قاموس الفقہ جلد اول

قاموس الفقہ جلد اول

 

مصنف : رحمانی

 

صفحات: 549

 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا : تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے بہت سی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔زیرِ کتاب بھی اسی موضوع کے حوالے سے ہے جسے علوم کا ایک عظیم الشان کہا جا سکتا ہے۔اور کتاب کے نام سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف کی اصطلاحات کے حوالے سے ہوگی لیکن حقیقت میں یہ کتاب فقہ کی مصطلحات کے علاوہ تفسیر‘ حدیث‘ اور قواعد فقہ کے اصطلاحی الفاظ سے بھی اعتناء کیا گیا ہے اور محض مصطلحات کے تعارف پر اکتفاء نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کے ذیلی مباحث اور متعلقات  کوشرح وبسط سےپیش کیا گیا ہے۔ اس کی ترتیب اولاً حروف تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہے پھر بحث کے آغاز میں لغوی واصطلاحی تعریف بیان کی گئی ہیں اور فقہی حدود وقیود کو ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ تعریف جامع ومانع رہے اور ہر طرح کے سقم سے محفوظ ہو۔یہ کتاب میں مرتب ہونے والی اسلامی کی پہلی ہے جس میں فقہی اصطلاحات کو حروف تہجی کی ترتیب سے فقہی احکام‘ حسب ضرورت احکامِ کی مصالح اور معاندین کے رد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور اربعہ کو ان کے اصل ماخذ سے نقل کیا گیا ہے نیز جدید اور اصولی مباحث پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ہر بات مستند حوالہ کے ساتھ‘ دل آویز اُسلوب اور عام فہم میں بیان کی گئی ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ قاموس الفقہ ‘‘مولانا رحمانی﷾ کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ ہے کہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظات 159
قاموس الفقہ ایک ایک تعارف 189
حروف چند۔صاحب کتاب کےبارےمیں 200
سخن ہائےگفتنی 244
حرف آخریں 249
فقہی اصطلاحات 256
خداوندی کی ضرورت 318
کےامتیازی اوصاف 319
عدل 319
توازن واعتدال 320
عقل وحکمت سےمطابقت 320
فطرت انسانی سےہم آہنگی 321
جامعیت 322
ابدیت ودوام 322
تنفیذکی قوت 323
قانون کےمصادر 324
منصوص مصادر 324
کتاب 324
آیات 324
القرآن پرکتابیں 325
رسول 326
رسول کی اہمیت 326
اسباب اختلاف 334
اختلاف رحمت کےہےکہ کہ زحمت 334
بعض امورکےدلیل شرعی ہونےنہ ہونےمیں اختلاف 335
نصوص کےمعتبرہونےنہ ہونےکی وجہ سےاختلاف 335
بعض دلیلوں پرواقف نہ ہونےکی وجہ سےاختلاف 335
ادلہ شرعیہ میں ظاہری تعارض اورترجیح 336
ایک سےزیادہ معنوں کی گنجائش 336
تغیراحوال کی وجہ سے اختلاف راےئ 336
اسباب اختلاف پرکتابیں 337
فقہی اختلاف اورمجتہدین کااختلاف ذوق 337
لغوی واصطلاحی معنی 338
اوردین وشریعت 339
فقہ کادائرہ 340
کی فضیلت 341
تدوین کےمراحل 343
عہدنبوی 343
احکام کےمصادر 343
مکی زندگی میں عملی 344
مجیدکےفقہی دونوعیتں 344
بشری حیثیت سےآپﷺ کےبعض 344
آپﷺ کےطبعی افعال 345
وقتی تدبیرکےتحت کئےجانےوالےافعال 345
کیاآپﷺ نےاجتہادفرمایاہے 345
آپﷺ کےعہدمیں صحابہ ؓ کااجتہاد 345
آپﷺ کی موجودگی میں 246
زمانےجاہلیت کےبعض کوباقی رکھنااوربعض کی 346
دوسرامرحلہ راشدہ 348
کےمصادر 348
جماع کی کوشش 348
اختلاف رائے 348
کم سےکم کوجمہورکومتحدکرنےکی سعی 349
مصلحت کےتحت حضرت عمر﷜کےفیصلے 350
صحابہ ﷢اختلاف رائےکوبرانہیں سمجھتےتھے 350
صحابہ﷜ کےدرمیان اختلاف رائےکےاسباب 351
اختلاف رائےمیں اختلاف ذوق کااثر 351
مجیدکی جمع وتدوین 352
اصحاب افتاءصحابہؓ 352
تیسرامرحلہ اصاغرصحابہ اوراکابرتابعین 353
کےمختلف شہروں میں ورداختلاف رائےکی کشرت 353
اصحابہ اورصحاب راےئاوردونوں کی خصوصیات 354
فرق باطلہ کاظہور 355
روایت کی کثرت 355
اس عہدکےہم فقہاءاورباب افتاء 356
تدوین 357
فن جرح وتعدیل کاآغاز 357
فن قراءت کاعروج 357
کی تدیون 358
فقہی اصطلاحات کاظہور 358
اجتہادکی کثرت اوراس کےاسباب 358
کی باضابطہ تدوین 359
امام ابوحنیفہ کےشرکاءکار 360
امام اوزاعی 361
سفیان ثوری 362
لیث بن سعدؓ 362
داؤوظاہری 362
ابن جریرطبری 362
تقلیدکامنفی اثر 364
اس عہدکےاہم فقہاء 366
حنیفہ 366
مالکیہ 366
شوافع 367
چھٹامرحلہ سقوط بغداد تاختتام تیرہویں صدی 368
اس عہدکےاہم فقہاء 369
حنیفہ 369
مالکیہ 369
شوافع 370
حنابلہ 370
فقہ عہدجدیدمیں 370
فقہی وسیع النظری 370
ظاہریت نئےلبا س میں 370
نئےمسائل کی طرف توجہ 371
دفعہ وارفقہی کتابوں کی ترتیب 371
قدیم کتابوں پرتحقیق وترقیم کاکام 372
مجامع فقہیہ کاقیام 373

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply