نجات المسلمین

نجات المسلمین

 

مصنف : عبد الرشید انصاری

 

صفحات: 203

 

زیر کتاب”نجات المسلمین” محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے، جو چار مختلف رنگوں میں چار متفرق موضوعات اور حصوں پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے متفرق دینی واصلاحی کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔پہلا حصہ نجات المسلمین، دوسرا حصہ فاسق اور فاجر مجرم ہیں، تیسرا حصہ اعتقادی منافق ابدی جہنمی ہیں اور چوتھا حصہ متفرق قسم کی تحریروں پر مشتمل ہے۔کتاب غیر مرتب سی ہے اور اس کے موضوعات کو سمجھنا ایک مشکل سا کام ہے۔کیونکہ مولف بلاترتیب کو جمع کر دیا ہے اور معروف تالیفات کی مانند اس کا کوئی باب یا فصل وغیرہ قائم نہیں کی۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ کے حوالے سے متعدد کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے   کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ تعالی سے ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
تقدیم 6
سبب تالیف (ضرور پرھیے ) 7
خصوصی نوٹ 8
دینی پوچھنے والے سے منہ ن پھیرنا چاہیے 9
جولوگ ہدایت کو چھپاتے  ہیں 9
تنگدست کو مہلت دنیا  کا ثواب ہے 10
پر وردگار عالم اپنے بندوں کو اپنی راہ میں 11
خرچ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے 11
ایمان والو کے کی مد د کرو 11
کی مدد کرنا کی نصرت کا باعث ہے 12
اچھی بات کی دعوت دینے والے کی متعلق 12
ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیے 13
کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کی سزا 14
تمہید 15
جناب رسول کریم ﷺ مجید او راس کی سمجھانے کے لیے مبعوث ہونے 16
جس  طرح مجید واجب العمل ہے  اسی طرح رسول للہ ﷺ بھی  واجب العمل ہے 17
مجید کی ہیں 17
رسول  ﷺ کی فرماں برداری فرض ہے 18
کی حد بندی 23
تائید مولانا احمد صاحب مدرس جامعہ سلفیہ 24
تائید مزید ابو محمد بدیع الدین شا ہ الرشدی المکی السندھی 24
جو شخص تعالی کی  بات کے مقابلے میں شیطان کی بات تسلیم کرتاہے 25
سراور سے سفید بال اکھاڑنا منع ہے 27
فر مان رسول  رکھنے او رلبو ں کے کٹانے کے بارے  میں اور ا س کے خلاف پروعید 28
نطق رسول الہی ہوتاہے 30
فرمان رسول ﷺ فرمان الہی ہے 30

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
22.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply