قابل رشک ٹیچر جس کا سب احترام کریں

قابل رشک ٹیچر جس کا سب احترام کریں

 

مصنف : اختر عباس

 

صفحات: 256

 

کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور پھر ماں اپنے جگر کا ٹکڑا استاد کے حوالے کر دیتی ہے اور استاد اس کے لئے پوری دنیا کو ایک درسگاہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ باپ بچے کو زمین پر قدم قدم چلنا سکھاتا ہے ، استاد اسے دنیا میں آگے بڑھنا سکھا تاہے۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔معلّمی وہ پیشہ ہے جسے صرف میں نہیں بلکہ ہر مذب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ یک انمول ہے، جس کے بغیر ادھورا ہے۔ تعالیٰ نے پاک میں حضور کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریم ﷺنے بھی ارشاد فرمایا کہ ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے” المومنین سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپ نے فرمایا کہ ”کاش میں ایک معلم ہوتا’۔ استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے”۔علامہ محمداقبال کے یہ الفاظ معلم کی عظمت و اہمیت کے عکاس ہیں۔”استاد در اصل قوم کے محافظ ہیں۔زیر کتاب” خود شناس وخود آگاہ قابل رشک ٹیچر ، جس کا سب احترام کریں!” محترم اختر عباس صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے استاد کے مقام ومرتبے کو بیان کرتے ہوئے اس کی ذمہ داریوں اور صفات پر روشنی ڈالی ہے کہ ایک استاد کو کیسا ہونا چاہئے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائیہ :پہلی بات 19
باب اول :خودشناسی کالمحہ 33
باب دوم :خوشناسی ایک دلچسپ تصور تصور نفس/تصور ذات 39
تصو ر نفس 40
انسانی زندگی کےچار حصے 41
جسمانی خوشناسی 41
ساری عمر پالتو کتے کاشوق 42
جانوروں سےممتازکرنے والی صلاحیت 44
سماجی خودشناسی 45
تخلیقی خود شناسی 47
تخلیقی خود شناسی کیسے جنم لیتی ہے 49
روحانی خودشناسی 51
اچھی بری صحبت کافرق سمجھ آتا ہے 53
والدین کےآگے بولنے کی ہمت اوران سےمحبت 53
جسم بڑی بڑی تبدیلیاں اورروح کی مضبوطی 54
روحانی خودشناسی کی مضبوطی اورخوب صورتی 57
کسی کی ناک خاک آلود ہوگی 58
روحانی تصورات صرف دنیا تک محدود نہیں ہوتے 60
خودآگاہی رکھنے والے کاذکر کیسےہوگا 60
باب سوم :تصورکامیابی کاتعین 61
خود شناس استاذ کی شخصیت کیسے آزاد نہ ہوتی ہے 62
عظمت کے جھوٹے احساس سےبھرے لوگ 64
خودآگاہی کے خلاف مزاحمت کی چھ وجوہات 66
پاپی دل کیسے مان جائے 66
خودشناسی پہ دل کیوں نہیں مانتا 67
خود آگاہی کیوں اورکہاں ضروری ہے 67
خود آگاہی کی ترقی 68
شخصی احترام کی ضرورت اورفرق 68
باب چہارم :ہم اپنا فائدہ کیوں نہیں کرسکتے احتساب نفس 71
خوداحتسابی کاایک پسندید ہ پہلو 73
آسان اورقابل عمل کاطریقہ 73
صوفی تبسم کی اصل شہرت کچھ اورتھی 74
باباجی نوروالے کی حیران کرنے والی بات 75
خود احتسابی کیسے فائدہ پہنچاتی ہے 76
اپنی سونے جیسی خوبیوں سےبےخبر لوگ 77
تصور احتساب کےدوحصے 77
اپنی غلطی نہ ماننےوالے لوگ 78
کچھ لوگوں کوحتساب نفس  کافائدہ کیوں نہیں ہوتا 79
خود احتسابی۔زندگی کےمقاصد کےحصول میں کیسے معاون بنتی ہے 79
وزیر جب اپنی بےعزتی کاسن کرروپڑے 79
خوداحتسابی ایک خوابیدوقوت 80
خود احتسابی ایک آسان راستہ یہ بھی ہے 80
سقراط کی کہی خوبصورت بات 81
مجھے اس پر ضرور حیرت ہوتی 82
خودآگا ہ اورخود بین عظیم لوگوں کی دنیا 83
عظیم شخصیات جوگمنامی کےگھاٹ اتر گئیں 84
کے رسول کافرمان ،احتساب نفس کی پوری کتاب 84
باب پنجم :بے عزتی سے بہت فرق پڑتا ہےجناب ۔۔۔عزت نفس تکریم ذات 85
بارہ سالہ بچی کاتصور عزت نفس 87
کی سب سے بڑی دولت 88
نگاہوں سےکرنے کاخوف 88
آنحضور ﷺ کےسامنے شرمندگی 89
کمرہ امتحان میں کیاگیا ایک تجریہ 89
عزت نفس کی کمی کااظہار کیسے ہوتاہے 90
انکی ہر جگہ بےعزتی ہوتی رہی 91
کتنے ہیں جن کی بےعزتی نہیں بری نہیں لگتی 92
بےعزتی سے بہت فرق پڑتا ہے جناب 93
اندھی زندگی گزارنے کافیصلہ کیوں ہوتا ہے 93
اپنی عزت اپنےہاتھ 94
آپ کواپنی عزت نفس کی کتنی ضرورت ہے 94
انسانی کردار کی کچھ منزلیں 95
باب ششم :خوف کوہرانا نہیں ۔۔تصور خو ف 97
خودشاسی کادشمن 98
شخصیت کی کھینچنے والا 99
یہ خیال سوفیصد غلط ہے 99
بےخوفی کا فیض پانے والے 100
خوف کوہرانا آسان نہیں ہے 103
شہری اوردیہی بچوں کےالگ الگ خوف 103
سوچنے ایک بچے کی شخصیت کس کس خوف کاسامنا نہیں کرتی 104
چھپکلی کاخوف کیسے دور ہوا؟ 104
بچپن کابہادر ہی بہادری دکھاتا ہے 105
تکلیف کاسامنا کیوں کرناپڑتا ہے 106
پشاور آرمی سکول کےبچوں کی خوف کیوں نہ بن سکی 107
خوف کی دوسری قسم فوبیاز 110
خوف ،سوچ ،صلاحیت اورقوت کومتاثر کرتا ہے 111
جب میں ڈوبتے بچا 112
گھوڑے سےگرنے کاخوف آج تک نہیں گیا 113
استاذ سےڈرنے والے پر کی بیتتی ہے 114
عادات ہی نہیں راز اور خوف مشتر ک ہوجاتے ہیں 114
عزت صرف لڑکیوں کی نہیں ہوتی 114
خوف کب کب منفی جذبات میں ڈھلنے لگتا ہے 115
شخصیت مسخ ہونے سےکیسے  بچے گی؟ 115
غلطی کےبس میں نہیں 116
کوئی اچھا لگے تو فیصلہ کس بنیاد پر کرتے ہیں 117
وہ توخوف سےمرنے والے ہوگئے 118
پیرصاحب کی مانوورنہ مارے جاؤ گے 119
کےخوف سےوہ ذہنی تواز ن کھوبیٹھا 120
ان مذہبی باتوں کاخوف  جن کی ابھی عمر نہیں آئی 120
غزہ کی خوف زدہ کرنے والی شام 121
ابو بیگ پر پتہ کیو ں لکھتے 121
باب ہفتم : ویسا ہےجیسے آپ سوچتے ہو تصور خالق 123
ابھی اس کی کائناتوں کاشما ر ممکن نہیں 126
انکار کرنے والوں کی زندگی 127
مغرب کی اندھی پیروی کرنےوالے بیچار ے دانشور 127
قبرستان میں گزری ایک رات 128
حضرت عائشہ ؓ کیوں رودیں 130
کیوں تمہارے دل کی کیا کیفیت ہے 131
میں نےمحسوس کیاکہ میرے گال گیلے ہورہے ہیں 131
ایک مختصر سی بات نےایمان کامزہ  چکھا دیا 133
انہی کی وجہ سےاحادیث سےتعارف ہوا 133
خداکاحسن سلوک 134
اس شرخ لائن کی طرف قدم ہی نہیں بڑھانا 135
یوں وہ سارے متکبر لوگوں کا سردار بن گیا 136
کےرسول اللہ ﷺ  کاخصوصی شکریہ 137
اس واقعہ نےمجھے اندرسے ہلاکر رکھ دیا 138
بدقسمتی سےمزنگ بڑے بڑے گڑ بڑگوٹالا کاموں کامرکز 139
صرف پاکیزہ مال ہی قبول کرتاہے 140
بندہ جب تک پورا نہیں  کر لیتا نہیں آتی 141
سر!سارے شارٹ کٹ حرام  سے کیوں جڑے ہیں 141
بچوں  کی عزتیں لوٹنے والے بدبخت 143
خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگا ہ ہے 144
یہ کوئی کتابی باتیں نہیں ہیں 144
کردار کی قربت کااظہار 145
شخصیت کب مضبوط ہوتی ہے 145
ان کےمحبوب نےانہیں کہاں جوڑدیا 146
بن عباس ﷜ کودانش کیسے عطا ہوئی 146
چھوٹی سی عمر میں کےمشیرخاص 147
جامعہ عباس ﷜ کےاکیلے استاد 147
بن عباس ﷜ کی محبت پر تومجھے رشک آتا ہے 148
معمولی کاغیر ضرور ی اثر 148
گھر کےدروازے پر آم کی پیٹیا ں 149
میری سفارش میرےاللہ جی ! 151
ایک دھوکے کاماجرا 152
رب نے ایک نقصان چپکے سےمیری جھولی میں ڈال دیا 153
اشفاق صاحب کےساتھ زاویہ 154
ویسا ہے جیسے  آپ سوچتے ہو 155
ذکر الہی اورتقرب الہی 155
پھر محبت کرنے لگتاہے 156
کی محبوبیت سےدنیا میں محبوبیت 156
سے ڈرنا اورخوف کھاناکیا ہے 157
دانائی کی اصل کاخوف ہے 158
یہ مت  کہوخدا اسے میری مشکلیں بڑی ہیں 160
کیا خوف ہے 161
باب ہشتم :خودشناسی کاشجر سایہ دار 163
ظرف طلب اورعلم کےمطابق اضافہ اورکمی 168
خودشناسی کی مرجھائی شاخیں 169
تصور ذات کو بدلے بغیر کسی کےرویے کونہیں بدلا جاسکتا 170
سرمجھے گائیڈ کردیں کہ انٹرویو کیسے دوں 171
یہ خود شناسی کی بدترین مثال مانی جاتی ہے 172
خود شناسی کیرئیر اورکردار کی کنجی 173
آپ کےاعتقادات کےنظام میں  کیا شامل ہے 173
ہرکام میں آپ کی کارگردگی کیسی ہے 174
جیسامحسوس کرتے ہیں ویسا ہی عمل کرنےلگتے ہیں 174
دونوں ایڈیٹرز کےخواب پورےہوئے 175
یہ کام مرنے لیے صرف ایک ناسک نہیں تھا 177
کیا مجھے یال آخر اپنے ابوجی اورداد جی جیسا بننا ہے 178
خودشناسی میں سفید اورکالے پتھروں کامقابلہ 179
کیسے بدلتی ہے بڑی سوچ کمزور زندگیوں کو 180
اس کااستادایک خاکروب تھا 182
کبھی جوآپ گرجائیں 182
بی کام کےڈی موٹی دیتڈطلباء 184
اس کےبنا چار ہ نہیں 184
چشتیاں میں سوشل ورک پر اعتراض 184
لاہورمیں پہلاعوامی میلہ 185
آپاں کیڑا افسر لگنا ں اے 187
سکول کی سطح  پر اس تصور کو کیوں سمجھا جائے 188
امام نے قیدخانے میں کیا کہا؟ 188
ایسے میں حاضری کےسوجھتی ہے 189
اقبال سےنہیں ملےتو ان کےدرودیوار سےہی سہی 192
باب نہم :خودشناس فلسفی استاد سقراط سے پہلے کیا بولا 197
ایتھنز   ے کے لوگ فلاسفرکی باتوں اورتحقیق کےشوقین تھے 198
سقراط اس مقام بر بیٹھ کر لوگوں کےساتھ دیوی 199
حسد اورخوف دنیا میں فساد پیدا کردیتا ہے 200
اسپار ٹانے جنگ میں شکست دی اورایتھنز کی اینٹ سےاینٹ بجادی 200
اس کی گفتگو کےانداز سے ٹپکتی تھی 201
سقراط کےتمام شاگردوں میں بات کرنےاور پوچھنےکاحوصلہ ملتاہے 201
میں کایہ طریقہ بھی سقراط سےشروع ہوا ہے 202
یہ الزام کس قدر دلچسپ ہے کہ سقراط خداپر یقین نہیں رکھتا 202
کرےسقراط ظلم کاشکار ہونےوالا آخری ہوتا 203
اپنے کردار کاخودمنصف 203
تم لوگ میرےقتل کے بعد میر انعم البدل نہ پاسکو گے 204
میر ی مثال ایک ٹو مکھی کی ہے 204
کم یازیادہ دیر زیادہ رہنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا 205
بےاصول کےراج پاٹھ میں اصولوں کاقتل سب سے پہلے 205
میں التجا کروں گا  نہ ہی گڑگڑاؤں گا 206
عزت نفس سب سے مقدم ہے 206
اے ایتھنز والوں یہی اوباش کل تم پر میرے قتل کاالزا م رکھیں گے 206
مجھے اپنے اسلوب میں بات کرکے مرناکیوں قبول ہے 207
کےقریب کیاقدرت انہ قوت عطاکرتی ہے 208
عظمت وشرافت کیا ہے 208
میری الفاقیہ نہیں ہے 209
مجھے اپنے قاتلوں سے کیوں ناراضی نہیں ہے 209
ایتھنز والو !تم ان کو خود سزا دینا 209
تم ان سب کواسی طرح ستاؤ جیسے میں نے تمہیں ستایا 210
میرے رخصت ہونے کاوقت آن پہنچا 210
ایسے استاد جس عہد میں بھی ہوں گےیاد رکھے جائیں گے 211
باب دہم : دلوں میں جگہ کیوں نہیں بنتی ؟؟؟ 213
آپ نےکبھی جاناہی نہیں کہ مجھے اس سےمانگنا کیا ہے 214
جنت میں لوگ فارغ تو نہیں بیٹھنے ہوں گے 216
جس سے محبت کرو گے اسی کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے 216
محبت بڑی احتیاط سے کرنی چاہیے 217
جب اپنی گواہی کی ضرورت  پڑی تو 40بھی پورے نہ ہوں 218
اتنے عام  سےدوستوں میں آپ  اتنے خاص کیسے  ہوگئے 218
یہ کیسا نقصان بھر اسواد کیا آپ نے 219
اب بوتل وہیں رہ گئی دانت کامسئلہ بن گیا 220
اب تو اثر پزی کا وزمانہ ہے 221
آپ کے پاس کیاخوبی ہےکہ لوگ آپ سے محبت کریں 222
کی بات کیا کرو ہ علم سے سینے  بڑے ہوتے ہیں 222
تنخواہ اورملازمون سے کام لیتے ہین محبت نہیں کرتے 223
دوبارہ تو قدرت یہ موقع سب کو دیتی ہے 224
آپ کسی گڈرے سےکیسے کم ہو سکتے ہو 224
ہماادل ہی آمادہ نہیں ہوتا 225
فائدہ نہیں کو ہوتاہے جوفائدہ لینا چاہتے  ہوں 226
اورہم خوداس وقت سوئے رہ جاتے ہیں 226
اگر تم پوری دنیا کےخزانے دے کر میرا کتب خانہ لینا چاہوتو 227
دوسالوں میں 80شاندار کتابوں کاترجمہ کر ڈالا 228
جب تم نہ رہوتو لوگ تمہیں یاد کرکے روئیں 229
امام ابو حنیفہ ﷫ سے کسی نے اچھے استاد کاپوچھا تھا 229
بن مبارک ﷫ نے ایساعلم پہلے کب سیکھا تھا 230
بیٹا ! بکریاں نہیں بدلتیں ، بدلتے ہیں 231
شخصیت پر پڑے داغوں اورچھالوں  کاعلاج 232
ہراستاد کے پاس اپنا جھاواں ہونا لاز م ہے 2333
دعوی کےثبوت دینے پڑتے ہیں 234
ایک روز کہیں سے ایک بھڑدعوی لیکر آگئی تھی 234
یہی استاد ہونے کادعوے کامضبوط جواب ہے 235
تشدد آمیز تصور والا شعر 238
جب استاد اتنا بڑا ہوتو شاگرد کس درجے میں ہوگا 238
اب آب بھی خودشناس پیربن کر دکھائیں تو بات بنے 237
باب یازدہم :ہم آپ کیسے  یادر کھے جانا چاہیں گے ؟ 239
جب ذات  کی خوبصورتی صرف چہرے کی خوبصورتی بن جائے 244
20باتوں سےخودشناسی میں اضافہ کرناممکن ہے 245
دلچسپ منظر کاتکلیف دہ پہلو اسے کوئی کیسے یادرکھے گا 247
سرکاری سکولوں میں ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا 249
آپ کو بطور استاد لوگ کیسے یاد رکھیں گے 250
یقین مانیے آپ ایک لمبی عمر پانے والے ہیں 250
بھلاوہ آپ کی راہنمائی اورمشوروں کی قدروقیمت کیسے بھلا پائیں گے 251
لفظ تو لفظ ہی سکھاتے  ہیں آدمی آدمی بناتے ہیں 253
خود شناسی استاد کی 254

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply