خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان

خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان

 

مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

 

صفحات: 396

 

برصغیر  میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی  طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے  علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف  متوجہ کیا،ان کے لیے  خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب  محمدصدیق  حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی  وعلمی  موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ  لکھی  ہو۔حدیث پاک کی ترویج  کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا ـ اور اس پر معقول انعام مقرر کیاـ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا ـجہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں ـدوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا ـ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر نظرکتاب’’ابقاء المنن بإلقاء المحن  ‘‘ سید نواب صدیق حسن خان قنوجی کی خود نوشت سوانح حیات ہے  جسے  نواب صاحب  نے  بعض جليل القدر اسلاف  کے تتبع میں مرتب  کیا  جس کی انہوں نے آغاز میں صراحت  کی  ہے ۔  مولانا محمد عطاء اللہ حنیف  ﷫ کے ایما  پر  مولانا خالد سیف   ﷾ نے اس کی تسہیل اور    قاری نعیم الحق نعیم ﷫نے  تنقیح وتصحیح اور نظر ثانی  کا کام  بڑی محنت اور لگن سے  سرانجام دیا ۔نواب صاحب  کی اس تسہیل شدہ  خودنوشت سوانح حیات کو دار الدعوۃ السلفیہ  نے تقریبا تیس سال قبل  طباعت سے آراستہ کیا  ۔ یہ کتاب  عوام وخواص ، اہل علم واہل دانش ،اہل دین واہل دنیا، حاکم ومحکوم، علماء وطلباء اور راعی ورعایا سب کےلیے یکساں مفید اورنہایت نصیحت آموز ہے ۔اس کتاب  کے حصہ دوم میں  میں نواب صاحب سےمتعلق دوسری کئی مفید اوراہم چیزیں بھی شامل اشاعت ہیں۔اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی  تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے ،  ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے  او ر انہیں میں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تصدیر 11
آغاز کتاب 18
مقدمہ کتاب 26
باب اول احسانات خداوندی 28
حسب ونسب 28
ولادت 30
شرافت نسب 30
ابتدائی حالات 43
والدہ مرحومہ کی یاد میں 48
والدین کے لیے دعائے مغفرت 53
تحصیل علم 55
علم کے موتی 69
خلق خدا کی غائبانہ شہادت 73
دینی کتب کی اشاعت 75
مناظرہ و مباحثہ سے نفرت 76
اختلاف امت 79
میرا مذہب 84
مذاہب اربعہ میں حق دائر ہے منحصر   نہیں 86
مذاہب اربعہ کا مطالعہ 87
راہ اعتدال 88
علوم و فنون میں مہارت 91
انداز بیاں اور 93
شرف قبولیت 95
اتباع کتاب وسنت 96
باب دوم 102
عاجزی و انکساری 105
استعانت باللہ 108
فقر وغناء 110
کسب معاش 112
ومن شر حاسد اذا حسد 115
ابتلاء کےبعد 117
علامات عالم ربانی 120
شادی خانہ آبادی 122
حج بیت اللہ شریف 125
نواب شاہجہاں بیگم 127
صحبت اغنیاء سے دوری 129
صحت و عافیت 130
رائے سےاحتراز 131
صحبت صالح 133
کن لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے 136
کن کی صحبت سے بچنا چاہیے 137
طلب آخرت 139
دلوں کی کیفیت 141
رنج و راحت 143
اولاد صالح 149
مسئلہ تقلید 151
برادر مرحوم کاسلوک 157
خواب 158
مجتہد نہ مجدد 159
حسب ونسب کی چند باتیں 162
زندگی کےچند سفر 164
طلب معاش میں احتیاط 165
پسندیدہ بات 166
حقوق العباد 167
باب سوم 169
سونےکے آداب 169
ادرادو ظائف 170
بعض مؤلفات پر نام نہیں لکھا 172
انداز تصنیف 173
چند بہترین کتابیں 176
ابواب شریعت میں عبور 178
دشمنوں سےنرمی 180
چار محبوب علوم 183
دنیا کی ناپائیداری 184
معاملات میں نرمی 186
نسب قابل فخر نہیں 187
خوف و رجا 190

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like