مغربی فکر کو سمجھنے کیلئے کیا پڑھیں؟(ڈیڑھ سو کتب کی فہرست) از سید خالد جامعی

مغربی فکروتہذیب کی تفہیم کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے لیکن کیا پڑھا جائے؟ ایک ٹھوس جواب کے ذریعے ہی سوال کا ادا ہوسکتا ہے اور اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ان کے شعور کے لیے کم از کم دو سو اور انگریزی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ممکن ہے یہ تعداد بہت زیادہ محسوس ہولیکن ان کتابوں کامطالعہ کیے بغیر شاید ہم مغرب کے بطن میں مضمر کفر کونہ سمجھ سکیں۔ یہ فہرست اب بھی مختصر ہے اس لیے کہ مغرب کو سمجھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں کتابوں کامطالعہ ضروری ہے۔ تہذیبوں کے تصادم ، مغربی فکرو فلسفے کے ادراک، تفہیم وتسہیل ، سرمایہ داری اور کی اوریونانی و کے پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنے کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مند رہے گا:

(1) تہافۃ الفلاسفۃ: از امام غزالی ؒ ( م ۱۱۱۱۔۱۰۵۸ ء) یہ اور مذہبی فکر کے تصادم کے بارے میںسب سے پہلی اور سب سے بڑی کتاب ہے۔ کلاسیکی یونانی تراجم کے ذریعے مسلم مفکرین پر گہرے اثرات مرتب کررہا تھا۔تہافتہ الفلاسفۃمیںفارابی اورابن سینا کے فلسفوں اوران کی فکر کے بنیادی نکات کاجواب دیا گیا ہے۔ غزالی نے یونان کے زیر اثر مسلم فلسفیوں کی فکر کو ۲۰ بنیادی میں ڈھالا اور ان کاجواب لکھا ۔

(2) تہافۃ التہافہ: از (۱۱۹۸۔۱۱۲۶ء) یہ کتاب امام غزالیؒ کی تہافتہ الفلاسفہ کا جواب ہے،(یہ کتاب امام غزالیؒ کے انتقال کے بعد شائع ہوئی)۔تہذیبی فکر کے تصادم سے دلچسپی رکھنے والے اگر یہ دیکھنا چاہیں کہ یونانی فکر کا حملہ کتنا شدید تھا اور امام غزالیؒ نے تہافۃمیں اس کا کیا جواب دیا اور تہافۃ پر تنقید کرنے والوں نے غزالیؒ پر کیا نقد فرمایا؟ اس نقد کی سطح کیا تھی؟ یہ کتاب کے فکر پر تمام نقد کا احاطہ کرتی ہے، اس لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

(3) الرد علی المنطقیین: از ا علامہ ابن تیمیہؒ ،اس کتاب میں امام ابن تیمیہؒ نے یونانی فکر کے مسلم فکر پر اثرات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے،مسلم مفکرین کے یہاں یونانی اثرات کی نشاندہی کی ہے اور یونانی فکر کا رد کیا ہے۔

(5) امام ربانی: کامل از مجدد الف ثانیؒ ۔یہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کا مجموعہ ہے۔ ان مکتوبات میں عقائد کا بیان ہے اور کئی خطوط میں اسلامی اور غیر اسلامی عقائد کے امتیازات اور اسلامی تہذیب اور غیر اسلامی تہذیبوں کی عدم مطابقت کے بنیادی امور بیان کیے گئے ہیں۔

(5) الرسالۃ الحمیدیۃ : از شیخ آفند ی

(6) الانتباہات المفیدہ فی الاشتباہات الجدیدہ: از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ۔اس کا انگریزی محمد نے An Answer to Modernism کے نام سے کیا ہے۔

(7) عقلیات اسلام :از مولانا مصطفی خان بجنوری ۔یہ کتاب الانتباہات کی تسہیل و تشریح ہے ۔ اصل ۷۰ صفحات کا ہے اور تشریح چھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ رسالہ انتباہات کی تسہیل و تشریح نہایت عمدہ طریقے سے کی گئی ہے اور عقل و منطق کی نارسائیاں نہایت عمدہ دلیلوں سے واضح کی گئی ہیں۔ انداز بیان سادہ اور دل نشین ہے، اگر اس کتاب کو غور سے پڑھا جائے تو اور جدید ٹیکنالوجی کے غبار سے چندھیانے والی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں۔ عرصہ سے اس کتاب کی اعلیٰ طباعت پرکسی نے خاص توجہ نہیں دی البتہ اب مکتبۃ البشریٰ کراچی نے اعلیٰ طباعت سے آراستہ کرکے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

(8) الکلمۃ الملہمۃ :از اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ

(9) کلیات اکبر الہ آبادیؒ: اکبر الہ آبادی ہمارے عظیم ترین شاعروں میں سے ہیں۔ تہذیبوں کے تصادم کے ابتدائی مراحل دیکھنے ہوں تو اکبر کی پڑھنا ناگریز ہے، اکبر کی عظمت یہ ہے کہ اقبالؒ تک ان کے زیراثر رہے ہیں۔ اکبر کی تخلیقی سطح اقبال کے ہم پلہ ہے، فرق یہ ہے کہ اکبر نے جو بات طنز و مزاح کے پیرائے میں کہی ہے اقبال اسے ایک بڑے فکری کینوس میں اعلیٰ ترین سنجیدہ سطح پر بیان کرتے ہیں۔ کلیات اکبر الہ آبادی کے مطالعے کی تجویزممکن ہے بعض طبائع پر گراں گزرے لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ اکبر الہ آبادی نے طنزیہ شاعری کے ذریعے تہذیب و مغرب کے خلاف بند باندھنے کی کتنی زبردست کوشش کی۔ ان کے اس کام کی اہمیت شاعر مشرق پر خوب روشن تھی اسی لئے علامہ اقبال ؒ اپنے خطوط میں حضرت اکبرؒ کو اپنا پیر قرار دیتے، ان کا شرف نیاز حاصل کرنا چاہتے اور اپنا دل حضرت اکبرؒ کے سامنے چیر کررکھنا چاہتے تھے اقبال خودکو لاہور میں تنہا سمجھتے اور حضرت اکبرؒ کو وہ فرد واحد جانتے جس سے دل کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جاسکے۔وہ اکبر سے طویل لکھنے کی استدعا کرتے اور اس خواہش کو روحانی خود غرضی قراردیتے۔ وہ حضرت اکبرؒ کو پیر مشرق قرار دیتے تھے۔ حضرت اکبر کے بارے میں اقبال نے یہاںتک لکھا کہ ’’اگر کوئی شخص میری مذمت کرے جس کا مقصدآپ کی مدح سرائی ہو تو مجھے اس کا قطعاً رنج نہیں بلکہ خوشی ہے۔ خط و کتابت سے پہلے آپ سے جوارادت و عقیدت تھی ویسی اب بھی ہے اور انشاء جب تک زندہ ہوں ایسی ہی رہے گی‘‘، اقبال نے چند اشعار حضرت اکبر کے رنگ میں بھی لکھے مگر عوام کی بدمذاقی نے اس کا مفہوم کچھ سے کچھ سمجھ لیا۔ اقبال کے خیال میں حضرت اکبر نے ہیگل کے سمندر کو ایک قطرہ(شعر)میں بند کردیا تھا واضح رہے کہ اقبال ہیگل کو بہ اعتبار تخیل افلاطون سے بڑا فلسفی تصور کرتے تھے حضرت اکبر کے خطوط سے اقبال پر غورو فکر کی راہیں کھلتیں اس لئے اکبر کے خطوط وہ محفوظ رکھتے۔ حضرت اکبر کے اشعار پڑھ کر اقبال کو شیکسپئر اور مولانا روم یاد آجاتے تھے اقبال شکوہ جواب شکوہ پر دس پندرہ سطور کا دیباچہ ناشر کے مطالبے پر حضرت اکبر سے لکھوانے کے خواہش مند تھے۔ (اقبال نامہ ، ص ۳۷۲، ۳۷۴، ۳۷۶، ۳۷۷، ۳۷۸، ۳۹۳، ۳۹۷ یک جلدی تصحیح و ترمیم شدہ ، اقبال اکادمی ۲۰۰۵)۔علامہ اقبالؒ کے اِن افکارسے ’’کلیات اکبر الہ آبادی‘‘ کی اہمیت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔

(10) اقبالؒ کی ساری اور فارسی اور کم از کم ضربِ کلیم جو اس اعلان کے ساتھ شائع ہوئی’’ ضربِ کلیم یعنی اعلان جنگ دورِ حاضر کے خلاف اقبال سے اقبال نے رجوع کرلیا تھا لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں سید سلیمان ندویؒ کے افکار جو خطبات پر عالمانہ نقد ہیں، جریدہ شمارہ ۳۳، میں بنام امالی غلام محمد کے نام سے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

(11) تہذیب اور اس کے و مبادی: از مولانا مودودی ؒ

(12) کا معاشی اور اس کا حل: از مولانا مودودی ؒ

(13) تفہیمات: از مولانا مودودی ؒ

(14) تنقیحات: از مولانا مودودی ؒ

(15) الجہاد فی الاسلام۔ : از مولانا مودودی ؒ

(16) رسائل و پانچ حصے : از مولانا مودودی ۔ان میں عہد حاضر کے متکلمانہ مسائل کا انتخاب آئے گا اور جدید ذہن کے شبہات سامنے آئیں گے۔

(17) مغربی فکر و فلسفے کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ؍ لاہور:ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

18. A Cas Against Capitalism:Dr Javaid Akber Ansari
19. Buisness Ethices in :Dr Javaid Akber Ansari
20. Money and Banking in :Dr Javaid Akber Ansari
21. Financial Menagement in :Dr Javaid Akber Ansari

(22) اور مسلمانوں کے زندہ :ازڈاکٹر برہان احمد فاروقی ۔ اس کتاب کا آخری باب جدید فکر میں اقبال کی اہمیت ص ۲۱۵ تا ۲۹۲پر محیط ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا انگریزی میں غیر مطبوعہ مقالہ Iqbal’s Reconstruction بھی اہمیت کا حامل ہے،فاروقی صاحب کے شاگرد خضر یاسین کی کے مطابق پر کی تنقید اور برہان فاروقی کی غیر مطبوعہ انگریزی کتاب کے الفاظ، خیالات اور افکار میں غیر معمولی توارد ہے۔ اس سلسلے میں جریدہ ۳۴ اور اقبال اکادمی کی کتاب ’’میارابزم بر ساحل کہ آنجا‘‘ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے۔

(23) اقبال نئے تناظرمیں:ازمحمدسہیل عمر، کے خطبات ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کا پہلا فلسفیانہ ناقدانہ جائزہ ہے۔ اس کتاب کے ذریعے فکر و و تہذیب مغرب کے پیداکردہ شکوک، شبہات، سوالات اعتراضات اور واہمات کی مکمل سامنے آتی ہے۔ عہد جدید کے اذہان میں پیدا شدہ ان سوالات کا جواب عقلیات کی روشنی میں دینے کی کوشش مختلف مفکرین اور متجددین نے کی ہے، اس کا ناقدانہ جائزہ بھی سامنے آتاہے، سہیل عمر نے اس کتاب کو برہان احمد فاروقی صاحب کے امالی قرار دیا ہے، جبکہ یہ محض اظہار عجز ہے اور سہیل عمر کی سعادت مندی اور احسان شناسی ۔

( 24) of Philosophy: Dr Syed Hossein Nasr

حسین نصر کی تمام کتابیں اہمیت کی حامل ہیں ان کے فکر سے ہمیں اختلاف ہے،لیکن ان میں بہت اہم نکتے ملتے ہیں۔

(25) اقبال۔ ایک مطالعہ:ڈاکٹر الطاف احمداعظمی ۔ اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ علوم کی باقاعدہ تحصیل اور عربی پر عبور کے بغیر اور روشن خیال افکار پیش کرنے کے دعوے دار کس قدر اغلاط کرتے ہیں اور قدم قدم پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔

(26) قرآن اور جدید:ڈاکٹر رفیع الدین ، ڈاکٹر صاحب کی دیگر کتابوں میں بھی کام کے نکتے ملتے ہیں ۔

(27) مائیکل مین کی معرکہ آراء کتاب The Dark Side of Democracy یہ کتاب جمہوریت کے اصل چہرے سے نقاب الٹتی ہے اور تاریخی اعداد و شمار سے ثابت کرتی ہے کہ جمہوریت جہاں بھی گئی قتل و غارت گری لے کر گئی اور بیسویں صدی دنیا کی خوں خوار ترین صدی تھی۔ مائیکل مین نے اعداد و شمار اور حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ تمام میں سب سے زیادہ پر امن ہے اور اس کی اجلی تاریخ ہے۔ جمہوریت کے تمام مداحوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ لازمی ہے، اگرمداحان جمہوریت کی سے یہ کتاب گزر جائے تو شاید وہ جمہوریت ترک کر دیں ، جمہوریت نے جس طرح خوں ریزی کی اور ایک ارب انسانوں کا قتل عام کیا، ہمارے اکثر دانشور اس سے تاریخ سے ناواقف ہیں۔

(28) مریم جمیلہ صاحبہ کی تمام کتابیں خصوصاً ’ ایک نظریہ ایک تحریک‘ اور and Modrenism ۔مریم جمیلہ صاحبہ کے وہ تمام تبصرے جو مختلف کتابوں پر وہ Muslim Book Reviewمیں سالہا سال تک کرتی رہیں۔

(29) جدیدیت: یعنی مغربی فکر کی گمراہیوں کا خاکہ از محمد حسن عسکری ۔

(30) وقت کی راگنی: از محمد

’ جدیدیت‘ مغربی فکر کے زوال اوراس کے ہولناک اثرات کی مختصر ترین ہے جبکہ وقت کی راگنی ہمیں بتاتی ہے کہ کی روایت کیاہے اوروہ مغربی روایت سے کتنی مختلف ہے۔ محمد کے مندرجہ ذیل و انٹرویو وغیرہ کا مطالعہ بھی از حد مفید رہے گا۔

٭ مذہبی شاعری، یہ گفتگو لفظ میں شائع ہوئی تھی٭ محراب اور سات رنگ میں عسکری صاحب کے شائع شدہ مضامین ٭ محسن کاکوروی کی نعت٭ پیروی مغرب کا انجام٭ کی ادبی روایت کیا ہے ٭ بارے آموں کا کچھ بیان ہوجائے٭ جزیرے کا دیباچہ٭ کی تلاش ٭ میں اخلاقی مطابقت٭ ہمارا ادبی شعور اور مسلمان٭ فن تعمیر کی روح٭ مغرب میں مسلمانوں کے تبلیغی وجود٭ مکاتیب عسکری مرتبہ شیما مجید٭ عسکری شیما مجید٭ مشرق و مغرب کی آویزش میں٭ شب خون میں احمد جاوید اور آصف فرخی کا مکالمہ نیز شب خون البلاغ میں عسکری کے مضامین ۔

(31) نئی نظم اور پورا آدمی:از سلیم احمد

(32) مشرق ہار گیا از سلیم احمد

نئی نظم اور پورا آدمی تنقید کی نہایت ہنگامہ خیز اور اہم کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ مغربی فکر کے زیر اثر ہمارے سے کس طرح پورے آدمی یاWhole Man کا بیان تحلیل ہوا اور اس کی جگہ ادھورے آدمی کا بیان در آیا۔ نے سلیم احمد کے تصور کو مابعدالطبیعیاتی سطح کا نظریہ قرار دیا ہے۔

’مشرق سلیم‘ احمد کی ایک طویل نظم ہے جس میں مغربی فکر کے زیر اثر مسلم معاشروں میں اقدار کی شکست و ریخت اور علامتوں کی تبدیلی کو بیان کیا گیا ہے۔

(33) معرکہ و سائنس : مولانا ظفر علی خان

(34) اور :عبدالباری ندوی

(35) صدق اور صدق جدید: مولانا دریا آبادیؒ کے تمام رسالے، ہر رسالے میں کوئی نہ کوئی نکتہ مل جاتا ہے جس سے مغربی فکر و فلسفے کی تردید ہوتی ہے۔

( M M Sharif A of Muslim Philosophy (36

(37) عالم دجالی تہذیب کی زد میں، دریا آبادی:مرتب حافظ محمد موسیٰ بھٹو

(38) ملت اسلامیہ اور عصر حاضر کے تقاضے، عبدالماجددر آبادی :مرتب حافظ محمد موسیٰ بھٹو

(39) اور تہذیب جدید، درآبادی :مرتب حافظ محمد موسیٰ بھٹو

(40) بیسویں صدی کے اسلامیت کے ممتاز شارحین، محمد موسیٰ بھٹو

(41) مجدد الف ثانیؒ، محمد موسیٰ بھٹو

حافظ محمد موسیٰ بھٹو ماہنامہ بیداری بھی شائع کرتے ہیں۔ یہ مختلف النوع کا گلدستہ ہے۔ اس میں مغرب، فکر مغرب، فلسفۂ مغرب پر شائع شدہ مضامین کتب تقاریر کا خوبصورت انتخاب پیش کیا جاتا ہے(بعض مضامین جدیدیت کی تائید بھی کرتے ہیں کیونکہ مضمون نگار اور مفکر مغربی فکر و فلسفے سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا سادہ لوحی کے باعث اخلاص سے مغرب اور جدیدیت کے بعض مظاہر کی توثیق کر دیتے ہیں۔ لیکن ایسا شاذ ہوتا ہے)

(42) سرسید اور حالی کا نظریۂ فطرت: از ڈاکٹر ظفر الحسن۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ برعظیم پاک و ہند میں سرسید احمد خان اور مولانا حالی نے کس طرح مغربی تہذیب کی اصطلاح Nature کو غلط سمجھا اور اس کا اطلاق کے ساتھ پر بھی کر ڈالا جس کے تباہ کن فکری نتائج برآمد ہوئے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ لفظ ’’نیچر‘‘ عیسائی، ہندو، جدید مغربی تہذیب اور تہذیب میں کن کن معنوں میں استعمال ہوا اور ان معنوں کے درمیان کیا فرق ہے؟ اس موضوع پر اس سے زیادہ اچھی کتاب شاید ہی کبھی لکھی گئی ہو۔

(43) افکار سرسید:از ضیاء الدین لاہوری

(44) سرسید:از ضیاء الدین لاہوری

(45) نقش سرسید:از ضیاء الدین لاہوری

یہ کتابیں ضیاء الدین لاہوری صاحب کی چالیس سالہ تحقیقی کاوشوں کا حاصل ہیں ان کتابوں میں مصنف نے موضوعات کے اعتبار سے سرسید کی فکر کو ان کی اصل تحریروں سے اقتباسات کی صورت میں جمع کردیا ہے اور اس کتاب میں سرسید کی فکر کانچوڑ سمٹ آیا ہے۔ واضح رہے کہ برعظیم پاک و ہند میں جدیدیت کے بانی سرسید ہیں (گوکہ اس کا آغاز کرامت علی جونپوری سے ہوا) لہٰذا سرسید کی فکر کو اس کے سیاق و سباق بلکہ سرسید کے اصل الفاظ میں پڑھنا نہایت ضروری ہے۔ سرسید کے اثرات کا اپنے عہد کے بڑے بڑے لوگوں پر اثر تھا۔بڑے بڑے نامی گرامی شخصیات تک سر سید کے اثرات سے بچ نہ سکے اور ان کے افکار میں جدیدیت کا زہر سرسید کی کا اثر ہے۔ اس وقت سرسید کی تمام تحریریں ان بزرگوں کے سامنے نہیں تھیں، خصوصاً سرسید کا وہ جس میں وہ قرآن کو کلام نہیں بلکہ کلام رسول اللہ قرار دیتے ہیں، یہ جرأت اسلامی میں خوارج معتزلہ اور کسی گمراہ فرقے کو بھی نہ ہوئی۔ اگر یہ ان اکابرین کے سامنے ہوتا تو وہ سرسید کو رد کر دیتے۔

(46) ایران سے شائع ہونے والا رسالہ[ Echo of Islam [Thought سہ ماہی، مدیر محمد سلیمی

(47) The Decline of the by Oswald Spengler

مغربی تہذیب کے بارے میں اس کتاب کا شمار مغربی کے کلاسک میں ہوتا ہے۔ یہ کتاب پہلی جنگ عظیم سے قبل لکھ لی گئی تھی مگر شائع ۱۹۲۶ء میں ہوئی۔ یہ کتاب مغربی تہذیب کی بنیادوں، کلاسکی یونانی فکر اور مغربی تہذیب کے مرحلہ بہ مرحلہ زوال کو بیان کرتی ہے۔ اسے پڑھے بغیر مغربی فکر کے بحران کا اندازہ دشوار ہے۔ اس کا ترجمہ ’زوال مغرب‘ کے نام سے اکادمی ادبیات شائع کرچکی ہے۔

(48) رینے گینوں کی تین اہم کتابیں:

The Reign of the Quantity

Crisis of the Modern

East and

رینے لانے کے بعد شیخ عبدالواحد عیسیٰ کہلائے۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے قبل رینے کے فکر کا جائزہ جریدہ ۳۵ میں ملاحظہ کیجیے کیونکہ روایت کا مکتبہ فکر وحدت ادیان کی گمراہی کا مبلغ ہے۔ احمد جاوید اور تحسین فراقی نے لاہور میں مارٹن لنگز سے براہ راست پوچھا کہ آپ روایت کی جو بات کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہی ہے کہ تمام برحق ہیں اور کوئی الحق نہیں تو مارٹن لنگز نے برجستہ جواب دیا جی ہاں آپ بالکل درست سمجھے ہیں(یہ روایت تحسین فراقی صاحب نے سید خالد جامعی سے خود بیان کی)

(49) رینے کے معاصر آنند کمارسوامی کی دو کتابیں:

Figure of Speech or Figure of Thought
What is

دوسری کتاب بتاتی ہے کہ مذہبی تہذیبوں میں لفظ تہذیب کے کیا معنی رہے ہیں اور جدید مغربی تہذیب اسے کس مفہوم میں استعمال کرتی ہے، پہلی کتاب ثابت کرتی ہے۔ کہ جدید مغربی فکر آرٹ اور تخلیق کے تصور کو پست سے پست تر کر کے اس سطح پر لے آتی ہے جہاں انسان، حیوان اور پودوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔

(50)شواں کی درج ذیل کتابیں: شواں کا تعلق بھی روایت کے گمراہ مکتب فکر سے ہے۔

DIMENSIONS OF

TO HAVE A CENTER

FORGOTTEN TRUTH

فکر مغرب کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ لازمی ہے۔

[51] Judaism and Rise of Capitalism ZAMBAT [52] Sources of Self Charles Taylor [53] I & Thou Martin Boober [54] Being and Nothingnes Sarter [55] Capitalism Shezophrenic style Dlues

Anti Edipus [Volume I

Anti Platious [Volume II

[56] Madness & Focualt [57] Dicipline and punishment Focualt [58] of Sexuality [Three Volumes] Focualt [59] The Archiology of Focualt [60] The Birth of Clinic Focualt [61] Contigency Irony and solidarity Richard Rorty [62] Achieving our country Richard Rorty [63] Objectivity Vol. I & II Richard Rorty [64] Post Structurallism and Post modernism Madhan Surup [65] Enlightenment Wake John Gray. [66] of Muslim Thought Majid Fakhri [67] and M. Watt [68] Islam. A. R Gibbs [69] Platuo, A.E. Taijlor [70] An introduction of Greek Thoghts Guttehery [71] An introduction of Greek Thoughts STAC [72] The Classics of westren philosophy [one volume [73] Being & Existence

Broke کی اس کتاب کا دیباچہ ہائیڈیگر نے لکھا ہے، یہ کتاب Being & Time کی شرح ہے اور اتنی عمدہ شرح کہ ہائیڈیگر نے دیباچے میں لکھا کہ میرے خیال کے قریب کتاب ہے۔

مغربی و مفکرین کی درج ذیل کتابوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے:

74. BEYOND THE POSTMODERN MIND BY HUSTON SMITH

75. THE RISE AND FALL OF THE GREAT POWERS. BY PAUL KENNEDY

76. THE END OF THE AND THE LAST MAN BY FUKUYAMA

77. THE IN COLLISION EDITED BY KEN BOOTH AND TIM DUNNE

78. HOLY BY KAREN ARMS STRONG

79. THE OF HUMAN DESTRUCTIVENESS BY ERIC FROMM

80. AND THE WEST. EDITORS ANSARI ZAFFER ISHAQ AND JOHN ESPOSITO

فکرو و تہذیب مغرب کا رعب عموماً و ٹیکنالوجی کے ذریعے بٹھایا جاتاہے جدیدیت پسند مفکرین مغرب کی سائنس و ٹیکنالوجی سے بے حد مرعوب ہیں اور اس کا کوئی متبادل نہیں پاتے سوائے اس کے کہ عالم کسی بھی طریقے سے مغرب کی اس ترقی کو حاصل کرے ان مفکرین کو و ٹیکنالوجی کے مباحث سے متعلق درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان کا خلجان دور ہوسکے اور امت ان کے افکار کی اڑائی گئی گرد سے باہر نکل سکے، یہ کتابیں ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہیں جو ابھی تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے سحر سے باہر نہیں آسکے اور امت مسلمہ کی نجات، فلاح، فوز کا تصور سائنس کے بغیر کرنے سے عاجز ہیں۔ عربیہ کے طلباء اور کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ بہت سے اشکالات دور کر دے گا اور مغرب کے مقابلے میں انھیں اعتماد و یقین عطا کرے گا۔ اس دور کا المیہ یہ ہے کہ ہم مغرب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو اعتماد و یقین کی دولت سے محرومی بھی ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ ہم اندر سے خائف ہیں اور اپنے خوف کو صرف خطابت سے چھپاتے ہیں۔ ہمیں یقین کی ضرورت ہے، ایسا پختہ یقین جو اس ایمان سے پھوٹے کہ مغرب باطل ہے، الحق ہے اس کے بعد یقین کی بنیادیں تلاش کی جائیں لیکن یقین سے مشروط نہیں ایمان سے مشروط ہے۔

81. Discourse on Method and the Meditations by Rene Descartes, translated by F. E. Sutcliffe

82. Crises of European Sciences by Edward Husserl. Mathematical Principles of Natural Philosophy.

83. A History, by John Gribbin

84.Newton to Einstein by Ralph Baicelain.

85.A of by William Dampier

86.Galileo at Work by Stillman Drake

87.Issac Newton by Rupert Hall

88.Nicholas Copernicus by Josef Rednicbi.

89.The Scientific Work of Rene Descartes by J. F. Scott.

90.The Scientific Revolution by Steven Shapin

91. and the Modern by A. N. Whitehead

92.Foresight and understanding by Stephen Toulmin

93. of by Alexendar Bird

94.What is this thing called by A. F. Chalmer

95.Between and by S. Amsterdamski

96.Belief, Truth and by D. M. Armstrong

97.Truth and Logic by A. J Ayer

98.Two Paradigms of Scientific by D. Bloor

99.The Natural of Galileo by Maurice Clavelin

100.Feyerabends Discourse against Method by J. Curfhoys and W. Suchting

101.On Scientific Method by J. J. Daires

102.How to defend against by P. K. Fayerabend

103.Two New Sciences by Galileo Galilei

104. of Natural by C. G. Hampel

105.Treatise on Human Nature by D. Hume.

106. and Measurement by A. Koyre

107.The structure of Scientific Revolution by T. Kohn.

108.Proofs and Refutation by Z. Lakatos

109.The logic of Scientific Discovery by Karl Popper.

110. and Subjectivity by Israel Scheffler

(111) جمال پانی پتی کی کتاب ’’جدیدیت کی ابلیسیت‘‘

(112) ادبی رسالے ’’ مکالمہ‘‘ کے متفرق شمارے جن میں جدیدیت پر جمال پانی پتی اوردیگر مفکرین کے قیمتی مل جاتے ہیں۔’’مکالمہ‘‘ جناب مبین مرزا کی زیرادارت شائع ہوتاہے اور جدیدیت کا سخت ناقد لیکن نہایت و تحقیقی و ادبی ہے۔

(113) ضمیر علی بدایونی ’’جدیدیت اور پس جدیدیت ‘‘

(114) جریدہ ’’روایت و تہذیب‘’ اور جریدہ ’’روایت ‘‘کے چھ شمارے ۔جو سہیل عمر اور کی زیر ادارت شائع ہوئے۔ ان میں بعض نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

(115) جریدہ ’’اعلام‘‘ لاہورشمارہ ۳ جس میں محمد کی کتاب مغربی فکرکی گمراہیوں کا خاکہ پرجناب ڈاکٹر ساجد علی نے ’’محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات‘‘ کے نام سے نہایت عالمانہ نقد کیا ہے۔

(116) ماہنامہ میں محمد عسکری کی کتاب ’’جدیدیت‘‘ اور اس کے متعلقات پر محمد ارشاد کے ناقدانہ بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

(117) غرب زدگی (فارسی) جلال آل احمد تہران ۔ ایران کے زمانے کی مقبول ترین کتاب

(118) ڈاکٹر علی محمد رضوی کا ایم فل کا مقالہ

1. Focault on Freedom

2. Methodology underlying Imam ’s critique of Greek Philosphy. (مطبوعہ جریدہ ۲۹)

(119). ڈاکٹر عبدالوہاب سوری کاپی ایچ ڈی مقالہ Philosophical analysis of Rawl’s Theory of Justice.(مطبوعہ جریدہ ۳۴)

(120). الفکر الاسلامی الحدیث وصلتُہ بالاستعمار الغربی:الدکتور محمد البہی

(121). شاہنواز فاروقی کے کالموں کا مجموعہ ’’کاغذ کے سپاہی‘‘ اور ایم اے کے لئے لکھا گیا تحقیقی مقالہ ’’سلیم احمد‘‘ مغربی فکر و فلسفے کے بہت سے پہلوئوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ ’’سلیم احمد‘‘ والے مقالے میں تہذیب مغرب کی کشمکش سے ابھرنے والے بے شمار سوالات پر غور و فکر کا موقع میسر آتا ہے۔

(122). قصۃ الایمان بین الفلسفۃ و القرآن:مفتی طرابلس الشیخ ندیم الجسر

(123). ہائیڈیگر کی درج ذیل کتابیں:

1. Being & Time

2. Question Concerning

(124). اسلام اور مغرب کا انداز فکر: ڈاکٹر

(125). ارکان اربعہ:ابوالحسن علی ندوی

(126). و دعوت کا معجزانہ اسلوب:ابو الحسن علی ندوی

(127). دائرۃ المعارف الاسلامیہ جامعہ پنجاب۔ اس میں مسلم فلاسفہ اور ان کے افکار و کے سلسلے میں اہم مل جاتی ہیں۔

(128). معتزلہ کی زبدی حسن جار پیش لفظ الفرڈگیوم

(129). الملل و النحل: ابن حزم اندلسی، العمادی

(130). الملل و النحل: شہر ستانی پروفیسر

(131). الفرق بین الفرق :عبدالقاہر بغدادی

(132). العقل و النقل: علامہ

(133). قرآن حکیم کے وہ تمام متداول تراجم اورتفاسیر جوامت مسلمہ کے مسلمہ مکاتب فکر کے ہاں رائج ہے۔

(134). ٹونی کی کتاب and Rise of Capitalism

(135). میکس ویبر Capitalism and Protestant Ethics

(136). بیرنگٹن مور Social Organs of Dictatorship and Democracy Lord and Peasent in the Making of Modren World.

(137). رکسانہ لیوبن Enemy in the mirror

(138). ڈاکٹر ڈیوڈ میکے Critique of Modernity

(139). جرگین ہیبرماس The Philosophical Discourse of Modernity

(140). مغربی فکر و فلسفے کے التہاب و سے پیدا ہونے والے اضطراب نے عالم کے مفکرین کو کس طرح متاثر کیا اور بڑے بڑے و فضلاء کس طرح جدیدیت میں ڈوب گئے اور مغرب کی چکاچوند میں بہہ گئے۔ اس کا جائزہ بھی ضروری ہے اس سلسلے میں نیاز فتح پوری، علامہ مشرقی، غلام احمد پرویز، سرسید احمد خان، غلام جیلانی برق کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے، جس سے مغربی یلغار کے اثرات کااندازہ ہوگا۔ مغرب سے سطح پر متاثر ہونے والے افراد کے تشکک اور تذبذب کا گہرا جائزہ لینے کے لیے علامہ اقبالؒ، احمد سعید اکبر آبادی، ڈاکٹر فضل الرحمن (سابق سربراہ ادارہ تحقیقات اسلامی) اور ڈاکٹر منظور احمد (سابق ریکٹر یونیورسٹی) کی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے،اس مطالعے کے دوران یہ واضح ہوجائے گا کہ ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈاکٹر منظور احمد، غلام احمد اور بیسویں صدی کے نصف آخر کے تمام متجددین اور جدیدیت پسند علماء کی فکر علامہ اقبالؒ کے کے اعادہ سے زیادہ نہیں ہے اور خطبات کی تشکیک پر اپنے فکر و کی عمارت تعمیر کرنا ان تمام جدیدیت پسندوں کا طرہ امتیاز ہے۔ اورتمام جدیدیت پسند مفکرین کی فکر عصر حاضر میں پیدا ہونے والے کو کے دائرے میں کرنےکا دعوی کرتی ہے اور اس عمل کے دوران یہ بھول جاتی ہے کہ اور اس کی تمام روایات دور ازکار تاویلات کے نتیجے میں جدیدیت کی بھول بھلیوں میں نہ صرف گم ہوجاتی ہیں بلکہ اس طرح تحلیل ہوتی ہیں کہ اگلی نسل میں ان کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ مفتی عبدہٗ کے شاگرد رشید رضا کی وہ تحریریں پڑھ لی جائیں جو طہٰ حسین جیسے بے شمار عبدہ کے شاگردوں کے کے ردعمل میں لکھی گئیں،اس ضمن میں کے خطبات ’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘ جاوید کی ’ کیا‘ ہے جو ان کے شاگرد ڈاکٹر محمد فاروق خان کے نام سے شائع ہوئی ہے، کا مطالعہ ضروری ہے(ڈاکٹر منظور احمد اور ڈاکٹر جاوید اقبال ان جدیدیت پسند دانشوروں میں شامل ہیں جو نہ جانتے ہیں نہ ان کے افلاس کا عالم یہ ہے کہ ان کی کتابوں میں کسی عربی کتاب کا حوالہ نہیں ملتا، مگر پر اعتراضات میں یہ لوگ نہایت جری ہیں)عالم کا المیہ یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ سے لے کر جسٹس جاوید اقبال اور ڈاکٹر منظور احمد تک ایک بھی جدیدیت پسند مفکر نہ علوم پر عبور رکھتا ہے نہ عربی سے گہری واقفیت، لیکن سب کو کا لپکا ہے۔

(141). اقبال شناسی:ڈاکٹر منظور احمد

(142) چند فکری :ڈاکٹر منظور احمد

(143). کی ’ اور تصور خدا‘(یہ نگار کا خدا نمبر ہے جو سرقہ کیا گیا تھا۔ اس سرقے کی تفصیل ماہنامہ الدعوۃ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آباد کے شمارہ ۱۲، جلد ۵ میں ملاحظہ کیجیے) ۔

(144). عالم کا تقابلی مطالعہ، من و یزداں ۔ یہ کتابیں ڈاکٹر منظور احمد کے الحادی منہاج میں نہایت اہمیت کی حامل ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے ایک خطبے میں ان کتابوں کو جدید فکر کی تشکیل میں اہم مقام دیا ہے۔

(145). عورتوں کے امتیازی اور قوانین۔ حکمتیں اور قواعد، حافظ صلاح الدین یوسف

(146). فکریات، و ترتیب تحسین فراقی

(147). اور مغربی پاک و ہند میں، پروفیسر سید محمد سلیم

(148). مغربی کا تنقیدی مطالعہ، پروفیسر سید محمد سلیم

(149). برصغیر پاک و ہند میں غیر ملکی زبانوں کے ماہر علماء، پروفیسر سید محمد سلیم

(150). اور جدید ذہن کے شبہات،

(151). درج ذیل مطبوعات کا مطالعہ بھی مند رہے گا۔ ٭جریدہ ۲۲٭جریدہ ۲۳٭جریدہ ۲۴٭جریدہ ۲۵٭جریدہ ۲۸٭جریدہ ۲۹ ٭جریدہ۳۰٭جریدہ۳۲٭جریدہ۳۳٭جریدہ ۳۴٭جریدہ ۳۵٭جریدہ ۳۶:مرتبہ ،شعبہ تصنیف و تالیف و ،جامعہ کراچی

(152). ماہنامہ ساحل کراچی کا خاص موضوع مغربی تہذیب کا ناقدانہ جائزہ ہے اس کی تمام فائلیں مند رہیں گی

(153). اورجدید نئے تناظر میں : محمد ظفر اقبال ، کتاب محل لاہور

(154). اورجدیدیت کی کشمکش : محمد ظفر اقبال

سید خالد جامعی، کراچی

ماخد

You might also like
Comments
Loading...