پاکستانی معیشت سے خاتمہ سود کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا خلاصہ

پاکستانی سے خاتمہ کے لیے نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا خلاصہ

 

مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

 

صفحات: 138

 

نظام بینکاری کوئی ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط نظام ہے جس کا آغاز سے 1963ء میں غمر کے اسلامک بینک کے قیام کی صورت میں ہوا تھا ۔اس سے قبل اس حوالے سے چند کاوشیں اور تجربے  جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدرآباد میں بھی ہوچکے تھے۔ حیدرآباد کے اس تجربے کے بعد1950ء 1951 ء میں اس طرح کی ایک ہلکی سی کاوش میں بھی ہوئی جس میں شیخ احمد رشاد نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ بینکاری کے قیام اور استحکام کے لئے پاکستان بھی پیش پیش رہا ہے ۔ اور مختلف محاذوں پر سودی لعنت پر مبنی نظام سے خلاصی اور قرآن وسنت کے پیش کردہ معاشی اصولوں کی روشنی میں ایسے طریقہ کار کے لیے  کاوشیں کی گئی ہیں کہ کسی طرح کی لعنت سے اس ملک کو پاک کیا جاسکے ۔ اس حوالے سے انفرادی اور اجتماعی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں نظریاتی کونسل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اسلامی کے اصولوں سے ہم آہنگ ایسا طریقہ کار وضع کرے جس سے ی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے ۔ نظریاتی کونسل نے ماہرین اور بینکاری کے تعاون سے ایک عبوری رپورٹ نومبر1978ءمیں اور حتمی رپورٹ جون 1980ء میں پیش کی ۔ نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا لب لباب یہ تھا کہ : بلاسود بینکاری نفع ونقصان کی بنیاد پر قائم ہوگی ،بینکوں کا بیشتر کاروبار مشارکت ومضاربت پر مبنی ہوگا اور اجارہ ، مرابحہ ، وغیرہ محض وقتی متبادل کے طور پر استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔1980ء کے آخر میں اسٹیٹ بینک آف نے تمام تجارتی بینکوں کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ 1981ء سے اپنے تمام معاملات غیر سودی بنیادوں پر قائم کرنے کے پابند ہوں گے ۔ اسٹیٹ بینک کے اس حکم نامے کے پیش حکومتی تحویل میں موجود تجارتی  بینکوں نے پی ایل ایس اکاؤنٹ کے نام سے غیر سودی کھاتے کھولنے کی اسکیم شروع کی اور عندیہ دیا کہ رفتہ رفتہ پورے بینکاری نظام کو غیر سودی نظام میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ نظریاتی کونسل نے جسٹس تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس منعقدہ 1983ء میں حکومت کو یاد دلایا کہ ملکی سے کے خاتمے کے لئے حکومت نے 1979ء میں تین سال کی جو مدت مقرر کی تھی وہ دسمبر 1981ء میں ختم ہوگئی ہے ۔ لیکن ابھی تک سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس گزشتہ پانچ سال کے دوران حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں وہ موجودہ سودی استحکام کا سبب بن رہے ہیں ۔ پھر 1991ءمیں وفاقی شرعی عدالت، کے روبرو ایک مقدمہ بعنوانڈاکٹر محمود الرحمن فیصل بنام سیکرٹری وزارتِ آباد وغیرہ‘‘ سماعت کے لئے پیش ہوا۔ اس مقدمے میں جمہوریہ میں رائج متعدد کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جو سودی لین سے متعلق تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ و میں کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آئین، حکومت کو اس امر کا پابند کرتا ہے کہ وہ تمام رائج کو و میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ڈھالے لہٰذا ان تمام قوانین کو و سنت سے متصادم قرار دیا جائے جن میں قانونی طور پر سودی لین دین یا کاروبار کی اجازت پائی جاتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے جو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن (چیئرمین) مسٹر جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور مسٹر جسٹس عبید خان پر مشتمل تھا، ۷ ؍فروری    1991ء    سے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ ۲۴؍ اکتوبر   1991ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ۱۴ ؍نومبر  1991ء کو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت نے ۱۵۷ صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلہ صادر کیا۔سودی نظام کےخلاف یہ جنگ پھر بھی جاری رہی۱۹۹۹ء میں بھی پھر اس کیس کی سماعت ہوئی ۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ’’ کا مقدمہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا اور خاص کر مخالف فریقین نے کسی مالی طمع کے بغیر جانفشانی اور دینی جذبے کے تحت کراچی سے آباد تک، جس پرجوش انداز میں موقف کی پیروی کی، اس کی روشنی میں، سود کے خلاف اس عدالتی جنگ کو اگر عدالتی کہا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔ میں رائج سودی نظام کے خلاف اس تاریخی مقدمہ کی سماعت عدالت ِعظمیٰ کے فل بنچ نے کی۔ یہ بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمن خان (چیئرمین) مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد، مسٹر جسٹس منیر اے شیخ، مسٹر جسٹس مولانا اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر پر مشتمل تھا۔اس  کیس میں  سپریم کورٹ کی درخواست پر بین الاقوامی  سکالرز   اور  جید نے  کےخاتمہ  پر پیش کیے۔اس موقعہ پر عظیم اسکالر  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾   مدیر اعلیٰ  ماہنامہ’’  محدث‘‘   لاہوروسرپرست  اعلیٰ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کو  سپریم کورٹ نے  مقدمہ سود میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو کیا حافظ صا حب نے  علمی  انداز سے اپنے مذکورہ فل پنچ کے سامنے پیش کیے   حافظ کی معاونت کے لیے راقم  کو بھی ان کےساتھ جانے کا موقع ملا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پاکستانی سے  خاتمہ کےلیے  نظریاتی کونسل  کی رپورٹ کا خلاصہ  ‘‘  جنرل محمد ضیاء الحق    کے حکم پر اسلامی نظریاتی کونسل کی  طرف سے پیش جانے والی  رپورٹ  کا  خلاصہ ہے  یہ رپورٹ جسٹس تنزیل الرحمٰن  کی صدارت میں  کونسل نے  منظور کی تھی جو  جنرل  محمد ضیاء الحق  کی خدمت  میں پیش  ہوئی ۔یہ رپورٹ اپنے موضوع پر دنیا میں سب سے پہلی کوشش تھی جس کی تیاری میں نہ صرف صاحب بصیرت علمائے دین  بلکہ جدید اقتصادیات  وبینک کاری کے  پیچیدہ  اور فنی کا گہرا شعور  وادراک رکھنے والے  اہل نظر  حضرات کا وسیع تجربہ بھی شامل ہے ۔ استیصال  کے موضوع  پر کونسل کی یہ رپورٹ مقدمہ  کےعلاوہ  پانچ ابواب اور ایک اختتامیہ پر مشتمل ہے  جس میں کونسل کے اخذ کردہ نتائج اور اس کی سفارشات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے ۔ نظریاتی کونسل کی تیارہ کردہ  طویل رپورٹ کا    خلاصہ کونسل کے چیئرمین نے   ہی کیا  ہےجسے صدیقی ٹرسٹ  ،کراچی نے شائع کیا  اور اب  کتاب وسنت سائٹ کےقارئین کےلیے پیش کیا جارہا ہے ۔ تعالیٰ  وطن عزیز کو سود کی لعنت سے  پاک فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اولین 8
پیش لفظ 9
مقدمہ 15
باب اول مسائل اور ان کے کی تدابیر 21
میں کی ممانعت 21
میں نفع و نقصان میں منصفانہ حصہ داری کی حوصلہ افزائی 23
کا حقیقی متبادل 24
نفع و نقصان میں شراکت 25
نفع و نقصان میں شرکت کے 25
کی متبادل چند دیگر صورتیں 28
بیع موجل 28
پٹہ داری 30
کے خاتمہ کی چند ممکنہ صورتیں 30
الخدمت( سروس چارج ) 31
امانتوں اور قرضوں کا اشاریہ 32
ملکیتی کرایہ داری 33
سرمایہ کاری بذریعہ نیلام کاری 34
عمومی شرح منافع پر سرمائے کی فراہمی 34
قرض بعوض قرض 35
خصوصی قرضے 36
نئے نظام کی کامیابی کے لیے بعض تحفظات 37
کے خاتمہ کے لیے عملی منصوبہ 40
پہلے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 42
سرکاری لین 42
بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کا لین 44
دوسرے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 45
تیسرے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 45
باب دوم تجارتی بینکاری 47
مال کاری کا کاروبار 48
قائم سرمایہ کاری کے لیے فراہمی مال 48
رواں سرمائے کی ضرورت کے لیے رقم کی فراہمی 50
قلیل المیعاد مالکاری 52
درمیانی اور لمبی مدت کے لیے زرعی قرضے 53
تجارتی شعبہ 54
تعمیرات 55
نقل وحمل 55
دیگر شعبے 55
ذاتی قرضے 55
متفرق لین 58
اسٹیٹ بینک سے مالی امداد کا حصول 58
بیرونی ممالک سے بینکوں کا سودی لین 58
باب سوئم خصوصی مالیاتی ادارے 60
نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ 60
انویسٹمنٹ کارپوریشن آف 63
ہاؤس بلڈنگ فننانس 66
انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انویسٹمنٹ 70
نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس 71
زرعی ترقیاتی بنک 73
چھوٹے کاروبار کی مالکاری کی کارپوریشن 74
فنانس 75
مساویانہ حصہ داری 75
وفاقی بینک برائے امداد باہمی 77
باب چہارم مرکزی بینکاری اور زرعی عملی 77
کم سے کم زر محفوظات کی ضرورت 78
نقد پیری کے تناسب کی ضرورت 79
بینکوں کے قرضے 79
ترجیحی شعبے میں مال کی فراہمی 79
تمیزی اعتبار کا انضباط 80
ہدایات کا اجراء 80
مرکزی شرح 81
تجارتی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو اسٹیٹ بینک کی مالی امداد 82
کھلے بازار کا طریق کار 82
اسٹیٹ بینک بحیثیت بینک کار برائے حکومت 82
غیر ملکی امدادی ایجنسیاں 83
متفرق داخلی لین 83
زری پالیسی 83
بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کا لین 84
باب پنجم حکومتی لین 86
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اندرون ملک قرض گیری 86
خوانے کی ہنڈیاں 87
اسٹیٹ بینک کے حکومت کو قرضے 87
اجناس کی خرید و فروخت کے لیے حکومت کی قرض گیری 88
بیرونی ذرائع سے حکومت کی قرضہ گیری 89
خود مختار کارپوریشنوں اور بلدیاتی اداروں وغیرہ کے قرضے 89
پراویڈنٹ قرضے 89
تقاوی قرضے 90
سرکاری ملازمین کو قرضے 90
تعزیری 90
اضافات بین الاقوامی سیمینار کی قرارداد 93
رپورٹ پر نظرثانی 95
ملکی معیشن سے استیصال 101
میں رائج سے پاک بینکاری کا جائزہ 108
امتناع ربوا 116
رپورٹ پر 1 118
رپورٹ پر 2 124
مقالہ خصوصی 128

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...