو الفقارعلی

 

صفحات: 66

گزشتہ چند سالوں کے دوران بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں بینکاری کے نام پرکام ہور ہا ہے ۔ان میں بعض بینک تو مکمل طور پر اسلامی بینک کہلاتے ہیں ۔اور بعض بنیادی طور پر سودی ہیں ۔ایسی صورتِ حال میں رائج الوقت اسلامی بینکاری کا بے لاگ تجزیہ کرنےکی ضرورت ہےتاکہ معلوم ہوسکےک کہ یہ شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟زیر نطر کتابچہ”اسلامی بینکاری کی حقیقت؟” حافظ ذوالفقار ﷾ (شیخ الحدیث ابوہریرہ اکیڈمی ،لاہور)کا تالیف شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے موجودہ اسلامی بینکوں کےطریقہ کار اور ان میں رائج مالی معاملات کا شرعی اصولوں کی روشنی میں منصفانہ جائزہ لے کر دینی نقطہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔موصوف حافظ صاحب کی اسلامی کے حوالے مزید دو کتابیں بھی طبع ہوچکی ہیں اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔ تعالی موصوف کے وعمل اور زورِ قلم میں برکت فرمائے اور ان کی مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 3
مقصد تحریر 5
بینکوں پر تنقید کا سبب 6
بینکوں میں رائج طریقہ ہائے تمویل کی حقیقت 13
مضاربہ 13
مضارب کی حیثیت 14
مضاربہ کی شرطیں 15
بینکوں میں رائج مضاربہ کی حقیقت 19
مرابحہ 21
مرابحہ کی ضرورت اور اس کے بنیادی 22
مرابحہ میں ضمنی اخراجات کا حکم 25
بیع مرابحہ اور بینکاری 25
بینکوں کا نقطہ 33
ملکیت منتقل ہونے کے طریقے 36
شرکۃ العنان کیا ہے؟ 41
بینک اپنا حصہ کس قیمت پر فروخت کرتا ہے 44
تورق 45
تورق کا شرعی حکم 47
بینکوں میں تورق کا استعمال 48

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...