اسلامی ریاست

ریاست

 

مصنف :

 

صفحات: 740

 

ایک کامل اور مکمل دستور ہے جہاں انفرادی زندگی میں فردکی پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے کا نظامِ وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے نظامِ میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، کا جس طرح اپنا نظامِ ہے اور اپنے اقتصادی ہیں اسی طرح کا اپنا نظامِ وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ نے اپنی پوری میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی انداز نہیں کیا۔ کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی  جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی  دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار  صرف تعالیٰ کےلیے  خالص  ہو جائے اور  اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔ کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩  اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ ریاست قائم  بھی کی  اور اسے  معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور کا اسی کانتیجہ  ہے کہ  ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور نبویہ میں جس طرح اخلاق  اور حسنِ کردار کی موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت، اور کے بارے  میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب’’ ریاست‘‘مفکرِ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی  کی  تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے  بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کما حقہ کوشش کی ہے ۔ ایک طرف انہوں نے اسلام کےپورے  نظام کودینی اور عقلی کےساتھ کی اصل کودورحاضر کی  میں پیش کیاہے ۔ ان کی تحریرات  کےمطالعہ سے قاری کوزندگی کے بارے  میں اسلام کے نقظہ نظر کا کلی حاصل  ہوتا ہے اوروہ  پوری کو بیک  نظر دیکھ سکتا ہے۔انہوں نےہر مرعوبیت سے بالا تر ہوکر دورحاضرکے ہر فتنہ کا مقابلہ کیا  اور کے  نظام زندگی کی برتری اورفوقیت کوثابت کیا ہے۔پھر یہ بھی بتایا ہےکہ  اس نظام کودور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا   ہے  اور آج کے اداروں کوکس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتاہے ۔انہوں نے ریاست کے ہمہ پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئےدور جدید کے تقاضوں کوسامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیاہے ۔کتاب  ہذا دراصل  مولانامودودی کے  منتشر  رسائل ومضامین کامجموعہ ہے جسے  پروفیسر خورشید احمد صاحب (مدیر ماہنامہ )نے بڑے حسن ترتیب سے  مرتب کیا ہے۔ تعالیٰ مصنف ومرتب کی  اشاعتِ کےلیے  کی جانے والی  تمام کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
دیپاچہ منصنف 15تا16
مقدمہ   خورشید احمد 17تا36
ریاست اور
دود جدید اور ریاست
عالم میں ریاست کی جدوجہد
کچھ اس کتاب کے بارے میں
حصہ اول : کا فلسفہ
باب1: وسیاست 36
(1)
کا تصور : مذہب اور تہذیب ۔ ہماری میں 41تا51
جاہلی تصوبر کے اثرات
قرآنی ذہن
(2)
ریاست کیوں ؟ 52تا60
(3)
اور اقتدار 61تا79
کا مشن
رواداری کا غلط تصور اور اس کا جائزہ
حضرت یوسف ﷤اور اقتدار حکومت
(4)
و کی تفریق کا باطل نظریہ اور قصہ یوسف سےغلط استدلال 80تا84
(5)
تفریق و کا دفاع اور اس کا جائزہ 85تا117
دفاع
کیا میں تناقض ہے ؟ کا مفہوم
تفریق و کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ
چند بنیادی سوالات اور ان کا جواب
قصہ یوسف سے غلط استدلال
ہجرت حبشہ سے غلط استدلال
باب 2: کا سیاسی نظریہ 188
(1)
بنیادی مقدمات 122تا135
انبیاء ؑ کا مشن
اور رب کا مفہوم
(i) راست دعوے دار
(ii) بالواسطہ دعویدار
فتنہ کی جڑ
ابنیاءؑ کا اصل اصلاحی کام
(2)
نظریہ سیاسی کےاولین 136تا138
(3)
ریاست کی نوعیت 139تا 149
ریاست کی نوعیت
ریاست کا مقصد
ریاست کی خصوصیات
الف۔ایجابی اور ہمہ گیرریاست
ب۔ جماعتی اور اصولی ریاست
(4)
نظریہ اور اس کے سیاسی مضمرات 150تا155
جمہوریت کا حیثیت
باب 3: قرآ ن کا فلسفہ 156
علم کے بنیادی سوال ۔ چند بنیادی حقیقتیں ۔ تصور 157تا205
اور قانون
حکومت کی ضرورت و اہمیت
تصور حاکمیت و
اطاعت و وفاداری
باب4: معنی 206
لغوی بحث۔ میں فرمانروائی کا مفہوم ۔ قرآنی اشارات 208تا 217
الہٰی سے مراد کیا ہے ؟
باب5: تصور قومیت 218
(1)
قومیت کےغیر منفک لوازم 220تا260
قومیت کےعناصر ترکیبی
قومیت کے عناصر پر ایک عقلی تنقید
کا وسیع نظریہ
عصبیت اور کی دشمنی
عصبیت کے خلاف کا
قومیت کی بنیاد
کا طریق جمع وتفریق
قومیت کی تعمیر کس طرح ہوئی ؟ مہاجرین کا اسوہ
انصار کا طرز عمل
رشتہ پر مادی علائق کی
جامعہ اسلامیہ کی اصلی
رسول ﷺ کی آخری
کے لیے سب سے بڑا خطرہ
مغرب کی اندھی تقلید
(2)
قومیت کا حقیقی مفہوم 261تا280
استدراک
حصہ دوم : نظم مملکت : اور نظام کار
باب6: کے دستوری کے مآخذ 282
(1)
مجید 286تا291
(2)
رسول 292۔308
رسول بحیثیت معلم و مربی
رسول بحیثیت شارح کتاب
رسول بحیثیت پیشوا و نمونہ تقلید
رسول بحیثیت شارح
رسول بحیثیت قاضی
رسول بحیثیت حاکم و فرمانروا
کے مآخذ ہونے پر امت کا اجماع
(3)
کا تعامل اورمجتہدین امت کے فیصلے 309تا311
(4)
اور موانع 312تا316
اصطلاحات کی اجنبیت
قدیم فقہی کی نامانوس ترتیب
نظام کا نقص
بلا کا دعویٰ
ضمیہ۔ رسول بحثیثت مآخذ 317تا329
باب7: ریاست کی بنیادیں 330
(1)
حاکمیت کس کی ہے ؟ حاکمیت کا مفہوم 334تا342
حاکمیت فی الواقع کس کی ہے ؟
حاکمیت کس کا ہے ؟ حاکمیت کس کی ہونی چاہیے ؟ کی قانونی حاکمیت
رسول اللہﷺ کی حیثیت
ہی کی سیاسی حاکمیت
جمہوری
(2)
ریاست کے حدودعمل 343تا344
(3)
اعضاء ریاست کے حدود عمل اور ان کا باہمی تعلق 345تا355
مجالس ساز کےحدود
انتظامیہ کے حدود عمل
عدلیہ کے حدود عمل مختلف اعضائے ریاست کا باہمی تعلق
(4)
ریاست کا مقصد وجود 356تا357
(5)
حکومت کی تشکیل کیسے ہو ؟ صدر ریاست کا انتخاب 358تا369
مجلس شوریٰ کی تشکیل حکومت کی شکل اور نوعیت
(6)
اولی الامر کے اوصاف 370تا 373
(7)
شہریت اور اس کی بنیادیں 374تا377
(8)
شہریت 378تا 381
(9)
شہریوں پر حکومت کے 382تا 383
باب 8: دستور کی بنیادیں 384
(1)
حاکمیت الہٰی 388تا 390
(2)
مقام رسالت 391تا 392
(3)
تصور 393تا 395
(4)
مشاورت 396تا 398
(5)
انتخاب 399تا 401
(6)
عورتوں کے مناصب 402
(7)
حکومت کامقصد 403تا 404
(8)
اولی الامر اور اطاعت 405تا 409
(9)
بنیادی اور اجتماعی عدل 410تا 414
(10)
فلاح عامہ 415تا 417

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...