اسلامی تہذیب کی تفہیم جدید

تہذیب کی تفہیم جدید

 

مصنف : ڈاکٹر ضناوی

 

صفحات: 122

 

ایک مکمل ضابطہ اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک برپا ہو جاتا ہے۔ کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ، اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا صرف تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر کتاب “شان اسلام”محترم ڈاکٹر   ضناوی کی تصنیف”مقدمات فی فہم الحضارۃ الاسلامیۃ” کا اردو ہے۔ ترجمہ  محترم محمد سعید عالم قاسمی صاحب نے کیا ہے۔یہ اصلا ایک مقالہ ہے جو آئی آئی ایف ایس او کی چوتھی کانفرنس منعقدہ ریاض میں پڑھا گیا۔اس مقالہ میں مولف موصوف نے تہذیب پر گرانقدر اصولی بحث کی ہے۔ تعالی سے ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگا میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حرفے چند 4
پیش لفظ 8
فصل 1 تہذیب اصطلاح اور مفہوم 12
فصل 2 تہذیب کے ضوابط 30
اور تہذیب 39
تہذیب اور نظام 48
ریاست اور تہذیب 53
تہذیب کی تشکیل میں صالح قیادت کا رول 58
خالص تہذیب کا ایک حصہ ہے 61
فصل 3 تہذیب میں توقف کی صورت 69
فصل 4 اسلامی  تہذیب کا چیلنج 80
فصل 5 تہذیب کو رہنمائی کے مرحلہ میں  لانے کے لیے ہر اول دستے کا کردار 106

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...