مقام و احترام قائد اعظم

مقام و احترام قائد اعظم

 

مصنف : محمد سليم ساقی

 

صفحات: 484

 

قائد اعظم 25 دسمبر 1876ء کو پید اہوئے۔ آپ ایک نامور وکیل، دان اور بانی تھے۔۔ آپ 1913ء سے لے کر پاکستان کی 14 اگست 1947ء تک آل مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ آل انڈیا کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ متحدہ میں اختیارات کے توازن کے لئے کسی صیغے پر متفق نا ہوسکے نتیجتاً تمام جماعتیں اس امر پر متفق ہوگئیں کہ ہندوستان کے دو حصے کئے جائیں جن میں ایک مسلم اکثریتی علاقوں میں جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں کا قیام ہو اور آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے لیڈروں اور رہنماؤں کی کو اپنے بچوں کی زندگی کا حصہ بنائیں اور خدائے برتر رحمن ورحیم نے ہمیں ایک خطۂ زمین جو حسین مناظر اور قدرت کی فیاضیوں سے مالا مال ہے جہاں بلند پہاڑ اور ان کی سفید برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں تیز وتند دریا‘ زرخیز میدانی علاقے‘ معدنی دولت سے بھر پور ہیں اور کئی جگہوں میں خشک پتھریلے پہاڑ اور وسیع ریگستانی علاقے ہیں آسمانی ستارے سیارے سب کے سب جگ مگ کرتے ہیں اور کی روشنی فصلوں اور کو فیضیاب کرتی ہے‘ قدیم تہذیبی‘ ثقافت لاثانی ہے اور خطہ زمین اور قلبی لگاؤ کا ثبوت ہے کہ یہاں بزرگان مشعل بن کر آئے اور اسلام کا یہ خطہ قائد اعظم کی بڑی کاوشوں ‘ لگاتار جد وجہد‘ سیاسی قوت‘ آل مسلم لیگ کی رہنمائی میں حاصل ہوا ۔زیرِ کتاب خاص قائد اعظم کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی کی عکاسی کرتی ہے۔ اور اس کتاب میں قائد اعظم کے شخصیت پر کیے جانے والے اعتراضات اور الزامات کو بیان کر کے انہیں زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور دو قومی نظریے کے حامے اور منکرین کے اور شخصیات کو بیان کر کے وحدیث سے دو قومی نظریے کو بیان کرنے کی عظیم کاوش کی گئی ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مقام و احترام قا ئد اعظم ‘‘ محمد سلیم سامی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ ہے کہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 17
پیغام 21
کی شخصیت 23
وکردارکی جھلکیاں 36
کی ذات کرداراورکارنامہ کےخلاف ہرزہ سرائی 57
الزامات 58
ایک سیکولرسٹیٹ چاہتےتھے 60
ایک سازش کےتحت بناتھا 79
کہ کافراعظم 87
بنانےمیں   نےمحض ایک دکیل کاکردار اداکیاتھا 104
اعتراضات 260
نہ عالم نہ مذہبی آدمی تھے 260
وہ انگریزی بولتےاورانگریزی پہنتےتھے 268
انہوں نےظفراللہ خاں کواپناوزیرخارجہ بنایاتھا 273
ان کی بیٹی نےایک غیرمسلم سےشادی کی تھی 298
کہناناجائزاورگناہ ہے 300
کامطالبہ غلط 306
دوقومی نظریہ/نظریہ 306
دوقومی نظریہ کہ عقیدہ 307
دوقومی نظریہ کی حامی شخصیات 309
ابوریحان البیرونی 309
علامہ جلال الدین کاشانی 310
سرسیداحمدخاں 310
مجددالف ثانی 312
مولانامحمدعلی جوہر 313
چودھری رحمت علی 313
مولانااشرف علی تھانوی 315
مولنامرتضی احمدخاں سیکش 316
318
اقوام مغرب کی طرح ملت اسلامیہ کی اساس وطن نہیں بلکہ ہے 319
مسلمانوں کےلیے علیحدہ خطہ زمین کامطالبہ 320
ایک واحداسلامی ریاست کاخاکہ 321
322
ہندومسلم اتحادکابہترین پیامیر 322
دوقومی نظریہ کےحق میں ودعوے 322
مطالبہ 322
وحدت ہندکےمتمنی اوروطن پرست تھےوہ تقسیم ہندکےخواہاں ہرگزنہ تھےپاکستان محض ہندوکی تنگ نظری کانتیجہ تھامیان ظفیراحمدکےاس دعوے اورکھڑاک کی اصلیت 324
سیدابوالاعلیٰ مودودی 324
کانگریس نوازدوقومی نظریہ کےمنکرعلماءکووارننگ 345
لیگی رہنماعلماءدین ومفتیان شرع متین سب گمراہ ہیں 346
تمام اسلامیان ہندحقیقی طورپرمسلمان نہ تھے؟ 347
تقسیم ہندکی تجاویز 347
قائدین جماعت کےغلط بیانات اوران کی تردید 350
سیدعطاءاللہ شاہ بخاری 352
امیرملت سیدجماعت علی شاہ 353
شیخ التفسیرمولانا احمدعلی لاہوری 354
ہندورہما 354
لالہ ہردیال 354
این سی دت 355
وی ڈی ساوکر 355
نرادسی چودھری 355
سرداربھائی پیٹل 356
دوقومی نظریہ کی منکرشخصیات 356
ہندولیڈر 356
مہاتماگاندھی 356
جواہرلعل نہرو 357
کانگریس نوازمسلمان علماءنام نہاد عناصر 358
مولاناابوالکلام آزاد 358
متحدہ قومیت سےانکار 358
متحدہ قومیت کےنشہ میں 359
اورمسلم لیگ دشمنی 360
مولاناآزادمتحدہ کےاندررہتےہوئے مسلمانوں کےخدشات دورکرناچاہتےڈاکٹرصفدرمحمودمورخ کےاس دعوی کی حقیقت 365
مولاناآزادکاخبث باطن 371
کی مولاناآزادکونصیحت 372
مولاناحسین احمدمدنی 372
متحدہ قومیت کےتردیداورمعضب ہندواکثریت سےہیزاری کااظہار 373

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply