نماز وتر اور تہجد:قرآن و حدیث اور اقوال آئمہ کی روشنی میں

وتر اور تہجد: و اور آئمہ کی روشنی میں

 

مصنف :

 

صفحات: 56

 

رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق رات کی آخری وتر ہونی چاہیے-اس لیے جو شخص رات کا قیام کرنا چاہتا ہے وہ عشاء کی نماز کے بعد وتر نہ پڑھے  بلکہ رات کےآخری حصے میں وتر ادا کرے-ونماز وتر کے سلسلے میں ہمارے ہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کچھ کے نزدیک یہ واجب ہے تو کچھ کے نزدیک مؤکدہ اور کچھ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رات کو وتر پڑھ کر سو گیا تو صبح اٹھ کر پہلے وہ اپنے وتر کو توڑے گأ پھر نفلی ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح اگر کسی کا وتر رہ گیا ہو تو وہ اس کی قضا کیسے دے گا-زیر کتاب میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے اس حوالے سے پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے لیےقابل قدر کوشش کی ہے-مصنف نے وسنت، آثار وصحابہ وتابعین اور آئمہ کی روشنی میں وتر اور کی فضیلت واہمیت اور اس سے متعلقہ تمام کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے-جس میں وتر اور تہجدکے اور ادائیگی کا طریقہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دعائے قنوت کے مسائل اور اس کا طریقہ بالدلائل بیان کیا گیا ہے-
ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply