اسلامی نظام تعلیم

نظام

 

مصنف : سید ریاست علی ندوی

 

صفحات: 178

 

  کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے کے بدلے ان پڑھ کو یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ  روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے  نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر کتاب “ نظام تعلیم” دار المصنفین کے قابل اور محنتی  ریسرچر سید ریاست علی ندوی صاحب کی تصنیف ہے ،جوانہوں پر مبنی کتب کی ورق گردانی کے بعد مرتب فرمائی ہے۔بارگاہ الہی میں ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 1۔ 2
نظام 3۔11
قدیم ماخذ میں فن پر مباحث 5
فن پر سب سے پہلی کتاب 7
المتعلم 7
تذکرۃالسامع والمتکلم فی العالم والمتعلم 8
تذکۃ السامع کےحواشی 10
مقالہ کے مآخذ اور عنوان مباحث 10
کاتعلیمی نصب العین 12۔23
کی میں کا مقصد 12
و علما کے مجید میں 12
و اور تحصیل علم اور علما کے میں 15
اور تحصیل علم کی فضیلت میں اور تابعین وعلمائے کے آثار و 18
بزرگی اور بڑائی کا مصداق بننے کے لیے چند شرطیں 22
اخلاق وسیرت کی ترتیب 23۔ 36
کواسلام کے تعلیمی نصب العین کی تلقین 25
نصب العین کی بلندی سے کی بلندی 27
بعض شبہات کا ازالہ اور میں دیگر علوم کی اہمیت 28
کی و تحصیل انسانی فطرت میں طبعی ہے 33
نظام کے تین دور 37۔ 50
پہلا دور 37
پہلے دور کےتعلیم خصوصیات 40
دوسرا دور 41
دوسرے دور کے خصوصیات 43
تیسرا دور 43
تیسرے دور کے خصوصیات 44
عہد کے مختلف دوروں میں اسلامی ملکوں میں کےاہم مراکز 45
نظام و دار الاقامہ 50۔ 90
درسگاہ کی عمارتیں 50
سب سے پہلا مدرسہ 50
کا پہلا مدرسہ 52
نظام کا مذہبی ہونا او رقیام کی شرط اول 52
مدرسوں اور گاہوں کی مختلف قسمیں 57
حلقوں میں علمائے عصر کی و کثرت تلامذہ 59
اوقاف 61
دار الاقامہ 63
کےاسلامی مدرسوں میں دار الاقامے 64
وظیفے کے مدرسوں میں 66
اساتذہ کا قیام دار الاقامہ میں اور ان کے قیام کےآداب 66
دار الاقامہ میں کی کثرت 68
دار الاقامہ کےچند قواعد 69
دار الاقامہ کے کو چند وتہذیب کی تلقین 69
کےکتب خانے 73
کے شفا خانےذ 73
ایوان درس 73
مقامات تدریس 74
مدرسوں کے عہدہ دار و ملازمین 74
صدر اساتذمہ 73
مرتب مدرسہ 75
شیوخ و اساتذہ 75
اساتذمہ کا 75
اساتذمہ کا انتخاب 75
اساتذہ کی معاشی حالت 76
معید 77
نقیب درس 79
خازن 79
دربان 79
بچوں کے آغاز کی عمر 80
مدت و تحصیل 81
علما اور کی جسمانی ریاضت 83
نزہت گاہوں کی سیر اوردوسرے تفریحی مشاغل 85
طریقہ تادیب 86
سالانہ امتحان 89
تعطیل 89
موسمی تعطیلات 90
اساتذہ کے فرائض 91
اساتذہ کی ذاتی واوصاف 91
خوف 92
وقار ومتانت 92
کی پابندی 93
اخلاق حسنہ اختیار کرنا 94
اخلاق رذیلہ سے اجتناب 94
احترام 95
چھوٹے پیشوں سےاجتناب 96
تہمت کے موقعوں سے اجتناب 96
مشاغل کی پابندی اور اوقات کی حفاظت 97
مطالعہ کا استمرار 97

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4Mb ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...