خطبہ حجۃ الوداع

خطبہ حجۃ الوداع

 

مصنف : ڈاکٹر نثار احمد

 

صفحات: 258

 

یوں تو نبی کریم ﷺ  کا ہر ایک ارشاد، ہر جملہ اور ہر لفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہر ایک لفظ میں،ہر ایک جملے میں ہمارے لیے ہدایت اور راہنمائی کے بہت سے پہلو ہیں۔لیکن آپﷺ کے ہزاروں ارشادات عالیہ میں سے جن ارشادات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ان میں سے ایک خطبہ حجۃ الوداع کا خطبہ بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جو آخری کیا` اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ایک اس حوالہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے آخری حج وہی کیا،اور اس حوالے سے بھی کہ نبی کریم ﷺ نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا : لعلی لا القاکم بعد عامی ھذا۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے،شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ یعنی حضور ﷺ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں اپنے سے آخری اجتماعی ملاقات کر رہا ہوں۔خطبہ حجۃ الوداع کو میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔خطبہ حجۃ الوداع بلا شبہ انسانی کا اولین اور مثالی منشور اعظم ہے۔اس منشور میں کسی گروہ کی حمایت،کوئی نسلی ،قومی مفاد ،کسی قسم کی ذاتی گرض وغیرہ کا کوئی شائبہ تک نہیں آتا ہے۔آپ نے  اس خطبہ میں  اتحادِ امت کا موضوع اپنے سامنے رکھا اور پھر دردِ امت کی پوری توانائی اسی موضوع پر صرف فرمادی، پہلے نہایت درد انگیز الفاظ میں قیامِ اتحاد کی اپیل کی، پھر فرمایا کہ پس ماندہ طبقات کو شکایت کا موقع نہ دینا، تاکہ حصارِ میں کوئی شگاف نہ پڑجائے، پھر اسباب نفاق کی تفصیل بیان کرکے ان کی بیخ کنی کا عملی طور پر سروسامان فرمایا، پھر واضح کیا کہ جملہ مسلمانوں کے اتحاد کا مستقل سنگِ اساس کیا ہے؟ آخری یہ فرمائی کہ ان ہدایات کو آیندہ نسلوں میں پھیلانے اور پہنچانے کے فرض میں کوتاہی نہ کرنا، خاتمہٴ تقریر کے بعد حضور ﷺ نے اپنی ذات کی سرخ روئی کے لیے حاضرین سے پیش کرتے ہوئے اس طرح بار بار کو پکارا کہ مخلوق کے دل پگھل گئے، آنکھیں سیلاب بن گئیں اور روحیں انسانی جسموں میں تڑپنے لگیں۔ زیر کتاب ” خطبہ حجۃ الوداع ، انسانی کا عالمی منشور “پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد سابق رئیس کلیہ و صدر شعبہ اسلامی جامعہ کراچی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی عظیم الشان خطبے  کے تاریخی پس منطر،مکمل متن ، اور توضیح وتشریح  فرمائی ہے۔ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے ۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 8
تقریظ 10
باب اول خطبہ حجۃ الوداع مطالعات و مآخذ پر ایک 13
مبادیات 13
ابتدائی مطالعات 16
قیام کے بعد 22
مآخذ پر ایک 42
اسناد حوالے ، حواشی 62
ضمیمہ 1 فہرست مآخذ 87
ضمیمہ 2 فہرست رواۃ 90
باب دوم موقع محل ، نوعیت ، منظر  و پس منظر 97
ضمیمہ 3 حجۃ الوادع ، راستہ اور منزلیں 119
باب سوم خطبہ حجۃ الوداع کی نوعیت و ماہیت 129
ضمیمہ 4 عالمی منشور انسانی 155
ضمیمہ 5 میگنا کا رٹا ، منشور اعظم ، انگلستان 161
ضمیمہ 6 اعلان انسانی و باشندگان فرانس 1789ء 167
ضمیمہ 7 نوشتہ حقوق 1791ء 168
باب چہارم خطبہ حجۃ الوداع ، عالمی انسانی منشور 173
باب پنجم توضیحات 215

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply